Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 22)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

آپ مجھ سے ناراض ہو جاٸیں گے تو میں کیا کروں گی۔۔؟؟ کنول نے اس کے قریب ہوتے مان سے کہا۔ ناراض ہونا بنتا نہیں کیا۔۔؟إ آفتاب نے اس کا قریب آنا نوٹ کیا تھا۔ نہیں ۔۔ بالکل نہیں۔۔ ! کنول نے اس کے گلے کے گرد بانہیں ڈالیں تھیں۔ آفتاب نے نفی میں سر ہلاتے اس کی بازوں کا حصار اپنے سے بہت ہی نرم انداز میں الگ کیا تھا۔ اور آگے بڑھ گیا تھا۔ کنول نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ وہ رکا تھا۔ کنول نے اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ روم میں لے گٸ۔ وہ بھی خاموشی سے اس کے ساتھ چل دیا۔ لیکن وہ خفا خفا سا تھا۔ اور کنول تو اسے منانے کا ہر فن جانتی تھی۔ سوری۔۔۔! اسکو بیٹھاتے خود گھٹنوں کے بل بیٹھتے وہ کان پکڑ گٸ۔ کہاں بھیجا ہے اسے۔۔؟؟ اسے آفتاب سے اسی سوال کی توقع تھی۔ اس لیے چہرے پے دھیمی سی مسکان سجی۔ جہاں بھی ہے۔۔ یقین رکھیے محفوظ ہے۔ اب کی بار آواز میں کھنک تھی۔ کہتے ہوۓ وہ اٹھی تھی اپنی جگہ سے لیکن جا نہیں پاٸ۔ آفتاب نے اس کی کلاٸ تھامے اپنی اوت کھینچا کے وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کی گود میں آن گری۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟؟ مجھ سے چھپا لیں گیں تو کیا آفتاب شیر خان پہنچ نہیں پاۓ گا۔۔؟؟ اب کی ار آفتاب کا انداز بھی چیلنجنگ تھا۔ رٸیلی۔۔؟؟ کی بول میں مت رہیے گا۔۔ آفتاب شیر خان کی بیوی ہیں ہم۔۔! تو ان کی سچ کو بھی جانتے ہیں۔۔ اور اس سچسے دو قدم آگے چلنا بھی۔۔۔! کنول نے آنھ ونک کی۔ آفتب نے نفی میں سر ہلاتے ہرا سانس خارج کیا۔ ویسے۔۔ بیوی سے تو کچھ بھی امید کی جاسکتی ہے۔۔ لیکن۔۔ والدہ محترمہ سے ۔۔ مجھے یہ امید نہ تھی۔ کہتے ہوۓ بہت پرسکون انداز میں بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاتے وہ کنول کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔ آ۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ۔۔؟؟ کنول کو گڑبڑ کا احساس ہوا۔ کیا کیسے پتہ۔۔؟؟ کہ۔۔ آپ نے کیسے مما کے ساتھ مل کے ملکہ کو یہاں سے نکالا۔ ؟؟ آفتب نے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔ ڈونٹ ٹیل می۔۔۔!جس کے ساتھ میں نے ملکہ کو بھیجا وہ۔۔ بھی آپ۔۔۔؟؟ کنول کے ماتھے پے فکر کی لکیریں نمودار ہوٸیں۔ آفتاب اب کی بار مسکرایا تھا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا کنول کے پاس آتے اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے تھے۔ آپ کو لگا آپ آفتاب شیر خان سے دو قدم آگے چلیں گیں۔۔؟؟ جب کہ۔۔ آپ کو اچھے سے بتا دوں۔۔ میری اجازت کے بنا میری حویلی میں کوٸ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔ تو آپ تو پھر میری بیوی ہیں۔ اس کے قریب ہوتے اس کی سانسوں کو محسوس کرتا وہ آج بہکا تھا۔ اسے امید ہی نہیں یقین تھا۔ اسکی بیوی کنول ضرور کچھ نہ کچھ لرے گی۔ اس لیے وہ پہلے سے ہی پلان بنا کے بیٹھا تھا۔ اور وہ خود بھی ابھی ملکہ کی رخصتی نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے اسے منظرعام سے ہٹنا چاہتا تھا۔ موقع اس کو کنول نے دے دیا۔ آپ بہت چالاک ہیں۔۔ کنول نے منہ بنا کے کہا۔ نہیں میں آفتاب ہوں۔۔ !اب کی بار آفتاب نے آنکھ ونک کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مونس پوری دنیا سے لڑ سکتا تھا۔ لیکن اپنے باپ کے مقابل نہیں کھڑا ہو سکتا تھا۔۔ ایسے میں ملکہ کی نظروں کا سامنا کرنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس لیے وہ وہاں سے چلا گیا۔ اور یہ تک بھول گیا کہ اس نے ہانی کو انواٸیٹ کیا تھا۔ اور وہ کہاں ہے۔۔؟؟ اس کا خیال رکھنا اس کا فرض تھا۔ جبوہ واپس لوٹا تو حویلی میں میں بالکل خاموشی تھی۔ تقریباً سبھی جا چکے تھے۔ مونس لب بھینچے اندر داخل ہوا۔ کہ

سر۔۔؟؟ آواز پے رکا اور پلٹا۔ وہ ہانی کا ڈراٸیور تھا۔ تم یہاں ۔۔؟؟ ابھی تک۔۔۔؟؟ گۓ نہیں۔۔؟؟ مونس کو حیرت ہوٸ۔ سر۔۔ تین سے چاردفعہ پتہ کروا چکا ہوں۔۔ میم باہر نہیں آرہیں۔ کیسے جا سکتا ہوں۔۔؟؟ وہ منمنایا تھا۔ مونس کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ لیکن۔۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔۔ وہ ۔۔؟؟ تو۔۔؟؟ مونس کو لگا ایک بار پھر اس نے ہانی کو کھو دیا۔ پلیز۔۔ ار آپ ہیاندر سے پتہ کر دیں۔۔ !شام ہو رہی ہے۔۔ واپس بھی جانا ہے۔ موسم بھی خراب ہو رہا ہے۔۔۔! ان کے بابا کا بھی کٸ دفعہ فون آچکا ہے۔۔ ! وہ کافی زیادہ تھک ہار گیا تھا۔ اس لیے اب تفصیلی بات کر رہا تھا۔ تم یہیں رکو۔۔ میں چیک کرتا ہوں۔۔ مونس اسے وہیں رکنے کا کہتا خود اندر بڑھا۔ مما۔۔ مامم۔۔۔۔!وہ چلاتا ہوااندر آیا۔ ییہ۔۔۔ آپ کے بیٹے کی آواز ہے ناں۔۔؟؟ کنول نے آفتاب سے کہا۔ لگ تو یہیں رہا ہے۔۔ ! آگۓ آپ کے صاحبزادے۔۔ پتہ کریں۔۔ کہاں تھے اتنی دیر۔۔! آفتاب کے کہنے پے وہ باہر نکلی۔ کاریڈور میں ہی مونس مل گیا۔ مما۔۔؟؟ ہانی کہاں ہے۔۔؟؟ مونس کے سوال پے کنول نے مڑ کے حیرت سے آفتاب کو دیکھا۔ پھر مونس کو۔ مجھے لگتا ہے آپ۔۔ ملکہ کا پوچھ رہے ہیں۔۔؟؟ کنول نے تصحیح کی۔ موسن نے ایک نظر باپ کو دیکھا۔ ملکہ کی فکر کرنے کے لیے ڈیڈ ہیں ناں۔۔ مجھے کیا ضرورت ہے۔۔۔ میں ہانی کا پوچھ رہا ہو۔۔؟؟ مونس کا لہجہ تھوڑا تلخ ہوا تھا۔ ہانی۔۔۔؟؟ کون ہانی۔۔؟؟ کنول کے انداز میں ابھی بھی حیرت تھی۔ میری دوست ہے۔۔ دوسرے شہر سے آٸ تھی۔ میں نے انواٸیٹ کیا تھا۔ برتھ ڈے پے۔۔۔! لیکن اب۔وہ کہیں نہیں ہے۔۔۔! آپ نے انواٸیٹ کیا تھا۔ تو آپ کو اس کا خیال بھی رکھنا چاہیے تھا۔ وہ آپ کی مہمان تھی۔ آفتاب نے بیچ میں بولتے نس کو غلطی کا احساس دلایا۔ برتھ ڈے کی جگہ شادی کا سین آن ہو گیا تھا۔۔ تو کیا کرتا۔۔؟؟ مونس کے ماتھے پے بھی بل پڑے۔ میرا خیال ہے آپ کو اپنی دوست ۔۔ ہانی کو ڈھونڈنا چاہیے۔۔۔! کنول نے بات کا رخ بدلا تھا۔ جی۔۔۔! وہی کر رہا ہوں۔۔۔! مونس نے سنجیدگی سے کہتے واپس باہر کیجانبقدم بڑھا دٸیے۔ یہ۔۔ صرف دوت ہے یا۔۔ دوست سے بڑھ کر۔۔؟؟ آفتاب سوچنے لگا۔ کون۔۔؟؟ ہانی ؟؟ کنول نے پوچھا۔ ہمممم۔۔۔؟؟؟ مجھے لگتا ہے۔۔ جس طرح آپ کے بیٹے کی بے چینی ہے۔۔ وہ دوست سے بڑھ کے ہے۔ آفتاب نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ ہممم۔۔۔ چلیں۔ دیکھتے ہیں۔۔آپ کے بیٹے کی پسند۔۔؟؟ کنول نے بھی مطمین ہوتے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔

مونس گاڑی لیے باہر آچکا تھا اب وہ ہانی کی تلاش میں تھا۔ اسے مسلسل کال کر رہا تھا۔ بیل جا رہی تھی۔ لیکن وہ پک نہیں کر رہی تھی۔ مونس کو ے انتہا غصہ آگیا۔ ڈیم۔۔۔ پک اپ دا فون۔۔۔! وہ چلایا۔ اسی لمحے ہانی نے کال پک کی۔ کہاں ہو تم۔۔؟؟ مونس چلایا تھا۔ کہیں بھی ہوں۔ تمہیں کیا۔۔؟؟ ہانی بھی چٹخی تھی۔ پرے چار گھنٹے بعد اس کی یاد آٸ۔۔؟؟ وہ کیسے فراموش کر سکتا تھا اسے۔۔؟؟ ہانی سیدھی طرح بتاٶ مجھے۔۔؟؟ کہاں ہو تم۔۔۔؟؟ مونس نے لہجہ دھیما کیا۔ وہ اس وقت ہانی کو لے کے واقعی فکر مند ہوا تھا۔ نہیں بتانا چاہتی تمہیں۔۔ سمجھے تم۔۔۔! کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی۔ اور وہیں بس اسٹینڈ کے مسافروں کی جگہ پے بیٹھی وہ روتی رہی۔ اب تو بارش بی شروع ہو گٸ تھی۔ لیکن وہ ڈھیٹ بنی وہاں بیٹھی رہی۔

یہ لڑکی آج میرے ہاتھ سے ضاٸع ہو جاۓ گی۔ مونس نے لب بھینچے گاڑی آگے بڑھاٸ وہ اسے ہر حال میں ڈھونڈ نکالے گا۔ وہ جانتا تھا۔کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔۔ گاڑی کو مختلف شاہراہوں پے لے جاتے وہ سب جگہ نظر رکھے ہوۓ تھا۔ تبھی اسے ایک طرف مسافر اسٹینڈ پے بیٹھی نظر آگٸ۔ جہاں ایک دکا مسافر تھے۔ لیکن بارش اب پورے زورو شور سے برس رہی تھی۔ گاڑی کو پاس ہی کھڑا کرتا وہ جھٹکے سے دروازہ کھولتا باہر نکلا تھا۔ اور یدھا ہانی کی طرف بڑھا۔ اسے بازو سے پکڑ کے اٹھایا۔ وہ جو روتے ہوۓ اس بارش کو دیکھ رہی ھتھی۔ اچانک سے کسی کے ہاتھ کی پکڑ کے وہ کرنٹ کھا کے مڑی تھی۔ تمہارا دماغ کام کرتا ہے یا نہیں۔۔؟ بہت شوق ہے تمہیں۔۔ اپنی زندگی سے کھیلنے کا۔۔؟؟ مونس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسے رکھ کے ایک جڑ دے۔ چھوڑو۔۔ میرا ہاتھ۔۔ کس حق سے پکڑ رہے ہو۔۔؟؟ نامحرم ہو تم میرے لیے۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔! ہانی نے اسی کے انداز میں کہا تو مونس کو اس کے غصہ کی وجہ سمجھ آٸ۔ چلو میرے ساتھ۔۔۔ ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی۔۔ لیو۔۔ ماٸ ہینڈ۔۔!بچی نہیں ہوں۔۔میں۔۔ اپنا اچھا برا سب جانتی ہوں۔۔ سمجھے تم! منہ بنا کے وہ بدتمیزی سے بولی تھی۔ ۔ تم۔۔۔ اس وقت اس شہر میں میری مہمان بن کے آٸ ہو۔۔اورتمہیں۔۔ باحفاظت گھر پہنچانا میری زمیداری ہے۔۔ ایک بار تمہیں گھر پہنچا دوں۔۔ پھر تم۔۔ جہاں چاہے مرضی جاٶ۔۔آٸ ڈونٹ کٸیر۔۔۔! مونس اس کے قریب ہوے سرد انداز میں بولا تھا۔ ہانی نے اسے اجنبیت سے دیکھا۔ مونس نے اسے کلاٸ سے پکڑا اور گاڑی میں لے جا کے بٹھایا۔ وہ اب کی بار چپ چاپ بیٹھ گٸ لیکن رخ دوسری جانب رکھا۔ مونس نے گاڑی اس کے شہر کی طرف موڑی۔ جو یہاں سے دو گھنٹے کی مسافت پے تھا۔ وہ وہ حیدرآباد رہ رہی تھی۔ اپنی فیملی کے ساتھ۔

مونس نے حیدر آباد کا سفر باندھ لیا۔ جب کہ ڈراٸیور کو فون پے انفارم کر دیا کہ وہ چلا جاۓ۔ ہانی کے آنسو اب تھم چکے تھے۔ غصہ کی جگہ دکھ نے لے لی تھی ۔خاموشی سے اب وہ باہر دیکھ رہی تھی۔۔ مونس نے اس کی خاموشی کو دل سے محسوس کیا۔ لیکن خاموش رہا۔ وہ ہمیشہ ہی اس کے ساتھ جانے انجانے میں سخت الفاظ استعمال کر گیا جب بھی ملا۔ اور آج بھی وہ ان سب کا غصہ اس پے اتار گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیشان ارسل کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ آفتاب شیر خان کی باتیں سن کے۔ وہ واپس خان پیلس نہیں گیا تھا۔ بلکہ سڑکوں پے گاڑی دوڑاتا سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔

آفتاب شیر خان کے الفاظ اسے بھول نہیں رہے تھے۔ وہ گاڑی روکے گاڑی سے باہر نکل آیا۔ نہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔ وہ بھی میری مما کے قاتلوں میں شامل ہیں۔۔ مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ اس نے جیسے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی۔ لیکن۔۔دل کے نہاں کونے میں بغاوت نے سر اٹھایا تھا۔ اگر ان کی کہی باتوں میں زرا بھی سچاٸ ہوٸ تو۔۔ یہاں تو پے آکے وہ رک گیا۔۔۔ کیا۔۔؟؟ کیا کرو گے تم۔۔۔؟؟ کیسے لوٹو گے پھر۔۔؟؟ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھامتے آنکھیں م٢ندیں تو آنکھوں کے سامنے ملکہ کا چہرہ لہرایا۔ ملکہ۔۔۔؟؟ تم نے فرار کا راستہ نکال کے بہت غلط کیا۔ دماغ کی سوچوں کا رخ بدلا۔ زرو سے مکا گاڑی کے بونٹ پے مارا۔ ایم کمنگ ۔۔۔ ! ہمکلامی میں کہتا وہ واپس گاڑی میں بیٹھا۔ اب کی بار اس کی منزل اس کی ملکہ تھی۔۔۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *