Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 04)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 04)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
منہا ۔۔۔آپی۔۔! پلیز یار۔۔ مان جاٶ ناں۔۔؟؟؟ آپ بات کریں گیں۔۔ تو بابا نہیں منع کریں گے۔ عشا نے کوٸ دسویں بار کہا تھا۔
اسکی فرینڈ کی بہن کی شادی تھی۔ جو یہاں سے دوسرے شہر حیدرآباد میں تھی۔ اور ان کو اکیلےجانے کی اجازت نہیں ملنی تھی۔ اس لیے عشا نے منہا کو آگے کیا۔ کہ وہ بابا سے بات کرے۔ بابا اس کی کوٸ بات نہیں ٹالتے تھے۔
عشا۔۔؟؟ حیدرآباد۔۔ تین دن۔۔کے لیے۔۔۔؟؟ بابا نہیں مانیں گے۔۔ منہا نے سوچتے ہوۓ میٹھی آواز میں کہا۔
آپی۔۔۔! میں نے رمشا سے وعدہ کیا ہے۔۔ پلیز کچھ کریں ناں۔۔۔! عشا کو بے چینی ہوٸ۔
اچھا ابھی سر جاٶ۔۔ صبح بات کریں گے۔۔ میں بابا کو منانے کی کوشش کروں گی۔ منہا نے لیٹتے ہوۓ اسے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
منہا آپی۔۔؟؟ سوتے ہوۓ بھی عشا کی زبان میں کھجلی ہوتی رہتی تھی۔
ہممم۔۔۔م ؟ اس نے دھیرے سے آنکھیں موندے پوچھا۔
عمار بھاٸ کب واپس آٸیں گے۔۔؟؟ وہ تو وہاں جا کے ہمیں بھول ہی گۓ ہیں ۔ عشا کے محبت اور شکوہ کناں انداز پے منہا نے آنکھیں نیم وا کیں۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی۔ عمار بہت کم ان سے بات کرتا تھا۔ عابی سے وہ بات کر لیتا تھا۔ کہ وہ ماں تھی۔۔ اور ماں کو وہ اگنور نہیں کر سکتا تھا۔ جمیلہ خاتون سے بھی وہ بہت کم مخاطب ہوتا تھا۔ شاید۔۔ آجاۓ کبھی۔۔۔ ؟ گہرا سانس خارج کرتے منہا نے کروٹ بدلی۔ معاویہ بھٸ اور علیزہ آپی بھی کبھی ہم سے بات نہیں کرتے۔۔۔ نہ وہ کبھی پاکستان آۓ۔۔ جسطرح۔۔ وہاج بھاٸ۔۔۔ پنکی۔۔۔ سب ہم سے ملتے ہیں۔۔ ! عشا آج اسے اچھا خاصا زچ کر رہی تھی۔ منہا نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ ویسے ۔۔ ہو سکتا ہے۔۔ فضا آنی۔۔۔۔ اس لیے بھی آپ سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔۔ کہ آپ ان کی بہو بنیں گیں۔ ہیں ناں۔۔ ؟ عشا نے مسکرا کے اسے کہا تو وہ لب بھینچ گٸ ایک سال پہلے ہی سب کی باہمی رضا مندی سے منہا اور وہاج کا رشتہ طے کر دیا گیا تھا۔ دونوں نے ماں باپ کی پسند کو ہی فوقیت دی تھی۔ لیکن آج تک دونوں میں سلام دعا سے زیادہ بات نہ ہوپاٸ تھی۔ وہاج سیریس سا بندہ تھا۔ اپنے باپ کی طرح۔ اور منہا نے بھی کبھی فرینک ہونے کی کوشش نہ کی تھی۔۔ ایک فاصلہ تھا جو ان دونوں نے بناۓ رکھا تھا۔ اور لاہور سے کراچی آنا بھی کونسا آسان تھا۔ وہ ہر عید یا چھٹیوں میں آتے تھے۔ ایک سال پہلے فضا نے اپنی خواہش کا اظہار شامی سے کیا تو اس نے بڑی بہن کا مان رکھا اور دعاۓ خیر کر دی۔ لیکن خاندان والوں کو ابھی اس بات سے بے خبر ہی رکھا ۔ جب کہ دل اس کا انابیہ کی طرف تھا۔ شروع سے وہ چاہتا تھا۔ کہ معاویہ اور منہا کا رشتہ طے ہو۔ ۔ لیکن۔۔ انابیہ نے پاکستان سے جاتے ساتھ ہی ان سے وہ ایک بات کرنے کا جو تعلق تھا۔۔۔ وہ بھی جیسے نہ ہونے کے برابر ہو گیا تھا۔ شامی دل ہی دل میں اس سے نالاں ہوا۔ اور پھر خود بخود ہی دوری آ گٸ۔ عشا۔۔ میں بابا کو منا لوں گی۔۔ جانے کے لیے۔ پلیز ۔۔ اب سو جاٶ۔۔۔! منہا نے اسے چپ کرانے کی کوشش کی۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی آگے اب وہ اسے کافی زیاہ تنگ کرنے والی تھی۔ منہا کی بات پے اس نے یاہو کا نعرہ لگایا۔ او پھر دوبارہ بات نہ کی۔ اور سنے کی کوشش کرنے لگی۔







مونس۔۔ مونس۔۔۔ مونس۔۔۔۔! ہر طرف اس کے نام کا شور تھا۔ اور اب۔۔ وہ ریس کے لیے ہیلمٹ پہنے باٸیک پے بیٹھا ریڈی تھا۔ اس وقت وہ اونچے نیچے راستوں پے ریس لگانے والا تھا۔ دور دور تک کہیں ایک پہاڑی سلسلے تھے۔ ریس خطرناک تھی۔ لیکن۔۔ وہ مونس تھا۔ مونس آفتاب شیر خان۔۔ خطروں سے کھیلنا اس کا شوق تھا۔ ریس شروع ہوٸ اور سب ۔ اپنی اپنی پوزیشنز سے آگے کی طرف بڑھے۔ ایک بار پھر ہر طرف مونس کے نام کی گونج تھی۔ اس کے سب دوست اسے ہی سپورٹ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ بیٹ بھی لگی تھی۔ وہ بیسٹ باٸیک ریسر تھا۔ جو آج تک ایک ریس بھی نہیں ہارا تھا۔ لیکن۔۔ شاید آج وہ۔۔ ہارنے والا تھا۔۔ اینڈ پواٸنٹ قریب ہی تھا ۔ اس کی باٸیک کے بالکل ساتھ ایک ریڈ باٸیک تھی۔ جو فل ریس میں تھی۔ مونس نے ایک نظر اس پے ڈالی۔ اور اپنی باٸیک کو سپیڈ دی۔ وہیں اینڈ لاٸن کے نزدیک پہنچتے ہی اس نے باٸیک کی سپیڈ نامحسوس انداز میں کم کی تھی۔ اور ریڈ باٸیک اس کے قریب سے ہوتی اسے کراس کرتی فینش پواٸنٹ کو کراس کر گٸ۔ ایک طرف تالیوں کی گونج تھی تو دوسری طرف اوہو۔۔ کا شور۔۔ ! مونس کے دوستو کو یقین نہ آیا کہ مونس ریس ہار گیا ہے۔ وہ ریس ہارا۔ اور انہیں بیٹ ہارنی پڑی سب کے چہرے اترے تھے۔
کیا یار۔۔؟؟ ۔۔ مونس۔۔ دی گریٹ ریس ہار گیا۔۔؟؟ ماحد نے منہ بناتے مونس کو دیکھا جو ہیلمٹ اتارتا اپنے پسینےسے تر بالوں کو داٸیں باٸیں سر کو گھوماتا خشک کرنے لگا جب کہ چہرے پے ایک دلفریب مسکان تھی۔ جیسے زرا بھی فرق نہ پڑا ہو۔ ہارنے کا۔ کتنےکا نقصان ہوا ہے۔۔؟إ تمہیں۔۔؟ شاہانہ انداز میں پوچھا۔ کیا فاٸدہ۔۔؟؟ ماحد کا منھ اترا تھا۔ مجھ سے لے لینا جگر۔۔۔! مونس نے اس کے کاندھے پے زور سے مارا کہ وہ ہل کے رہ گیا۔
کیا۔۔ یار۔۔ اپنی باڈی دیکھ۔۔ اور۔۔ میری؟؟ کہاں تو باڈی بلڈر۔۔ اور کہاں۔۔؟؟ کہاں یہ مریل سا۔۔۔! کامی نے لقمہ دیا تو سبھی کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا۔
اوہ۔۔ تیرے کی۔۔۔۔! اچانک سے ماحد اٹھا تھا۔ اور سر پے ہاتھ مارا تھا۔ کیا ہوا۔۔؟؟ کامی نے اسے سوالیہ انداز میں دیکھتے پوچھا۔ ارے۔۔ مونس۔۔۔! تم تو ایک لڑکی سے ہار گۓ۔۔؟؟ وہ دیکھو۔۔۔! ماحد نے سامنے اشارہ کیا۔ تو سب کی نظریں اس جانب اٹھیں۔ ریڈ باٸیک پے بیٹھی وہ کوٸ لڑکی ہی تھی۔ سنہرے بالوں والی۔ اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ جب کہ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ ہاٸ فاٸ کرتی خوش ہو رہی تھی۔ اسی لمحے اس کی کسی دوست نے اس کا دھیان ان کی طرف کروایا۔ تو وہ مڑی۔ سب کو دیکھتے مونس کو اس نے ایک سماٸل پاس کی۔ جب کہ مونس نے کوٸ رسپانس نہ دیا۔ اوۓ ہوۓ۔۔ جانی ۔۔ ! وہ تو تجھے لاٸن مار رہی ہے۔۔۔! ماحد نے ہنستے ہوۓ مونس کے کندھے پے تھپکا۔ جب کہ مونس اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا آج رات کی پارٹی کو ڈسکس کرنے لگا۔
ایکسکیوزمی۔۔۔! اچانک سے اپنے پیچھے نسوانی آواز سنتا وہ پلٹا تھا۔ وہ سنہرے بالوں والی اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔ مونس نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ جب کہ اس کے سارے ہی دوست وہاں سے ہٹ گٸے تھے۔
آٸ ایم ہانی۔۔۔! ام ہانی۔۔۔! ناٸس ٹو میٹ یو۔! وہ لڑکی مسکراتے ہوۓ اپنا ہاتھ مونس کی جانب بڑھا گٸ جسے مونس نے ایک نظر دیکھا۔ اور تھام لیا۔
مونس ۔۔۔۔! مونس آفتاب شیر خان۔۔! بہت فخر اور غرور سے مونس نے اپنا تعارف کروایا۔
آپ نے۔۔ ایٹ دا لاسٹ مومنٹ ۔۔۔ باٸیک کی سپیڈ کیوں کم کی۔۔؟؟ اس کی اگلی بات پے مونس نے ایک داد دینےوالی نظر سے اسے دیکھا۔ کہ وہ اس کی اس حرکت کو سمجھ گٸ تھی۔ مونس نے ہیلمٹ کو واپس پہنا۔ میں نے لڑکوں سے ریس لگاٸ تھی۔۔ لڑکیوں سے نہیں۔۔۔! اس کے اچانک دٸے گۓ جواب پے ہانی نے حیرت سے منھ کھولے اسے دیکھا۔ مطلب۔۔۔؟؟ آپ جانتے تھے۔۔ کہ۔۔ میں۔۔ ؟؟ ہانی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ مونس نے باٸیک کو سپیڈ دی۔ اور اک نظر اسے دیکھتا باٸیک وہاں سے بھگا لے گیا۔ امپریسوو۔۔۔۔! آٸ لاٸیک اٹ۔۔۔! ہانی زیرِلب مسکراٸ۔








پتر۔۔۔! کہاں جا رہے ہو۔۔؟؟ زرگل نے زیشان کو تیار ہوتا باہر جاتا دیکھا تو پکار بیٹھیں۔
سلام خانم۔۔۔کیا ہوا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔؟؟ کوٸ کام تھا۔۔؟؟ وہ انہی قدموں پے واپس پلٹا تھا۔
ہاں۔۔ پتر۔۔! وہ۔۔ آپ کی خالہ ہیں ناں۔۔ ان کے شوہر کی بھتیجی آرہی ہے۔ رمل۔۔۔ ! آج شام کی فلاٸیٹ ہے۔۔ تو اسے پک کرنا ہے۔۔! آپ کرلیں گے۔۔؟ زرگل عظمی کی ماں تھیں۔ لیکن۔۔ امینہ اور سفینہ ان کی سوتن کی بیٹیاں ۔۔ سوتن کی وفات کے بعد ان کو بھی ماں کا پیار دیا تھا۔ اور دونوں کی شادی خان فیملی میں کر دی تھی۔ ایک ہی گھر میں۔۔ دونوں بھاٸیوں کے ساتھ دونوں بہنوں کو رخصت کر دیا۔ دونوں دبٸ میں ہوتی تھیں۔ اور بہت عرصہ ہی بیت گیا تھا۔ا نہیں آۓ ہوۓ۔ اب ان کے شوہر کی بہن کی بیٹی رمل آرہی تھی۔
خانم۔۔! میں ڈرٸیوار کو بھجوا دوں گا۔ آپ اسے وقت بتا دیجے گا۔ زیشان نے اپنی گھڑی پے وقت دیکھتے عجلت بھرے انداز میں کہا۔ جب کہ زرگل کا دل تھا کہ زیشان خود جاۓ۔ کیونکہ امین نےصاف کہا تھا۔ کہ اس کے شوہر اور اس کے بھاٸ کی مرضی ہے کہ رمل کا رشتہ زیشان سے ہوجاۓ اس لیے انہوں نے رمل کو پاکستان بھجینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس میں زرگل ان کا ساتھ دے۔زیشان جا چکا تھا۔ لیکن زرگل سوچ میں پڑ گٸ تھیں۔ ایک طرف امینہ اور سفینہ تھیں تو دوسری طرف زیشان کے نکاح میں وہ معصوم۔۔ جسے بہت جلد اس حویلی میں لایا جانا تھا۔ اور نجانے کیا سلوک کیا جانا تھا۔ وہ عظمی کی چہیتی تھی۔ ملکہ۔۔ اور زرگل جانتیں تھیں۔ کہ عظمی کو ملکہ بہت پسند ہے۔ او وہ دبے لفظوں میں اسے بھاٸ سے زیشان کے لیے مانگ بھی چکی ہیں۔ لیکن۔۔ ؟؟ پھر سب کچھ ہی تباہ و برباد ہو گیا۔۔؟؟ دو آنسو ٹوٹ کے ان کے گالوں پے بہہ نکلے۔ آفتاب کو بھی انہوں نے بیٹے جیسا ہی مان بخشا تھا اور وہ زرگل کو ماں کا درجہ ہی دیتا تھا۔ لیکن۔۔ چودہ سال پہلے ہوۓ واقعہ نے سب کی زندگیوں کو بدل کے رکھ دی تھی۔ محبتوں کی جگہ نفرت نے لے لی تھی۔ اور نجانے یہ نفرتیں کب تک پنپنتی تھیں۔۔ ؟ وہ گہرا سانس خارج کرتی وہیں بیٹھ گٸیں۔
خانم۔۔۔! جاوید خان کی کڑکتی آواز سنتیں وہ اچانک سے چونکیں۔ اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸیں۔
تیاری کریں۔۔ بہت جلد۔۔ ؟؟ ہم۔۔ آفتاب شیر خان کے گھر جا رہے ہیں۔۔ اپنی امانت واپس لینے۔۔۔! لہجہ میں ایک غرور تھا۔۔ ایک اکڑ تھی۔ جسے محسوس کرتی زرگل انہیں دیکھنے لگیں۔
جاری ہے۔
