Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 02)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 02)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
جیسے ہی وہ مڑی تھی۔ ایک گاڑی فل سپیڈ سے اس کے پاس پہنچی اسے کچلنے والی تھی کہ کسی نے فوراً پلک جھپکتے اسے وہاں سے اپنی طرف کھینچا۔ اور وہ اس کے ساتھ کھینچی چلی گٸ۔ اور دونوں بہت بری طرح روڈ کے دوسری طرف جا گرے تھے۔ گاڑی وہاں سے گزر کے جاچکی تھی۔ جب کہ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ جس نے اسے بچاتے خود کو زخمی کر لیا تھا روڈ پے گرنے سے اس کے بازوٶں پے خراشیں آٸ تھیں۔ لیکن۔۔ اس نےلکہ کو بچا لیا تھا۔ اسے ایک کھروچ بھی نہیں آٸ تھی۔ ملکہ اپنا توازن درست کرتی اس کے اوپر سے اٹھی تھی۔ اپنے کپڑے جھاڑے اور ماتھے پے بل ڈالے اسے ہینڈسم کو دیکھا۔ جو لب بھینچے اسے گھور رہا تھا۔ لیکن وہیں سٹل تھا۔ اٹھا نہیں تھا۔
اوہ۔۔ ہیلو۔۔؟؟ ہیرو۔۔؟؟ یہ کیا طریقہ ہے لڑکی امپریس کرنے کا۔۔؟؟ اب وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اس کے اندر کے سوۓ شیر کو جگانے لگی۔ جو ابھی بھی اسے گھورے جا رہا تھا۔
مانا۔۔ کہ مجھے ۔ بچایا۔۔ ہے۔۔؟؟ لیکن۔۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے۔۔؟؟ خود کی پرواہ کیے بنا۔۔ اپنی جان خطرے میں ڈال دو۔۔۔؟؟
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اس شخص نے اسے ایک پل میں دونوں بازووٶں سے جکڑے خود سے قریب کیا۔ کہ ملکہ کا سانس تھما۔
تمہاری نہیں۔۔ اپنی ہی جان کو بچایا ہے۔۔۔! اس قدر سرد لہجے میں بولتا وہ ملکہ کو سن ہی کر گیا۔
اور اگلے ہی پل اسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ آنکھوں پے سن گلاسز لگاتا وہاں سے دور ہٹ گیا ۔
بیٹی۔۔؟ آپ ٹھیک ہو۔۔؟؟ اقبال انکل فوراً اسکے پاس آۓ.
کون تھا یہ ۔۔اقبال انکل۔۔۔؟؟ اس نے۔۔ میری جان بچاٸ ہے۔۔۔؟؟ ملکہ نے حیرت اور تجسس سے اس کی پشت دیکھی جس نے ایک بار بھی پلٹ کے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ تو اپنے ۔۔۔ زیشان بابا ہیں۔۔! اقبال کے لہجے میں محبت اور عزت پنہاں تھی۔ ملکہ نے مڑ کے انہیں اب کی بار آنکھیں پھیلا کے دیکھا۔
زیشان۔۔۔؟؟ زیرِ لب دہرایا۔ اور پھر سے پلٹ کے دیکھا۔
جی۔۔ ہمارے خان کے بھانجے ہیں۔۔ یہ۔۔!زیشان ارسل۔۔۔خانزادہ۔۔۔! اب کی بار پورا تعارف کروایا۔ تو اک ل کو ملکہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوٸیں۔
تم۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ پاگل ہو گٸ ہو۔۔؟؟ ابھی گر جانا تھا۔۔۔!
آواز پے ملکہ نے ر اٹھا کے اسے دیکھا۔ جس نے اسے درخت سے نیچے گرنے سے بچا لیا تھا۔ اب ایسے کیا گھور رہی ہو۔۔؟؟ اٹھو۔۔۔ میرے اوپر سے۔۔۔! وہ پھر سے ماتھے پے بل ڈالے اس چار سال کی ملکہ کو گھور کے بولا تھا۔ وہ منہ بناتی اٹھ گٸ تھی۔
میں۔۔ نے کہا تھا۔۔ مجھے بچانے کو۔۔؟؟ وہ بی کمر پے ہاتھ رکھے لڑاکا لڑکیوں کی طرح بولی۔
زبان کو لگام دو۔۔ وتنہ کاٹ دوں گا۔۔ زیشان سخت غرا کے بولا۔ تو وہ معصوم سہم ہی گٸ۔۔ اس کی سرخ رنگ آنکھیں دیکھ وہ ڈر گٸ تھی۔۔
زیشان بھاٸ۔۔ مجھے ڈراٸیں تو مت۔۔۔۔! نیچے والا ہونٹ باہر نکال کے کہتی وہ بہت معصوم لگی تھی۔ لیکن۔۔ وہ کتنی معصوم تھی۔ یہ زیشان ارسل سے زیادہ کوٸ نہیں جان سکتا تھا۔
آٸندہ۔۔۔ اگر درخت پے چڑھی۔۔ تو دو رکھ کے لگاٶں گا۔ پاگل نہ ہو تو۔۔؟؟ زیشان نے اسے غصہ سے کہا۔ لیکن اس کے غصہ میں ھپی محبت کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکا۔ مجھے بچانے کا شکریہ۔۔۔ وہ نین کٹورہ آنکھوں میں آنسو لیے کہتے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کو بولی۔ اس نے پلٹ کے اس سنہرے بالوں والی گڑیا کو دیکھا۔ تمہیں نہیں۔۔ خود کو بچایا ہے۔۔
تمہاری نہیں۔۔اپنی ہی جان کو بچایا ہے۔ ماضی کی بھولی بھٹکی یاد نے ملکہ کو واپس ماضی کی جانب دھکیلا تھا۔ ا
بیٹی۔۔!ملکہ۔۔ آجاٸیں گاڑی ٹھیک ہو گٸ ہے۔۔ اقبال انکل نے اسے خیالوں سے چونکایا۔ تو وہ اس طرف دیکھنے لگی۔ جہاںسے وہ ابھی گیا تھا۔ لیکن۔۔۔ کہاں غاٸب ہوا تھا۔۔ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔؟؟
گاڑی میں واپس بیٹھتے غیر ارادی طور پے ہی اس کی نظریں اس ڈھونڈ رہی تھیں۔ جو آج اتنے عرصہ بعد سامنے آیا بھی تو چھلاوے کی طرح غاٸب ہوگیا۔
اس کا دل اچانک سے بے چین ہوا تھا۔ سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ اسی کے بارے میں سوچنے لگی۔ جسے ہر پلہر جگہ وہ ڈھونڈتی آٸ تھی۔بچپن میں جو ایک دو بار ماںسے پوچھا بھی تو وہ ٹال گٸیں۔۔ کوٸ نہیں جانتا تھا۔۔ کہ زیشان ارسل کہاں ہے۔۔؟ پھوپھو کہاں ہیں۔؟ ارسل انکل کہاں ہیں۔۔؟ جس سے پوچھو۔۔وہ ٹال جاتا۔۔ اور جب ضد کر کے پوچھا۔تو ڈانٹ پڑ گٸ۔اسکے بعد ملکہ نے پھر کبھی ان کا زکر نہ کیا۔لیکن وقت گزرتے وہ ان کو بھلا نہ پاٸ تھی۔۔لیکن کسی حد تک۔۔ وہ اس کے زہنسے محو ہو گۓ تھے۔
کیا وہ بھی مجھے جانتا ہو گا۔۔؟؟ سوچ آتے ہی وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
اقبال انکل۔۔۔؟؟کیا وہ مجھے جانتے ہیں۔۔؟؟ معصومانہ سوال پے وہ زیرِ لب مسکرا دیٸے ۔
ظاہری بات ہے۔۔ بیٹی۔۔ جانتے ہی ہوں گے۔۔۔! آپ۔
آفتاب شیر خان کی بیٹی ہیں۔۔اور وہ ان کے بھانجے۔۔ !جیسے ہم انہیں جانتے ہیں۔۔ تو وہ بھی آپ کو جانتے ہوں گے۔۔۔! گاڑی ڈراٸوکرتے انہوں نے نرمی سے جواب دیا۔ جس پے ملکہ کا دل پھر سے دھڑکا۔ مطلب۔۔؟؟ جب ۔۔ وہ جانتے تھے۔۔ تو۔۔ پھر۔۔ مجھ سے۔۔بات کیوں نہیں کی۔۔؟ مجھے۔۔ بتایا کیوں نہیں۔۔؟ کہ وہ۔۔؟؟ ملکہ الجھن کا شکار ہوٸ تھی۔ بیٹی یہ تو۔۔ آپ۔۔خود ہی پتہ لگالیں۔۔۔ اقبال انکل نے صاف اپنا پہلو بچایا۔ وہ ان سب باتوں میں نہیں پڑنا چاہتے تھے۔
اوہ۔۔نو۔ اگین سے۔۔۔؟؟ ملکہ نے اپنے اردگرد دو سیاہ رنگ کی گاڑیاں دیکھیں تو گہرا سناس خارج کرتی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا گٸ۔ اقبال انکل زیرِ لب مسکراۓ تھے۔ آفتاب شیر خان۔۔کہاں اپنی بیٹی سے ایک لمحے کو بھی بے خبر ہو سکتا تھا۔ گارڈر اس کو کور کر چکے تھے۔ اور اب وہ جو گارڈز کے ہوتے ان کمرٹیبل ہوتی تھی۔ پھر سے منہ بناتی ونڈو سے ہی ان گاڑیوں کو منہ چڑایا۔
وہ ایسی ہی تھی۔ ہنس مکھ چنچل شوخ سی۔۔ ! ہر بات کو چٹکیوں میں اڑانے والی۔ ماں کی لاڈلی تو باپ کے دل کی دھڑکن۔۔ اپنے بھاٸ مونس کی آنکھوں کا تارا۔ اس گڑیا میں پرے خان منشن کے لوگوں کی جان بستی تھی۔
اور وہی جان نکالنے آیا تھا۔ زیشان ارسل۔۔۔خانزادہ۔۔۔!








سر۔۔ ساری انفارمیشن اس اینولپ میں ہیں۔۔ مرزا نے زیشان کو ایک خاکی رنگ کا اینولپ تھمایا ۔ وہ اشارہ ملتے ہی جا چکا تھا۔
زیشان نے اینولپ چاک کیا۔
سامنے ہی اسکی تصویر تھی۔
جو کبھی اس کے دل کی دھڑکن ہوا کرتی تھی۔۔ اسکے دل کو اس کی رفتار سے ہٹانے کی طاقت رکھتی تھی۔
اس کی نظر کی پہلی چاہت۔۔ اس کی محبت۔۔
ملکہ۔۔ آفتاب شیر خان۔۔ جو اسکے عقد میں اسکی ماں کے خون بہا میں لکھ دی گٸ تھی۔پل میں اس کی گہری رنگ سبز آنکھوں کا رنگ لال ہوا تھا۔
تصویر کو نظروں سے ہٹایا۔ اور اس فاٸل میں موجود پیپرز پے نظر دوڑاٸ۔
کافی وقت بیت گیا۔ مرزا کو واپس بلایا۔
کل۔۔ اس سے میری ملاقات رکھو۔۔ !زیشان نے کمر پے ہاتھ باندھے سرد لہجے میں کہا۔
جی خان۔۔ جو حکم۔۔!مرزا نے سر جھکایا۔
لیکن۔۔ملاقات کو تھوڑا انٹرسٹنگ بنانا ہے۔۔۔! مڑ کے ایک آنکھ ونک کی۔۔!مرزا اسے سوالیہ اندازسے دیکھنے لگا۔ تو زیشان نے اسے سارا پلان سمجھایا۔
لیکن۔۔ خان۔۔! بی بی جی کے گارڈز ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں۔۔ آفتاب شیر خایک لمحے کو بھی اپنی اولاد سے غافل نہیں ہوتے۔۔۔!مرزانے ڈرتے ڈرتے کہا۔
لیکن۔۔کل ہوگا۔۔۔!اورتم۔۔اسے غافل کرو گے۔کونکہ ملاقات تو ایسے ہی ہو گی۔۔ جیسے کہا ہے۔زیشان نے آنکھیں چھوٹی کرتے سامنے دیور پے لگی۔۔ آفتاب شیر۔خان کی تصویر کی جانب دیکھا۔ جہاں صرف اسکی نہیں۔ اسکی بیوی کنول۔۔ اسکے بیٹی مونس اور ملکہ کی تصویر تھی۔ لیکن۔۔ وہ اس کے بچپن کی تھی۔
زیشان نے اس کے بچپن کی تصویر اتارتے ابھی کی تصویر وہاں لگاٸ۔اوراسدیوار سے دور ہوتا چلا گیا۔ مرزا جا چکا تھا۔جیسا زیشان نے کہا تھا۔ اسے ویسا ہی کرنا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی کہی بات کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔
ایک تیر اٹھاتا اس نے اس کا نشانہ لیا۔ سامنے لگی تصویر پے جو کہ ملکہ کی تھی۔ نشانہ سیدھا اس کے ماتھے کا لیا۔ جو سیدھا اس کے ماتھے پے جا کے لگا۔ اب ۔۔ بتاٶں گا۔ ۔تمہیں۔۔ آفتاب شیر خان۔۔۔!کس طرح تم نے۔۔ میری ماں کے قاتل کو پناہ دی۔۔ اسے بچایا۔۔ آج سے چودہ سال پہلے۔۔ تم۔ نے اپنے بھاٸ ۔۔ شہیر خانزادہ کو بچا کے اپنی بیٹی کو خون بہا میں میرے عقد میں تو دے دیا۔۔لیکن۔۔خون بہا میں ۔۔ ہوتا کیا ہے۔۔ ؟؟ بہت جلد ۔۔تمہیں۔۔ اور تمہاری بیٹی کو بتاٶں۔۔ گا۔۔۔!کہ تم۔۔ خود پچھتاٶ گے۔۔اسوقت کو کوسو گے۔۔ جب تمنے ایک قاتل کا ساتھ دیا۔۔۔
جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔!زیشان خیالوں ہی خیالوں میں آفتاب شیر خان سے مخاطب تھا۔ وہ تو اپنی پلاننگ کرتا مطمین تھا۔ لیکن۔۔ قسمت اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی تھی۔وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ جسے نفرت سمجھ رہا تھا۔ وہ اس کی کب محبت سے عشق کا روپ دھارنے والی تھی۔ جس کی لپیٹ میں اس کا پورا وجود جھلس جانا تھا۔ کہ اس کی نفرت بہہ جاتی۔۔
جاری ہے۔
