Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 01)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

سمجھ سکے ناں۔۔۔ لوگ سیانے

عشق کا رتبہ۔۔۔ عشق ہی جانے۔۔

اس دنیا کا کھیل رچایا

عشق کی خاطر آپ خدا نے

💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌

منہا۔۔۔ منہا۔۔؟؟ کہاں ہو آپی۔۔ ۔؟؟ جلدی کرو۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ عشا نے کوٸ چوتھی بار آواز دی۔ اور وہ اپنے روم سے باہر نکلی۔

ٹیل پونی کیے گلے میں اسکارف ڈالے وہ ہمیشہ کی طرح شوخ و چنچل سی لگی۔

چلو۔۔۔؟ بیگ کراس کی صورت میں گلے میں ڈالے وہ عشا سے بولی تھی. کتنا وقت لگاتی ہو۔۔۔ آپی یار۔۔۔! عشا نے اسے دیکھتے پیار سے کہا۔

اچھا۔۔۔ سچی۔۔۔؟؟ چلو۔۔۔ پھر۔۔ اب بحث میں وقت نہیں برباد کرنا۔۔! اس نے ایک ادا سے اپنی براٶن آنکھوں کو اس پے ایک پل کو فوکس کیا۔ اور اگلے ہی پل وہ دونوں نیچے ڈاٸننگ تک پہنچیں۔ جہاں عابی ان کا ناشتہ تیار کیے کھڑی تھی۔ السلام علیکم دادو۔۔۔۔! منہا اور عشا نے باری باری جمیلہ خاتون کو سلام کیا اور ان سے پیار لیا۔

جیتی رہو۔۔میری بچیوں۔۔ ہمیشہ سکھی رہو۔۔ سلامت رہو۔۔۔ انہوں نے دوونں کو دیکھتے دل ہی دل میں ماشاءاللہ کہا اور نظر اتاری ۔ بیٹا۔ جلدی کر لو۔۔۔ ڈراٸیور ویٹ کر رہا ہو گا۔شامی نے جوس کا گلاس اٹھاتے اپنی دونوں بچیوں کو دیکھ جو ایک سے بڑھ کے ایک زہین تھیں۔ ور خوبصورت تھیں۔ جی بابا۔۔۔! عشا کی سریلی آواز پے شامی کے لبوں پے سمکراہٹ دوڑ گٸ۔ وہ اس کی سریلی چڑیا تھی۔ اور منہا اسکا دل۔۔۔!دونوں کو فیکھ دیکھ جیتا تھا۔ عمار میں تو ان کی جان بستی تھی۔ لیکن اس کی خواہش تھی۔کہ وہ باہر رہے ویسے بھی اس کی انابیہ کے ساتھ بہت گہری بنتی تھی۔ اس لیے ان میں سے بھی کسی نے اعتراض نہ کیا۔ اور اسے انابیہ کے پاس بھیج دیا۔ عشا اور منہا دونوں سب کو اللہ حافظ کہتیں پورچ کی جانب بڑھیں۔ گاڑی میں بیٹھیں۔ کالج روانہ ہوٸیں تھیں۔ ہمیشہ کی طرح وہ دونوں جڑواں ہی لگ رہی تھیں۔ کوٸ بھی انہیں دیکھ لیتا تو یہی کہتا دونوں ایک جیسی تھیں۔

جبکہ عشا اور عمار جڑواں تھے عابی اور شامی کے بچے۔ عشا منہا سے چار سال چھوٹی تھی۔ وہ میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی۔ تو منہا کالج کی۔ وہ تھرڈ اٸر میں تھی۔

کالج اور اسکول ساتھ ساتھ تھے۔ لیکن اپنے اپنے پورشنز کی جانب جاتے وقت تک۔ دونوں ہی ایک ساتھ رہتیں۔ ایک لمحے کو بھی منہا عشا کا ساتھ نہ چھوڑتی تو وہیں عشا منہا کی دیوانی تھی۔ اس کی آٸیڈیل۔ عمار آٶٹ آف کنٹری تھا۔ اور وہیں زیرِ تعلیم تھا۔ وہ بہت کم پاکستان آتا تھا۔ وہ شہیر اور انابیہ کے پاس ہوتا تھا۔

💌
💌
💌
💌
💌
💌

خان۔۔۔ کام ہو گیا ہے۔۔۔! تقی صاحب کی کمپنی کو آج ہم نے ہینڈ اور کر لیا ہے۔۔۔

مرزا صاحب نے اسے صبح صبح ایک بہت بذی گڈ نیوز سناٸ تھی۔وہ اکسرساٸز مشین سے نیچے اترا تھا۔پسینے سے شرابور۔۔ اس نے پاس کھڑے ملازم سے ٹاول لیا۔ اور اپنے سکس پیکس سے پسینہ صاف کرتا ماتھے پے دو بل ڈالے وہ مغرور شہزادہ اس وقت حسن کا شاہکار لگ رہا تھا۔ اس کے خاص آدمی مرزا نے بھی کبھی اسے نظر بھر کے نہ دیکھا تھا۔ کہ کہیں اپنی ہی نظر نہ لگ جاۓ۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔ ! لہجے میں غرور بول رہا تھا۔ وہ آگے بڑھا۔ لیکن ۔۔

خان۔۔۔! تقی صاحب کی بیٹی آٸ ہے۔ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔ اچانک سے ملازم نے آتے اسے اطلاع بہم پہنچاٸ۔

کس سلسلے میں۔۔؟ لاپروہ انداز سے پوچھا۔

معلوم نہیں۔۔ خان۔۔۔! لیکن۔۔ وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔ ملازم نے سر جھکاۓ مودبانہ انداز میں کہا۔

مرزا۔۔۔ !

جی خان۔۔؟؟ مرزا نے فوراً آگے بڑھتے پھرتی سےکہا۔

اس معاملے کو دیکھ لیں۔۔ اور ۔۔ ہاں۔۔ جتنی جلدی ہو سکے اسے حل کریں۔۔ اپنے وہی ازل مغرورانہ انداز میں کہتا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔ مرزا باہر آیا ۔ اور تق صاحب کی بیٹی سے بات کرتے ہوۓ اسے بہت ترس آیا۔ وہ فریاد لے کے آٸ تھی۔ کہ اس کے باپ کی کمپنی انہیں واپس کر دے۔ جس کا خان کا تو بالکل۔کوٸ ارادہ نہ تھا۔ مرزا نے اسے کی طرح واپس بھجوا دیا۔ لیکن وہ دوبارہ آنے کا بولتی وہاں سے چلی گٸ تھی۔

بلیک تھری پیس میں وہ تیار ہوتا اس وقت آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ جہاں آج اس کی بہت ہی اہم میٹنگ تھی۔

خان۔۔؟؟ جانشین ۔۔۔ کیسا ہے۔۔ ماڑا خانا۔۔۔؟؟ جایود خان نے ناشتے کی ٹیبل پے آتے اس کی طرف دیکھا جو بہت ہی سنجیدہ طبعیت کا مالک تھا۔ وہ چھبیس سالہ مشہور و مقبول بزنس ٹاٸیکون کوٸ اور نہیں۔۔ زیشان ارسل خانزادہ تھا۔ جو ہو بہو اپنے ماموں کی کاپی تھی۔ آفتاب شیر خقن کا نہ صرف رنگ روپ چرایا تھا۔ بلکہ اس کی طرح ہی کی اس کی عادات و اطوار تھیں۔ وہ ہر لحاظ سے آفتاب شیر خان کی کاربن کاپی ہی لگتا تھا۔

الحَمْدُ ِلله خان دادا۔۔! نیپکن سے ہاتھ صاف کہتا سنجیدگی سے ان کی طرف متوجہ ہوا۔

خان۔۔۔! کل۔ہمارے ساتھ گاٶں جانا ہے۔۔ ماڑا۔۔ وہاں زمینوں کا کچھ مسٸلہ ہو گیا ہے۔۔ خانداد نے اپنی پلیٹ میں ناشتہ رکھتے بات کا آغاز کیا۔

کل نہیں جا سکتا۔۔۔!دھیما لیکن سخت لہجے میں جواب آیا۔

کیوں۔۔خانا۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟ حیرانی دیدنی تھی۔

کل۔۔۔ کا دن۔۔ میرے لیے بہت اہم ہے۔۔۔ ۔ وہ ہمیشہ ہی مختصر بات کیا کرتا تھا۔

کیسا خاص دن بیٹا۔۔؟؟ اسے اٹھتے دیکھ وہ چونک گۓ۔ زیشان نے ایک سخت نظر سے انہیں دیکھا۔ جیسے امید نہ ہو کہ وہ اس سے یہ سوال کریں گے۔ کل۔۔ میری ماں کو مجھ سے بچھڑے پورے چودہ سال ہو جاٸیں گے۔۔۔! سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے اس کا چہرہ پے کتنا کرب تھا۔ کہ جاوید خان اپنی جگہ چور سے بن گۓ۔ انہیں لگا شاید ۔۔ پوچھنے کی غلطی بہت بڑی غلطی وہ کر بیٹھے ہیں۔۔ زیشان جا چکا تھا۔ آج اور کل کا اس کا زیاہ وقت اکیلے میں ہی گزرنا تھا۔ ماں کی یادوں کے سہارے۔۔! ان کے کمرے میں ان کی چیزوں کو دیکھتے چھوتے پیار کرتے ۔۔ او پھر صدقہ و خیرات کرتے۔۔ وہ ہر سال ایس ہی کیا کرتا تھا اس کی روٹین میں ان چودہ سالوں میں کبھی کوٸ فرق نہیں آیا تھا۔ اب تک۔

لیکن شاید۔۔ اب فرق آنے والا تھا۔ کیونکہ اب وہ وقت آچکا تھا۔ جب اس کا بدلہ پورا ہونا تھا۔ ارسل زیشان کا باپ چودہ سل پہلے کیے گۓ فیصلہ کو نہ ہی تسلیم کر پاۓ تھے۔ اور نہ ہی اس فیصلہ کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے زیشان کو کافی سمجھایا۔ اور اپنے ساتھ باہر ملک لے گۓ۔ لیکن۔۔ اپنا بفلہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ گزرنے سے بھولا نہ تھا۔ بلکہ اس کیے ندر کی نفرت مزید پروان چڑھتی چلی گٸ۔ اور بس پھر جاوید خان کو ایک موقع ملا تھا۔ انہوں نے اس کا استعمال کرتےدو سال پہلے ہی زیشان کو اچھے سے سمجھا بجھا کے باہر ملک سے واپس اپنے ساتھ پاکستان لے آۓ۔ یہاں آکے بھی انہوں نے زیشان کے دل و دماغ میں آفتاب شیر خان کے خلاف اچھے سے زیر انڈیلا۔ کہ وہ نفرت کی انتہا گہراٸیوں تک جا پہنچا۔ جہاں سے یا تو وہ خود بھسم ہو جاتا یا دشمن کو بھسم کر دیتا۔ اب دیکھنا تھا۔۔ ان چودہ سالوں میں چڑھا نفرت کا رنگ زیادہ پختہ تھا۔ یا۔۔ پہلی نظر کی محبت کا بھرم۔۔۔؟؟

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آج پھر لیٹ کرا دیا۔۔؟؟ اور یہ گاڑی۔۔۔۔؟؟ ملکہ نے باہر نکلتے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔

اقبال انکل۔۔۔ اگر۔۔ گاڑی نے ایسے ہی راستے میں اپنا دماغ خراب کرنا ہوتا ہے۔۔ تو پلیز۔۔ مجھے پہلے ہی بتا دیا کریں۔ میں پیدل آجایا کروں وہ نان اسٹاپ شروع کو چکی تھی۔ جب کہ اقبال انکل جو کہ اس کے ڈراٸیور تھے۔ گھبراۓ سے اسے دیکھنے لگے۔۔

بیٹا۔۔۔! میں دیکھتا ہوں۔۔ آخر مسٸلہ کیا ہے۔۔؟؟

مسٸلہ اسے نہیں آپ کو ہے۔۔۔ جو آپ سب گاڑیاں چھوڑ کے مجھے اس کھٹارہ میں لاتے ہیں۔۔ ! اور نیکسٹ ٹاٸم تو میں آپ کے ساتھ کبھی نہ آٶں۔۔۔ گاڑی سے اپنا بیگ اور فاٸل نکالتی وہ غصہ سے لال سرخ ہو رہی تھی۔ اس کی گلابی رنگت دھوپ کی تمازت سے مزید کھلتی جا رہی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا۔ روڈ پے نظر دوڑاٸ۔ گھڑی پے ٹاٸم دیکھا۔ اور ہھر سورج کو دیکھتی اچھے سے گھورا۔ جو آج کچھ زیادہ ہی گرم ہوا تھا۔ اس کی طرح۔

یاللہ ۔۔ کوٸ مدد بیج دے۔۔۔! روڈ کے ونوں اطراف نظر دوڑاٸ لیکن کوٸ زی روح نظر نہ آ رہی تھی۔ جب کہ اقبال انکل نے گاڑ کا بونٹ اٹھاۓ چور نظروں سے اس آتش فشاں کو دیکھا۔ اور دل ہی دل میں اپنے بچنے کی دعا مانگتے رہے۔

تھی ایک گاڑ وہاں سے شوٹ سے گزری۔ لیکن رکی نہیں۔۔ ایسے تو کام نہیں چلے گا۔ مجھے سڑک کے بیچ کھڑا ہونا پڑے گا۔ تبھی بات بنے گی۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ سڑک کے بیچو بیچ آ کے وہ کھڑی ہو گٸ۔اقطبال انکل نے تھوک نگلا۔

گۓ کام سے۔۔اب بڑے خان نے مجھے چھوڑنا نہیں۔۔۔!

ارے بیٹا۔ ۔کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ سڑک کے بیچ کیوں کھڑی ہو گٸ۔۔؟؟ہٹو۔۔ بیٹا۔۔۔! وہ وہیں سے چلاۓ۔ جب کہ اس جھلی نے ناک سے مکھی اڑاتے انہیں دیکھا۔ اور اسی پل ایک گاڑی بہت تیزی سے اس کی جانب بڑھی تھی۔ اور ۔۔۔۔؟؟

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *