Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 07,08)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 07,08)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
مونس واپس اندر تو آچکا تھا۔ اور پارٹی تو ابھی بھی اپنے عروج پے تھی۔ لیکن اب اس کا دل جیسے اکتا سا گیا تھا۔ ڈرنک کا سپ لیتا وہ اب وپاں سے جانے کے لیے پر تول رہا تھا۔ کہ کامی اندر داخل ہوا۔
اور سیدھا سارہ کے پاس گیا۔ سارہ سے ہانی کے متعلق بات کرتے وہ دونوں ہی پریشان لگے۔ مونس نے سر جھٹکا۔ اور وہاں سے باہر نکلا۔
باٸیک پے بیٹھتے اس نے ہیلمٹ پہنا اور باٸیک کو اسٹارٹ کرتا کک لگانے لگا کہ ۔
رک یار۔۔۔؟؟ کامی کی آواز پے وہ تھما۔
کیا ہوا۔۔؟؟ ہیلمٹ اتارتا وہ اس سے پوچھنے لگا۔
یار۔۔؟؟ وہ۔۔ ؟؟ ام ہانی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔۔؟؟ اس کے بابا اندر ویٹ کر رہے ہیں۔ اور وہ یہاں ہے ہی نہیں۔۔؟؟ کامی پریشان لگا۔
تو اس یں میں کیا کر سکتا ہوں۔۔؟ مونس نے منہ بنایا۔ جب کہ اس بات سے وہ اندر ہی اندر تھوڑا حیران ہوااکہ اس کے بابا بھی یہاں اس کے آنے پے راضی تھے۔۔؟ کیسے باپ ہیں۔۔؟؟ جو ایسی جگہ بھیج دیا۔۔؟؟
تو نے دیکھا تو نہیں کہیں۔۔؟ کامی کی اگلی بات پے ہ سلگ ہی گیا۔
میں اس کا باڈی گارڈ تو نہیں۔۔ جو اس کو دیکھتا پھروں۔۔؟؟ ہٹو۔۔ سامنے سے۔۔! مونس نے اسے کھری کھری سنا دیں۔
کس سے پوچھ رہے ہو۔۔؟؟ اور کیوں۔۔؟؟ یہ نہیں بتاۓ گا۔۔ کہ اسی کی وجہ سے وہلڑکی روتی ہوٸ یہں سے گٸ ہے۔۔ ماحد کی اچانک آمد پے دونوں چونکے۔ بکواس بند کر اپنی۔۔۔! مونس نے دانت پیستے کہا۔
کیا غلط کہا ہے میں نے۔۔؟؟ بتا مجھے۔۔؟؟ کیا تو نے اس لڑکی کی بے عزتی نہیں کی۔؟؟ اس۔۔ اس کے کردار پے کیچڑ اچھالا۔ اور وہ۔۔ روتے ہوۓ یہں سےگٸ۔۔؟؟ ماحد بھی غصہ سے اس کے دوبدو ہوا۔
تمہیں کیا مسٸلہ ہے۔۔؟؟ کیا لگتی وہ تیری۔۔جو اتنا چڑ رہا ہے۔۔؟؟ مونس کو ماحد کی اس کی طرف داری کرنا سخت ناگوار گزرا۔
ماحد یار چھوڑ۔۔۔؟؟ کامی نے ماحد کو روکنا چاہا۔ وہ مونس کے غصہ سے اچھے سے واقف تھا۔ وہ غصہ میں کی کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔ اور اسے ڈر تھا۔ وہ کہیں ماحد کو جھڑ ہی نہ دے۔
کیا مطلب۔ ۔ہے اس بات کا۔۔؟؟ کیا رشتہ ہو سکتا ہے۔۔؟؟ میرے لیے وہ بہن جیسی ہے۔۔؟؟ لیکن ۔۔ تم۔نہیں۔۔سمجھو گے۔۔ کیونکہ تم عورت زات کی عزت کرنا ہی نہیں جانتے۔ کامی کے الفاظ نے مونس کو سخت طیش دلایا۔ کہ اس کا ہاتھ اٹھ گیا۔ ایک لمحے کو کامی کو لگا اس کے اردگرد کی دنیا ہی ہل گٸ ہو۔
اپنا جبڑا پکڑتا وہ اسے سہلانے لگا۔ اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ ایک ہی گھونسہ سے۔
مونس۔۔؟؟ کیا ہو گیا ہے یار۔۔؟؟ ماحد نے گھبراۓ ہوۓ اسے روکا۔ جس کا اشتعال بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
مارنے دے۔۔ اسے۔۔۔! اس سے یہ صحیح نہیں ہو جاۓ گا۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے۔۔۔! اور تو نے بہت غلط کیا ہے۔ اس لڑکی کے ساتھ بہت غلط کیا ہے تو نے۔۔۔! اور میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ مار اور مار۔۔۔؟؟ کامی آگے بڑھا۔
مونس کچھ کہتا کہ اندر سے کچھ لوگ بھاگتے نظر آۓ۔ وہ تینوں چونکے۔
کس طرف۔۔؟؟ کچھ تو پتہ ہو۔۔؟؟ وہ ایک شخص پریشانی سے بولا تھا۔ اور گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
ہانیکی دوستیں بی پریشانی سے باہر نکلیں تھیں۔
کیا ہوا۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ ماحد نے آگے بڑھ کے پوچھا۔
نہی۔۔ بالکل خیریت نہیں۔۔! ایک نظر کامی کو دیکھا ۔ جس کا چہرہ کچھ زخمی سا لگا اسے۔
ہانی کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے ۔۔۔! سارہ کے الفاظ نے سبھی کو سکتے میں ڈال دیا۔
یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔؟؟ کہاں۔۔۔؟؟ کامی بے چینی سے آگے بڑھا۔۔
سارہ انہیں ڈیٹیل بتانے لگی۔ کہ ایک گاڑی کو کھاٸ سے نیچے گرتے بلاسٹ ہوتے یکھا گیا ہے۔ وہ بھی یہیں قریب۔۔! اور سب کو لگ رہا ہے وہ ہانیہ کی گاڑی ہو سکتی ہے۔۔ اس کے بابا وہیں جا رہے ہیں۔
کہتے ہوۓ وہ اپنی باقی دوست کی طرف بڑھ گٸ۔
آگیا سکون۔۔؟؟ مل گٸ دل کو تسلی۔۔؟؟ کامی نے دانت پیستے مونس سے کہا ۔ جو ابی بھی کتے میں کھڑا تھا۔ ہانی کے والد گڑی کو زن سے بھگا کے لے گۓ۔ وہ تینوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
بالکل غیر ارادی ہی۔۔ مونس نے ہیلمٹ پہنا اور ان کے پیچھے اپنی باٸیک لگا دی۔ اس کے فل سےیی دعا نکلی کہ وہ ٹھیک ہو۔۔ اسے کچھ نہ ہو۔
%%%%%%%%%
مما۔۔؟؟ ممما۔۔۔۔؟؟ اندر آتے ہی ملکہ نے ونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں اونچا اونچا بولے جا رہی ہو۔۔؟؟ کنول نے اسے باہر آتے ڈپٹا۔
یہ دیکھیں۔ بابا نے مجھے کتنا پیارا ڈریس دلایا ہے۔۔ میری برتھ ڈے کے لیے۔۔ جسٹ سی۔۔۔! ملکہ انتہاٸ خوش تھی۔ وہ واٸیٹ کلر کا باربی فراک ہاتھ میں تھامے اسے دیکھتی بہت معصوم خوشی تھی اس کے چہرے پے۔ ملکہ کے پیچھے ہی آفتاب بھی اندر داخل ہوا تھا۔
کنول کے چہرے پے انتہاٸ سنجیدیدگی چھاٸ۔ اس نے کرب سے اپنے شوہر کو دیکھا۔ جو مابٸل ہاتھ میس تھامے کوٸ نمبر ڈاٸل کر رہا تھا۔ اور اب موباٸل کان سے لگاتا کسی سے بات کر رہا تھا۔ مما۔۔؟؟ آپ مجھے کیا گفٹ دیں گیں۔۔؟ میری Eighteenth birthday پے۔۔؟؟؟ وہ بہت ایکساٸٹڈ تھی۔
آزادی۔! یک لفظی جواب پے آفتاب نے کنول کا چہرہ دیکھا۔ جو اسی کو دیکھ رہی تھی۔
کیا مطلب ۔۔ممما۔۔؟؟ کیسی آزادی۔۔؟؟ ملکہ حیران ہوٸ۔
بیٹا۔۔؟؟ یہ سب اٹھاٸیں روم میں جاٸیں۔۔ ! آفتاب نے سنجیدہ انداز میں کہا تو ملکہ نے سوالیہ اندز سے ماں کو دیکھا۔ پھر اپنے موباٸل پے اپنی بیسٹ فرینڈ کی کال آتے یکھ پنا سامان اٹھاتے وہ روم کی جانب بڑھتے کال رسیو کر گٸ۔
کنول۔۔؟؟ کیا ہو گیا ہے۔۔؟؟ بچی کے سامنے۔۔؟؟ کیسی باتیں۔۔؟؟ آفتاب نے سنجیدگی سے پوچھا۔
اس بچی کو بھی تو پتہ ہونا چاہیے۔۔۔! کہ اٹھارہ سال کی ہوتے ہی اس کی رخصتی کا دن ہے۔۔ اس کے بپ نے خون بہا میں اس کی بلی چڑھا دی ہے۔ کنول تنفر سے بولی تھی۔
کنول۔۔؟؟ آفتاب غصہ سے اس کی جانب بڑھا۔
حقیقت سے نظریں نہ چراٸیں خان۔۔! بھولیں مت۔۔ ملکہ۔۔ زیشان کے نکاح میں ہے۔ جو آپ نے اپنی رضاندی سے کروایا تھا۔ کنول نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔
جب کہ آفتاب نے اسےکلاٸ سےپکڑا اور روم کی جانب لیے بڑھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ملکہ یہ باتیں سن لے۔ اور اس کے دماغ پے کوٸ غلط تاثر پڑے۔
تم۔۔؟؟ کہیں بھی کچھ بھی۔؟؟ بنا سچے سمجھے۔؟ کہہ دیتی ہو۔۔؟۔ اگر ملکہ سن لیتی تو۔۔؟؟ آفتاب دبے دبے غصہ سے بولا۔ کیوں۔۔؟؟ کیوں نہ پتہ چلے اسے۔۔؟؟ اسے پتہ ہونا چاہیے۔۔ قتل پے بیٹی کا سودا کیا ہے آپ نے۔۔۔!
کنول۔۔؟؟ اس کے اتنے سخت الفاظ پے آفتاب کا ہاتھ اٹھا تھا۔ لیکن بروقت ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ آنکھیں غصہ سے لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ کنول کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
مار لیں۔۔ خان۔۔! بے شک جان سے مار لیں۔۔ کنول نے آفتاب کے گریبان کو پکڑا۔ وہ اسے یک ٹک دیکھتا ہی رہ گیا۔
بس۔۔ میری بچی کو بچا لیں۔۔ بچالیں ۔۔اس ے اس خون بہا کی رسم سے۔۔۔! وہ معصوم نہیں سہے پاۓ گی۔۔ روتے ہوۓ کہتے وہ آفتاب کے سینے سےجا لگی۔ آفتاب نے سختی سے لب بھینچے۔ اور کنول کے گرد بانہوں کا حصار بنایا۔
وعدہ کرتا ہوں۔۔ ملکہ کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہونے دوں گا۔ آفتاب کی بات پے کنول نے گہرا سانس خارج کیا۔
لیکن تم بھی مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔ اس بارے میں ملکہ کو کچھ بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔ آفتاب نے نرمی سے اسے سمجھایا۔ وہ اکثر یونہی پینک ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن آفتاب شیر خان نے ہمیہ اسے سنبھال لیا تھا۔ وہ اسے دل سے عزیز تھی۔ اس کا عشق تھی۔ اس کی ہمسفر تھی۔ اس کی جان تھی۔
&&&&&&&&&&&
حادثے کی جگہ پے وہ سب پہنچ چکے تھے۔ کافی زیادہ لوگ وہاں جمع ہو چکے تھے۔ کھاٸ کے نیچے گری گاڑی ہانی کی تھی۔؟ کوٸ یقین سے نہیں کہہ پارہا تھا۔ لیکن اس کے بابا جیسے اپنی زندگی ہار رہے تھے۔ مونس بھی وہاں پنچے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کے فل کو کچھ ہوا۔ اپنے کہے گۓ الفاظ کی بازگشت سناٸ دی۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ بھی اس کھاٸ کے پاس پہنچا جہاں گاڑی سے آگ اور دھواں نکل رہا تھا۔ پولیس بھی پہنچ چکی تھی شاید ام ہانی کے والد کے کافی اثر و رسوخ تھے۔ اسی لیے سبھی ان کے ساتھ تھے۔
یااللہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا۔؟ میں نے کیوں اتنے سخت الفاظ کا استعمال کیا ۔۔؟ کیا حق تھا مجھے۔۔؟ کیوں۔۔؟؟ کیوں۔۔؟ مونس دل ہی دل میں خود سے لڑ رہا تھا۔ اس کا دل بہت بے قرار ہو رہا تھا۔ اس کا دل چاہا وہ لڑکی دوبارہ اس کے سامنے آۓ۔ اور وہ اس سے کہے کہ وہ غلطی پے تھا۔ اپنے الفاظ وہ واپس لیتا ہے۔۔ ! لیکن شاید ۔۔ااب بہت دیر ہو چکی تھی۔ پولیس نیچے اتر چکی تھی۔ اور گاڑی میں گی آگ کو بجھایا جا رہا تھا۔
مونس مردہ قدموں سے وہاں سے واپس پلٹا تھا۔
تیز ہواٶں نے ان کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ لیکن مونس کے اندر لگی آگ کو وہ تیز ٹواٸیں نہ بجھا پا رہی تھیں۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا واپس اپنی باٸیک کے پاس آیا۔ گہرا سانس خارج کیا کہ اسی پل۔۔ ایک سکارف اڑتا ہوا اس کے چہرے کو ڈھانپ گیا۔ ہاتھ بڑھا کے وہ اسکارف چہرے سے ہٹایا۔
اسکارف دیکھتا اسے ہانی کا من موہنا چہرہ یاد آگیا۔ اس ل اس کا دل بہت بری طرح دھڑکا ۔
*****
علیزہ اور معاویہ کا بہت شاندار طریقے سے استقبال ہوا تھا۔ ان کے آنے پے دلہا راجہ فاٸز خان نے خوب آتش بازی کرواٸ تھی۔ اور ہواٸ فاٸرنگ ہوٸ تھی۔ علیزہ تو اتنے پرتپاک استقبال پے دم سادھے معاویہ کے ساتھ ہی جڑ کے رہ گٸ۔
پاکستان میں شادیاں ایسے ہوتی ہیں۔؟ علیزہ نے معاویہ کے کان میں گھس کے کہا۔ تو معاویہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ سب نے خوب پروٹوکول دیا تھا انہیں۔ یوں لگ رہا تھا۔ فاٸز خان نہیں معاویہ دلہا ہو۔ کھانے پینے کا بہت ہی شاندار بندوبست کیا گیا تھا۔ ہر طرف خوب رونقیں ہو گٸ تھیں۔ فاٸز کی مما نے ان کی خوب آٶ بھگت کی۔ انہیں زرا احساس نہ ہو رہا تھا۔ کہ وہ غیروں میں ہیں۔ یہ ملک بھی اپنا تھا اور یہاں کے لوگ بھی اپنے تھے۔
اس شادی۔۔۔۔ میں ۔آگے کیا کیا ہونے والا ہے۔۔؟ بہت ہی دلچسپ ہو گا۔۔تو دوسری طرف اب راز کھلنےجا رہا ہے۔۔ زیشان کے ساتھ ملکہ کے نکاح کا۔ ساتھ جڑے رہیں۔
دل_کو_قرار_آیا۔ (تم زیشان ارسل کے دل کی ملکہ نہیں۔ صرف ملکیت ہو)
ملکہ کا دل آج بہت اداس تھا۔ اس کی بیسٹ فرینڈ کی مما ہاسپٹل میں تھی۔ اور وہ اسی کے ساتھ ہاسپٹل آٸ تھی۔ کبری۔۔۔!ڈونٹ وی آنٹی ٹھیک ہو جاٸیں گیں۔
ملکہ نے اسے تسلی دی۔
ان شاء اللہ،۔ کبری نے دل سے کہا۔ وہ ماں کے لیے بہت پریشان تھی۔ کل بھی جب فون پے بات ہوٸ۔ تو وہ کافی پریشان تھی۔ آج وہ ملنے آٸ تو وہ اس کی مما کو لیے ہاسپٹل آگۓ۔ لیکن آنے سے پہلے اپنے بابا کو بتانا نہ بھولی۔ جو اسے ایک ایک منٹ کا پوچھتے تھے۔
بابا کی کال آتی دیکھ وہ باہر نکلی تھی۔ کاریڈور سے ہوتے وہ باہر نکلتی ہوٸ ساتھ میں بات بھی کیے جا رہی تھی۔ باپ سے بات کرتے اس کے چہرے پے ایک مخصوص چمک ہوتی تھی۔ جو اسے مزید خوبصورت بنا دیتی تھی۔
کال بند کر کے وہ پلٹی تھی۔ کہ کسی نے اسے زور سے دھکا دیا۔ موباٸل چھوٹ کے اس کے ہاتھ سے نیچے جا گرا۔ دھکا بہت زور کا تھا۔ وہ شخص اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ اور بھاگتے ہوۓ اس نے ملکہ کے مڑنے پے اسے غیر ارادی طور پے ہی زور کا دھکا دیا تھا۔ وہ بری طرح دور گرتی دیوار کا سہارا لیتی سنبھلتے کھڑی ہوٸ تھی۔ اس کے پیچھے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ کوٸ اور نہیں۔۔ گہری سبز آنکھوں والا زیشان ارسل تھا۔ اس کے ہاتھ میں گن تھی۔ جس کے فاٸر اس نے اس شخص پے کھول دٸیے تھے۔ پورے ہاسپٹل میں ایک افرا تفری مچ گٸ تھی۔ ملکہ نے کان پے ہاتھ رکھے اس شور کو خود سے دور کرنا چاہا۔ اس کی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو آن سماۓ۔ وہ اکیلا نہ تھا۔ اس کے آدمی بھی اس کے ساتھ تھے۔ جس پے اس نے فاٸر کیے وہ وہیں گرتا خون میں لت پت ڈھیر ہو چکا تھا۔ ملکہ نے ایک پل کو اس شخص کی طرف دیکھا۔ اس کا دل جیسے کٹ گیا ہو۔ اور رخ پھیر کے اس سفاک انسان کو دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں زرا بھی خم نہ تھا۔ اس کی نظریں بھی ایک پل میں ملکہ کی جانب اٹھیں تھیں۔
چلیں خان۔۔! بہادر سب سنبھال لے گا۔ اس کے خاص آدمی نے اسے وہاں سے چلنے کا کہا۔
لیکن وہ بنا پلک جھپکے ملکہ کو دیکھ رہا تھا۔ جو حیرانی اور سہمے انداز میں اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اور اسی ایک پل وہ اپنے ہوش و حواس کھوتی وہیں گرنے والی تھی۔ کہ زیشان خان نے فوراً آگے بڑھتے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔ پورا ہاسپٹل چینخ و پکار سے گونج رہا تھا۔ زیشان ملکہ کو بانہوں میں بھرے وہاں سے باہر نکلا۔ بلا کی سختی تھی۔ اس کے چہرے پے۔ گاڑی کی جانب بڑھتے اس نے اپنے آدمی کو وہاں سے دوسری گاڑی میں بھیجا۔ اور ڈراٸیور کو بھی گاڑی سے اتار دیا۔ ملکہ کو گاڑی میں فرنٹ سیٹ پے دھیرے سے بٹھاتا وہ خود ڈراٸیونگ سیٹ پے آیا تھا۔ اور گاڑی اسٹارٹ کرتا اپنے خان پیلس کی جانب گامزن ہوا تھا۔ اس کے آدمیوں اور گارڈز نے اس کی گاڑی کو کور کیا تگا۔ اس کا غصہ سوا نیزے پے پہنچا ہوا تھا۔ اسے امید نہیں تھی ملکہ اس لمحے وہاں پہنچے گی۔ اور یوں اسے فاٸر کرتا دیکھے گی۔ اسے یہ سب نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔
شٹ۔۔۔ ڈیم۔۔۔! اس نے ڈراٸیونگ کرتے زور سے ہاتھ اسٹیراٸنگ پے مارا۔
اس وقت خان پیلس میں کوٸ نہیں تھا۔ سواۓ ملازموں کے۔ زیشان کے حکم پے وہ سب بھی اندرون حصہ سے ہٹ گۓ تھے۔ زیشان ملکہ کو بانہوں میں اٹھاۓ اپنے روم کی جانب بڑھا۔ اسے آرام سے بستر پے لٹایا۔ وہ پھولوں سے بھی زیادہ نازک تھی۔
کیا آپ اس معصوم کو سزا دے پاٸیں گے۔ زرگل خانم کے الفاظ سماعت سے ٹکراۓ ۔ بے اختیار ہی وہ اس کے چہرے کو دیکھے چلا گیا۔ وہ واقعی بہت معصوم تھی۔ وہ اب سے نہیں۔۔ برسوں سے اس کی حفاظت کرتا آرہا تھا۔ لیکن سامنے کبھی نہیں آیا تھا۔ وہ آج بھی اس کے لیے وہی چار سال کی ملکہ تھی۔ جس کے گالوں کے ڈمپل کا وہ دیوانہ تھا۔ وہ اسے بچپن سے ہی اپنے دل کے بہت قریب پاتا تھا۔ اسے لٹاتا وہ وہیں اس کے قریب بستر کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پے جھکے وہ کچھ پل کے لیے سب بھول گیا تھا۔ دھیرے سے اس کے گال کو چھوا۔ اس کا ڈمپل کہیں نہیں تھا۔ وہ ابھی بھی بے ہوش تھی۔ اور زیشان اسے یک ٹک نہارے جا رہا تھا۔ نظر بھٹکتے ہوۓ اس کے گالوں سے اس کے لبوں پے جا ٹھہری وہ گلابی لب اسے اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ اس کے دل میں کٸ تار بجے تھے۔ ان کو چھونے کے لیے دل بے قرار ہوا تھا۔ وہ زرا کا زرا جھکا اس کے لبوں کے قریب ہوا۔
زیشان پتر۔۔! وہ قاتل کی بیٹی ہے۔۔ اور قتل کوٸ اور نہیں آپ کی ماں ہوٸ ہے ۔ اپنی ماں سے اس کی ممتا سے بے وفاٸ مت کرنا۔۔ وہ دشمنوں کے بیٹی ہے۔۔ اس کو سزا دینی ہے۔۔۔! یہ بات ہمشیہ یاد رکھنا۔
آنکھیں مونے ہوۓ وہ جو اس کی سانسوں پے دسترس حاصل کرنے والا تھا۔ کانوں میں جاوید خان کے الفاظ کی بازگشت گونجی۔ تو وہیں تھما۔ آنکھیں کھلیں۔ پل میں سبز ماٸل آنکھیں لال ہوٸ تھیں۔ اور وہ دانت پے دانت رکھے غصہ سے ملکہ کو دیکھنے لگا ۔ کبھی نہیں۔۔۔۔ تم۔۔ زیشان ارسل کے دل کی ملکہ نہیں۔۔ صرف اس کی صرف ملکیت ہو۔۔! لب بھینچے وہ پیچھے ہٹا تھا۔ کہ ملکہ کے گلے کی چین اس کے کالر میں اڑی تھی۔ وہ واپس اس کے قریب ہوتا خود کو اس سے ٹچ ہونے سے بچا گیا ۔ ایک نظر پھر سے اسے دیکھا۔
دوا بھی لگے نہ مجھے۔
دعا بی لگے نہ مجھے۔
جب سے دل کو میرے تو لگا ہے۔۔
زیشان نے اپنے کالر سے اس کی چین آزاد کرواٸ ۔
اور دور ہوتا چیٸر پے بیٹھا نظروں کا فوکس اس پے کیا۔ اور بنا پلک جھپکے اسے دیکھتا چلا گیا۔
نیند آنکھوں کی میری
چاہت باتوں کی میری
چین کو بھی میرے تو نے یوں ٹھگا ہے۔۔
اب کیبار نظروں کا زاویہ بدلا لیکن زیادہ دیر نظروں کو دور نہ رکھ پایا۔
جب سانسیں بھروں میں بند آنکھیں کروں میں۔
نظر تو ۔۔۔یار آیا۔۔!
پھر سے نظروں نے اس پری پیکر کے چہرے کو فوکس کیا۔
دل کو قرار آیا
تجھ پے پیار آیا
پہلی پہلی بار آیا۔۔!









آخر۔۔؟؟ کہاں جا سکتی ہے۔۔؟ مجھے میری بیٹی ہر حال میں چاہیے۔۔ مجھے تم سب۔۔؟؟ آفتاب شیر خان نے فون پے گارڈز کو کھری کھری سناٸ تھیں۔ ہاسپٹل میں فاٸرنگ کے بعد اتنا زیادہ ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ کہ کسی کو کچھ بھی سمجھاٸ نہ دیا۔ او جتنی دیر میں ملکہ کے گارڈز اس تک پہنچے۔۔ ملکہ وہاں سے غاٸب تھی۔ اب اتنا وقت بیت گیا تھا۔ ملکہ کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ آفتاب آفس سے ہاسپٹل پہچ چک تھا۔ سیکیورٹی کمرہ چیک کیے۔ لیکن ہاسپٹل کے مین گیٹ کا سیکیورٹی کیمرہ بھی ٹوٹ چکا تھا۔ کہیں کچھ سراغ نہ مل رہا تھا۔ ملکہ کہاں چلی گٸ۔۔؟ پفتبا شیر خان نے پولیس کی مدد سے وہ علاقہ سیل کروا دیا۔ ایک شخص کی لاش بھی ملی جسے گولیاں مار کے ہلک کیا گیا تھا۔ لیکن کسی نے ابھی تک کوٸ بیان نہ دیا تھا۔ سبھی وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔ اور جو تھے وہ لاعلمی کا اظہار کر رہے تھے۔ کوٸ بھی اس قصہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ سب اپنا اپنا دامن ببچا کے نکل رہے تھے۔ ایسے میں آفتاب شیر خان کس طرح خود پے ضبط کیے ہوۓ تھا ۔ یہ وہی جانتا تھا۔ یا اس کا خدا۔








ہانی کو ہوش آیا تو اپنے بابا کو اپنے پاس پایا۔ وہ ہاسپٹل میں تھی ۔ اسے ڈرپ لگی تھی۔ اور ماتھےپے چوٹ آٸ تھی۔ بینڈیج تھی۔ اور بھی چوٹی موٹی خاشیں آٸ تھیں۔ جمپ لگانے سے اس کے پاٶں پے موچ آٸ تھی۔ صد شکر تھا۔ کہ وہ کسی مزید بڑی انجیری سے بچ گٸ تھی۔ اس کے بابا اس کے لیے انتہاٸ فکر مند تھے۔
بابا۔۔؟؟ اس نے دھیرے سے انہیں پکارا۔ تو میکال نے اس کی جانب پیار سے دیکھا۔
جی بابا کی جان۔۔؟؟ میکال نے اس کا ہاتھ چوما۔ رات تک وہ یہی سمجھے کہ وہ ہانی کو کھو چکا ہے۔ لیکن وہاں موجود ایک شخص نے ہانی کو دیکھا۔ جو وہیں پاس جھاڑیوں میں بے ہوش پڑی تھی۔ انہیں بتایا۔ اور ہاپسٹل پہنچایا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون تھا۔ لیکن اس نے ان کی مدد کی تھی۔ یا شاید احسان۔۔ جو وہ زندگی بھر نہیں چکا سکتے تھے۔
ایم سوری۔۔! بابا۔۔؟؟ ہانی کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ جب کہ باہر کھڑے مونس نے اس کی آنکھوں کے آنسوٶں کو دل پے گرتا محسوس کیا۔ اور وہاں سے ہٹ گیا۔
ہانی۔۔! آپ نے مجھے ڈرا دیا تھا۔ میری جان۔۔۔۔۔ گر آپ کو کچھ بھی ہو جاتا تو۔۔ مما کو کیا جواب دیتا میں۔۔؟ ہو تو پہلے ہی آپ کے یہں آنے پے راضی نہیں تھیں۔۔ ! انہوں نے ہانیکے ماتھے پے بوسہ دیا۔
یو آر دا بیسٹ فادر ان دا ہول ورلڈ۔۔! لو یو ڈیڈ۔۔ ! ہانی نے ماکراتے ہوٸۓ نم آنکھوں سے کہا۔ جب کہ وہ اس لمحے مونس کو بالکل فراموش کر چکی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ آپے سے باہر ہوٸ تھی۔







سب مہندی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ منہا اور عشا نے سیم ڈریسنگ کی تھی۔ مہندی کے پیلےرنگ کے بنارسی جوڑے پہنے ۔ ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ مہندی کے تھال اٹھاۓ باقی لڑکیوں کے ساتھ باہر آٸ تھیں۔
رمشا مہندی کے جوڑے میں مایوں بیٹھی تھی۔ سبھی لڑکیاں اور کزنیں اسے تنگ کر رہی تھیں۔ لیکن وہ بس شرما کے چہرہ جھکا دیتی۔ تبھی شور اٹھا کے لڑکے والے مہندی لے کے آگۓ ہیں۔ سبھی ان کے استقبال کے لیے باہر نکلے۔ منہا اور عشا بھی باہر آٸیں۔ مہندی بہت دھوم دھام سے آٸ تھی۔ آتش بازی کا ایسا مظاہرہ ہوا کے دیکھنے والی ہر آنکھ دنگ رہ گٸ۔
ارے۔۔ منہا آپی۔۔۔؟ میرے پھول کی تھال اندر دہ گٸ ہے۔۔ میں غلطی سے مہندی کی اٹھا لاٸ۔ عشا نے کافی اونچی آواز میں مسٸلہ بیان کیا وہاں اتنا شور تھا۔ کہ کان پڑی آواز سناٸ نہ دے رہی تھی۔
تم یہیں رکو۔۔ میں لاتی ہو۔ منہا اسے اپنا پھولوں کا تھال تھامتی خود اندر بڑھ گٸ ۔ پھولوں کا تھال اٹھاۓ وہ جیسے ہی باہر نکلی۔ اور جتنی تیزی سے وہ نکلی کوٸ اتنی ہی تیزی سے اسطرف آیا اور بہت بری طرح اس سے ٹکرایا تھا۔ منہا کے ہاتھ سے پھولوں کا تھال اوپر ہوا میں اچھلا تھا۔ اور خود پیچھے کی طرف جھٹکے سے گرنے لگی کہ مقابل شخص نے اسے کمر میں ہاتھ ڈالے گرنے سے بچا لیا۔ پھولوں کی بارش پے منہا نے آنکھیں کھولتے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تھیں۔ اور بنا پلک جھپکے وہ ایک دوسرے کو دیکھے جا رہے تھے۔
سورج ہوا مدھم
چاند جلنےلگا۔
آسمان یہ ہاۓ کیوں پگھلنے لگا؟
میں ٹھہری رہی زمین چلنے لگی
دھڑکا یہ دل سانس تھمنے لگی۔
کی یہ میرا پہلا پہلا پیار ہے۔۔۔؟؟؟
