Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 23)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

تھینکس گاڈ۔۔۔! دادو نے ساتھ دے دیا۔۔ اور ہم وہاں سے نکل آۓ۔۔ ورنہ۔۔ اس جلاد سے مجھے کون بچاتا۔ ۔۔؟ بستر پے لیٹتے ملکہ نے آج کے دن کے متعلق سوچا۔ باہر بارش کا زور بہت سخت تھا۔ ایک پل کو ملکہ کا دل گھبرایا۔ لیکن اسے ہمت کرنا تھی۔ وہ تبسم بیگم کے ساتھ ان کی ایک دوست کی طرف آٸ تھی۔ حیدرآباد۔۔ جب کہ وہ یہ نہیں جانتی تھی۔ کہ حیدرآباد۔۔ زیشان ارسل کا گھر ہے۔۔ خان پیلس۔۔ وہیں تھا۔۔ حیدرآباد میں چڑیا کا بچہ بھی پر مارے تو اسے خبر ہو جاۓ۔ اور یہاں تو سوال اسکی بیوی کا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر ہوٸ تھی۔ موباٸل ہاتھ میں تھامے وہ سوچ رہی تھی ۔ کہ ممام کو کال کرے یا نہ۔۔؟؟ رات کافی ہو گٸ تھی۔ اسے مناسب نہ لگا۔ موباٸل کو ایک طرف رکھا۔ اور سونے کے لیے لیٹی۔ نجانے مما نے بابا کو کیسے ہینڈل کیا ہو گا۔۔؟؟ یہی سوچتے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔ کہ ایک دم سے لاٸیٹ چلی گٸ۔ ملکہ کو اندھیرے میں ڈر لگتا تھا۔ اس لیے وہ ہمیشہ لاٸیٹ آن کر کے سوتی تھی۔ ابھی بھی لاٸیٹ آن تھی۔ کہ ایک دم سے بند ہو گٸ۔ اوپر سے بادل کی گرج چمک۔۔ وہ مزید ڈر سی گٸ۔

یہ۔۔ یہ لاٸیٹ کو کیا ہوا۔۔؟؟ اپنی جگہ سے اٹھتے وہ اندازے سے دروازے کو ٹٹولنے کی کوشش کرتی آگے بڑھی کہ کسی کے فولادی سینے سے ٹکرا گٸ۔ اس کی چینخ براآمد ہوتی کہ مقابل نے اس کے منہ پے ہاتھ اس کی چینخ کا گلا گھونٹا۔ وہ بری طرح ڈری تھی۔ انجان جگہ تھی انجان لوگ۔۔۔! اور ایسے میں۔۔ یہ سب۔۔؟؟ نہ ماں باپ پاس تھے۔۔ نہ گھر اپنا تھا۔ ککککووو۔۔۔۔۔نننننننم؟؟؟ منہ سے ہاتھ ہٹتے ہی ہکلاتے پوچھا۔ تمہارا مجازی خدا۔۔۔! کان کے پاس سرگوشی ہوٸ۔ ملکہ کے تو رونگٹے کھڑے ہوگۓ دل و دماغ ماننے سے انکاری ہوا۔ زیشان ارسل ۔۔۔۔؟ یہاں کیسے آسکتا تھا۔۔۔؟؟ یہاں کا ایڈریس اسے کس نے دیا۔۔؟؟ اس کے دماغ نیں سوالوں کا جنجال پیدا ہوا۔۔ کیا ہوا۔؟؟ اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں۔۔ زوجہ محترمہ۔۔۔؟؟ مجھےتو لگا تھا۔ بہت اچھی جگہ چھپ کے بیٹھیں گیں۔۔ اور۔۔ دیکھو تو۔۔ سہی۔۔ میرے ہی شہر میں۔۔ مجھ سے چھپ کے بیٹھ گٸیں۔۔؟؟ زیشان نے مذاق اڑایا۔

ملکہ نے اس کا جواب دینے کی بجاۓ اس سے دور ہوتے دروازے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہی۔ کہ زیشقن نے اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا۔ وہ ڈری سہمی اس کے سینے پے ہاتھ رکھے خود کو اس سے دور کرنے لگی ۔ جس کی آنکھوں سے ہی اسے ہمشہ خوف آیا کرتا تھا۔ ؒج بھیوہ ان آنکھوں میں دیکھنے کی سکت پیدا نہ کر سکی۔ کیا سمجھتیہو تم خود کو۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ عین بارات والے دن۔۔ تم گھر سے بھاگ گٸ۔۔؟؟ تمہیں کیا لگا۔۔؟؟ مجھ سے بچ جاٶ گی۔۔۔؟ زیشان غصہ سے دبا دبا چلایا۔ آپ۔۔۔۔آپ۔۔ مجھے ۔۔ماریں گے۔۔۔؟؟ ملکہ نے ڈرے سہمے انداز میں معصومیت سے پوچھا۔ کہ زیشان ارسل کے ماتھےکے بل ایک دم سے ہٹے تھے۔ کیا کچھ نہ تھا۔ ان ہرنی جیسی آنھوں میں۔۔ ؟؟ ڈر خوف۔۔؟ سہما پن۔۔۔ وہ کیوں اس کے ساتھ برا سلوک کر رہا تھا۔۔۔؟؟ وہ اسے محبت سے بھی تو ہینڈل رک سکتا تھا۔ اور نفرت سے زیادہ محبت کا ڈسا انسان کو اندر سے مار کے رکھ دیتا ہے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے۔؟؟ زیاشن ارسل تمہیں مارے گا۔۔۔؟؟ اس کے گال کو پیار سے چھوا۔ کہ ملکہ کرنٹ کھاکے پیچھے ہٹی۔ آپ۔۔۔ آپ مجھ سے دور ہو کے بات کریں پلیز۔۔۔! آپ سے ڈر لگتا ہے۔۔ مجھے۔ ملکہ نے آنسو پونچھتے کہا۔۔ ڈر کے آگے محبت کھڑی ہے۔۔۔! وہ تمہیں نظر نہیں آتی۔۔؟؟ زیشان اب اسے محبت سے اپنی طرف کرنے لگا۔ محبتت۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے زیرِلب دہرایا۔ ہاں۔۔۔؟؟ ہمارے بیچ نکاح کا رشتہ ہے۔۔ ملکہ۔۔۔! بیوی ہو تم میری۔۔۔ اس کے قریب جاتے اسے بہت کچھ باور کرانے لگا۔ جبکہ وہ ابھی بھی کانپے جا رہی تھی۔ پلیز۔۔ آپ ابھی یہاں سے چلے جاٸیں۔ ملکہ کو اور تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ اسے جانے کا بول دیا۔ تمہیں نہیں لگتا۔۔۔؟؟ تم نے بھاگ کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔ جس کی سزا تو بنتی ہے ناں۔۔۔؟؟ زیشان اس کے مدمقابل ہوا۔ کیییسییسیس۔۔یییی۔۔؟؟ سزا۔۔؟ ؟ملکہ کا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔ زیشان اس کے مزید قریب ہوتا اس کے چہرے پے جھکا۔ یہ پہلا لمس تھا۔ جس سے دونوں ہی روشناس ہوۓ تھے۔ ملکہ نے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا کہ گرفت مزید سخت ہوٸ۔۔ ملکہ نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبایا۔ اس کا جنون سہنا پہلے لمس پے ۔۔۔ انتہاٸ کٹھن لگ رہا تھا۔ وہ اپنی سانسیں رکتی۔۔محسوس کرتی آنکھیں بند کر گٸ۔ زیشان جیسے ہی پیچھے ہٹا۔ وہ اس کی بانہوں میں جھول گٸ۔ ایک دلفریب مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔ ابھی صرف لبوں کا جام پلایا ہے۔۔۔ تو یہ حال ہے۔۔۔ جب میری قربت میں آٶ گی۔۔ تو کیا ہوگا۔۔؟؟ اس کے نرم ونازک وجود کو اپنی بانہوں میں اٹھاۓ وہ بستر کی جانب بڑھا۔ اور اسے دھیرے سے لٹایا۔ اس کا سر تکیہ پے رکھتے وہ اس کے ماتھے پے بوسہ دیتے پیچھے ہٹا۔ میں ۔۔ نہ تم سے کوٸ بدلہ لینا چاہتا ہوں۔۔ اور نہ تم سے محبت کرنا چاہتا ہوں۔۔ لیکن۔۔ نجانے کیوں۔۔؟؟ مجھے لگنے لگا ہے تم میری محبت میری دیوانگی بھی سہو گی۔۔۔ اور میرا بدلہ بھی۔۔۔! کیونکہ میں چاہ کے بھی یہ بات فراموش نہیں کر سکتا۔۔ کہ ۔۔ تم۔۔ دشمنوں کی بیٹی ہو۔۔! اس کی طرف دیکھتے سگریٹ سلگاتے ہونٹوں سے لگایا۔ بہت معصوم ہو۔۔ یار۔۔۔؟؟ اور اتنی نازک۔۔۔ ! ایسے تو نہیں چلے گا۔۔خیر۔۔۔؟؟ ایک ہفتہ ہے۔۔۔ صرف ایک ہفتہ۔۔ اس کے بعد تم۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میری دسترس میں ہو گٸ تو ہی دل کو قرار آۓ گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مونس ہانی وکو اس کے گھر کے باہر تک چھوڑتا واپس مڑ چکا تھا۔ ہانی نے بھی بنا کوٸ بات کیوے اندر کی طرف رخ کیا۔ آج دونوں نے ہی شاید ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ ہانی اندر آتے سیدھا اپنے کمرے کا رخ کیا۔ اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔ کیونکہ اب اسے اپنی مما کو ہاں کہنا تھا۔ اس رشتے کے لیے۔۔ جو انہوں نے اس کے لیے چنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح آنکھ کھلی تو ملکہ کو رات کا منظر پھر سے یاد آگیا۔ جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ اپنےاردگرد دیکھا۔ کوٸ بھی نہ تھا۔ کیا ۔۔۔ وہ خواب تھا۔۔۔؟؟ خود سے سوال کیا۔ لیکن اپنے لبوں کو چھوتے وہ پہلا لمس اس کا دل دھڑکا گیا۔ نہیں۔۔ یہ خواب نہیں تھا۔ وہ ۔۔۔ وہ۔۔ آیا تھا۔۔۔! ملکہ فوراً بستر سے اٹھی۔ کہ تبھی دروازے پے دستک ہوٸ۔ اور ملازمہ اسے ناشتہ کے لیے بلانے آٸ تھی۔ ٹھیک ہے آپ چلیں ۔۔ میں آتی ہوں۔۔ ملکہ نے اسے واپس بھیجا۔ اور خود گہرا سانس خارج کرتے مڑتے باتھروم کی طرف جانے لگی۔ کہ اس طرف سے زیشان کو آتا دیکھ اس کا سانس رکا تھا۔ وہ اسے دیکھتا اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی سی تھی۔ اسے لگا کہ وہ جا چکا ہو گا۔ لیکن۔۔ وہ تو۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟ اتنا اچھا لگ رہا ہوں۔۔۔؟ کہ نظر ہی نہیں ہٹ رہی۔۔۔؟ زیشان نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔ آپ۔۔۔؟ آپ۔۔۔ ابھی تک۔۔۔۔؟ گۓ نہیں۔۔۔؟ ملکہ نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔ زیشان نے ایک گہری نظر اس پے ڈالی۔ تمہیں۔۔ لگتا ہے۔۔۔ مجھے چلے جانا چاہیے۔۔۔ جب کہ تم نے کل کی میری گولڈن ناٸیٹ بھی خراب کر دی۔۔؟؟ زیشان کی بے باک گفتگو پے ملکہ کے گال دھک اٹھے۔ کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ پلٹ کے اسے دیکھا۔ جو اس کا موباٸل اٹھاۓ اس میں کچھ ٹاٸپ کر رہا تھا۔ پلیز۔۔ آپ ابھی جاٸیں یہاں سے۔۔۔! ملکہ نے اس کے پاس آکے منت بھرے لہجے میں کہا۔ زیشان نے ایک نظر اس کے گھبراۓ چہرے کو دیکھا۔ تم بھی ساتھ چل رہی ہو۔۔ سمجھی تم۔۔۔؟؟ قطعی انداز میں کہا۔ میں۔۔۔؟ میں کیوں جانے لگی۔۔ آپ کے ساتھ۔۔۔؟؟ آپ سے بھاگ کے تو یہاں آٸ ہوں۔۔ اب ۔۔ آپ کے ساتھ چلی جاٶں۔۔۔؟؟ ملکہ روانی میں بولتی چلی گٸ۔ زیشان نے آگے ہوتے اسے دونوں بازوٶں سے جکڑا۔ یہ بات میں کیسے بھول سکتا ہوں۔۔؟؟ کہ تم۔۔ اپنی رخصتی والے دن۔۔ گھر سے بھاگی ہو۔۔۔؟؟ غصہ اور سرد انداز میں بولتا وہ ملکہ کو ڈرا گیا۔ تو۔۔۔ اچانک۔۔ برتھ ڈے والے دن کیک کاٹتے۔۔ آدھمکے گے۔۔۔ تو۔۔کون ۔۔ جاۓ گی۔۔ ایسے آپ کے ساتھ۔۔؟؟ ملکہ نے بھی اس بار دوبدو جواب دے دیا۔ اچھا۔۔۔۔۔؟؟ پھر کیسے آنا پسند کرو گی۔۔۔؟ بتا دو۔۔۔ ؟؟ ویسے ہی لے جاٶں گا۔ زیشان کا لہجہ تو سنجیدہ تھا۔ لیکن آنکھوں میں شرارت ابھری۔ مجھے۔۔ نہیں۔۔ جانا آپ کے ساتھ۔۔ آپ جاٸیں یہاں سے۔۔۔! ملکہ نے اپنے دل کی دھڑکنوں پے قابو پایا۔ جو زیشان کو دیکھتےباغی ہو رہی تھیں۔ ایک پل کو زیشان نے کچھ سوچا۔ اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا ۔ چھوڑیں۔۔ مجھے۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں۔۔؟إ نیچے اتاریں مجھے۔۔۔! ملکہ بری طرح گھبراٸ تھی۔ اب نیچے سب کے سامنے جا کے ہی اتاروں گا۔۔۔ زیشان پراعتماد انداز میں کہتا اسے بانہوں میں اٹھاۓ دروازے کی جانب بڑھا۔ پلیز۔ پلیز۔ ۔۔ رک جاٸیں۔۔۔ مت کریں ایسا۔۔۔ وہ باقاعدہ رونے لگی۔ زیشان کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچا۔ ایک پل کو زیشان کے قدم تھمے تھے۔ اس کی آنکھوں کے آنسوٶں نے اس کے دل پے وار کیا تھا۔ پلیز۔۔ باہر سب۔۔ لوگ ہیں۔۔ دادو نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔۔ پلیز ۔۔ مت جاٸیں ایسے۔۔ مجھےلے کے۔۔۔إ؟ سب۔۔ مجھےباتیں کریں گے۔۔ وہ کہتے ہوۓ ساتھ رو بھی رہی تھی۔ یہ تو وہاں سے بھاگنے سے پہلے سوچنا تھا ناں۔۔؟؟ زیشان نے اس کی بات کےجواب میں کہتے پھر سے آگے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔ ان سب کو بھی تو پتہ چلنا چاہیے۔۔ کیا کارنامہ انجام یا ہے۔۔ تم نے۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔؟؟ وہ بری طرح اس کی بانہوں میں جھٹپٹاٸ تھی۔ کہ اس کا چہرہ زیشان کے چہرے سے ٹکرایا۔ زیشان کے دل میں گدگدی سی ہوٸ۔ درواہ کو لاک لگایا۔ اچھا۔۔ ٹھیک ہے ایک شرط پے۔۔۔؟؟ نہیں جاتا سامنے۔۔۔! زیشان نے ارادہ بدلا۔ میں۔۔ میں۔ آپ کی ہر بات مانوں گی۔۔ پلیز۔۔ مجھے نیچے اتار دیں۔۔ ملکہ آج سے پہلے اتنی بے بس کبھی نہیں ہوٸ تھی۔ جتنا اس شخص کے سامنے ہو رہی تھی۔ اممم۔۔ہممممم۔۔ ایسے نہیں۔۔ گیو می آ کس۔۔۔! زیشان کے الفاظ پے ملکہ کے دل کی دھڑکن رکی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *