Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 10)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 10)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
آپ ۔۔ پتہ کیوں نہیں کر رہے ۔۔؟؟ خود جاٸیں ڈھونڈ کے لاٸیں میری بچی کو۔۔؟؟ کنول نے آنسو پونچھتے آفتاب سے کہا۔ جو ابھی ابھی فون پے بات کر کے ہٹا تھا۔ ملکہ ہاسپٹل سے فاٸرنگ کے دوران غاٸب ہوٸ تھی۔ اور سب جگہ اسے تلاشا جا چکا تھا۔ لیکن وہ نہ ملی تھی۔ اور ابھی ابھی آفتاب کو یہ بات پتہ چلی تھی۔ کہ فاٸرنگ کرنے والا کوٸ اور نہیں۔۔ زیشان ارسل تھا۔ جس وجہ سے وہ زیادہ پرشیان ہو گیا تھا۔ کہیں۔۔ وہ۔۔ اس کے پاس۔۔ ؟ دماغ نے دور کا کوڑی لایا۔
نہیں۔۔ نہیں۔۔ زیشان ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔
آپ سن رہے ہیں۔۔؟؟ کنول نے اسے جھنجھوڑا تو وہ خیالوں سے چونکا۔
کچھ نہیں ہوگا ملکہ کو۔۔۔! حوصلہ رکھو۔۔۔! آفتاب نے لب بھینچے کنول کو دیکھتے کہا۔ کنول کے آنسو آج بھی اسے تکلیف دیتے تھے۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کیوں اتنا رو رہی ہو۔۔؟ کنول۔۔؟؟ تبم بیگم آوزیں سنتی باہر نکلیں۔
مما۔۔۔! کنول ان کے گلے سے لگی اب آنسو بہانے لگی تھی۔
یاللہ خیر کیا ہوا۔۔؟؟ میری بچی۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ ان کا دل جیسے بیٹھنے لگا تھا۔
مما۔۔۔! ملکہ۔۔۔؟؟
کچھ نہیں ہوا اسے۔۔ آجاۓ گی وہ واپس۔
ابھی کنول بات پوری کرتی کہ آفتاب نے غصہ سے ٹوکا۔
اسی لمحے آفتاب کا فون بجا۔







نجانے کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔؟؟ بڑا کوٸ ہیرو ہے۔۔؟؟ قاتل کہیں کا۔۔۔! ملکہ زیرِلب بڑبڑاٸ تھی۔
اپنی بکواس بند کرو۔۔ ورنہ ۔۔یہیں چلتی گاڑی سے پھینک جاٶں گا ۔۔۔! زیشان نے اس کی بڑبڑاہٹ واضح طور پے سنی تھی۔
پھینک کے تو دکھاٶ۔۔ میرے بابا کو تم جانتے نہیں۔۔ شاید۔۔؟؟ جان لے لیں گے وہ تمہاری۔۔ ملکہ نے دھمکی دی تھی۔
زیشان نے ایک قہر آلود نظر اس پے ڈالی۔ جان ہی تو لینی آتی ہے انہیں۔۔۔ ایک درد ایک کرب تھا۔ ملکہ اس کی آنکھوں کا اس کے لہجے کا درد محسوس کرتی ایک پل کو چپ ہی ہو گٸ۔
گاڑی جھٹکے سے رکی تھی۔ سامنے ہی ایک شخص کھڑا تھا۔
جس کے چہرے پے سخت کرختگی تھی۔ وہ کون تھا ملکہ نہیں جانتی تھی۔ اسی لمحے زیشان کے فون پے بیل ہوٸ۔
سر۔۔۔! بادشاہ کے آدمی ہیں۔۔ آپ باہر مت آٸے گا۔ ہم دیکھ لیں گے۔ ۔ دوسری طرف کمال تھا۔ اس کا باڈی گارڈ۔ سیکیورٹی گارڈر کی گاڑیاں ساتھ ہی تھیں۔ زیشان نے غصہ سے باہر کھڑے شخص کو دیکھا۔
باہر مت نکلنا۔۔۔! بنا ملکہ کی طرف دیکھے وہ اسے سرد انداز میں بولتا گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکل آیا۔
ایک شیر کی سی نظر سامنے کھڑے شخص پے ڈالی۔ جیسے ابھی چیر پھاڑ کھاۓ گا۔ سامنے کھڑا شخص اس کے دیکھنے پے تھوڑا گڑبڑا گیا۔ اسے لگا سامنے آفتاب شیر خان کھڑا ہو۔ اسی کا رنگ روپ اسی جیسا انداز۔ آفتاب کی کاپی تھا وہ۔
ایک قدم آگے بڑھا۔ تو وہ بھی حوصلہ کرتا سامنے آیا۔
کیوں راستہ روکا ہے۔۔؟؟ وہی سرد انداز کے سامنے کھڑا شخص بھول ہی گیا کیا کہنا ہے۔۔؟؟
وہ۔۔۔ وہ۔ بادشاہ نے بلایا ہے۔ آپ کو۔۔ ساتھ چلنا ہوگا۔ وہ ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولا تھا۔
کیوں۔۔؟؟ تیکھے انداز میں پوچھا۔
وہ۔۔۔ بادشقہ بھاٸ بتاٸیں گے۔۔۔ اب کی بار فوراً جواب آیا ۔ زیشان نے اپنا غصہ قابو کیا ۔ اسے کہو۔۔ ملنا ہے تو خود آۓ۔ میرے راستے میں نہ آٸے۔ ورنہ۔۔۔؟؟؟ جو حال اس کے آدمی کا کیا ہے۔۔ اس سے بھی برا حال اس کا کروں گا۔ تھوڑا کان کے قریب ہو کے کہتا وہ سخت انداز میں غرایا تھا۔ کہ اس شخص نے تھوک نگلا۔
آپ۔۔۔ پلیز۔۔ چل پڑیں۔۔ ! ورنہ بادشاہ۔۔ بھاٸ۔۔؟؟ وہ منمنایا تھا۔ ایک وہ ڈر بی رہا تھا۔ زیشان ارسل سے دوسرا اسے بادشاہ کا بھی ڈر تھا۔ جس نے کہا تھا۔ کہ زیشان خانزادہ کو لے کے آنا۔ ورنہ۔ مت آنا۔۔ ! اسکی بات پے زیشان جاتے جاتے پلٹا تھا۔
آخری بار سمجھا رہا ہوں۔۔ راستے میں مت آنا۔۔ ورنہ جان سے جاٶ گے۔ اس کا انداز سامنے کھڑے شخص کو یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا۔ کہ زیشان کا اگلا قدم کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟ اس لیے دوبارہ بولنے کی ہمت نہ کی۔ زیشان واپس گاڑی کی طرف گیا اور قہر کی نظر سے اسے دیکھتا ڈراٸیونگ سیٹ پے بیٹھا۔ جہاں ملکہ اسے بہت فرصت سے دیھ رہی تھی۔
لگتا ہے آپ کا بھاٸ ہی ہے۔۔ ! غنڈہ ٹاٸپ یو نو۔۔؟؟ ملکہ کی زبان پھسلی تھی۔ زیشان نے دانت پیستے اسے دیکھا۔ اپنا منہ بند رکھو۔ ورنہ غنڈا گردی کیا ہوتی ہے یہ دکھانے کے لیے مجھے صرف دو منٹ لگیں گے۔ اور وہ تہیں بالکل سوٹ ہیں کرے گا۔ اب یہ لاسٹ وارننگ ہے۔ اس کے بعد میں بولوں گا نہیں۔۔ زیشان کا انداز انتہاٸ سنجیدہ تھا۔ اس کے انداز پے ملکہ ایسی چپ ہوٸ کہ دوبارہ کچھ نہ بولی۔
اسے بس یہی غنیمت لگا۔ کہ وہ اسے گھر پہنچا دے۔ یہ نہ ہو راستے میں ہی اتار دے تو وہ کیا کرے گی۔۔۔؟؟ لیکن ایک گھوری سے نوازنا نہ بھولی۔








کیا ہوا۔۔؟؟ لہجے میں پریشانی تھی۔
آگے سے اسے جو خبر اننے کو ملی اس کے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی تھی۔
ٹھیک ہے۔۔ آنے دو۔۔۔! آفتاب نے کہتے ہی کال بند کی۔
کس کا۔۔۔ فون تھا۔۔؟؟
کنول نے بے چینی سے پوچھا۔
زیشان ارسل۔۔۔ آیا ہے۔۔۔! لہجہ سپاٹ تھا۔
زیشان۔۔؟؟ کنول نے زرِلب دہرایا۔ اور تبسم بیگم کی طرف دیکھا۔ کہیں۔۔۔ ؟؟ ملکہ۔۔۔ اسکے پاس۔۔۔؟؟ دل کی بات زبان پے آگٸ اب کی بار آفتابمے کنول کی طرف یکھا۔ کہیں نہ کہیں اس کا دل بھی لرزا تھا۔ بنا کچھ سمجھے وہ باہر نکلتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔









زیشان ارسل گاڑی کو ڈراٸیو کرتا خان حویلی کے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پے اس وقت ایک سخت کرختگی تھی۔ چٹانوں جیسی سختی۔ ملکہ تو اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھ حیران رہ گٸ تھی۔ اس کے چہرے کے جارحانہ تیور دیکھتے وہ بالکل خاموش رہی تھی۔ بس ایک دفعہ بولنے پے جو ڈانٹ پڑی پھر چپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔۔
گاڑی سے نکلتا وہ ایک طاٸرانہ نگاہ خان حویلی کے شان و شوکت کو دیکھتا دوسری طرف نگاہ کرتے ملکہ کو گاڑی سے اترتا دیکھ چکا تھا۔ س کے اترتے ہی زیشان نے اس کی کلاٸ دبوچی۔ ملکہ نے ماتھےپے بل ڈالے اسے دیکھا۔ ایک ہلکو اس کا غرانا زیشان کو بہت بھلا لگا ۔ اب ایسے مت دیکھو۔۔۔ پیار ہو جاۓ گا۔ اس کی بات پے ملکہ جل بھن گٸ۔ پیار اور وہ بھی تم سے۔۔؟؟ شکل دیکھی ہے اپنی۔۔؟؟ غنڈہ۔۔۔؟؟؟ وہ پھر بولتے بولتے زبان کو بریک لگا گٸ۔ تمہاری نہیں اپنی بات کر رہا ہوں۔۔ ! اسے مزید الجھا کے اس کی کلاٸ تھامتا وہ اندر کی جانب بڑھا۔ جہاں آفتاب شیر خان کے وہ روبرو ہوا تھا۔
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا آفتاب شیر خان سیڑھیاں نیچے اترتا دکھاٸ دیا۔ زیشان ارسل کے ہاتھ میں ملکہ کیکلاٸ دیکھتا وہ وہیں سیڑھیوں پے ہی ٹھٹھکا تھا۔ پیچھے آتی کنول کا بھی یہی حال تھا۔ اس نے ایک نظر آفتاب کو دیکھا۔ اس کا دل بہت سخت دھڑکا۔ کیا۔۔؟؟ زیشان ارسل نے۔۔ ملکہکو سب۔۔ بتا تو نہیں دیا۔۔؟؟ ایک ہی سوال نےکنول کے اوسان خطا کیے تھے۔ اتنے عرصہ کا چھپایا گیا سچ ایسے کھلے گا۔۔؟
ہاتھ چھوڑو۔۔ !! ملکہ کا۔ آفتاب نے غراتے ہوۓ کہا۔ تو وہیں دوسری طرف زیشان نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ملکہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ ملکہ فوراً بھاگتے ہوۓ مں کے گلے لگی۔۔
تم ٹھیک ہو۔۔؟؟ کنول نے اسے اپنے ساتھ لگاۓ فکر مندی سے پوچھا۔
خاانم۔۔! ملکہ کو اندر لے کے جاٸیں۔ آفتاب نے زرا سا گردن کو خم دیتے کہا۔ کنول نے ایک منٹ کے اندر ملکہ کا ہاتھ تھاما۔ اور اسے لیے اوپر سیڑھیاں چڑھ گٸ۔ لیکن رخ پھیر کے ایکنظر زیشان کو دیکھنا نہ بھولی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور نظرو سے اوجھل ہونے تک اسے ہی بنا پلک جھپکے دیکھتا رہا۔ جسے آفتاب نے اچھے سے نوٹ کیا۔
لگتا ہے۔۔ بہت ہی ناز و نعم سے بیٹی کو پالا ہے۔۔۔؟؟ اب کی بار تھوڑا سجیدہ لیکن لہجہ سپاٹ تھا۔
ملکہ تمہارے ساتھ کیسے۔۔۔؟؟ آفتاب چلتا ہوا اس کے سامنے آیا دونوں ماموں بھانجا ایک دوسرے آمنے سامنے کھڑے سخت نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ آفتاب کا ایک پل کو جی چاہا آگے بڑھ کے اسے گلے سےلگا لیں۔ جو بھی ہو۔۔۔ وہ اس کی بہن کا بیٹا تھا۔ وہ بھی لاڈلی بہن کا۔ لیکن۔۔ اس وقت وہ کوٸ نرمی دیکھانے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس لیے چاہ کے وہ اسے سینے سے نہ لگا سکا۔ وہیں دوسری طرف زیشان کا بھی ل ان کی طرف ہمکنے لگا۔ آفتاب میں اسے اپنی ماں کی شبیہ دکھاٸ دی۔ اپنی ماں کی خوشبو آٸ۔ لیکن وہ بھی آفتاب کی طرح فل پے پتھر رکھتا سپاٹ انداز میں ہی کھڑا رہا۔








منہا آپی۔۔؟ کیا ہوا۔۔؟؟ آپ اس وقت کیوں جاگ رہی ہیں۔۔؟؟ عشا کی آنکھ کھلی تو اسے رات کے پہر یوں جاگتا فیھ خود بھی مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھتی اٹھ بیٹھی۔
مہنردی کی رسم کے بعد سبھی اس وقت خوب گپیں لگانے اور محفل سجاۓ اندر باہر بیٹھے تھے ۔ مرد مدان خانے اور ڈیرے پے مجود تھے۔ ان کے ہاں شادی کی محفلیں رات گۓ تک لگی رہتی تھیں۔ لیکن منہا اور عشا کو کہاں راتوں کو جاگنے کی عادت تھی۔ وہ روم میں آتے آرام کی غرض سے لیٹ گٸ تھیں۔ عشا تو لیٹتے ہی سو گٸ تھی۔۔ لیکن منہا جاگ رہی تھی۔
کچھ نہیں۔۔ پیاری۔۔۔! تم سوجاٶ۔۔ مجھے نینف نہیں آرہی۔۔ کیوں۔۔؟ کیا ہوا۔۔؟؟ عشا پیشان ہوٸ۔ ۔
جگہ بدلی ہے شاید۔۔۔ منہق نے ٹالا۔ لیکن وہ اسے بتا نہ اکی۔ کہ آخر وجہ کیا ہے۔۔۔؟؟
