Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 03)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 03)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
مما۔۔ ! فارگاڈ سیک۔۔ پلیز۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔میں۔۔ کوٸ چھوٹا سا بچہ نہیں کہ کھو جاٶں گا۔ معاویہ نے پریشان حال بیٹھی انابیہ سے کہا۔ جو معاویہ کا اچانک سے پاکستان جانے کا سن کے پریشان تھی۔ اور اب اسے روک رہی تھی۔
میری بات کی تو کوٸ ویلیو ہی نہیں ناں۔۔؟؟ وہ نروٹھے پن سے بولی۔ پھر وہی بات۔۔ ۔مما۔۔۔! پلیز۔۔ یار۔۔ ایسے مت بولیں۔۔ آپ تو میری جان ہیں۔۔ ! معاویہ نے اسے گلے سے لگایا۔ جس کی آنکھیں آنسوٶں سے جھلملا رہی تھیں۔
آپ کیوں نہیں روکتے۔۔۔؟؟ انابیہ نے شہیر کی جانب دیکھتے کہا۔
آپ بول رہی ہیں۔۔ناں۔۔۔!پھر میرے کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟؟؟ شہیر کا سرد لہجہ انابیہ نے بخوبی نوٹ کیا۔ وہ ایسا ہی ہو گیا تھا۔ سرد سنجیدہ اور کھردرا لہجہ۔۔ جب سے وہ واقعہ ہوا تھا۔ وہ تب سے لیے دٸے والے انداز میں رہنے لگا تھا۔
ڈیڈ۔۔!! کافی۔۔! علیزہ نے مسکراتے ہوۓ شہیر کو کافی کا مگ تھمایا۔
تھینکس بیٹا۔۔۔! شہیر بھی جواباً مسکرایا تھا۔ جب کہ نظریں ابھی بھی لیپ ٹاپ پے تھیں۔ وہ اپنے بہت ہی ضروری پروجیکٹ کی ڈیٹیل میں بزی تھا۔
مما۔۔صرف کچھ دنوں کی بات ہے۔۔ بس۔۔! دوست کی شادی ہو جاۓ گی۔۔ تو جلدی ہی لوٹ آٶں گا۔۔! پکا وعدہ۔۔۔! معاویہ نے ماں کو سینے سے لگاۓ اس کے ماتھے پے لب رکھے۔
ڈیڈ۔۔۔! مجھے بھی پاکستان جانا ہے۔۔۔! دھیمے سے باپ کے کان میں علیزہ منمناٸ تو شہیر نے کافی کا سپ لیتے ایک نظر اسے دیکھا جو منت بھرا چہرہ بناۓ پلیز۔۔ کہہ رہی تھی۔ پھر دوسری نظر ان ماں بیٹے کو دیکھا۔ جن کے اپنے ہی لاڈ پیار ختم نہیں ہو رہے تھے۔ شہیر نے گہرا سانس خارج کیا۔ بہت مشکل ہے بیٹا۔۔! آپ کی مما کا وہم کا کوٸ علاج نہیں۔۔۔! شہیر نے سر جھٹکا۔
ڈیڈ۔۔ ! آپ کہیں گے۔۔ تو وہ منع نہیں کریں گیں۔ اور۔۔ بھاٸ بھی تو ساتھ ہوں گے۔۔۔ پلیز۔۔ مان جاٸیں ناں۔۔؟؟
علیزہ مزید منت بھرے لہجے میں بولی۔ تو شہیر نے پیچھے ہوتے چٸیر کے ساتھ ٹیک لگاٸ۔
چودہ سال پہلے جو کچھ ہوا تھا۔ اس کے بعد۔۔ انابیہ نے لندن سے بی سب کچھ واٸنڈاپ کروا کے وہاں سے بھی فرار حاصل کی تھی۔ بنا کسی قصور کے وہ آج تک انابیہ ک وجہ سے اپنوں سے ہی دور۔۔ چھپتا چھپاتا پھر رہا تھا۔۔ اور وہ تھک چکا تھا۔ آج وہ یہاں ترکی میں بیٹھا اپنا بزنس دوبارہ سے تو اسٹارٹ کر چکا تھا۔ لیکن ایک کسک اب بھی باقی تھی۔
معاویہ۔۔۔! اپنے ساتھ علیزہ کی سیٹ بھی بک کروا دیں۔۔ علیزہ بھی آپ کے ساتھ پاکستان جاۓ گی۔
اچانک سے شہیر کے بولنے پے انابیہ کے دل کی دھڑکن رکی تھی۔ اور وہ سیدھی ہوتی بیٹھتی شہیر کو حیرت سے دیکھنے لگی۔ جو اب پھر سے کام میں جٹ گیا تھا۔ دوسری طرف علیزہ کی تو خوشی کی کوٸ انتہا ہی نہ رہی۔ فراً سے تھینک یو کہتے اٹھتی وہ پیکنگ کے لیے اندر بڑھ گٸ۔ معاویہ فون کال آتی دیکھ اٹھ گیا تھا۔
آپ۔۔۔ آپ ۔۔ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ میں۔۔ معاویہ کے جانے سے راضی نہیں۔۔ آپ۔۔ علیزہ کو بھی۔۔؟؟ نہیں۔۔ وہ نہیں جاۓ گی۔۔انابیہ نے اپنے ہی خیال کی نفی کی۔
انابیہ۔۔۔! پلیز۔۔ اپنا وہم دور کردو۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اور بچوں کی خوشی میں آڑ مت بنو۔۔ ! شہیر کے ماتھےپے بل پڑے۔
آپ جانتے بھی ہیں۔۔ وہاں پاکستان میں۔۔ ان کی جان۔۔؟؟
کچھ نہیں۔۔ ہوگا۔۔ اتنا عرصہ بیت گیا ہے۔۔ کسی کو یاد بھی نہیں۔۔ ہوگا۔۔ کہ شہیر خانزادہ کے بچے بھی ہیں۔۔ شہیر لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھا تھا۔ وہ بمشکل اپنے غصہ کو ضبط کرتا بولا تھا۔ اور وہاں سے جانے لگا تھا۔
شہیر۔۔۔! پلیز۔ انہیں مت جانے دیں۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ ؟؟ انابیہ رو دی۔
اپنے بھرم سے باہر نکل آٶ۔۔۔! انا۔۔۔! جو بیت گیا ہے اسے بھول جاٶ۔۔۔ خود بھی آگے بڑھو۔اور بچوں کو بھی آگے بڑھنے دو۔۔۔! شہیر نے اسے اب کی بار نرمی سے سمجھایا وہ آنسو پونچھتی اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لی۔ شہیر نے نفی میں سر ہلایا۔ اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔ آپ کو کیسے سمجھاٶں۔۔ شہیر۔۔ اس دل کا حال؟؟ آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔ ایک ماں کی فیلنگز۔۔! وہ دل ہی دل میں شہیر سے مخاطب تھی۔









کیا سوچ رہی ہو۔۔؟؟ آفتاب نے کنول کو کھینچ کے خود سے قریب کیا ۔ جو کافی گہری سوچ میں ڈوبی ہوٸ تھی۔
آفتاب کی قربت آج بھی اسے شرمانے پے مجبور کر دیتی تھی۔
خان۔۔۔! ڈر سا لگ رہا ہے۔۔۔! وہ دھیرے سے کہتی آفتاب کو چونکا گٸ۔
کس بات کا ڈر۔۔؟؟ آفتاب نے اس کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔ تو اس نے جھرجھری لی۔
ایک۔۔۔ ایک۔۔ ماہ بعد۔۔ ملکہ۔۔ اٹھارہ کی ہوجاۓ گی۔۔؟؟ تب۔۔؟؟ اپنی کالی آنکھوں سے ڈرتے ہوۓ آفتاب کو دیکھا۔
تو۔۔؟؟ آفتاب سمجھ کے بھی انجان بنا۔
میں۔۔ میں۔۔ ملکہ کی۔ رخصتی نہیں کروں گی۔۔۔! کنول کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
پاگل۔۔۔! کیا اتنا ہی بھروسہ ہے اپنے خان پے۔۔؟؟ اس کے گال کو دھیرے سے سہلایا۔ کنول نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
وقت آنے دو۔۔ سب پتہ چل جاۓ گا۔ لیکن۔۔ ابھی مت سوچو اس بارے میں۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔۔۔! آفتاب نے پیار سے اسے دیکھتے کہا ۔ تو کنول نے اثبات میں سر ہلایا۔
ویسے ایک زیارتی کر گٸ ہو یار۔۔۔! اب اس کی کمر میں بازو حماٸل کیے تو وہ سٹپٹاٸ۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کیسی زیداتی۔۔؟؟
مجھے ڈھیر سارے بچے چاہیے تھے۔۔ لیکن۔۔؟؟ آفتاب نے شرارت سے اسے دیکھا۔
اب۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ بچے ۔۔ دو ہی اچھے۔۔۔! کنول نے مسکراتے چھیڑا۔
یار۔۔ نو ہوتے۔۔ تو بیچ میں سے دو ہی اچھے ہوجاتے۔۔؟؟
واٹ۔۔؟؟ نو۔۔۔؟؟ کنول نے چلا کے اسے دیکھا۔ یار آہستہ۔۔۔! کان کے پردے پھاڑنے ہیں۔۔؟ آفتاب نے کان کھجایا۔ آپ۔۔ ناں۔۔ اب تھوڑی سی شرم کر لیں۔۔ آپ کے دونوں ہی بچے اب بڑے ہوگۓ ہیں۔ ماشاءاللہ سے۔۔! کنول نے اسے پیار سے ٹوکا۔
کیا یار۔۔ ابھی تو صرف۔۔۔ فورٹی ناٸن کا ہوں۔۔ ! اس ایج میں تو لوگ شادی کرتے ہیں۔۔ کوٸ پہلی کوٸ دوسری۔۔۔!
خان۔۔۔؟؟ جان لے لوں گی آپ کی میں۔۔! کنول نے اس کے گلے میں دونوں ہاتھ ڈالتے دھیرے سے دباٶ ڈالا۔
آفتاب زیرِلب مسکرایا ۔ یار۔۔ صرف جنرلی بات کر رہا ہوں۔۔ جان لینے کو کیوں تل رہی ہو۔۔؟؟
ابھی بھی ہزاروں لڑکیاں ہیں۔ جو جان نچھاور کرتی ہیں۔۔ خان نے اسے مزید اکسایا تو اس نے منہ بنا کے اس کے گلے پے سچ میں دباٶ ڈالا ۔ اسی لمحے آفتاب نے اسے خود سے قریب کرتے اس کے لبوں پے جھکنے لگا کہ۔۔۔











بابا۔۔۔؟؟ مماما۔۔۔۔۔؟؟؟ ملکہ اونچی آواز میں بولتی گھر کے اندر داخل ہوٸ۔
لو جی۔۔ آگٸ۔۔ آپ کی بولتی چڑیا۔۔! کنول نے آفتاب کو مسکرا کے دیکھا۔ تو وہ بھی زیرِلب مسکرایا۔ دونوں کا رخ اب باہر کی جانب تھا۔
ملکہ ان کو دیکھتی فوراً باپ کے سینے سے جا لگی۔
کیسا رہا آج کا دن۔۔ میرے بچے کا۔۔؟ آفتاب نے اس کا ماتھا چوما تھا۔
بہتتتتتتتت۔ا چھا۔۔۔۔!اب وہ ماں سے مل رہی تھی۔ وہ ایسی ہی تھی۔ کالج جانے سے پہلے اور واپس آنے پر وہ یونہی ملا کرتی تھی۔
دادو۔۔۔۔۔دادو۔۔۔؟؟ اب وہ خانم کو پکار رہی تھی۔ وہ بھی مسکراتی ہوٸیں۔ پوتی سے ملنے باہر آگیں۔
آگٸ میری چڑیا۔۔؟؟ انہوں نے اسے سینے سے لگایا۔ تو وہ مسکراتی اب ان کے پاس جا بیٹھی۔ لو جی۔۔۔! آپ کو نظر نہیں آرہی۔۔؟؟ ساتھ ہی آنکھ ونک کی۔۔! تبسم بیگم نے اس کے سر پے ہلکی سی چپت لگاٸ۔
بابا۔۔۔! بھیا کب آٸیں گے۔۔؟؟ ملکہ کو موونس کی ٹینشن ہوٸ اب۔۔ ! وہ اپنی یونی کے لاسٹ اٸیر میں تھا۔ اور چند قریبی دوستوں کے ساتھ ملکے گھومنے کا پلان بناتے وہ کاغان ناران گیا تھا۔ اور ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ ہاں۔۔ اس کی بھی تو کوٸ خیر خبر لیں۔۔ خان۔۔؟ کدھر ہیں۔ آپ کے سپتر۔۔؟؟ کنول نے پاس ہی بیٹھتے پوچھا۔ ۔ میری بات ہوٸ تھی۔
دو دن تک آجاۓ گا۔۔۔! خان نے موباٸل پے اپنی ای میلز چیک کرتے سرسری سا جواب دیا۔








امی۔۔۔؟؟ امی۔۔۔؟؟ شامی کی اونچی آوازیں سنتے جمیلہ خاتون فوراً اندر آٸیں۔ کیا ہوا۔۔؟ شامی کیوں شور مچا رہے ہو۔۔؟؟
میری شرٹ نہیں مل رہی۔۔ اور اپنی بہو سے پوچھیں۔۔ کہاں رکھی ہے اس نے۔۔؟؟ شامی نے جھنجھلاتے ہوۓ کہا۔ عابی اس کی شرٹ ڈھونڈتے پاگل ہو چکی تھی۔ لیکن اب وہ شرٹ نہیں مل رہی تھی۔ جو شامی کو چاہیے تھی۔ عابی۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ نہیں ملی۔۔؟؟ جمیلہ خاتون نے عابی سے پوچھا جو کبرڈ میں سر گھساۓ کھڑی تھی۔
نہیں۔۔ ممانی۔۔ ہمیں نہیں مل رہی۔۔؟؟ عابی نے مسکینی صورت بناٸ۔ اچھا۔۔۔! تم جاٶ۔۔ بچیاں آگٸ ہوں گی کالج سے ۔۔ انہیں کھانا وغیرہ دو۔۔ میں دیکھتی ہوں۔ جمیلہ خاتون نے اس کی جان خلاصی کی۔
نہیں۔۔ یہ کہیں۔۔ نہیں جاۓ گی۔۔ جب تک۔۔ شرٹ نہیں مل جاتی۔ شامی نے غصہ سے کہا۔ عابی نے رونی صورت بناٸ۔ شامی۔۔ کچھ تو لحاظ کرو۔۔ ! اب۔۔ بچے جوان ہو گۓ ہیں۔۔ لیکن۔۔مجال ہے۔۔ خود بڑا ہوجاۓ۔ وہی۔۔ بچوں والی حرکتیں ہیں۔۔ کوٸ بھی شرٹ پہن لو۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔؟؟ جمیلہ خاتون نے سمجھایا ۔
نہیں۔۔ مجھے بلیک شرٹ ہی چاہیے آج ابھی اسی وقت۔۔۔! شامی نے ضدی انداز میں کہا۔
کہاں سے لاٸیں ہم۔۔؟؟ عابی زچ آتے ہوۓ بولی۔ جہاں رکھی تھی۔۔ وہیں سے ڈھونڈو۔۔؟؟ شامی بھی دوبدو ہوا۔ کہ اتنے میں عشا اور منہا بھی شور سنتی اندر آگٸیں۔
ہم بچیوں کو کھانا تو دینے دیں۔ آ کے ڈھونڈ دیں گے۔۔ آپ کو۔۔ ! عابی نے اپنی بچیوں کو دیکھ اب سب بھول جانا تھا۔ اور یہی وجہ تھی۔ شامی اسے جان بوجھ کے اپنے ساتھ الجھاۓ ہوۓ تھا۔ عابی۔۔؟؟ میری شرٹ۔۔؟؟ شامی نے اسے آنکھیں دکھاٸیں۔
ممانی جان۔۔! انہیں۔۔ شرٹ ڈھونڈ دیجیے۔ ہم۔۔ بس ابھی آۓ۔ مسکرا کے کہتی وہ مسکراتی ہوٸ بچیوں کو لیے باہر نکلی۔ جب کہ منہا کے چہرے پے دھیمی سی مسکان تھی۔
جاری ہے۔
