Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 20)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 20)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
مونس۔۔۔؟؟ مونس جو غصہ سے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ہانی راہ میں حاٸل ہوٸ۔ تو وہ رک گیا۔ جب کہ چہرے پے کھنچاٶ تھا۔
ہانی نے اس کا ہاتھ تھاما۔ آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟ ہانی کو اس کے چہرے کی پریشانی بہت بری لگی تھی۔ مونس نے اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو۔ اور جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔؟ اس طرح کسی نامحرم کا ہاتھ تھامتے۔۔۔؟؟ وہ ااس کے قریب ہو کے غصہ سے بولا تھا۔ ہانی کا تو دل ہی لرز اٹھا۔ وہ معصوم تھی۔ اور اپنی معصومیت میں وہ مونس کے قریب ہوٸ تھی۔ان چیزوں کو وہ اگر سمجھتی ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتی۔ ہانی کو وہ پھر سے غلط کہہ رہا تھا۔ غلط لڑکی سمجھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوۓ۔ ایم سوری۔۔۔! اتنا کہہ کے وہ وہاں نہیں رکی۔ انہی قدموں سے وہ وہاں سے پلٹی تھی۔ اور باہر کی طرف نکلتی چلی گٸ۔ مونس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنے اندر کے اضطراب کو کم کرنا چاہا۔ وہ فضول میں ہانی پے غصہ کر گیا تھا۔
ہنی باہر روڈ پے آتی اب باقاعدہ رونے لگی تھی۔ میں کتنی بڑی پاگل ہوں۔۔ جو ایک غیر شخص کے بلانے پے اتنی دور چلی آٸ۔ اور وہ مجھے ۔۔ کیسی لڑکی سمجھتا ہے۔۔؟؟ میں۔۔ ؟؟ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ اور وہیں ایک طرف فٹ پاتھ پے بیٹھ گٸ۔ وہ کافی دور نکل آٸ تھی۔ اپنی گاڑی اور ڈراٸیور کو بھی وہ وہیں چھوڑ آٸ تھی۔ اکیلے ہی وہ ادھر سے نکلی تھی۔ اور اب آنسو بہا رہی تھی۔ اسے فیصلہ کرنا تھا۔ آج ہی ۔۔۔ ! اپنی مما کو جواب دینا تھا۔ مونس اس کے دل میں کھلتی ایک چھوٹی سی کونپل تھا۔ جس کا احساس اسے وقت رہتے ہو گیا تھا۔ اور وہ اس کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔ اسے شادی کے لیے پرپوز کرنے والی تھی۔ ہاں وہ اسے خود شادی کا کہنے والی تھی۔ کیا فرق پڑتا تھا کہ لڑکے کی طرف سے رشتہ آۓ۔۔؟ پہل لڑکی کی طرف سے بھی تو ہو سکتی تھی ناں۔۔؟؟ لیکن۔۔ شاید۔۔ اس کا خود کا بولنا ہی اس کے حق میں غلط ثابت ہونے والا تھا۔ وہ اسے غلط لڑکی سمجھ بیٹھا تھا۔ سختی سے گالوں پے آۓ آنسو صاف کیے۔ اور وہیں بیٹھی آتی جاتی ٹریفک کو خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاویہ کو اس کے بابا کا فون آیا تھا۔ انہیں یہاں آۓ ابھی دو دن ہوۓ تھے۔ کہ اب وہ واپس جانے کا سوچ رہا تھا۔ اس کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن انہیں واپس جانا تھا۔ شای نے معاویہ کو ساری سچاٸ بتا دی تھی۔ وہ سب۔۔ جو وہ جانتا تھا۔ لیکن پھر بھی کچھ کہیں مسنگ تھا۔ وہ اسے جاننا تھا۔ اس کے لیے اسے کراچی جانا تھا۔ آفتاب شیر خان کے پاس۔ اور وہ فیصلہ کر چکا تھا۔ علیزہ کو واپس بھیج دے گا۔ لیکن خود جب تک ساری سچاٸ کا سارے راز کا پتہ نہیں لگا لیتا وہ نہیں جاۓ گا۔ چاہے پھر کچھ بھی کیوں نہ ہو۔۔ ؟
وہ لن میں کھڑا اپنی سچوں کے تانے بانوں میں مصروف تھا۔ کہ سامنے سے منہا گیٹ سے اندر داخل ہوٸ۔ گاڑی اسے گیٹ پے چھوڑ کے جاتی تھی۔ وہی گاڑی پھر عشا کو لینے جاتی۔ کیونکہ دونوں کی آف ٹاٸمنگ چینج تھی۔ تو منہا پہلے آجاتی تھی۔ سامنے معاویہ کو کھڑا دیکھ ایک پل کو اس کی رفتار سست پڑی تھی۔ لیکن اگلے ہی پل وہ نظریں جھکا کے اندر کی جانب بڑھتی اس کے پاس سے گزری۔ کہ معاویہ نے اس کا راستہ روکا۔ منہا نے ایک ناگوار نظر اس پے ڈالی۔
اتنی بے رخی کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔؟؟ لہجہ میں چاہت تھی۔ لیکن آنکھوں میں سنجیدگی۔
مطلب۔۔۔؟منہا کو اس کی بات کی سمجھ ہی نہ لگی۔ معاویہ نے گہرا سانس خارج کیا۔ تم اتنی بھولی ہو نہیں۔۔ جتنی بنتی ہو۔۔۔ ! آپ ب میری انسلٹ کر رہے ہیں۔۔ منہا نے تیز لہجے میں کہا تو معاویہ کے چہرے نے ایک مسکان کا احاطہ کیا۔
میری اتنی جرات۔۔۔؟ کہ آپ کی نسلٹ کروں۔۔؟؟ معاویہ کے چہرے کی مسکان منہا کو زہر لگی تھی۔ راستہ کیوں روکا ہے۔۔؟؟ ہٹیں راستے سے۔۔۔! تھوڑا تلخ ہوٸ تھی۔ ہٹ جاتا ہوں۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔ آپ کا ہر راستہ۔۔ مجھ سے ہو کے جاتا ہے۔۔ آپ کا ہر راستہ بھی میں ہوں۔ اور آپ کی منزل بھی میں۔ پختہ لہجہ میں کہتا وہ منہا کو سلگا ہی گیا۔ آج آپ مجھ سے دوسرا تھپڑ کھا چکے ہوتے۔۔ اگر آپ ہمارے مہمان نہ ہوتے۔ منہا کی بات پے معاویہ پھر بھی اسے محبت سے دیکھے جا رہا تھا۔ گال حاضر ہے۔۔ ! کم از کم اس بہانے سے چھوٶ گی تو سہی۔۔! معاویہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے اسے مزید تپایا۔ اور وہ تپ بھی گٸ۔ شٹ اپ۔۔۔! ببہت ہی کوٸ فضول انسان ہیں آپ۔۔۔! غ؟ہ سے کہتی وہ ساٸیڈ سے ہو کے آگے بڑھ گٸ۔ معاویہ کا قہقہہ گونجا تھا۔ جس نے آخر تک اس کا پیچھا کیا۔ نجانے کیوں معاویہ کو یہ لڑکی دل و جان سے بھا گٸ تھی۔ یہ جانتے ہوۓ کہ وہ کسی کی منگتیر ہے۔۔ پھر بھی اپنے دل کو روک نہیں پایا۔ وہ سوچ چکا تھا مامموں سے بات کرے گا۔ منگنی کا رشتہ اتنا بھی پاٸیدار نہیں ہوتا کہ ٹوٹ نہ سکے۔ اصل رشتہ نکاح کا بندھن ہوتا ہے۔ نکاح کرے گا وہ سیدھا۔ اس لیے اس کا دل مطمین تھا۔ اور آگے کی پلاننگ کرتا وہ اب کراچی جانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
منہا اندر روم میں آٸ تو اس کا دل ابھی تک دھڑک رہا تھا۔ اپنے دل کے مقام پے ہاتھ رکھا اور زور سے آنکھیں موند لیں۔ آنکھوں میں معاویہ کا چہرہ ہی لہرایا تھا۔ اس نے اپنا دل ٹٹولا۔ کہیں بھی وہاج نظر نہ آیا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ میں۔۔ اییسا کیسے کر سکتی ہوں۔۔؟؟ یہ سب غلط ہے۔۔مجھے خود کو روکنا ہوگا۔۔ بابا۔۔ نے کتنے من سے میرا رشتہ ۔۔ فضا پھوپھو کے گھر دیا ہے۔ اور میں۔۔ ان کا سر نہیں جھکا سکتی۔۔۔ وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ رو دی۔ کیوں۔۔ ؟؟ کیوں آۓ ہیں آپ یہاں۔۔؟ چلے جاٸیں۔۔ پلیز۔ معاویہ ۔۔ چلے جاٸیں۔۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں اس س ے مخاطب تھی۔ لیکن یہ نہیں جانتی تھی۔ کہ محبت بہت منہ زور ہوتی ہے اور محبت نے بھی اسے دھیرے دھیرے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟
نکاح کی رسم دوبارہ ہو رہی تھی۔ ملکہ نے دل پے پتھر رکھے قبول ہے کہہ دیا۔ اس کے علاوہ اور کوٸ راستہ بھی تو نہ تھ۔ تبسم بیگم نے اسے اپنے ساتھ کا پورا یقین دلایا تھا۔ لیکن یہ سب کرنے کو بھی انہوں نے ہی کہا تھا۔ نکاح خواں اور سر پرست کمرے سے جا چکے تھے۔ اب باہر مباک باد کا شور اٹھا تھا۔ تو دوسری طرف گھونگھٹ ہٹا کے گھر کے سادا کپڑوں میں بیٹھی ملکہ اپنی دادی کے ہمراہ ماں کی مدد سے گھر کے بیرونی گیٹ سے چھپ کے نکلی تھی۔ کنول نے سارا انتظام کر رکھا تھا۔ اور ان کو نکالنے کا بندوبست بھی کر دیا تھا۔ کہ کسی کو کان کانوں خبر نہ لگنے دی آخر کو وہ کنول تھی۔ کوٸ عام ہستی تو نہ تھی۔
میری بچی۔۔۔! جا تجھے رب کی پناہ میں دیا۔ کنول نے اس کا ماتھا چوما۔اور آنکھوں میں آنسو لیے اسے تبسم بیگم کے ساتھ روانہ کیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے کہاں لے کے جا رہی ہیں۔ لیکن اب اس کا وقت تھا۔ آفتاب کے غضب کا سمنا کرنے کا۔ آنسو پونچھے۔ اندر کی جانب دیکھا۔ چہرے پے مسکان سجاٸ۔ ہاں وہ تیار تھی۔ہر طرح کی سزا سہنے کے لیے۔۔ اپنے شوہر کا سر آج اس نے نیچا کیا تھا۔سب کے سامنے ۔۔ تو سزا تو بنتی تھی ناں۔۔؟؟ اور وہ تیار تھی۔ لیکن ماں کی ممتا کو ہارتا نہیں دیکھ سکی وہ۔ اس کا دل مطمین تھا۔ وہ اندر روم کی جانب بڑھی۔ کافی دیر یونہی اکیلے بیٹھی رہی۔ پھر وقت دیکھ کے باہر نکلی۔ کہ اسی لمحے آفتاب اس کے قریب آیا۔
خانم۔۔۔! مکہ کو لے آٸیں۔ آفتاب نے کنول کو اپنے پاس بلاتے کہا۔ کنول نے ایک نظر آفتاب پے ڈالی۔ جو ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔
انتظار کریں۔۔ ! کنول نے سنجیدگی سے کہتے قدم آگے بڑھا دیۓ۔ کیا مطلب۔۔؟ وہ تیار نہیں۔۔؟؟ آفتاب نے اسے روکا۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے۔۔ ایک دلہن کو تیار ہوتے کتنا وقت لگتا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں۔۔ کنول نے جس انداز میں کہا تھا۔ آفتاب کو اس کے انداز سے سخت کھٹکا لگا۔ وہ بنا ایک پل کیدیری کیے اندر کمرے میں گیا تھا۔ پرا کمرہ چھان مارا۔ لیکن وہاں ملکہ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ آفتاب نے حیرت سے اسے دیکھا۔ آفتاب کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ ملکہ کہاں ہے کنول۔۔؟ آج کتنے عرصے بعد ااس نے اسے خانم سے کنول کہہ کے پکارا تھا۔ کنول بھی ل بڑا کیے خاموش کھڑی رہی۔ آفتاب اس کی خاموشی کا مطلب سمجھ گیا تھا۔ لیکن اس کے لیے اس سب پے یقین کرنا۔۔ بہت مشکل ہو رہا تھا۔ کہ اس کی کنول بھری محفل میں اس کا سر جھکا دے گی۔۔؟
وہ غصہ سے اس کی جانب بڑھا۔ کہ کنول نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ چاہ کے بھی اسے کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ آج بھی اسے کچھ نہ کہ سکا۔ تم جانتی ہو۔ کنول۔۔۔؟ مجھے تم پے بھروسہ ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ تم۔۔ میرے بھروسے کے لاٸق ہی نہیں۔۔ ! برسوں پہلے بھی تم نے میرا مان توڑا ۔۔ میرا بھروسہ توڑا۔ اور آج بھی۔۔۔! آفتاب کے دل چیر دینے والے الفاظ پے کنول کے ل کی دھڑکن ساکت ہوٸ تھی۔
جاری ہے۔
