Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 29)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 29)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
ابھی وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ کہ باہر سے فاٸرنگ کی آواز آٸ۔ آفتاب اور کنول نے فہلتے دل سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور باہر کی طرف بھاگنے والے انداز میں نکلے۔ سیڑھیاں اترتے وہ نیچے آۓ تھے۔ جہاں سامنے زیشان ارسل کے ہاتھ میں گن تھی تو دوسری طرف زمین بوس ہوا انسان کوٸ اعر نہیں جاوید خان تھا۔ ہاں وہہی جاوید خان۔۔ جس نے ان سب کے دلوں میں نفرتیں غلط فہمیاں ڈالیں تھیں۔
یہ کیا تم۔۔ نے۔۔؟؟ آفتاب نے آگے بڑھ کے زیشان کو جھجھوڑا۔ جو بالکل ساکت کھڑا تھا۔ اس کے وجود میں کوٸ جنبش نہیں ہو رہی تھی۔ زرگل منہ پے ہاتھ رکھے اپنے آنسوٶں کا گلہ گھونٹ رہی تھیں۔ سبھی سکتے کے عالم میں کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ ملکہ ہمت کر تے ریلنگ کے پاس جا کھڑی ہوٸ۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میں۔۔ میں۔۔ جانتی ہوں۔ یہ شخص قاتل ہے۔۔ اور آج ایک۔۔ اور قتل کر دیا اس نے۔۔۔! ملکہ کا فل مزید برا ہوا تھا۔ زیشان ارسل کو لے کے۔
خان۔۔! اپنے عقب سے جانی پہچانی آواز سنتا وہ سٹل ہوا تھا۔ سبھی کی نظریں ان پے اٹھیں تھیں۔ آفتاب تو پلکیں جھپکانا ہی بھول گیا۔ اسے اپنی اپنی آنکھوں پے یقین نہ آیا۔ شہیر۔۔۔خان۔۔؟؟ زیرِ لب دہرایا۔ شہیر انابیہ کو دیکھتا اس کا ہاتھ تھامے آفتاب کے پاس آیا۔ آفتاب نے کوٸ ری ایکشن نہ دیا۔ بس خاموشی سے دیکھتا رہا۔
اپنے بھاٸ کو گلے سے نہیں لگاٸیں گے۔۔۔؟؟ شہیر نے بہت مان سے کہا۔آفتاب کا دل نہ کیا کہ اس کا مان توڑے۔ لیکن چودہ سال پہلےکا واقعہ وہ آج بھی نہیں بھلا پایا تھا۔ ناچاہتے ہوٸے بھی آفتاب نے رخ پھیر لیا۔ تو شہیر نے خود آگے بڑھ کے آفتاب کو گلے سے لگایا۔ ایک سکون کی سی کیفیت طاری ہوٸ تھی۔ دونوں کے دلوں میں۔ دونوں نے ہی آنکھیں موند لیں۔
بہت ۔۔ بہت تڑپا ہوں۔ ان چودہ سالوں میں۔۔ اس بھاٸ کے سینے سے لگنے کے لیے۔ شہیر کی آنکھیں نم ہوٸیں تھیں۔ آفتاب نے لب بھینچے۔
اسی لمحے زیشان ارسل نے انہیں ایک نظر دیکھا۔ معاف کردیں۔۔ ماموں۔۔! یہ۔۔ بے قصور ہیں۔۔ زیشان کے کرب بھرےلہجے پے آفتاب بری طرح چونکا۔ کیا۔۔ ؟؟ کیا مطلب۔۔؟ آفتاب کو اس کی بات کا مطلب سمجھ نہ آیا۔ حقیقیت ساری کھل چکی ہے۔۔ ماموں۔۔! اصل گناہ گار کوٸ اور نہیں۔۔ میرے۔۔ نانا ہی تھے۔۔! جان گیا ہوں میں۔۔! زیشان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ آج اپنے ہاتھوں سے اس نے اپنے نانا کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ کرب یہ درد اسے ساری زندگی رہنے والا تھا۔ اور اس سے بڑا درد یہ۔۔ کہ۔۔ اس کے نانا نے اس کی ماں کو مارا تھا۔ وہ آج تک ایک دھوکہ میں جیتا آیا تھا۔ وہ جاوید خان کی نظروں سے ساری دنیا کو دیکھنے لگا تھا۔ اور اس بات کا افسوس اسے ساری زندگی رہنے والا تھا۔
یہ کیا۔۔؟؟ کہے جا رہے ہو۔۔؟ تم نے۔۔؟؟ جاوید خان کو۔۔؟؟ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم۔۔؟؟ آفتاب خان کو اپنی سماعت پے شبہ ہوا۔
ان کی نبض چل رہی ہے۔۔ بابا۔۔؟؟ مونس فوراً جاوید خان کی نبض کو ٹٹولا تھا۔ ہاسپٹل۔۔۔ ہاسپٹل لے چلو۔۔ جلدی کرو۔۔! آفتاب خان افراتفری میں بولا۔ معاویہ اور مونس نے مل کے جاوید خان کو ملازموں کی مدد سے اٹھانا چاہا۔
رک جاٸیں۔۔ ! کوٸ ان کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ اسی قابل ہیں۔۔ مر جانے دیں انہیں۔۔ زیشان ارسل سفاکی سے بولا۔ جبکہ ملکہ اسے نفرت سے دیکھتی اب سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھی۔
پاگل ہو گۓ ہوتم۔۔؟؟ اگر جاوید خان کو کچھ بھی ہو گیا۔۔ تو جانتے ہو کیا ہوگا۔۔؟؟ جیل ہو جاۓ گی۔۔تمہیں۔۔ پھانسی ہو گی۔۔ قتل کے جرم میں۔۔ اور۔۔؟؟
مجھے پرواہ نہیں۔۔۔! لیکن اسے مت بچاٸیں ماموں۔۔ اگر یہ زندہ بچ گۓ تو پھر سے زندگیوں کے ساتھ کھیلیں گے۔۔ سب کو ایک دوسرے سے دور کر دیں گے۔۔ سازشیں کریں گے۔۔ درد دیں گے۔۔ اور ۔۔۔ رشتوں کا استعمال کریں گے۔۔ زیشان ارسل کا لہنہ روندھا تھا۔ آنسو بھیآنکھوں کے کونوں میں جگماۓ۔ آفتاب نے لب بھینچے اسے دیکھا اور مونس اور معاویہ کو اشارہ کیا۔ کہ وہ جاوید خان کو ہاسپٹل لےجاٸیں۔ انہوں نے پھرتی سے انہیں اٹھایا۔ اور باہر کی طرف نکلے۔
تم آج بھی جاوید خان کے ننواسےبن کے سوچ رہے ہو۔۔ اتنا خیال بھی نہیں۔۔ کہ تمہارے ساتھ ایک زندگی جڑی ہے۔۔ ملکہ کی۔۔! اگر تمہیں کچھ ہو گیا۔۔ تو اس کا کیا ہوگا۔۔؟ آفتاب کا غصہ دیدینی تھا۔
جب کہ ملکہ اپنے باپ کے الفاظ سنتی آخری سیڑھی پے ٹھٹھک کے رکی تھی۔ بابا۔۔ اب بھی یہی چاہتےہیں۔۔ کہ ۔۔میری رخصتی ۔۔ ایک قاتل کے ساتھ ہو۔۔؟؟ ملکہ کو یقین نہ آیا۔ کہ آفتاب شیر خان کیسے ایک قاتل کو اپنی بیٹی سونپ سکتے ہیں۔
پلیز۔۔ ! ماموں۔۔! آپ۔۔؟؟
تم قاتل ہو۔۔ ! میں یہ رخصتی کبھی نہیں کروں گی۔۔ سنا تم نے۔۔! تم تم نے پہلے ایک قتل کیا۔ اور۔۔ آج۔۔ اپنے ہی نانا کو مار ڈالا تم نے۔۔۔! میں ایک قاتل کو اپنے شوہر کے روپ میں کبھی قبول نہیں کروں گی۔ کبھی نہیں۔۔ وہ ہزیانی انداز میں چلاٸ۔ جب کہ زیشان ارسل اتنا ہی مطمین کھڑا تھا۔ میں تمہیں۔۔ اب مزید اس رشتے میں باندھ کے رکھنا بھی نہیں چاہتا۔ جو صرف اور صرف ایک سودا بازی تھا۔ زیشان ارسل کی بات پے سبھی نے شاک کی کیفیت میں اسے دیکھا۔
ہوش میں تو ہو تم۔۔؟؟ کیا بکواس کیےجا رہے ہو تم۔۔ دونوں۔۔؟؟ خبردار جو کچھ بھی غلط منہ سے نکالا۔ تو۔۔۔! دونوں کی جان اپنے ہاتھوں سے لوں گا۔۔ ! آفتاب اتنا سختی سے گرجا کے ملکہ سمیت سبھی وہاں موجود لوگ سہم کے آفتاب کو دیکھنے لگے۔ ملکہ نے جب سے ہوش سنبھالا تھا۔ آج پہلی بار باپ کو اتنا غصہ میں دیکھا۔ زیشان بھی سر جھکا گیا۔ اس کے تو اپنوں نے اسے لوٹا تھا۔ وہ کسی سے کیا گلہ کرتا۔۔۔؟؟ اب نزید کوٸ بات نہی ہو گی۔۔ ابھی ہم بڑے زندہ ہیں۔۔ فیصلہ لینے کے لیے۔۔۔! آفتاب نے قطعی انداز میں کہا۔
بابا۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔آپ۔۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے مار ڈالیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ایک قاتل۔۔۔؟؟؟ ملکہ نے آفتاب کے ہاتھ تھامے لجاجت سے روتے ہوۓ کہا۔
بس۔۔ بہت ہو گیا۔۔۔! اب خبردار جو اپنے شوہر کے ایسے الفاظ استعمال کیے۔۔ ورنہ مجھ سے بر کوٸ نہیں ہوگا۔آپفتاب نے انگلی اٹھا کے سختی سے وارن کیا۔ ملکہ نے آنسو اپنے اندر اتارتے ماں کو دیکھا۔ مما۔۔۔؟؟؟ دھیرے سے پکارا۔
کیا۔۔۔؟؟ میرے فیصلہ کے خلف جانے کی جرات آپ کی ماں میں بھی نہیں ملکہ۔۔۔! مجھے سختی کرنے پے مجبور مت کریں۔ سمجھیں آپ۔۔۔! ماموں۔۔ پلیز۔۔! سختی مت کریں۔۔ قصوروار میں ہوں۔۔ جو سزا دینا چاہیں مجھے دے دیں۔۔! زیشان آج بہت ٹوٹا بھرا سا لگ رہا تھا۔ جو آپ کی بیٹی کی خواہش ہے۔ پلیز۔۔ وہی کریں۔۔! میں زبردستی۔۔۔؟؟ نہیں۔۔ کر کتا مزید۔۔ اب۔۔جب کہ ۔۔اب میں ساری حقیقت جان چکا ہوں۔ زیشان کی باپ پے آفتاب نے اسے سے گھوری سے نوازا۔ زیشان۔۔۔! ملکہ تمہارے نکاح میں ہے۔۔ اور نکاح۔۔ کوٸ گڈے گڈی کا کھیل نہیں۔ جانتا ہوں۔۔ لیکن۔۔ یہ نکاح خون بہا کے طور پے ہوا تھا۔ جب کہ ۔۔ خون تو۔۔ میرے اپنوں نے ہی بہایا تھا۔زیشان کی آنھیں سر خ ہو رہی تھیں۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔ زرگل بیگم نے آگے بڑھ کے زیشان کے کندھے پے ہاتھ رکھا۔ اسے حوصلہ دیا۔ جب کہ خود بھی اب ہمت ہار چکی تھیں۔
اگر۔۔۔ یہی سچ ہوتی میری۔۔ تو پانی بیٹی کا ایک بال بھی نہ دکھاتا تمہیں۔۔ ! ؒفتاب کی بات پے زیشان نے جھکا سر اوپر اٹھایا۔
می أپنی بہن سے بہت پیار کرتا تھا۔ اسی کے لیے میں نے اس کی خواہش کا احترام کرتے اپنی بیٹی۔۔ تمہیں سونپی۔ افسوس۔۔! ماں کے قتل کا بدلہ تو لینے چل دۓ۔ لیکن ماں کے کہے کا بھرم رکھنا بھول گٸے۔۔۔۔؟؟؟ آفتاب کی بات زیشان کے دل پے جا کے لگی تھی۔ واقعی وہ تو یہ بھول ہی گیا تھا۔ کہ ملکہ کو بہو بنانا اس کی ماں کی خواہش تھی۔ اور جب وہ خواہش پوری ہوٸ تو۔۔ حالات ہی بدل گۓ۔ عظمی ہی اس دنیا سے چلی گٸ۔۔۔ زیشان کو ماں کے جانے کا دکھ تو تھا۔ لیکن اپنی ماں کے لالچ کے بارے میں جان کے وہ زیادہ افسردہ ہوا تھا۔ او یہ سب۔۔ اسے شہیر خانزاہ سے پتہ چلا تھا۔جن کو پاکستان آتے ہی کڈنیپ کر لیا گیا تھا۔ شہیر خانزاہ نے ہی زیشانا رسل کے سامنے ساری سچاٸ رکھی۔ اور وہیں جاوید خان کے مرعلق سب پتہ چلا۔ بھری مجمعے میں جاوید خان نے اس کی ماں پے گولی چلاٸ تھی۔زیشان نے بھی اس کی موت اس بھری محفل میں سوچی تھی۔اور یہاں آتے ہی اسے عملی جامہ پہنایا تھا۔
رخصتی آج ہی ہوگی۔ابھی ہوگی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔۔ اگر تم دونوں میں سے کسی کو بھی اعتراض ہے۔ تو میرا اس ہر رشتہ ختم۔! آفتاب کے سخت الفاظ پے زیشان نے لب بھینچے تو ملکہ نے نفرت اور غصہ سے زیشان کو دیکھا۔ وہ باپ کے خالف نہیں جا سکتی تھی۔ جتنا اسے کنول نے سمجھایا اب وہ کوٸ غلط قدم نہیں اٹھا سکتی تھی۔ بیٹا۔۔! زیافہ سختی اچھی نہیں ہوتی۔۔۔ تبسم بیگم نے بیچ میں پڑ کے معاملہ سلجھنانا چاہا۔ ابھی تک آپ سب نے میرا پیار ہی دیکھا۔ امید کرتا ہوں۔۔ سختی کرنے پے مجبور نہیں کریں گے۔ آفتاب سرد لہجے میں بولا تو سبھی نے چپ سادھ لی۔اور بہت ہی خاموشی سے ملکہ کی رخصتی زیشان کے ساتھ کر دی گٸ۔ زیشان ارسل بالکل خاموش ہو چکا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ملکہ اس سے نفرت کرتی ہے۔۔ اور وہ مزید کسی نفرت کو اپنے قریب نہیں لانا چاہتا تھا۔ وہ گھٹ گھٹ کے نہیں جینا چاہتا تھا اب۔۔ ! گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ ڈراٸیونگ سیٹ پے ڈراٸیور تھا۔ فرنٹ سیٹ پے زیشان ارسل اور بیک سیٹ پے وہ جوالہ مکھی بنی بیٹھی تھی۔
بہت یقین مان اور بھروسہ سے اپنی بیٹی کو تمہیں سونپ رہا ہوں۔۔ امید کرتا ہوں۔ اپنی جان سے بھی زیادہ حفاظت کرو گے۔ اور خیال رکھو گے۔ رخصتی کے لمحاتیاد کرتے آفتاب شیر خان کے الفاظ کانوں سے ٹکراۓ تھے۔ زیشان نے سر جھٹکا۔ وہ ۔۔ چاہ کے بھی ملکہ کو اب اپنے ساتھ زبردستی باندھ کے کوٸ سزا نہیں دینا چاہتا تھا۔ س نے سوچ لیا تھا وہ ملکہ سے بات کرکے۔۔ جو وہ چاہتی ہے۔۔ ویسا ہی کرے گا۔۔ لیکن۔۔؟؟ کیا۔۔ ملکہ واقعی اس سے علیحدگی۔۔ اختیار کرنا چاہےگی۔۔؟؟ اور زیشان اسے چھوڑ دے گا۔۔؟؟
