Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 3 

تم ۔۔نے میری بہن پے گولی چلاٸ۔۔؟؟ اگر میری بہن کو کچھ بھی ہوا۔۔ تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔۔ سنا تم نے۔۔۔! منہا نے معاویہ کا گریبان پکڑتے غصہ سے کہا۔ منہا۔۔۔! علیزہ نے اسے پکارا تھا۔ پہلے تھپڑ مارا۔ اور اب گریبان۔۔ ! علیزہ اپنے بھاٸ کو جانتی تھی۔ کوٸ اس پے ہاتھ اٹھاۓ اور وہ چپ رہے۔ ناممکن تھا۔یہ اس کی ہمت ہی تھی۔ کہ وہ اب تک چپ خاموش کھڑا ضبط کر رہا تھا۔ بھاٸ کا گریبان چھوڑو۔۔۔ ! گولی انہوں نے نہیں چلاٸ۔ علیزہ تھوڑا سختی سے بولی تھی۔ علیزہ کے الفاظ پے منہا کے ہاتھ لرزے تھے۔وہ جو معاویہ کی آنھوں میں آنکھیں ڈالے نفرت اور غصہ سے دیکھ رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اسکی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔ اور پھر ہاتھ ہٹا لیے۔ رخ پلٹ کے علیزہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ گولی کسی اور نے چلاٸ تھی۔ بھیا نے تو عشا کو فوراً ہاسپٹل پہنچایا۔ نیکی کی ہے۔۔ انہوں نے۔۔۔! اور تم نےانہیں۔۔؟؟ علیزہ نے لب بھینچے۔ جب کہ منا کی پلکیں لرزیں۔ ار لزرتی پلکوں کو اٹھاتی وہ معاویہ کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ منہا کی آنکھ سے آنسو بہے۔ اور نظریں جھکیں۔ ایم سوری۔۔بھیا۔۔؟؟ وہ۔۔؟؟ عشا ٹھیک ہے اب۔خطرے سے باہر ہے۔ عشا سے مل لو۔۔ اور باہر آٶ۔۔ میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔ ! معاویہ نے منہا سے نظریں ہٹا لیں۔ اور سپاٹ انداز میں علیزہ سے کہتے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ علیزہ نے دکھ سے معاویہ کی پشت کو دیکھا۔ اور پھر افسوس سے منہا کو۔ اور آگے بڑھ گٸ۔ منہا وہیں کھڑی رہ گٸ۔ اسی لمحے رمشا کے والد کو آتا دیکھا۔ جو معاویہ کے ہمراہ ہی آۓ تھے۔ بیٹا۔۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ عشا بیٹی بالکل ٹھیک ہے اب۔۔ جاٶ۔ جا کے مل لو۔۔ بس ۔۔ ابھی تھوڑی دیر تک گھر چلتے ہیں۔۔ انہوں نے اس کے ار پے شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔ منہا سر جھاکاۓ آنسو پیتی وارڈ کی طرف گٸ۔ جہاں عشا علیزہ سے مسکرا مسکرا کے بات کر رہی تھی۔ منہا۔۔آپی۔۔!کیا یار اتنا لیٹ کر دیا۔۔؟؟ کب سے ویٹ کر رہی تھی میں۔۔ ؟؟ یہ دیکھیں۔۔ علیزہ آپی ہیں یہ۔۔۔! انابیہ پھوپھو کی بیٹی۔ وہ بازو پے پٹی باندھے اس کو گلے میں لٹکا کے بیٹھی تھی اور چہک چہک کے بتا رہی تھی۔ منہا نے آگے بڑھ کے اس کا ماتھا چوما۔ درد تو نہیں ہو رہا۔۔؟؟ منہا نے اس کے بازو کو دیکھا۔ نہ۔۔۔! بالکل نہیں۔۔ میں تو بہت بہادر فیری ہوں۔۔ اور۔۔ ٹینشن مت لیں۔۔ گولی بس چھو کے ہی گزری ہے۔۔ زیادہ چوٹ نہیں آٸ۔ عشا نے اس کی ڈھارس بڑھاٸ۔ میں تو ڈر گٸ تھی۔۔۔! منہا نے پھر سے آنسو بہانے شروع کر دیۓ۔ بس کردو۔۔ آپی۔۔ یار۔۔ ! اب میں ٹھیک ہوں ۔۔ عشا نے چڑتے ہوۓ کہا۔ اور یہ سچ تھا گولی ہلکی سے چھو کے گزری تھی۔ اسی پل ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔ وہ شرمندہ شرمندہ سا لگا۔ اسلام علیکم۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔ میری غلطی اور لاپرواہی ہے۔۔ مجھے ۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ لڑکا بمشکل انیس بیس سال کا تھا۔ اور انتہاٸ شرمندہ تھا۔ آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔ میرے لیے یہی بہت ہے۔ لیکن۔۔ آپ سے ایک ریکوسٹ ہے۔ کہ پلیز۔۔ یہ شادیوں میں ہواٸ فاٸرنگ کرنا بند کر دیں۔ میری تو لک اچھی تھی۔ کہ میں بچ گٸ۔ ورنہ۔۔ لوگ مر بھی جاتےہیں۔ اور خوشی کے موقع پے صفِ ماتم بچھ جاتا ہے۔ عشا کی اتنی گہری باتوں پے ان تینوں نے اسے حیرت سے دیکھا ۔ ان شاء اللہ آٸندہ ایسا نہیں ہوگا۔ ایم سوری اگین۔۔۔ ! وہ لڑکا دھیمی سی مسکان سے کہتا اس فیری کو دیکھنے لگا جو اسے سب لڑکیوں سے ٹہ کے لگی تھی۔ اچھا۔۔ پھر ملاقات ہو گی۔۔؟؟ عشا۔۔ میں چلتی ہوں بھیا باہر ویٹ کر رہے ہوں گے۔ علیزہ نے ایک نظر منہا کو دیکھتے کہا۔ اور اس سے مل کے اٹھی تھی۔ عشا کچھ بولتی کہ۔ رکیں علیزہ آپی۔۔۔! منہا نے اسے روکا۔ آپ یہاں رکیں۔ میں۔۔ آتی ہوں۔۔ !منہا شرمندہ سی تھی۔ اور فوراً سے بیشتر باہر نکلی۔ اس کی نظروں نے معاویہ کو تلاشا تھا ۔ وہ اس سے مل کے اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتی تھی۔ وہ باہر نکل آٸ ۔ معاویہ سمنے ہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاٸ دکھاٸ دیا۔ اس کے ہاتھ میں موباٸل تھا۔ وہ کسی سے بات کر رہا تھا۔ منہا کا دل زوروں سے دھڑکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *