Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 17)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 17)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
کب سے فون کر رہی ہوں۔۔ نہیں لگ رہا۔۔ نہ معاویہ کا ۔۔نہ علیزہ کا۔۔۔؟؟ آپ ہی کوشش کریں۔۔؟ آج شادی ختم ہو گٸ تھی۔ تو انہوں نے آج واپس آنا تھا ناں۔۔؟؟ انابیہ موباٸل ہاتھ میں اٹھاۓ شہیر کے پاس آٸ۔
اتنی فکر مندی کیوں کر رہی ہو۔۔؟؟ آجاٸیں گے۔۔ اور ویسے بھی مجھے معاویہ کا فون آیا تھا۔ کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے فلاٸیٹ ڈیلے ہوگٸ ہے۔ تو تھوڑا وقت لگے گا۔
اچھا۔۔؟؟ مجھے کیوں نہیں بتایا آپ نے۔۔؟ انابیہ لمبا سانس خارج کرتی وہیں پاس ہی بیٹھ گٸ۔ پوچھا کب تھا۔۔؟؟ شہیر کا سنجدگی بھرا جواب سنتی وہ چونکی۔ شہیر کی نظریں لیپ ٹاپ پے تھیں۔ اس بات کا کیا مطلب۔۔؟؟ وہ تھوڑا قریب ہوٸ تھی۔ شہیر نے نظر انداز کر دیا۔ کوٸ مطلب نہیں۔۔! کام میں مصروف بھرا جواب آیا۔ آپ مجھے اب اگنور نہیں کرنے لگے۔۔؟؟ انابیہ کی ایک بات تھی۔ جو اس کے دل میں ہوتا وہ صاف صاف کہہ دیتی تھی۔ دل میں رکھتی نہ تھی۔ اگنور۔۔۔؟؟؟ شہیر نے اسے ایک نظر دیکھا۔۔؟؟ نہیں۔۔ تو۔۔؟؟ شہیر کا انداز نارمل ہی تھا۔ انابیہ نے ہمیشہ کی طرح لیپ ٹاپ اس سے لے کے ایک طرف رکھا اور ااس کی بازو صوفے پے پھیل کے اپنا سر اس کے سینے پے دھرتے بہت سکون سے آنکھیں موند لیں۔ شہیر نے اسے اپنے سے مزید قریب کیا تو اس کے چہرے پے ایک مسکراہٹ ابھری۔ آپ جانتے ہیں۔ آپ کی بانہوں میں مجھے سکون ملتا ہے۔۔ ایسا سکون۔۔؟؟ جو مجھے دنیا میں کہیں نہیں مل سکتا۔۔ سر اٹھا کے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ آپ میرا مضبوط ساٸیبان ہیں شہیر۔۔۔! اور آپ کے بنا میں ادھوری ہوں۔۔ انابیہ اپنے ل کا حال آج کتنے عرصہ بعد دل سے اسے کہہ رہی تھی۔ شہیر اسے دیکھتا بس دھیرے سے مسکرا دیا۔ لیکن کچھ کہہ نہ سکا۔ کیونکہ وہ بے سکون تھا۔۔ اس کا سکون پاکستان میں تھا۔۔ وہ ایک گلٹ لے کے ترکی بیٹھا ہوا تھا۔ جو اسے اندر ہی اندر کھاۓ جا رہا تھا۔ وہ آفتاب سے مل کے اسے ساری سچاٸ بتانا چاہتا تھا۔ اسے ایک یقین تھا کہ جبآفتاب اس کی ساری بات سنے گا تو اس پر یقین کرے گا۔ لیکن۔۔ انابیہ کو یقین تھا کہ وہ اس پے یقین نہیں کرے گا۔۔ اور اس کےیقین کی وجہ سے۔۔ وہ خاموش بیٹھا اپنا سکون برباد کر چکا تھا۔ اپنی بیوی کی خاطر۔ _____
وہ غصہ سے آفتاب کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ جب کہ آفتاب نے اتنے ہی غصہ سے اس کی نازک کلاٸ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑا ہوا تھا۔
اور پھر جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑتے اسے کھینچ کے اپنے قریب کیا۔ کہ اسکی سانسوں کی تپش میں ملکہ سلگنے لگی۔ آج تو یہ غلطی کر دی۔۔ پہلی اور آخری غلطی سمجھ کے معاف کر رہا ہوں۔۔ اگر دوبارہ یہ غلطی کرنے کی۔۔ کوشش بھی کی۔۔ تو۔۔؟؟
آپ نہایت ہی۔۔۔ برے انسان ہیں۔۔ ! آپ میرے۔۔ ساتھ۔۔ یوں زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔ سنا آپ نے۔۔؟؟ ملکہ نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی۔ زیشان استھزاٸیہ انداز میں ہنسا۔۔۔
میں کیاکر سکتا ہوں۔ اور کیا نہیں۔۔؟؟ بلکہ۔۔؟؟ میں کیا کرنے والا ہوں۔۔ یہ تم جان جاٶ۔۔ تو کانپ جاٶ۔۔۔! میں آپ کی شکایت کروں گی بابا سے۔۔۔! وہ آپ کو سبق سکھاٸیں گے۔۔ ملکہ نے آنکھوں کے گوشے بھیگنے سے ہر ممکن کوشش کی۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔ ! انتظار کروں گا۔۔؟؟ کہ کب تم اپنے بابا کو بتاتی ہو۔۔؟؟ میرا ہاتھ چھوڑیں۔ زیشان کے پرسکون انداز میں کہنے پے وہ بھڑک ہی تو گٸ۔ چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما۔۔۔! اس کی کلاٸ تھامے پیچھے کی طرف موڑتے اسے سینے میں بھینچا۔ کہ ملکہ جی جان سے لرز گٸ۔ پلیز۔۔؟؟ دور۔۔۔ دور رہیں۔۔ اب کی بار وہ منت سے بولی۔ زیشان نے اس کی حالت پے ترس کھاتے اسے چھوڑ دیا۔ اس نے اپنے آنسو صاف کرتے رخ پھیرا۔ اور پھر ایک زخمی نظر زیشان ارسل پے ڈالی۔ وہیں زیشان ارسل کے دل کو کچھ ہوا۔ اس کا یوں دیکھنا زیشان ارسل پے غضب ہی ڈھا گیا۔ اس سے پہلے کہ زیشان مزید کچھ کہتا وہ وہا ںسے بھاگی تھی۔ زیشان نے لب بھینچے۔ بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اور اپنا اضطراب کم کیا۔ وہ کیوں اس کے ساتھ ابھی سے ہی اتنا سخت ہو رہا تھا۔ وہیں دوسری طرف وہ جب بھی اسے تکیلف پہنچانے آتا وہ اسے درد دے کے خود زیادہ تکلیف محسوس کرتا جیسے ابھی بھی اسے یہی لگ رہا تھا۔ اس کی روتی آنکھیں اس کی سانسیں بند کر رہی تھیں۔ ______
کیا ہوا۔۔؟؟ اس چاند میں کیا ڈھونڈ رہی ہیں۔۔؟ رات کا پہلا پہر تھا۔ جب معاویہ کی آنکھ کھلی تھی۔ اس کا دل زرا کا زرا گھبرایا تو وہ اٹھ کے باہر آگیا۔ لان میں بینچ پے بیٹھی وہ چاند کو تکے جا رہی تھی۔ اس کی پکار پے وہ بری طرح ڈرتے ہوۓ چونکی تھی۔ آپ۔۔؟؟ اس وقت۔۔؟؟ سوۓ نہیں۔۔؟ منہا نے گہرا سانس خارج کرتے پوچھا۔ یہی آپ سے بھی پوچھ سکتا ہوں۔۔ میں۔۔؟؟ وہ وہیں سینے پے بازو باندھے کھڑا ہو گیا۔ منہا نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اس کی گہری براٶن آنکھوں میں ہ زیادہ دیر نہ دیکھ سکی۔ بس۔۔ یونہی نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔ منہا نے ٹالا۔ نیند تو۔۔ مجھے نہیں آنی چاہیے۔۔۔! انجان جگہ ہے ناں۔۔! آپ ک تو اپنا گھر ہے۔۔ پھر کیا ہوا۔۔؟؟ وہ تو جیسے پوری جرح کرنے کے موڈ میں تھا۔
لگتا ہے۔۔ اب سونا پڑے گا۔۔؟؟ بڑبڑاتے ہوۓ وہ منہ بنا کے اٹھی تھی۔ اور اس کے پاس سے ہوتی جانے لگی کہ معاویہ نے ہاتھ تھام لیا۔ منہا تو پورے وجود سے ہی لرز گٸ۔ بے یقینی سے مڑ کے معاویہ کو دیکھا۔ اور پھر اس کے ہاتھ کو جس سے اس نے منہا کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔
منہا کے دیکھنے پے معاویہ نے فوراً سے ہاتھ چھوڑ دیا۔ ایم سوری۔۔۔! لیکن ۔۔ یوں اٹھ کے تو نہ جاٸیں۔۔ دل خفا سا ہوا ہے۔۔۔! معاویہ نے صاف گوٸ سے کہہ دیا۔
پلیز۔۔ دوبارہ ایسی حرکت مت کیجیے گا۔۔ آپ یہاں ہمارے مہمان ہیں۔ اور کچھ دن بعد آپ نے طچلے جانا ہے۔۔ تو اچھی یادیں لے کے جاٸیں۔ منہا نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔
اگر یادوں کے علاوہ کسی اور کو بھی ساتھ لے جانا چاہوں تو۔؟؟ معاویہ سے اتنی صاف گوٸ کی امید منہا کو بالکل نہیں تھی۔ ایک نظر اسے دیکھتی گہرا سانس خارج کرتہی وہ اس کی جانب مڑتی اسے دیکھنے لگی۔ کیا آپ کو لگتا ہے۔۔؟ کہ یہ وقت۔۔؟؟ یہ لمحہ ان باتوں کو کرنے کا ہے۔۔؟ جب کہ پچھلے کٸ سالوں سے نہ آپ نے۔۔ نہ آپ کے گھر والوں نے ۔۔۔ ہم سے رابطہ رکھا۔۔؟؟ کوٸ تعلق نہیں رکھا۔ بلکہ۔۔ ہر رشتہ بھلا دیا ہے۔۔ آپ کی مما نے۔۔۔! اور آپ۔۔؟؟ نۓ رشتے بنانے چلے ہیں۔؟ پہلے۔۔ پرانے رشتے نبھا لیں۔۔ منہا نے سخت سنجیدہ انداز میں کہتے معاویہ کو بھی سنجیدہ کر دیا۔ میری مما ۔۔؟؟ آپ کی بھی کچھ لگتی ہیں۔۔منہا۔۔؟ اسے جو بات ناگوار گزری وہ بول بھی دی۔
اچھا۔۔۔؟؟ کبھی احساس نہیں جاگا۔۔؟؟ منہا نے بھی اس بار پھر سے طنز ہی کیا۔ معاویہ نے لب بھینچے۔ منہا۔۔! میں نے آپ سے جو کہا۔۔؟؟ اس کا آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔۔؟؟ آپ نے جو بولا۔۔ مسٹر معاویہ شہیر خانزادہ۔۔ اس کا جواب میں دے چکی ہوں۔ تھوڑا سا قریب آتے غصہ سے بات کاٹتے کہا۔ لیکن۔ اپنے دل کی بات نہیں کی۔۔؟؟ معاویہ اس کے معصوم چہرے پے فدا سا ہونے لگا۔ میرے دل میں ۔۔ آپ کے لیے کچھ نہیں۔۔ مسٹر ۔ معاویہ۔۔! وہ جو کہہ رہی تھی اس کی آنکھیں اس کے کہے کی چغلی کھا رہی تھیں۔ آنکھوں کی نمی نے اس کے دل کا راز کھول دیا۔ لیکن اس دل کی دھڑکن تو مجھے کچھ اور ہی کہہ رہی ہے۔ معاویہ مزید اسے خود سے قریب کرنے لگا کہ وہ کرنٹ کھاتی پیچھے ہٹی۔ آپ اپنی خوش فہمی دور کر لیں۔۔ میں سراب کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔ اس لیے۔۔ مجھ سے کسی قسم کی کوٸ امید مت رکھیے گا۔ منہا نے سختی سے کہتی وہاں سے اندر کی جانب بڑھ گٸ۔ معاویہ اسے دیکھتا رہ گیا۔ بھیا۔۔؟؟؟ اچانک سے اپنے عقب سے علیزہ کی آواز سنتا چونکا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ اور چہرے پے ایک درد۔
بھیا۔۔؟؟ وہ نہیں مانے گی۔۔۔! علیزہ نے دکھ سے کہا۔ مان جاۓ گی۔۔۔! معاویہ نے یقین سے کہا۔ علیزہ نے بھاٸ کو فیکھا اسے آج بہت دکھ ہو رہا تھا اپنے بھاٸ کے لیے۔ کہ چاہا بھی تو ایک ایسی لڑکی کو۔۔ جو۔۔۔۔۔؟؟
اس کأ کردار مضبوط ہے بہت۔۔ علیزہ۔۔! اور مجھے ایسی ہی لڑکی چاہیے۔۔ معاویہ کے مزید کہے لفاظ نے علیزہ کو ہوش دلایا۔ بھیا۔۔؟؟ وہ انگیجڈ ہے۔ علیزہ کے الفاظپے معاویہ نے پتھراٸ نظروں سے اسے دیکھا۔ اسے اپنی سماعت پے یقین نہ آیا۔ علیہ نے اثباتمیں سر ہلاتے آنسو پونچھے۔ ……
ہانی۔۔؟؟ یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ کون ہے وہ لڑکا ۔۔؟ جس کی وجہ سے آپ اس رشتے کے لیے انکار کر رہی ہیں۔؟؟ فضا کو ہانی کا انداز بلکل چھا نہ لگا تھا۔ آج ہی اس کی دوست اپنے بیٹے کےلیے ہانیبکا ہاتھ مانگنے آٸ۔ لیکن ہانی نے صاف لفظوں میں منع کر دیا۔ جب کہ اس کی نظروں میں چھپی داستان فضا سے چھپی نہ رہ سکی۔ کوٸ نہی ںہے مما۔۔۔! پلیز۔۔ غلط مت سمجھیں۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ مجھ سے پہلے بھیا اور آپی ہیں۔ ان کے بارے میں سوچیں ناں۔۔؟؟ ہانی زچ ہوٸ۔
ان کا رشتہ طے ہو چکا ہے۔۔ ان کے بارے میں آپ فکرمند مت ہوں۔۔ آپ اپنی بات کریں۔۔؟؟ اور مجھےبتاٸیں جو آپ نے باہر کہا۔ اس کا جواب دیں مجھے۔ کون ہے وہ لڑکا۔۔؟؟ فظا بالکل نہ ٹل رہی تھی۔ ہانی شش و پنج میں پڑ گٸ۔ آیا وہ مونس کے بارے میں ماں کو بتاۓ یا نہیں۔۔؟؟ کیونکہ مونس اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے کیا نہیں۔۔؟؟ یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن وہ یہ جانتی تھی۔ کہ مونس ک دل و جان سے چاہنے لگی تھی۔ اور وہ اس کا پہلی نظر کا پیار تھا۔ آپ مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں۔۔ میں۔۔ آپ ک بتا دوں گی۔ ہانی نے ہار مانتے سر جھکاۓ کہا۔ فضا نے لب بھینچے۔ ٹھیک ہے دو دن ہییں تمہارے پاس۔۔ مجھے یا تو اس لڑکے کا نام بتاٶ گی۔ یا اس رشتےکے لیے ہاں کہو گی۔ فضا اسے وارن کرتی جا چکی تھی۔ جب کہ ہانی گہرا سانس خارج کرتے وہیں بیٹھی تھی۔ اور اب اپنے ناخن دانتوں سے چبا رہی تھی۔ اکثر ٹینشن میں وہ یہی کرتی تھی۔ اب اسے کسی نہ کسی طرح موس سے مل کے اس سے پوچھنا تھا۔۔۔۔! ابھی وہ یہ سوچ رہی تھی۔ کہ تبھی۔۔؟؟
جاری ہے۔
