Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 09)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

ایم سوری۔۔۔۔! وہ غلطی سے۔۔۔! معاویہ نے منہا کو ایک لمحے میں چھوڑتے پیچھے ہوتے کہا۔ جب کہ منہا گھبراۓ سے انداز سے ادھر ادھر دیکھتی عشا کے پاس چلی گٸ ۔ معاویہ کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔ اور پھر اس مہندی کی رسم کے دوران وہ معاویہ کی نظروں کا مرکز بنی رہی جسے منہا نے بھی نوٹ کیا۔ لیکن اگنور کرتی رہی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

دھیرے دھیرے اس کے حواس جاگے۔ دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو جھٹ سے آنکھیں کھلیں۔ خود کو انجان جگہ پے پایا تو چودہ طبق روشن ہوۓ ۔

اردگرد دیکھتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔

میں۔۔ کہاں ہوں۔۔؟؟ کونسی جگہ ہے یہ ۔۔؟؟ وہ ہمکلامی میں بولی کہ اسی پل نظر سامنے صوفے پے براجمان ٹانگ پے ٹانگ رکھے آرام سے بیٹھے زیشان ارسل پے جا ٹھہری۔ جو بہت ہی فرصت سے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ملکہکے فل کو کچھ ہوا۔ یہ شخص کتنے آرام سے بیٹھا ہے۔۔ قتل کر کے۔۔۔! ملکہنے لب بھینچتے اسے دیکھا۔ تمم۔۔۔۔۔م؟؟ کیوں لاۓ ہو مجھے یہاں۔۔؟ وہ جیسے بپھرتے ہوۓ بولی۔ اس کے طرزِ تخاطب پے زیشان ارسل نے سختی سے اسے دیکھا۔ اور ایک جھٹکے سے اٹھ کے کھڑا ہوتا اس کے پاس آیا۔

آپ۔۔۔۔! آپ کہہ کے مخاطب کرو۔۔ مجھے۔۔! اسے بازو سے پکڑتے انتہاٸ غصہ سے وہ سرد لہجے میں بولا۔ ملکہ کا دل ڈوب کے ابھرا۔

چھوڑو۔۔ میری بازو۔۔! تم قاتل ہو۔۔ اور۔۔ قاتل کی ۔۔؟

کیا بکواس کیے جا رہی ہو۔۔؟؟ زیشان نے اسے غصہ سے بالوں سے پکڑ کے اسکا چہرہ اوپر کیا۔ ملکہ کےسر میں ایک ٹھیس سی اٹھی۔

اپنی زبان کو لگام دو۔۔ ورنہ گدی سے کھینچ لوں گا۔ وہ غرایا تھا۔ ملکہ ناچاہتے ہوۓ بھی آنکھیں نم کر گٸ۔ اسے ماں باپ نے اتنے ناز و نعم سے پالا تھا۔ کہ وہ زرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی کجا کہ اس کے بالوں کو بے دردی سے کوٸ کھینچتا۔

مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔! وہ دھیرے سے منہ بنا کے منمناٸ۔ زیشان ارسل اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ ایک پل کو ٹھہر سا گیا۔ جی چاہا ان دو آنکھوں کے آنسو چن لے۔ لیکن ۔۔؟؟ وہ بس ایک پل کو ہی ٹھہرا تھا۔ لیکن اس کےبالوں کو چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا ۔

اب اپنے الفاظ کا چناٶ۔۔ سوچ سمجھ کے کرنا۔۔! ورنہ۔۔ ابھی تم مجھے جانتی نہی۔۔؟؟

تم۔۔۔؟؟ وہ پھر بولنے لگی تھی۔ کہ تم پے زیشان کی تیز نظروں سے ملکہ کی زبان کو بریک لگا۔

آپ۔۔۔! زیشان ہیں۔۔ میں جانتی ہوں۔۔ عظمی پھپھو کے بیٹے۔۔۔! ملکہ نے آنسو صاف کرتے ناراضی سےکہا۔ زیشان نے بھنوٸیں اچکاتے اسے دیکھا۔

آپ کی شکایت کروں گی۔۔ میں پھپھو سے۔۔۔! آپ نے مجھے ڈانٹا۔۔ میرے بال کھینچے۔۔۔! وہ اب بچوں کی طرح اسے دھمکیاں دے رہی تھی۔ اس بار زیشان نے اسے بہت میٹھی نظروں سے دیکھا۔ اسے ملکہ کا بچپن یاد آگیا۔ وہ بچپن میں بھی ایسی ہی شکایتی ہوتی تھی۔ بات بات پے جا کے شکایت لگاتی تھی۔

چلو۔۔ تمہیں۔۔ گھر چھوڑ آٶں۔۔۔! زیشان نے سر جھٹکا۔ وہ کسی بھی کمزور لمحے میں قید نہیں ہونا چاہتا تھا۔ ملکہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔

میة پھوپھو سے مل کے نہیں آپ کی شکایت کر کے جاٶں گی۔۔ کسی بھول می مت رہیے گا۔ آپ نے ۔۔ کسی شخص کو مارا۔۔ ؟؟ آپ بھول گۓ ہیں۔۔ میں نہیں۔۔؟؟؟

بہتر ہوگا اپنے چھوٹے سے دماغ سے یہ خناس نکال دو۔۔ کیونکہ میرا دماغ گھوما ناں۔۔؟؟ تو ایک گولی تمہارے دماغ کے پار بھی ہوگی۔ سمجھی تم۔۔۔! زیشان نے پھر سے اس کی بات کاٹی تھی۔ اور جتنی سختی سے کاٹی تھی۔ وہ سہم ہی گٸ تھی۔ اب اپنی بکواس بند کرو اور چلو۔۔۔ زیشان نہیں چاہتا تھا کہ ملکہ کو کوٸ وہاں دیکھے۔ زرگل خانم گھر نہیں تھیں۔ وہ رمل کو خود ایرپورٹ سے رسیو کرنے گٸ تھیں۔ اور اس سے پہلے کہ وہ واپس لوٹتیں۔ اور ملکہ کو لے کے کوٸ سوال کرتیں۔ وہ اسے واپس چھوڑ کے آنا چاہتا تھا۔ وہ ان سے ڈرتا نہیں تھا۔ لیکن فی الحال وہ نہیں چاہتا تھا کہ ملکہ ایسے سب کے سامنے آۓ۔

سناٸ نہیں دیا۔۔؟؟ چلو۔۔؟؟ وہ غصہ سے غرایا۔ تو ملککہ منہ بناتی اس کے ساتھ باہر نکلی۔ سیڑھیاں اترتے پورے محل کو دیکھتی اس کی نظریں اپنی پھپھو کو ڈھونڈنے لگیں۔ لیکن۔۔ وہکہیں نظر نہ آٸیں۔ اور اس جلاد سے پوچھنا اس نے گوارا نہ کیا۔ ایک لمحے میں اس کا پاٶں مڑا تھا۔ اور وہ سیدھا نیچےگرتی کہ پیچھے سے زیشان جو اسی پے نظر رکھے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ اسے جھٹکے سے کلاٸ سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔ ملکہ کی آنکھیں ڈر سے بند ہوٸیں۔ سانس بھی ساکن ہوٸ اس کے چہرے کی معصومیت پے ایک بار پھر زیشان ارسل کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ اس کیکمر میں ہاتھ ڈالے وہ اسے بہت قریب سے دیکھے جا رہا تھا۔ کہ اسی پل ملکہ نے آنکھیں کھولیں۔۔ اور خود کو زیشان کے حصار میں پایا۔ لیکن زیشان نے جس قدر اسے سختی سے پکڑا تھا۔ وہ کسمسا کے رہ گٸ۔

باہر سے اندر آتیں خانم اور رمل نے بھی یہ منظر بخوبی دیکھا تھا۔ ایک پل کو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پے ٹھٹھکیں تھیں۔ خانم تو رمل کو زیشان کے نہ آنے کی یہی وجہ بتاٸ کہ وہ کسی خاص میٹنگ میں مصروف تھا۔ اور یہاں وہ کس میٹنگ میں مصروف تھا۔ رمل باآسانی سمجھ گٸ تھی۔

دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا۔۔؟؟ ہر وقت گرتی پڑتی رہتی ہو۔۔؟؟ دیکھ کے نہیں چل سکتی۔۔؟؟ زیشان نے اپنے احساسات کو غصہ کے لبادھے میں اوڑھا۔

چھوڑیں مجھے۔۔۔! میں اپنا خیال خود رکھ۔۔؟؟؟ ملکہ نے بھی منہ بنا کے کہا۔ کہ اسکی بات کاٹی۔

زیشان۔۔پتر۔۔۔؟؟ خانم کی آواز پے وہ دونوں جو دھیمے دھیمے ایک دوسرے کے قریب کھڑے بات کر رہے تھے۔ کہ فیکھنے والے کو یہی لگتا کہ دونوں بہت محبت بھری گفتگو کر رہے ہوں۔۔ جب کہ ان کے بیچ کی باتیں وہ دونوں ہی جانتے تھے۔

زیشان کی نظریں اسی پل خانم پے اٹھیں۔ اور اس نے ملکہ کی کمر سے ہاتھ ہٹایا۔ دانت پیستے وہ ملکہ کےقریب سے ہوتا نیچے اترا۔ ملکہ تو اس کے انداز دیکھ کے ہی آنکھوں ہی آنکھوں میں داد دینے لگی۔

آپ۔۔؟؟ خانم۔۔؟؟ زیشان ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ ملکہ بھی باقی کی سیڑھیاں اترتی نیچے آگٸ۔۔

السلام علیکم آنٹی۔۔۔! ملکہ نے بہت مودب انداز میں سلام کیا۔ وہ اتنی چھوٹی اور پیاری سی تھی۔ کہ خود بخود مسکان خانم کے چہرے پے سج گٸ۔ وعلیکم السلام بیٹا۔۔! آپ۔۔ کون۔۔؟؟ خانم نے اسی سے پوچھ لیا۔

آنٹی ۔۔ میں۔۔؟؟ ؟ملی۔۔؟؟

چلو۔۔ تم۔۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔! زیشان نے بات کاٹی اور اس کا ہاتھ تھامے باہر نکلا۔ ملکہ نے پلٹ کے خانم کو دیکھا۔ جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس لڑکی میں عجیب سی کشش محسوس ہوٸ تھی۔ جسے وہ خود بھی امھ نہیں پاٸ تھیں۔

آپ تو کہہ رہی تھیں۔ کہ زیشان ارسل خانزادہ۔۔ بہت اہم میٹنگ میں بزی تھا۔ اس لیے آنہیں سکا۔۔؟؟ یہ کوسی اہم میٹنگ تھی۔۔؟؟ نانو۔۔؟؟ رمل نے ناگواری سے کہتے خانم سے پوچھا۔ خانم نے لب بھینچے۔ وہ کیا جواب دیتیں۔۔؟؟ سامنے زیشان ارسل تھا۔ اپنی مرضی کا مالک۔۔۔ وہ جو کرنا چاہتا تھا۔ وہ کرتا تھا۔ اسے کوٸ وک ٹوک نہیں تھا۔ اور نہ وہ کسی کی سنتا تھا۔ وہ تھیں تو اس کی سگھی نانو۔۔! لیکن۔۔ وہ چلتا جاوید خان کے نقشِ قدم پے تھا۔ لیکن ان کا دل جانتا تھا۔ کہ زیشان ارسل جاوید خان کی طرح کھٹور اور سفاک دل نہیں ہو سکتا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ہانی کو ڈسچارج مل گیا تھا۔ میکال اسے لیے واپس آرہا تھا کہ اس کا سامنا اسی شخص سے ہوا۔ جس نے ہانی کی جان بچاٸ۔ اور اس رات ہانی کو ڈھونڈا۔ مونس کی نظر بھی ان پے پڑ چکی تھی۔ وہ راستہ بدلنا چاہتا تھا۔ لیکن وہیں اس کے قدم تھم گۓ۔ ہانی کا چہرہ دیکھتے اس کے دل کو کچھ ہوا۔ کیسے ہو ینگ مین۔۔؟؟ میکال نے مسکراتے ہوۓ مونس سے پوچھا۔

الحَمْدُ ِلله انکل۔۔! مونس بھی زبردستی مسکرایا۔ جب کہ ہانی حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ کہ وہ ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں۔۔؟ اسی وقت میکال کے نمبر پے کال آٸ تو وہ رسیو کرتے ای طرف کو ہوۓ۔ ہانی کی سوالیہ نظریں ابھی بھی مونس پے تھیں۔ لیکن لب خاموش تھے۔

کیسی ہو۔۔؟؟ بالآخر مونس نے ہی پہل کی۔ وہ سچاٸ جان گیا تھا۔ ہانی وہاں اپنے بابا کے ساتھ آٸ تھی۔ وہ بھی اس طرح کی اپرٹیز میں پہلی دفعہ۔۔۔! اور مونس نے اسے غلط سمجھ لیا۔ اور کیا کچھ نہیں بولا۔

پتہ نہیں۔۔ کیسے زندہ بچ گٸ۔۔؟؟ ہانی نے تلخی سے جواب دیا۔ اور نظریں پھیر لیں۔ اسکی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی تھیں۔ اسے ایک ایک باتیاد تھی۔ جو مونس نے اسے کہی تھی۔ وہ نہیں بھلا پاٸ تھی۔

ایم سوری۔۔۔! مونس نے پہلی بار اپنی زندگی میں وہ الفاظ کہے جہنیں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہانی نے پلکیں اٹھاتے اسے حیرت سے دیکھا۔ اس کی ایک نظر دیکھنے پے مونس کے ل کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸ۔

سوری۔۔۔؟؟ مونس۔۔۔! آپ نہیں۔۔ جانتے۔۔ آپ کے الفاظنے میری روح کو چھلنی کیا ہے۔۔! میں۔۔ چاہ کے بھی ان الفاظ سے نہیں نکل پا رہی ۔۔۔! مجھے اپنے وجود سے شدید نفرت سی ہو رہی ہے۔۔ جسے ساامنے والے نے اس طرح کا ۔۔؟؟؟ ہانی کی آنکھیں نم ہوٸیں تو لہجہ روندھ گیا۔

پلیز۔۔ ہانی۔۔۔! میں شرمندہ ہوں۔۔ پتہ نہیں۔۔ کیسے وہ سب بول گیا۔۔؟ مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔ ! ہم کون ہوتے ہیں کسی کو بھی پرکھنے والے۔۔؟ کہ وہ کیسا ہے کیسا نہیں۔۔ میرا کوٸ حق نہیں تھا۔ کہ۔۔ میں ایسے۔۔؟؟

کیا حق ہوتا تو۔۔؟؟ ایسے لفظ استعمال کرتے۔۔؟؟ ہانی نے نجانےکس احساس کے تحت اس سے وہ سوال کر ڈالا جس کے جواب پے وہ اسے بس یک ٹک دیکھے گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک اذیت رقم تھی۔ جسے مونس نے دل پے اترتا محسوس کیا۔ وہ مزید کوٸ جواب دیتا کہ میکال واپس آگۓ۔

اوکے ینگ مین۔۔۔! ہم ۔۔ چلتے ہیں۔ آج ہی ہماری واپسی ہے۔۔۔ لاہور کی۔۔! جب بھی لاہور چکر لگے۔۔ آپ کا ۔۔مجھ سے ضرور ملیے گا۔ یہ رہا میرا کارڈ۔۔! اینڈ تھینکس۔۔ اگین بیٹا۔۔۔! آپ نے میری ہانیکی جان بچاٸ۔ اس کو میں ساری زندگی نہیں بھول پٶں گا۔ میکال نے اس کے کاندجے پےہاتھ رھے ممنونیت سے کہا۔ ہانی تو اپنے باپ کے کہے الفاظ پے شاڈرہ گٸ۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *