Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 19)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 19)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
کون ہو تم۔۔؟ اور یہ کیسا مزاق ہے۔۔؟ مونس غصہ سے آگے بڑھا۔ کہ آفتاب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک لیا۔
آفتاب شیر خان۔۔ ! آپ کی بیٹی کو زیشان ارسل کے نکاح میں دیا گیا تھا۔ تب یہی شرط رکھی گٸ تھی۔کہ اس کے اٹھارہ سال کا ہونے پے اے زیشان ارسل خانزادہ کے ساتھ رخصت کر دیا جاۓ گا۔ اور آج وقت آگیا ہے۔کہ اپنی بیٹی کو خود رخصت کرو۔۔ اور اپنے قل کو پورا کرو۔۔۔؟؟ پنچاٸیت کے ایک قابل شخص نے بہت آرامسے بات کہی تھی۔ ڈر کے مارے ملکہ نے کنول کا ہاتھ تھاما تھا۔ اس کا رنگ لٹھے کی ماند سفید ہوا تھا۔زرگل اس سب کا ناچاہتے ہوۓ بھی حصہ بنی تھیں۔ وہ اس دن بھی آفتاب کو ساری اچاٸ بتانے آرہی تھیں۔ کہ جاوید خان نے انہیں روک لیا۔ اوروہ پھر گھر سے نکلہی نہ پاٸیں۔ اور آج بارات کے ساتھ انیں آنا پڑا۔
نکاح۔۔؟ کب ہوا نکاح۔۔؟؟ بابا۔۔؟؟ یہ۔۔جھوٹ بول رہےہیں۔۔ ہماری ڈول کا کوٸ نکاح نہیں ہوا کسی سے۔۔ نکالیں انہیں یہاں سے۔ مونس تو آپے سے ہی باہر ہو گیا۔
مونس۔۔۔!وہیں رک جاٸیں۔ آفتاب کی غصیلی آواز پے وہ مٹھیاں بھینچے غصیلی نظروں سے زیشان کو گھور رہا تھا۔جو بہت ہی مطمین انداز میں پہٹھ پے ہاتھ باندھے بہت ہی مغرور انداز میں کھڑا تھا۔
یہ سچ ہے۔۔۔! ملکہ کا نکاح اس کے بچپن میں ہو گیا تھا۔ زیشان ارسل سے۔۔۔!آفتاب نے وہاں موجود محفلمیں موجود ہر شخص کو حیران کیا تھا۔ وہیں
کنول نے سختی سے آنکھیں بند کی تھیں۔ وہ پہلے ن سے جانتی تھی۔آفتاب شیر خان۔۔بہن کے بیٹے کی محبت میں اپنی بیٹی کو ہار جاۓ گا۔ اسے ڈر تھا۔اور آج وہ ڈر سچ ثابت ہوا تھا۔۔
لیکن۔۔ میں ابھی رخصتی نہیں دے سکتا۔۔۔! آفتاب کی اگلی بات سنتے جاوید خان اور زیشان ارسل نے غصہ سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
تموعدہ خلافی کر رہے ہو۔۔؟خان۔۔؟؟ جاوید خان کی آواز قدرے اونچی تھی۔
میں انکار نہیں کر رہا ۔۔۔لیکن مجھے کچھ وقت چاہیے ۔۔۔!آفتاب بھی بنا گھبراۓ آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے غرایا تھا۔
چوہ سال کا وقت بہت ہوتا ہے۔۔ اب اس قصہ کو ختمکرنے کا وقت آچکا ہے۔۔ لہذا۔۔ اپنی بیٹی کی رخصتی آج ہی دو گے۔۔۔! جاوید خان نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔ آج وہ شیر بن رہا تھا۔ کیونکہ آج سارے پیادے اس کے ساتھ تھے۔ اور آفتاب شیر خان چاہ کے بھی آج خود کو سچا ثابت نہیں کر سکتا تھا۔
ٹھیک ہے مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔۔ لیکن۔۔ ؟؟ میری ایک شرط ہے۔۔ آفتاب ملکہ کی رخصتی کے لیے مان گیا تھا۔ کنول کو شاک لگا تھا۔
بابا۔۔؟؟ جب نکاح ہی نہیں ہوا تو رخصتی کیسی۔۔؟ میں پنی بہن کے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں ہونے دوں گا۔۔۔! مونس کا خون جوش مارنے لگا۔
بیٹا۔۔۔ یہ فیصقہ چودہ سال پہلے ہوا تھا۔۔ تمہاری بہن خون بہا میں جاٸے گی۔۔۔! جاوید خان کے الفاظ پے مونس کا دماغ گھوما تھا اور وہ ان کے گریبان تک پہنچا تھا۔ وہیں ان کے گارڈز نے مونس پے بندوقیں تانی تھیں۔ زیشان ارسل نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کے اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا۔ میری بہن کے بارے میں خون بہا کا لفظ استعمال کرنے کی جرات کیسے ہوٸ تمہاری۔۔؟؟ مونس نے ایک پنچ مارا تھا جاوید خان کے چہرے پے وہیں زیشان کے صبر کی انتہا ہوٸ تھی۔ ای زور دار پنچ اس نے بھی مونس کے گال پے رکھ کے دیا تھا۔ دونو ںہ دست و گریباں ہوۓ تھے۔
آفتاب نے مونس کو کھینچ کے اپنے پیچھے کیا۔
بس۔۔ ۔بہت ہو گیا۔۔۔ اب کوٸ بیچ میں نہیں بولے گا۔ ملکہ کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ لرزتے ہۓ اپنی ماں کی ہاتھ تھامے کھڑے تھی۔ وہ تو یہ تک نہیں جانتی تھی۔ کہ وہ کسی کے نکاح میں تھی۔ بلکہ کوٸ اور نہیں۔۔ زیشان ارسل کے نکاح میں تھی۔
اپنے بیٹے کو قابو میں رکھے آفتاب شیر خان۔۔۔! آج جو اس نے کیا۔۔۔ اسکی سزا اسے ضرور ملتی۔۔ اگر آج ہم۔۔ بارات لے کے نہ آۓ ہوتے تو۔۔۔ جاوید خان نے آگے بڑھ کے دھاڑتے ہوۓ کہا۔
تم۔۔۔ تمبھی اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔ میری بیٹی کا جب بھی زکر کرنا۔۔ اپنی حد میں رہ کے کرنا۔۔۔! ورنہ۔۔ آفتاب شیر خان کیا کر گزرے گا۔۔ تم سوچنا بھی نہیں چاہو گے۔۔۔ آفتاب بھی جاوید خان کے دبودو ہوا۔
آفتاب خان۔۔ کیسی شرط ہے آپ کی۔۔؟ پنچاٸیت کے ایک بندے نے آگے بڑھ کے پوچھا۔
ایک پل کو ہر طرف خاموشی چھا گٸ۔ مجھے میری بیٹی کےلیے سیکیورٹی چاہیے۔۔ ! زیشان ارسل پے مجھے پورا بھروسہ ہے۔۔ لیکن۔۔ اس شخص پے نہہیں ہے۔ آفتاب کی باتوں سے زیشان ارسل نے گنگ ہوتے آفتاب کو دیکھا۔ جاوید خان نے پہلو بدلا۔ بیٹی خون بہا میں دے رہا ہے۔۔۔ اور سیکیورٹی بھی چاہیے اسے۔۔ زیرِلب بڑبڑاۓ تھے۔ پنچاٸی کے بڑے بزرگ نے ایک نظر دونوں کو دیکھا۔ ان شاء اللہ آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہو گا۔ اللہ کیپناہ میں دیں اسے۔ اور اگر۔۔ اس شخص نے میری بیٹی کوزرا بھی نقصان پہنچایا۔۔۔ تو میں اسے جان سے مار ڈالوں گا۔ آفتاب شیر کی طرح غرایا تھا۔ دوسری طرف کنول نے گال پے آۓ آنسو صاف کیے تھے۔ اپنی بیٹی کے نصیبوں سے آج وہ ڈر رہی تھی۔ آفتاب کے فیصلہ کے خلف کوٸ نہیں جا سکتا تھا۔۔۔
منظور ہے۔۔۔! اسی بزرگ گلزار خان نے کہا۔ تو آفتب نے پلٹ کے کنول کو ایک نظر دیکھا۔ جس کے چہرے پے ایک درد رقم تھا۔
خانم۔۔ بیٹی کی رخصتی کی تیاری کریں ۔ آفتاب کی اگلی بات سے سب کے پیروں تلے زمین نکل گٸ۔ ملکہنے ماں کا ہاتھ مزید مضبوطی سے تھاما۔ اور روتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا۔ اس کے چہرے پے ایک ڈر تھا۔ وہاں موجود سبھی لوگوں کو ایک نیٸ بات مل گٸ تھی۔ دلہے سمیت بارات کو خان حویلی کے گارڈن سے مردان خانے کی طرف لےجایا گیا۔ بابا۔۔۔؟؟ مونس پیچ و تاب کھاتا آگے بڑھا تھا۔ مونس ۔۔! کنٹرول یور سیلف۔۔۔ آفتاب نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ اور خود بھی مردان خانے کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے بیٹی کو پلٹ کے ایک نظر نہ دیکھ سکا ۔ کس طرح دیکھتا۔۔۔۔؟؟ ان دو نظروں کا سامنا کس طرح کرتا۔۔۔؟؟ وہ چاہ کے بھی نہیں کر سکا تھا۔ ملکہ کو لیے کنول اوپر کی جانب بڑھی۔ مونس بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہاں سے باہر جانے لگا کہ ایک دم سے راستے میں ہانی حاٸل ہوٸ۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں۔۔ نکاح کی رسم چودہ سال پہے ادا کر دی گٸ تھی۔ لیکن۔۔ پھر بھی اب کہ جب بچی بالغ عقل اور شعور رکھتی ہے۔ تو یہنکح دوبوارہ کیا جاۓ گا۔ گلزار خان نے دھیرج سےکہا۔ وہ سب زیشان ارال کی زبان بول رہے تھے۔ مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔ آفتاب نے بھی ہامی بھر لی۔ اور نکاح ایک بار پھر سے پڑھوایا جانے لگا۔ مولوی صاحب کی آواز بلند ہوٸ تو آفتاب کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں داب لیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما۔۔۔ ممما۔۔نہیں۔۔ پلیز۔۔۔ بابا کو منع کریں۔۔ مجھے۔۔ ایسے متکسی کے ساتھ رخصت کریں۔۔ ؟؟ ملکہ بے انتہا روۓ جا رہی تھی۔ کنول کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ لیکن اسے اس وقت خود کو سنبھالنا تھا۔ اپنی بیٹی کو بہادر بنا کے بھیجنا تھا۔
ادھر دیکھو میری طرف۔۔ ملکہ۔۔۔؟؟ دونوں ہاتھوں سے بیٹی کا چہرہ تھاما۔ ملکہ آفتاب شیر خان۔۔ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔۔ کسی سے بھی نہیں ڈرتی وہ۔۔ سمجھی آپ۔۔۔ ! آپ۔۔ میری بیٹی ہیں۔۔ کنول آفتاب کی بیٹی۔ جب آپ کی مما نے کبھی ہار نہیں مانی۔ کیسے بھی حالات آۓ ہوں۔ آپ کی مما ثبت قدم رہیں ہمیشہ۔۔ تو آپ کیسے ہار مان سکتی ہیں۔۔؟؟ کنول نے اسے تھوڑا پیار اور سختی سے سمجھاتے اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا۔ ان کا دل کیا اپنی بیٹی کوکہیں چھپا دیں۔ اس فضول اور فرسودہ رسم کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔ ملکہ ماں کے گلے لگی بری طرح رو دی۔ مما۔۔؟؟ مجھے آپ کے پاس رہنا ہے۔۔ آپ کے ساتھ۔۔ بابا اور بھاٸ کے ساتھ۔۔ پلیز۔۔ مجھے خود سے دور نہ کریں۔۔ ملکہ کی وہی ایک بات۔۔۔ اسی وقت تبسم بیگم بھی اندر داخل ہوٸیں۔ ملکہ یہاں آٶ۔۔ میری بچی۔۔؟؟ انہوں نے بہت ہی شفقت سے اسے پکارا کہ وہ بھاگتے ہوۓ ان کے سینے سے جا لگی۔ دادو۔۔۔ پلیز۔۔ سمجھاٸیں ناں۔۔ انہیں۔۔ مجھے مت اس طرح بھیجیں کسی کے ساتھ۔۔۔؟؟ ملکہ نے اب کی بار ٹوٹے لہجے میں کہا تھا۔ کنول۔۔؟؟ میری بچی کے ساتھ میں یہ ظلم نہیں ہونے دوں گی۔۔۔! آفتاب کا یہ اکیلے کا فیصلہ ہے۔۔ وہ کسی اور کے کیے کی سزا۔۔؟؟ میری بچیکو نہیں دے سکتا ہے۔۔ تبسم بیگم نے روتی ہوٸ ملکہ کو سینے میں بھینچتے ہوۓ کہا۔ آپ ۔۔ کیسے مقابلہ کریں گیں ان سب کا۔۔؟؟ کنول نے آنسو پونچھتے پریشانی سے پوچھا۔
مقابلہ کس نے کرنا ہے۔۔؟؟ ہم۔۔ یہاں ہوں گے تو مقابلہ ہو گا ناں۔۔؟؟ تبسم بیگم۔ملکہ کو دیکھ کے پیار سے مسکراٸیں۔ میں۔۔ آپ کی بات نہیں سمجھی۔۔؟؟ ماما۔۔؟؟ آپ کیا۔۔؟؟ کنول کا دل زوروں سے دھڑکا۔ وہی۔۔۔ جو چودہ سال پہلے ہم نے کیا۔۔ شہیر خانزادہ کے ساتھ۔۔ دھیرے سے کنول کے کان میں کہا۔ کنول نے حیرت سے بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کے تبسم بیگم کو دیکھا۔ یہ۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ ایسا۔۔ کیسے ممکن ہے۔۔؟؟ آفتاب ۔۔ خا۔۔ن۔۔؟؟ کنول کا ددل سوکھے پتے کی مانند لرزا۔ ان کی ماں ہیں ہم۔۔ اور ان سے بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اور انہیں ٹکر بھی دے سکتے ہیں۔ تبسم بیگم کے لہجے میں چٹانوں سی مضبوطی تھی۔ دروازے پے ناک ہوٸ تو زرگل ملازموں کے ساتھ نکاح کا جوڑا اور بہت کچھ لیے اندر داخل ہوٸیں۔
السلام علیکم۔۔؟؟ کیسی ہیں۔۔ خان بیگم آپ۔۔؟ زرگل نے تبسم بیگم کو دیکھتے ادب سے پوچھا۔ آج کتنے عرصے بعد دونوں سوتنیں ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ زرگل اپنے نواسے کی بارات تبسم بیگم کی پوتی کے لیے لاٸیں تھیں۔ کیسے رشتے میں بندھنےجا رہی تھیں۔ دونوں۔۔؟؟ ایک بار پھر سے۔
وعلیکم سلام۔۔۔ ہم ٹھیک ہیں۔۔ سرد انداز میں جواب آیا۔ یہ۔۔۔ شادی کا جوڑا۔۔ اور۔۔؟؟
ٹھیک ہے۔۔ آپ باہر بیٹھیں۔۔ ہم۔ ملکہ کو تیار کر کے لاتے ہیں۔ تبسم بیگم نے زرگل کی بات کاٹی تو وہ انہیں دیکھتی ملکہ کیآنکھوں سے بہتے آنسوٶں پے ایک نظر ڈالتیں افسردگی سے وہاں سے باہر نکل آٸیں۔ اب ۔۔۔؟؟ کیا کریں۔۔؟؟ کنول نے ساس کی طرف دیکھا۔ پہلے ملکہکا ڈریس چینج کرواٶ۔۔ میں ملکہ کو یہاں سے لے کے جاٶں گی اپنے ساتھ۔۔۔! تبسم بیگم نے پختہ لہجے میں کہا۔ ملکہ کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی رہ گٸیں۔
اور۔۔ خان۔۔؟؟ کنول کو آفتاب کا ڈر لگا۔ تبسم بیگم نے ایک دلکش مسکراہٹ سے بہو کو نوازا۔ آپ کے شوہر ہیں۔۔ اتنا سا تو ہینڈل کرنا آپ بھی جانتی ہوں گی۔۔؟؟ ان کی بات کا مطلب سمجھتی کنول کے چہرے پے بھی مسکان آٸ تھی۔ اب وہ بھی تبسم بیگم کی ہم خیال تھی۔ تاریخ میں پہلے بار ایسسا ہو رہا تھا۔ کہ دلہن کے گھر والے بارات گھر میں پہنچ جانے کے بعد اسے بھاگنے کے لیے تیار بیٹھے تھے ۔ کیا لگتا ہے۔۔؟ ملکہ اپنی دادی کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو سکے گی۔۔؟
