Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 25)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

پلیز معاویہ مت روکیں۔۔ جانے دیں مجھے۔ منہا کی آنکیں نم ہوٸیں۔ کیسے جانے دوں۔۔؟؟ معایہنے اسے کھینچ کے خود سے قریب کیا۔ منہا کی دھڑکنیں منتشر ہوٸیں۔ آپ واپس لوٹ جاٸیں۔ ہمارا ساتھ ممکن نہیں۔۔ پلیز۔۔۔؟ کیسی بے بسی تھی۔۔۔؟ منہا نےاپنی کلاٸ چھڑانی چاہی۔ ناممکن کو ممکن میں بناٶں گا۔ بس تمہارا ساتھ چاہیے۔ آپ مت کریں یہ سب۔۔ میں اپنے بابا کے خلاف نہیں جا سکتی۔۔ منہا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کیا تم مجھے نہیں چاہتی۔۔؟؟ معاویہ نے دکھ سے پوچھا۔ منہا ایک دم چپ سی ہوگٸ۔ رہ لو گی میرے بنا۔۔؟؟ کس کرب سے معاویہ نے پوچھا یہ وہی جانتا تھا۔ اور جواب نہآنے پے اس نے دھیے سے منہا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ جاٶ۔۔۔ آزاد ہو تم۔۔۔! اس محبت سے۔۔ جو صرف شاید۔۔ مجھے ہی تھی۔ کہتے ہی وہ بنا اس کی طرف دیکھے نکلتا چلا گیا۔ شاید رکتا تو نجانے کیا کچھ کر گزرتا۔۔؟؟ جب کہ منہا بت بنے کھڑی رہ گٸ جو اس کا جواب سنے بن ہی فیصلہ سنا گیا۔ دو آنسو ٹوٹ کے گرے تھے۔ اور وہ بھی پلٹ گٸ تھی۔ لیکن کوٸ ایک ہستی ایسی بھی تھی۔ جس نے یہ سب دیکھا۔ اور بس۔۔؟؟ دل تھامے دیکھتا رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مونس کہاں جا رہے ہیں۔۔؟؟ کنول نے اسے تیار ہو کے باہر جاتے دیکھا تو آواز دے کے پوچھا۔ تین دن سے وہ اکھڑا ہوا تھا۔ نہ کسی سے بات کرتا نہ سب کے ساتھ مل کے کھانا کھاتا۔ یہاں تک کہ اس نے ملکہ کے متعلق بھی کسی سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ بالکل لاتعلق سا ہو گیا تھا۔ باہر جا رہا ہوں۔ بنا دیکھے سر جھکاۓ کہا۔ یہاں آٸیں میرے پاس۔۔؟؟ کنول نے اسے اپنےپاس آنے کا کہا۔ وہ خاموشی سے اس کے پاس چلا آیا۔ ناراض ہیں۔۔؟؟ اس کا ہاتھ تھامے پوچھا۔ وہ نچپن سے ہی ایسا تھا۔ اور کنول ہی اسے ہینڈل کر سکتی تھی۔۔ کیا۔۔نہیں ہونا چاہیے۔۔؟ میری نازوں پلی بہن کو خون بہا کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہو۔۔ اور مجھے خاموش رہنے کا کہا جاۓ۔۔؟؟ کیا ۔۔ میرا کوٸ حق نہیں اپنی بہن پے۔۔؟؟ سگھی بہن ہے وہ میری۔۔۔ آپ کیسے کر سکتے ہیں۔۔ اس کے ساتھ اتنا بڑا ظلم۔۔۔؟ مونس تو چٹخ ہی گیا۔ آپ سے کس نے کہا کہ ملکہ کو خون بہا میں بیاہا جا رہا ہے۔۔؟ کنول کو اس کی بات سے حیرت ہوٸ۔ یہ بات تو انہوں نے نہ ملکہ کو بتاٸ تھی اب تک نہ مونس کو۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔؟ میں کوٸ دو سال کا چھوٹا سا بچہ ہوں۔۔؟؟ جسے کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔؟؟ مونس نے طنزیہ انداز میں کہا۔ یہ میرے سوال کا جواب نہیں مونس۔۔؟؟ کنول نے تھوڑا سختی سے دریافت کیا۔ مونس نے سر جھٹکا۔ میں۔۔ زیشان ارسل کے پاس گیا تھا۔ اس سے پوچھنے۔۔؟؟ کیونکہ آپ اور بابا نے بتانا ہوتا تو بہت پہلے بتا چکے ہوتے۔۔ اس لیے میں۔۔ وہاں گیا۔ مونس نے وجہ بھی بتا دی۔ کنول نے گہرا سانس خارج کیا۔مونس آپ ساری حقیقت نہیں جانتے۔۔ چودہ سال پہلے کیا ہوا۔۔؟؟ اس راز سے کوٸ پردہ نہیں اٹھا پایا اب تک۔۔۔ آپ کی پھپھوکی ڈیتھ۔۔؟؟ شہیر انکل نے گولی چلاٸ تھی۔۔۔ جان گیا ہوں میں۔۔؟؟ مونس کے اگلے الفاظ نے کنول کی آنکھوں میں حیرت اجاگر کر دی۔ ایسا نہیں ہے مونس۔۔! آپ کے شہیر انکل بے قصور ہیں۔۔ ان کو پھسایا گیا تھا۔ کنول نے اس کی غلط فہمی دور کی۔ اچھا اگر وہ غلط نہیں تھے تو بھاگے کیوں۔۔؟؟ اور اب تک واپس کیوں نہیں لوٹے۔۔؟؟ ان کے کیے عمل کی سزا۔۔ میری بہن کو کیوں۔۔۔؟؟ ان کی بیٹی کو کیوں نہیں۔۔؟؟ مونس غصہ میں بولتا چلا گیا۔ مونس۔۔۔؟؟ کنول نے غصہ سے اونچی آواز میں اس کا نام پکارا۔ تا کہ وہ رک جاۓ۔ سوچ سمجھ کے بولو۔۔۔ ! شہیر بھاٸ کے یہاں سے جانے کی وجہ۔۔ انابیہ ہے۔۔ ان کی بیوی۔۔۔! انہوں نے شہیر بھاٸ کو قسم دی۔۔ کہ وہ یہاں سے چلیں۔ ورنہ۔۔ وہ خود کو مار ڈالیں گیں۔ اور وہیں۔۔ دوسری طرف۔۔ آپ کے بابا کا فیصلہ تھا۔۔ کہ وہ یہاں سے چلے جاٸیں۔ ان کے جانے کے بعد۔۔ جرگے میں فیصلہ ہوا تھا۔۔ ! اور مجھے یقین ہے۔۔ اگر۔۔آپ کے شہیر انکل اور انابیہ آنٹی کو اس بات کا پتہ چلا۔ وہ اسی وقت پاکستان آجاٸیں گے۔۔ تو بلاتے کیوں۔۔ نہیں۔۔؟؟ بتاٸیں ناں۔۔ انہیں۔۔ کہ کتنی بڑی سزا مل رہی ہے میری بہن کو ان کی وجہ سے۔۔؟؟ مونس ابھی بھی غصہ کم نہیں کر پایا تھا۔ آپ کب سے اتنے بڑے ہو گۓ کہ اپنے فیصلے سنانے لگے ہمیں۔۔؟ اچانک سے آفتاب کی آمد پے دونوں چونکے۔ آفتاب کے چہرے پے سخت غصہ تھا۔ مونس ایک دم سے ڈھیلا پڑ گیا۔ پور دنیا میں ایک باپ ہی تھا۔ جس کے آگے وہ ایک لفظ نہیں بول پاتا تھا۔ ہمیں کیاکرنا چاہیے کیا نہی۔۔ آپ کو یہ سب بتانے کی قطعی ضرورت نہیں۔۔ آپ خود پے توجہ دیں۔ آپ کی زرا سی لاپروہی سے کسی کا دل کتنی بری طرح ٹوٹا ہے۔۔ اس کے بارے میں سوچیں۔۔ باقی ہم ہیں۔۔ ہم دیکھ لیں گے۔ بہت سہولت اور ٹھہرے ہوۓ انداز میں کہتے وہ مونس کو مزید گوہر فشانی کرنے سے باز رکھ گۓ۔ مونس لب بھینچے وہاں سے چلا گیا۔ وہ آپ کا بیٹا ہے۔۔ باپ نہیں۔۔ اسے بیٹا ہی رکھا کریں۔ زیادہ سر پے نہ چڑھاٸیں۔ ورنہ پچھتاٸیں گیں۔ آفتاب نے کمر پے ہاتھ باندھے کنول کو بھی تنبیہہ کی۔پچھتا تو اب بھی رہی ہوں۔۔ کاش اس وقت۔۔ شہیر بھاٸ کو یہاں سے جانے کا نہ کہا ہوتا۔۔ تو۔۔ آج سارے حالات کچھ اور ہوتے۔۔۔! کنول نے آنسو پونچھتے کہا۔ آفتاب بس اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ آج کے بعد مجھے مونس آپ کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرتا نظر نہ آۓ۔ آفتاب اپنی ہی کہتا جا چکا تھا۔ کنول نفی میں سر ہلاتے واپس مڑ گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کس کا دل توڑا۔۔؟؟ بابا نے ایسا کیوں کہا۔۔؟؟ مونس گاڑی میں بیٹھتا سوچنے لگا۔ کہ اپنے موباٸل پے ہانی کی کال آتی دکھاٸ دی۔ ہیلو۔۔؟؟ فوراً ہی کال پک کی۔ کیسے ہو۔۔؟؟ ل کے ہاتھوں مجبور ہو کے ہانی نے پھر اپنی انا مار کے مونس کو کال کر لی۔

میں ٹھیک ہوں۔۔ تم ۔۔؟؟ مونس سے کچھ بولا نہ گیا۔۔۔

ٹھیک ہوں۔۔ ! ایک نیوز دینی تھی۔۔ ہانیبکا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔ کیسی نیوز۔۔؟؟ مونس متوجہ ہوا۔ کل میرا رشتہ طے ہونے جا رہا ہے۔۔ ! ہانی کے الفاظ نے مونس کو زمین پے لاپٹخا۔ وہ کچھ بول ہی نہ پایا۔ اس کے بعد پھر۔۔ کبھی بات نہیں ۔۔۔ ہو پاۓ گی۔۔ تو سوچا۔۔ الوداع کہہ دوں ۔۔؟؟ آواز تو وہ سپاٹ ہی رکھ سکی۔ لیکن خوش آنسوٶں کو بہنے سے نہ روکا۔ تم ۔۔؟؟ خوش ہو۔۔؟؟ مونس کو یہ سواب اب بے معنی سے لگا۔ جواب میں وہ تلخ ہنسی ہنسی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔؟؟ ماں باپ کے کیے گۓ فیصلے ہمیشہ صحیح ہی ہوتےہیں۔۔ ! ہانی کی تلخیی سے کہی بات پے مونس نے لب بھینچے۔۔ اوہ۔۔ اچھا۔۔۔! اچھا۔۔۔!صحیح۔۔ دین۔۔ کانگریجولیشنز۔۔۔! مونس نے بھی طنز سے اسے کہا۔ تو وہ چپ ہی ہو گٸ۔ الله حافظ ہانی کو پانی آواز بی شاید سناٸ نہیں دی۔۔ کہ مونس کیا سنتا۔ کال کٹ گٸ۔ ہانی کو لگا سب ختم ہو گیا۔ اس نے ایک آخری کوشش کی تھی۔ کہ شاید۔۔ مونس سمجھ سکے۔۔ لیکن۔۔ شاید اس کا پیار یک طرفہ تھا۔ اس لیے بس آنسو ہی مقدر بنے۔

ڈیم۔۔۔۔ مونس نے زور سے اسٹیرنگ پے ہاتھ مارا۔ اس کا اضطراب بڑھ رہا تھا۔ کچھ سوچتے ہوۓ وہ گاڑی سے اترا۔اور سیدھا باپ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ بھی شاید اسی کے انتظار میں تھے۔ اس کی بات سنتے وہ مسکراۓ تھے۔۔ اور ان کی مسکراٹہ پے مونس نے اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاۓ تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔

دادو۔۔؟؟ ہم واپس کبجاٸیں گے۔۔؟ اس دن کے بعد ے نہ زیشان نظر آیا نہ اس کی کوٸ کال آٸ تھی۔

تم واپس جانا چاہتی ہو ملکہ۔۔؟؟تبسم بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔ تو ملکہ نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ بھی جانتی ہو۔۔ کہ۔۔ خان حویلی واپس جانے کا مطلب ہے۔۔ اپنے آپ کو اس شخص کے حوالے کرنا۔۔۔ جسے ؟؟؟

دادو۔۔! کاش۔۔ نکاح سے پہلے یہ سب سوچا جاتا۔۔ اب کیا فاٸدہ۔۔؟؟ ملکہ نے وہ بات کہہ دی۔جس سے تبسم بیگم کو چپی لگ گٸ۔ وہ ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی۔۔ اب جتنا مرضی چھپ کے بیٹھ جاٸیں۔۔ رہے گی تو وہ زیشان کے نکاح میں ہی۔۔ تو کیوں نہ۔۔ آمنے سامنے آتے ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ ۔۔۔؟؟ تبسم بیگم کو ایک نٸ سوچ مل گٸ۔۔ پرجوش انداز سے اپنی پوتی کو دیکھا۔ چلو۔۔۔!پھر سامان پیک کرو۔۔ آج ہی پم واپس جاٸیں گے۔۔ ! تبسم بیگمکے کہنے پے ملکہ نے گہرا سانس خارج کیا۔ بھلے ہم واپس آجاٸیں۔۔زیشان ارسل۔۔۔ لیکن۔۔۔ تمہیں۔۔ میںاپنے شوہر کے روپ میں کبھی قبول نہیں کروں گی۔۔۔!ملکہ نے دل ہی دل میں نفرت سے زیشان کو مخاطب کیا۔ وہیں دوسری جانب زیشان ارسل ایک بار پھر بارات لانے کی تیاری میں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معاویہ کے اچانک سے جانے پے سبھی چونکے تھے۔ وہ کہاں گیا تھا۔۔؟ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ لیکن وہ علیزہ کو ساتھ لے کے نہیں گیا تھا۔ اسی بات پے سب حیران تھے۔ کہ وہ علیزہ کو کیوں چھوڑ گیا۔ اور خود علیزہ بھی حیران تھی۔ کیونکہ معاویہ اسے بھی کچھ بھی بتا کے نہیں گیا تھا۔ کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔۔؟ جب کہ معاویہ مہنا کے انکار کے بعد پہلی فلاٸیٹ سے کراچی پہنچ چکا تھا۔ آفتاب شیر خان سے ملنے۔ اس نے تمام ایڈریس شای سے لیا تھا۔ اب وہ آفتاب شیر خان کی حویلیکے باہر کھڑا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *