Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 30)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

شہیر نے اپنے اور انابیہ کے پاکستان آنے سے لے کے زیشان کے کڈنیپ کرنے تک ساری بات انہیں بتا دی۔ کسطرح زیشان نے انہیں اٸیرپورٹ سے ہی کڈنیپ کروایا۔ اور بدلہ لینا چاہا۔ وہیں۔۔ شہیر نے ساری حقیقت زیشان ارسل کے سامنے رکھ دی۔ جسے سن وہ سکتے میں آگیا۔ اس کا یقین جاوید خان پے ڈگمگایا ضرور تھا۔ پر وہ اسے شہیر کی سازش سمجھا تھا۔ لیکن۔۔ اسی لمحے جاوید خان کی زرگل کے ساتھ ہونے والی گفتگو زیشان ارسل نے سن لی تھی۔ جس کے بعد شہیر کی سچاٸ پے مہر لگ گٸ تھی۔ شہیر اور انابیہ کو بحفاظت واپس خان حویلی وہ خود لایا تھا۔ جاوید خان سے انتقام کے لیے وہ جاوید خان کے ساتھ آج بارات لے کے خان حویلی پہنچا تھا۔ اور بات وہاں بگڑی جب سب کے سامنے جاوید خان پے زیشان ارسل نے گن تانی ۔

یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔؟؟ جاوید خان گڑبڑا گیا۔

وہی۔۔ جو چودہ سال پہلے آپ نے میری ماں کے ساتھ کیا تھا۔ زیشان ارسل کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ پاگل ہو گۓ ہو۔۔؟؟ ضرور کسی نے تمہارے کان بھرے ہیں میرے خلاف۔۔۔! دیکھو بیٹا۔۔ ! گن نیچے کرو۔۔ چل جاۓ گی۔ یہ۔.. بندہ مر بھی جاتا ہے۔ جاوید خان بہت سخت گھبرایا تھا۔ میری ماں پے گولی چلاتے ہوۓ آپ کو کیوں یہ بات یاد نہ آٸ۔۔۔؟ زیان کو غصہ آر ہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گن تھی کوٸ بھی اس کے قریب نہیس آرہا تھا۔شہیر نے اس کے پاس آکے اسے روکنا چاہا۔ لیکن زیشان نے اسے بھی وہیں روک دیا۔ اور یکے بعد دیگرے اس پے تین گولیاں برساٸیں۔ جو دو اس کی ٹانگ ایک بازو میں لگی۔ زیشان چاہ کے بی ان کے دل کا نشانہ نہیں لے سکا۔

جوبھی ہوا شاید ایسا ہی ہونا لکھا تھا۔شہیرنے دھیرے سے کہا۔سبھی اس وقت ڈراٸینگ روم میں بیٹھے تھے۔ فون پے اطلاع آچکی تھی۔ جاوید خان بچ گیا تھا۔ لیکن پھر بھی اس کی حالت ابھی ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے پاس ہاسپٹل میں موایہ اور مونس دونوں تھے۔ ساتھ میں آفتاب شیر خان کے خاص آدمی۔

مجھے ساری زندگی اس بات کا افسوس رہے گا۔ کہ میں کیوں نہ ساری سچاٸ وقت رہتے بتا سکا۔۔؟؟ ورنہ آج ملکہ۔۔۔ بیٹی کو قربان ۔۔۔؟؟

نہیں۔۔ شہیر۔! میں نے اپنی بیٹی کو خون بہا میں نہیں دیا۔ زیشان میرا داماد بنے یہ میری دیرینہ خواہش تھی۔ اور صرف میری نہیں۔۔عظمی کی بھی۔۔عظمی کے زکر پے آفتاب کالہجہ روندھ گیا۔

انابیہ نے سب سے معافی مانگی۔ کہ اس کی وجہ سے شہیر نے یہاں سے جانے کا فیصلہ لیا۔

سبھی نے صاف دل سے ایک دوسے کو معاف کر دیا۔ انابیہ اپنی ماں سے ملی۔ بہن بھاٸ سے ملی۔ سبھی خوش تھے۔ آفتاب نے سب کوا وہاں رہنے کا انتظام کروایا۔ خان حویلی میں ایک بار پھر سے خوشیوں کا راج تھا۔ ہر طرف خوشیاں اور محبتوں کا سا سماں تھا۔ دکھوں کے بادل چھوٹ رہے تھے۔ برسوں کے جدا اپنے ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ بے چین دلوں کو قرار آرہا تھا۔

منہا کو دیکھ انابیہ کے دل میں برسوں پرانی خواہش پھر سے جاگ اٹھی تھی۔ اور شامی کو اکیلا پاتے ہی اس کے پاس جا پہنچی۔ کیسے ہو۔۔؟؟ انابیہ کی بات پے شامی نے مسکرا کے اسے دیکھا۔ کیسا لگ رہا ہوں۔۔؟ ظالم لڑکی۔۔۔! شامی اس سے ناراض نہ رہ سکا۔ جو اتنے عرصے سے وہ دور رہی۔ اس کا دکھ اپنی جگہ تھا۔ لیکن وہ اب اس گزرے وقت کی خاطر آنے والے اچھے وقت کو برباد نہیں کر سکتا تھا۔ معاف کردو۔۔۔! میں نے آپ سب کا بہت دل دکھایا۔ انابی نے آنسو پونچھتے کہا۔ تو شامی نے اسے گلے سے لگایا۔ معافی مت مانگ۔۔ ! میرا عکس ہو یار تم۔۔۔! شامی کو اپنی یہ جڑواں بہن شروع سے ہی بہت عزیز تھی۔ تبھی نظر عشا منہا اور علیزہ پے جا ٹھہری۔ جو کسی بات پے مسکرا رہی تھیں۔ ایک بات بولوں۔۔۔ ؟؟ دھیرے سے شامی سے کہا۔ شامی نے اثبات مں سر ہلایا۔ اپنی منہا مجھے دے دو۔۔۔! انابیہ نے اچانک سے کہا کہ شامی ٹھٹھکا۔ پہلے بیٹا۔۔ اب ماں۔۔! وہ زیرِلب مسکرایا۔ منہا کو معاویہ بھی مانگ چکا تھا۔ اس سے ۔ لیکن اب تک وہ کوٸ فیصلہ نہیں کر پایا تھا۔ ایک طرف انابیہ تھیتو دوسی طف فضا۔ دونوں ہی بہنیں تھیں۔ اب کس کو ناراض کرتا او ک کو راضی۔؟؟ مجھ سے نہیں۔۔فضا آپی سے مانگ لو۔۔۔! شامی نے اپنا دامن بچایا۔ اس کی بات پے انابیہ نے ماتھے پے بل ڈالے شامی کو دیکھا۔ اور پھر پاس آتے فضا کو۔ یہ جوڑی پھر سے اکیلے میں بیٹھی کیا پلاننگ کر رہی ہے۔؟؟ فضا نے مسکرا کے انہیں چھیڑا۔ آپ کی ہونے والی بہو پے ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔۔ شامی نے فضا کو اشارے سے سمجھایا۔ تو فضا کے ماتھے پے بل پڑے۔ تم دونوں ناں۔۔ باز آجاٶ۔۔ میرے وہاج کی فلہن بنے گی منہا۔ سمجھے۔

آپی۔۔۔! پلیز۔۔۔ ماں جاٸیں ناں۔۔ میری اچھی والی آپی۔۔! انابیہ نے اسے گلے سے لگاتے منت بھرے لہجے میں کہا۔ کیا ہوگیا ہے۔۔ انا ۔۔۔؟؟ میرا بچہ کنوارہ کر کے اپنے بچے کا سہرا سجاٶ گی۔۔؟؟فضا نے روہانسے ہوتے کہا۔۔

علیزہ آپی یو آر ٹو گڈ۔۔ لاٸیک وہاج بھاٸ۔ اچانکسے ان کی سماعت سے عشا کی کھنکھناتی آواز ٹکراٸ ۔ تو وہ تینوں چونک کے ایک دوسرے کو فیکھنے لگے۔تینوں کے دماغ میں ایک ہی بات آٸ۔ مجھےقبول ہے۔۔ ! نابیہ ے فوراً سے ہامی بھری۔ تو وہ دونوں ایک دوسے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ کیا بات ہے۔۔ کیا سپیڈیں ہیں۔۔؟ شامی نے داد دی۔ پہلے۔۔شہیر سے تو بات کرو۔۔۔! فضا نے مشورہ دیا۔ ہم تینوں مل کے کوٸ فیصلہ کریں۔۔ تو ہمارے بیٹر ہافز۔۔ کی ہمت ہے۔۔ کہ وہ کچھ کہہ سکیں۔ ؟ نابیہ نے فرضی کالر جھاڑے۔ کچھ فرما رہی ہیں۔۔؟ آپ زوجہ محترمہ۔۔؟؟ انابیہ کی آخری بات شہیر کے کان میں پڑ گٸ تو پوچھ لیا۔ انابیہ ایک فوم سے سٹپٹا گٸ۔نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔ ! اس کے گھبرانے پے شامی اور فضا نے ایک دوسرے کو دیکھتے جاندا قہقہہ لگایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملکہ کو کافی وقت گزر گیا زیشان ارسل کے روم میں۔ وہ اسے خان پیلس لے کے آیا تھا۔ جو شہر میں ہی تھا۔ اور کل وہ حید آباد جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

ملکہ سخت کوفت کا شکار ہو رہی تھی۔ زیشان اسے خان پیلشس چھوڑ خود ہاسپٹل تھا۔ جاوید خان کو آٸ سی یو میں موت کے منہ میں پہنچا کے اب وہ باہر کھڑا آنسو بہا رہا تھا۔ اور اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ غصہ میں خود پے قابو نہ رکھ پایا۔ اور ۔۔ وہ کر دیا۔ جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔

اپنے کندھے پے ہاتھ کا دباٶ محسوس کرتے وہ مڑا تھا۔ مونس نے اسے تسلی دی تھی۔ غفار بھی مل چکا تھا۔اسے بھی جاوید خان نے اپنے ایک خفیہ گھر یں اتنے عرصے سے نظر بند رکھا ہوا تھا۔ کیونکہ وہ جاوید خان کی ساری سچاٸ جانتا تھا۔ شہیر اور انابیہ کے سب سچ بتانے اور جاوید خان کی باتیں سننے کے بعد زیشان نے جاوید خان کے آدمیوں پے نظر رکھواٸ۔ اور غفار کو بازیاب کروا لیا۔

وہ۔۔۔بچ جاٸیں گے۔۔ناں۔۔۔؟؟؟م زیشان نے آسو ضبط کرتے پوچھا۔ معاوی نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور اسے گلے سے لگایا۔ تو وہ ضبط کے باوجود رو دیا۔ وہ ٹوٹ رہا تھا۔ بکھر رہا تھا۔

زیشان۔۔۔! تم گھر جاٶ۔۔ میرا خیال ہے۔۔ ابھی ایک اور محاز باقی ہے۔لڑنے کا۔۔۔! معاویہ نے اسے آنکھ ونک کی۔ تو اسے دیکھتا رہ گیا۔ سمجھ تو وہ گیا تھا۔ لیکن وہ ملکہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ابھی۔ اس لیے یہاں آگیا ۔ دوسرا جاوید خان ک لیے اس کا دل بہت پریشان ہو گیا تھا۔

مونس اور معاویہ نے اسے وہاں سے گھر روانہ کیا۔ اور اس کی تالی کرواٸ کہ عہ وہیں رہیں گے۔۔ ہاسپٹل۔ کوٸ بھی مسٸلہ ہوا تو وہ اسے کال کر دیں گے۔ وہ بے دلا ہو کے خان پیلس واپس لوٹ آیا۔ جہاں زرگل اس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھیں۔ زیشان بیٹا۔۔؟؟ آپ کے نانا۔۔؟؟ کیسے ہیں اب۔۔؟؟ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو تھے۔ زیشان نے ایک دکھتی نظر ان پے ڈالی۔ ٹھیک ہی ہوں گے۔ آپ کے والد۔۔! زیشان اجنبیت سے مخاطب ہوا۔اس کا انداز اور لہجہ زرگل کو مزید دکھی کر گیا۔ بیٹا۔۔ ؟؟ مجھ سے بھی ناراض ہو۔۔؟؟ آنسو پونچھے۔ کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔؟؟ سب جانتی تھیں آپ۔۔۔! پہلے دن سے۔۔۔! لیکن۔۔ آپ نے بھی ۔۔ مجھے اس قابل نہ سمجھا کہ ایک بار۔۔ مجھے سچ ہی بتا دیتیں۔؟؟ اتنے عرصے سے گمراہی میں جی رہا تھا۔ استعمال ہو را تھا۔۔ لیکن۔۔۔؟؟ کیا کہوں آپ سے۔۔؟؟ آپ تو نانی تھیں ناں میری۔۔؟؟ کیوں کیا آپ نے۔۔؟؟ زیشان نے خود پے ضبط کیے پوچھا۔ معاف کر دو بیٹا۔۔ ! میں مانتی ہوں۔ میری غلطی ہے۔ لیکن۔۔ میں بھی کیا کرتی۔ اس وقت آپ ۔۔خان دادا کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہ تھے۔ جو آپ کے خان داد کہتے وہی آپ کو سچ لگتا۔ تو میں کیا کرتی۔۔؟؟ اور پھر آپ ان کے اتنے قریب ہو گۓ۔کہ پھر۔۔ میں خود پیچھے ہٹ گٸ۔ ڈر گٸ تھی۔ کہ ماں تو چلی گٸ۔۔ باپ بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا۔ آپ کے پاس ایک ہی رشتہ بچا تھا۔ خان دادا کا۔۔ میرے سچ بتانے سے کہیں۔۔ وہ بھی۔۔؟؟

چھوٹ گی ناں۔۔ آج وہ بھی مجھ سے۔۔ ! دیکھ لیں۔۔ خالی ہاتھ ہوں میں۔۔ کچھ بھی تو نہیں بچا ۔۔۔! اپنے ہاتھوں کو سامنے کیے وہ کرب سے بولا۔

خان صاحب۔۔۔۔! خانم۔۔۔۔! ابھی وہ مزید کچھ بولتا۔ کہ ملازمہ بھاگتی ہوٸ آٸ۔

دونوں ہی چونکے۔

خانم۔۔۔! وہ۔۔وہ دلہن۔۔ دروازہ نہیں کھول رہیں۔۔ کب سے کھٹکھٹا رہی ہوں۔۔ لیکن ۔۔ کوٸ جواب نہیں۔۔ وہ گھبراۓ ہوۓ بولی۔

زیشان اوپر کی جانب بھاگا۔ جب کہ زرگل نے ملازمہ سے ماسٹر کیز منگواٸیں۔

ملکہ۔۔۔؟؟ ملکہ۔۔ اوپن دا ڈور۔۔۔! زیشان باہر سے دروازہ دھکیلتے دبا دبا چلایا۔ لیکن جواب ندارد۔ تبھی ملازمہ چابیاں لے آٸ۔ زیشان نے دروازے کا لاک کھولا۔ سامنے ہی۔۔؟؟؟

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *