Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 05)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 05)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
جاوید خان کی بات پے زرگل نے دہلتے دل کے ساتھ انھیں دیکھا ۔ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟ خان بابا۔۔؟؟ اس سب میں اس معصوم کا کیا قصور۔۔؟؟ اسے کس بات کی سزا۔۔؟؟
خانم۔۔؟؟ آپ ہوش میں تو ہیں؟؟ جاوید خان للکارے تھے۔ سزا کی بات کر رہی ہیں۔۔۔آپ۔۔؟؟ بھول گٸیں۔۔؟ کیسے عظمی کو گولی ماری تھی اس شہیر خانزادہ نے۔۔؟؟ اور جا کے کہیں بل میں چھپ کے بیٹھ گیا ہے۔؟؟ جب ۔۔ ایسا ہوتا ہے۔۔ ناں۔۔ تو بدلہ بیٹیوں بہنوں کو ہی چکانا پڑتا ہے۔ خانم نے لب بھینچے۔ کیسے سمجھاتییں وہ۔؟؟ انہیں۔۔ کہ اب بس کر دیں۔۔ مت کریں بیٹیوں اور بہنوں کو نیلام ۔ اس رسم کو ختم کر دیں ناں۔۔! خانم کے الفاظ پے جاوید خان بھڑک ہی تو گٸے۔ دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔؟؟ خون بہا کی یہ رسم برسوں سے چلی آرہی ہے۔ اور یونہی چلتی رہے گی۔ اسے کوٸ بدل نہیں سکتا۔ اور نہ بدلنے کی کوشش کیجیے گا۔
آپ سنیں تو سہی۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں۔۔ وہ بچی معصوم ہے۔۔۔! اس کے ساتھ یہ ظلم نہ کریں۔۔ ان کے جاتے قدم رکے تھے۔
آپ ان کی ہمدردیاں نہ کریں۔ اور مجھے یہ بتاٸیں۔۔؟؟ عظمی کی ماں ہیں آپ۔۔ اور آپ کو اپنی بیٹی سے زیادہ دشمن کی بیٹی کی فکر ستا رہی ہے۔۔ ؟؟ جاوید خان نے ان کو بھی لتاڑ کے رکھ دیا۔ جو جیسا ہو رہا ہے۔۔ اسے ویسا ہی ہونا ہے۔۔ اور کوٸ بھی بدلنے کی کوشش نہ ہی کرے تو بہتر ہوگا۔۔ ! بیس دن کے اندر تمام تیاری مکمل ہوجانی چاہیے۔ سمجھیں آپ۔۔۔! الٹی میٹم دیتے وہ شال کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پے اوڑھتے باہر نکلے جب کہ دہلیز کے پاس ہی زیشان سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا۔ وہ جو موباٸل بھول گیا تھا وہی اندر لینے آیا تھا۔ کہ خان دادا اور خانم کے بیچ کی گفتگو سنتا تھما تھا۔
جاوید خان جا چکے تھے۔ جبکہ خانم نے زیشان کو ایسے دیکھا جسے بہت امید ہو۔۔ کہ وہ ان کی بات کو سمجھے گا۔
زیشان۔۔؟ پتر۔۔؟؟ خانم نے اسے پکارا جو دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا انہی کے پاس آیا تھا۔
آپ ہی کچھ سمجھا دیں۔۔ اپنے خان داد کو۔۔؟؟ وہ یہ خون بہا کی رسم۔۔؟؟
خانم۔۔؟؟؟ زیشان نے ان کی بات کاٹی اور سرد لہجے میں انہیں پکارا جب کہ اس کے لہجے میں ایک کرب تھا۔
کیا۔۔ میری مما ۔۔آپ کی سگھی بیٹی تھیں۔۔؟؟ زیشان کے پوچھے گۓ سوال پے وہ سکتے سے اسے دیکھے گٸیں۔
کیسی باتیں کر رہے ہو۔؟؟ پتر۔۔؟؟ عظمی تو میری اکلوتی۔۔ اولاد۔۔؟؟
وہ قتل ہوٸیں ہیں۔۔ ان پے گولی چلی ہے۔ اور آپ۔۔؟؟ یہ بات کیسے فراموش کر سکتی ہیں۔۔؟؟ زیشان نے پھر سے ان کی بات کاٹی تھی۔
لیکن۔۔ پتر۔۔؟؟ کیا وہ معصوم۔۔؟؟ خون بہا میں آنی چاہیے؟؟ وہ تو۔۔ انتہاٸ معصوم اور چھوٹی سی۔۔؟؟ اسےکیا پتہ۔۔ ان سب کا۔۔؟؟ اس کا کیا قصور۔۔؟؟
قصور تو میری ماں کا بھی نہیں تھا۔۔ خانم۔۔؟؟ پھر انہیں کیوں موت کی سزا سناٸ گٸ۔۔؟؟ کیوں ان سے انکی زندگی چھین لی۔۔؟؟ اور مجھ سے میری ماں۔۔؟؟ اس کی گہری سبز آنکھیں اس وقت لال انگارہ ہو رہی تھیں۔ ایک پل کو تو خانم اس کی آنکھوں کو دیکھے ہی گٸیں۔ کیا وہ ۔۔ معصوم بچی۔۔؟؟ زیشان کے غصہ کے ساتھ رہ پاۓ گی۔۔؟؟ یہ اتنا جنونی اور غصہ والا ہے۔۔ کہ وہ۔۔؟؟
خان دادا نے جو کہا ہے۔۔؟؟ وہ ہو جانا چاہیے۔۔۔ کہتے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
کیا آپ۔۔ اس معصوم کو سزا دے پاٸیں گے۔۔؟؟ ایک آخری امید پے کیا گیا سوال ایک پل کو زیشان کے قدموں کو زنجیر ڈال گیا ۔ دل ڈوب کے ابھرا۔ اس معصوم کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
دل کو قرار آیا
تجھ پے پیار آیا
پہلی پہلی بار آیا
مجھے اپنے ماں کے قاتلوں کو نہیں چھوڑنا۔۔ اور اس کا تعلق ۔۔۔ ان سے ہے۔۔ رعایت کی تو کوٸ گنجاٸش ہی نہیں نکلتی۔۔۔! دانت پیستا بنا ان سے نظریں ملاۓ کہتا وہ اوپر جا چکا تھا۔
خانم نفی میں سر ہلاتی رہ گٸیں۔ کیا بنے گا۔۔ ان سب کا۔۔؟؟ اس نفرت کا انجام کیا ہوگا۔۔؟؟ اس نفرت نے تو کٸ گھر برباد کیے ہیں۔۔ یاللہ میرے بچے کا گھر آباد کر دینا۔۔۔ یہ دل کا بہت اچھا ہے۔۔ اس کا دل اس بچی کے حق میں نرم کر دے میرے مولا۔ خانم دل ہی دل میں دعا گو تھیں۔
اور شاید وقت بھی قبولیت کا تھا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھیں۔ کہ آنے والے وقت میں ان کی دعا کی قبولیت ہی کتنے بڑے مسٸلے کھڑے کرنے والی تھی۔






اے۔۔۔ یہ والا کیسا رہے گا۔۔؟؟ عشا نے کوٸ دسواں سوٹ اب پھر سے منہا کے آگے رکھا۔ وہ صبح سے یہی کر رہی تھی۔ کبھی کوٸ سوٹ رکھتی کبھی کوٸ۔ جب سے شامی نے انہیں حیدرآباد جانے کی اجازت دے دی تھی۔ تب سے عشا کا یہی عمل تھا۔
بس کردو یار۔۔ صرف تین دن کے لیے جا رہے ہیں۔ کوٸ تین سال کے لیے نہیں۔۔ اور جلدی کرو۔۔ لیٹ ہو گۓ تو پھر۔۔ بابا کا پتہ ہے ناں۔۔؟؟ سارا پلان دھرا کا دھرا رہ جانا۔ منہا نے اپنے بیگ کی زپ بند کرتے عشا کو ٹوکا تھا۔
منہا۔۔ عشا۔۔؟؟ آجاٶ۔۔ بچوں۔۔ ! ڈراٸیور آگیا ہے۔۔ عابی نے انہیں آواز دی تو وہ دونوں آگے پیچھے باہر نکلیں تھیں۔
ماں سے اور جمیلہ خاتون سے دعاٸیں لیتے وہ پھر سے عابی کی رونی صورت دیکھ گہرا سانس بھر گٸ۔
آپ دونوں نے اپنا بہت بہت خیال رکھنا ہے۔۔ اپنا موباٸل چوبیس گھنٹے آن رکھنا اور جب جب کال کریں میسج کریں فوراً جواب دینا ہے۔ دونوں کا بای باری ماتھا چومتے عابی انہیں ہدایات دے رہی تھی۔ آج سے پہلے وہ کبھی بھی اس طرح اکیلے نہیں گٸی تھیں۔ شامی تو عابی سے بھی زیادہ واہمی تھا۔ لیکن یہ پہلی بار تھا۔ کہ شامی نے انہیں اس طرح جانے کی اجازت ے دی۔ رمشا کے والد جنید خان شامی کے بہت اچھے دوست بھی تھے۔ اور انہوں نے شامی کی بھرپور تسلی کرواٸ تھی۔ شامی خود بھی جانا چاہتا تھا اس شادی کو اٹینڈ کرنے۔ لیکن اس کا ایک بہت اہم پروجیکٹ تھا۔ جس پے وہ کام کر رہا تھا۔ اس لیے نہیں جا سکا۔ اور عابی کو اپنے بنا کہیں جانے دیتا۔۔ ممکن ہی نہ تھا۔
اور ہاں۔۔ عشا۔۔ ! آپ نے منہا کی ساری باتیں ماننی ہیں۔۔ اوکے۔۔۔!
ہاۓ سویٹ ہارٹس۔۔۔! اچانک سے شامی کی آمد پے وہ سب چونکے۔ بابا آپ۔۔؟؟ منہا بڑھ کے باپ کے سینے سے لگی۔ تو عشا بھی شامی کی طرف بھاگی۔ شامی نے دونوں کے ماتھے پے پیار دیا۔ دونوں ہی میں اس کی جان بستی تھی۔ یہ اور بات تھی۔ کہ منہا کی وہ کوٸ بات نہیں ٹالتا تھا۔ جو وہ کہتی وہ مان جاتا۔ وہ اس کے دل کے بہت قریب تھی۔
یس۔۔ ماٸ ڈٸیرسٹ ڈاٹرز۔۔۔! آٸ ایم۔۔ یور۔۔ ڈراٸیور۔۔! میں خود جاٶں گا۔۔ اپنی بچیوں کو چھوڑنے۔۔! شامی کی بات پے دونوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اگر ڈراٸیور کی مسز بھی ساتھ چل پڑھیں۔ تو مزہ دوبالا ہو جاۓ گا۔ منہا نے باپ کے کان میں گھستے ہوۓ کہا۔ شامی کی آنکھیں چمکیں۔۔ وہ تو ویسے بھی ہر وقت عابی کو تنگ کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ چلو بھٸ۔۔ عابی۔۔۔! آجاٶ۔۔مل کے جاتے ہیں۔۔ انہیں چھوڑنے۔۔۔! شامی کے کہنے پے عابی نے تو ایسے شامی کو دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پپے شبہ ہو۔
کیا ہوگیا ہے۔۔ ؟؟ شامی۔۔؟ آپ بھی ناں۔۔؟؟ یہ کیا بات ہوٸ۔۔؟؟ جب ہم نے کہا۔۔ ہمیں جانے دیں بچیوں کے ساتھ ہم بھی شادی اٹینڈ کر لیں گے۔ تب آپ مانے نہیں۔۔ اب ایسی حالت میں آپ کے ساتھ چل پڑیں۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔۔ عابی نے کہتے ہوۓ اندر کی جانب قدم بڑھاۓ کہ منہا اور عشا نے روک لیا۔
ہلیز۔۔ مما۔۔؟؟ چلیں ناں۔۔ آپ کو بھلا تیار ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔ ؟؟ آپ تو ہر روپ میں ہی غضب ڈھاتی ہیں۔ سچی بہت مزہ آۓ گا۔ منہا نے لاڈ سے کہا۔ باپ اور بیٹیاں دونوں ہی پاگل ہیں۔۔ عابی نے ماتھے پے بل ڈالے کہا۔ اب چلنا ہے ۔۔؟؟ یا۔۔ میں جاٶں۔۔؟؟ شامی نے ہمیشہ والی دھمکی دی۔ منتیں کرنا تو اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔ ہر وقت دھونس جمانا ہی آتا تھا اسے۔
جاٶ۔۔ بیٹا۔۔! چلی جاٶ۔۔۔! جمیلہ خاتون نے بھی اسے پیار سے کہا تو وہ روہانسے ہوتے انہیں دیکھنے لگی۔ وہ نہ تیار ہوٸ۔۔ نہ ڈریس چینج کرنے تک کا وقت دیا جا رہا تھا۔۔۔ اب ایٹ دا سپوٹ اسے ساتھ لے جانے کا فیصلہ بھی اس کے شوہر نواب کا تھا۔ جو وہ ٹال کہاں سکتی تھی۔ اس لیے جاتے ہی بنی۔ جمیلہ خاتون نے انہیں دعاٶں میں رخصت کیا۔ اور ان کے نکلتے ہی خود اندر کی جانب بڑھیں۔








پارٹی اپنے عروج پے تھی۔ ہر طرف روشیوں کا طوفان آیا ہوا تھا۔ اور مونس کے سب دوست اس کی ہار سیلیبریٹ کرنے وہاں اکھٹے ہوۓ تھے۔ اور خوب ہلا گلہ کر رہے تھے۔ تبھی ماحد کی نظر اسی لڑکی پے پڑی۔ وہ اپنی کچھ سہلیوں کے ہمراہ وہاں وجود تھی۔ اور اس لڑکی کی نظریں مسلسل مونس پے ہی ٹکیں تھیں۔
دیکھ تو۔۔؟؟ کیسے وہی لڑکی۔۔۔ شام والی۔۔۔؟؟ اپنے شہزادے کو لاٸن مار رہی ہے۔۔۔! ماحد نے سافٹ ڈرنک کا گھونٹ بھرتے کامی سے کہا۔ ہمممم۔۔ مجھے بھی یہی دیکھ رہا ہے۔۔ اور لگتا ہے۔۔ پٹانے بھی آۓ گی۔۔ کامی نے ایک آنکھ ونک کی تو دونوں ہی ہاتھ پے ہاتھ مارتے ہنسے۔
ہاۓ۔۔۔! ہانی۔۔۔! ہاٶ۔۔ آر۔۔ یو۔۔ ؟؟ یار۔۔ امیزنگ۔۔! اچانک سے ایک لڑکا اس کے پاس آیا آیا۔ اور فرینک ہوا۔ ایک لڑکے کو ریس میں ہرا دیا تم نے۔۔ کیا ہی کمال لڑکی ہو۔۔۔! وہ لڑکا کھڑا ہانی کی تعریف کرتا اسے سر سے پاٶں تک بے باک نظروں سے دیکھے جا رہا تھا۔ مونس کی نظریں بھی غیر ارادی اس طرف اٹھیں۔ وہی سنہرے بالوں والی لڑکی۔۔ ! لانگ شرٹ اینڈ اسکرٹ میں تھی۔ گلے میں چھوٹا سا اسکارف تھا۔ جب کہ اس کے دودھیا بازو صاف نظر آرہے تھے۔ بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی۔ لیکن اس کا پہناوا۔۔ مونس کو بالکل نہ بھایا۔ اوپر سے وہ لڑکا۔۔ کتنا فرینک ہو رہا تھا۔ مونس نے ناگواری سے نظریں پھیر لیں۔ اور اٹھ کے باہر نکلتا چلا گیا۔
باہر اپنی باٸیک پے بیٹھے وہ سگریٹ کے مرغولے اڑاتا غیرا ارای طور پے ہی اسے سوچنے لگا تھا۔ نجانے کیوں اسے اس لڑکی کا اس لڑکے کے ساتھ فری گپ شپ لگانا سخت ناگوار گزرا تھا۔ شاید وہ ضبط کھو دیتا اگر وہاں مزید رکتا۔ اس لیے باہر چلا آیا۔ جہاں ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ ہوا میں خنکی تھی۔ یہاں موسم زیادہ تر ایسا ہی رہتا تھا۔ مونس کا بھی اب چند دنوں تک واپس جانے کا پلان تھا۔ روز ہی آفتاب کا فون آتا ۔۔ اس کی خیر خیریت دریافت کرتا۔ اور وہ باپ کا لاڈلا۔۔ باپ کا جگر۔۔ ان سے بات کر کے پرسکون ہو جاتا۔
جاری ہے۔
