Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 9)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“پلیز میم آپ باہر آجائے”

عینا کی آنکھوں سے پٹی اتار دی گئی تھی اور ہاتھ بھی کھول دئیے گئے تھے وہ خوفزدہ نظروں سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی جو بہت احترام سے کوسٹر کا دروازہ کھولے اس سے مخاطب تھا

یہاں سے فرار ہونے کے لیے اسے باہر تو نکلنا پڑتا عینا خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی کوسٹر سے باہر نکلی مگر سامنے پانی میں بڑا شپ کھڑا دیکھا کر وہ حیران نظروں سے سامنے سے آتے ہوئے روحان کو دیکھ رہی تھی جو سن گلاسز آنکھوں پر لگائے چلتا ہوا اس کے پاس ہی آرہا تھا

“کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی میڈم کو”

روحان عینا کو دیکھے بغیر اس آدمی سے پوچھنے لگا جو عینا کو یہاں لےکر آیا تھا عینا روحان کی اس حرکت پر اسے غصے سے دیکھنے لگی

“سر میم آپ کے سامنے ہیں آپ ان سے پوچھ لیں”

وہ آدمی مہذب انداز میں روحان سے بولا

“ٹھیک ہے جاؤ”

روحان کا حکم ملتے ہی وہ آدمی کوسٹر لےکر وہاں سے چلا گیا

اب روحان سن گلاسز آنکھوں سے اتارتا ہوا عینا کو دیکھ رہا تھا جو کہ بےبی پنک کلر کے کپڑوں میں ہم رنگ دوپٹے کے ساتھ اسے کوئی خوبصورت سی گڑیا لگ رہی تھی اور کافی غصے بھری نظروں سے روحان کو دیکھ رہی تھی مگر دوسری طرف تو یہ عالم تھا کہ اس کے غصے پر بھی پیار آجائے

“بہت غصہ آرہا ہے مجھ پر بالکل اس وقت مجھے بھی ایسے ہی غصہ آرہا تھا جب تم موبائل پر بات کرتے ہوئے بلاوجہ ملنے کی بات پر نخرے دکھا رہی تھی”

روحان پُر شوخ نظروں سے اس کا خفا خفا چہرہ دیکھتا ہوا بولا

“آپ کو ذرا بھی شرم نہیں آئی میرے ساتھ اس طرح کرتے ہوئے”

عینا کو غصے کے ساتھ ساتھ اس کی حرکت پر افسوس ہونے لگا وہ خفا ہوکر روحان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“شرم تو چند ماہ ہوئے میں نے بیچ کھائی ہے اس طرح افسوس بھری نظروں سے مجھے مت دیکھو میں شرمندہ نہیں ہونگا کونسی ناجائز خواہش کردی میں نے عینا آج کا دن میں تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہو اب چلو شپ پر دیر ہورہی ہے”

روحان نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا تو عینا دو قدم پیچھے ہوگئی

“مجھے کہیں نہیں جانا روحان پلیز مجھے گھر چھڑوائے”

عینا روحان کو دیکھتی ہوئی بولی

“آج کا دن تین سے چار گھنٹے ہم ایک ساتھ ایکسپینڈ کریں گے اس کے بعد ہی تم گھر جاسکتی ہو اوکے اب کوئی فضول کی ضد نہیں کرنا مجھ سے”

روحان نے حاکیمانہ انداز میں بولتے ہوئے عینا کا ہاتھ پکڑا وہ اس کی ناراضگی کی پروا کئے بغیر شپ کی سیڑھیاں چڑھنے میں اسے مدد دینے لگا

عینا نے شپ کے اندر قدم رکھا تو شب کو وائٹ اور پنک کلر کے پھولوں سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا شپ کے سینٹر میں ایک چھوٹا سا ٹیبل اور دو چیئرز موجود تھی

انجن چلنے پر زوردار ہارن بجنے کی آواز آئی شپ اسٹارٹ ہوچکا تھا

روحان عینا کا ہاتھ تھامے اسے ٹیبل تک لایا اور اس کے لیے چیئر کھسکائی عینا کے بیٹھنے کے بعد وہ خود بھی سامنے والی چیئر پر بیٹھ گیا عینا نیچے نگاہیں جھکائے خاموش بیٹھی تھی اور روحان فرصت سے اس کا چہرہ دیکھنے میں مصروف تھا

“ابھی بھی ناراض ہو مجھ سے”

کافی دیر روحان اس کو یونہی دیکھتا رہا پھر ایک دم عینا سے پوچھنے لگا

“آپ نے جو آج حرکت کی اس پر ناراض ہونا ہی بنتا ہے آپ خود بتائیں کیا نہیں ہونا چاہیے مجھے ناراض”

عینا نظریں اٹھاکر اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ناراض”

وہ عینا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے فوراً بولا

“یہ صحیح نہیں ہے روحان اس طرح ملنا مناسب نہیں لگتا”

عینا روحان سے شکوہ کرتی ہوئی بولی

“کیا صحیح نہیں ہے تمہارا برتھ ڈے منانا صحیح نہیں ہے اس میں کیا غلط ہے بولو عینا میں آج کے دن تمہارا برتھ ڈے تمہارے ساتھ اچھے انداز میں سیلیبرٹ کرنا چاہتا ہو اور اگر تم ناراض ہوکر سارا وقت ایسے ہی گزار دو گی تو یہ صحیح نہیں ہوگا”

روحان اب سنجیدگی سے اسے دیکھتا ہوا بولا تھا

“تو آپ منالیں مجھے منانا نہیں آتا آپ کو”

عینا کے منہ سے بےساختہ نکلا اب وہ روحان کے چہرے سے نظریں ہٹائے پانی کا تیز بھاو دیکھ رہی تھی جس پر شپ چل رہا تھا

“بہت سارے طریقوں سے منانا آتا ہے مگر جو طریقہ منانے کا مجھے پسند ہے اس پر تم لازمی ناراض ہوکر یہی کہو گی یہ صحیح نہیں ہے روحان”

روحان شرارت سے عینا کو دیکھتا ہوا بولا اسکی بات سن کر عینا نظریں جھکا گئی تھی

روحان نے بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھا سفید رنگ ایک دم اسکے کپڑوں کے رنگ جیسا گلابی ہوا پھر سُرخی اسکے چہرے پر اُتر آئی اگر وہ اسے بتا دیتا رنگوں کا یہ حسین امتیزاج اسکے چہرے پر کتنا بھلا لگ رہا ہے وہ مزید یونہی نظریں جُھکائی رہتی تھوڑی دیر میں ایک لڑکا کیک لےکر آیا اور کیک ٹیبل پر رکھا روحان نے نائف اٹھاکر عینا کی طرف بڑھائی جسے عینا تھامتی ہوئی روحان کو دیکھنے لگی

“مجھے کیا دیکھ رہی ہو اس کیک پر بھی چلادو جیسے اس وقت میرے دل پر چلا رہی ہو”

روحان کے بولنے کے انداز پر عینا بےساختہ مسکرائی تھی روحان خاموشی سے اسکی مسکراہٹ دیکھنے لگا

کیک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹ کر اس نے روحان کی طرف بڑھایا جسے روحان نے عینا کے ہاتھ سے کھاتے ہوئے باقاعدہ اسکی انگلیوں کو بھی ٹیسٹ کیا عینا نے فوراً اپنا ہاتھ گھبرا کر پیچھے کیا تھا

جب روحان نے اسے کیک کھلایا تب عینا نے بالکل تھوڑا سا ٹکڑا بےحد تکلف سے چکھا ایسے کہ روحان کی انگلیاں اسکے ہونٹوں کو نہ چھو سکے عینا کے اس انداز پر روحان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

وہ کافی شائے تھی یا اس وقت روحان سے شرما رہی تھی مگر وہ آج کل کی ماڈرن لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی اس کے سرکل میں ایسی لڑکیاں نہ ہونے کے برابر پائی جاتی مگر وہ اپنی ہر ادا کے ساتھ روحان کو بہت پیاری لگتی روحان نے اپنی پاکٹ سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا جس میں ڈائمنڈ کی رینگ موجود تھی جسے وہ عینا کا ہاتھ میں پہنانے لگا

“یہ رینگ بہت خوبصورت اور قیمتی ہے تھینکس”

عینا اپنے ہاتھ میں رینگ دیکھتی ہوئی روحان سے بولی

“اچھا دکھاؤ ذرا میں نے نوٹ نہیں کیا”

وہ عینا کا ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے اپنے ہونٹوں تک لے جانے لگا عینا نے جھٹ سے اپنا ہاتھ کھینچا

“کیا ہوا تمہارے تعریف کرنے پر میں تو رینگ کو غور سے دیکھنے لگا تھا تم کیا سمجھی کیا کررہا ہو میں”

عینا کے نروس ہونے پر وہ انجان بنتا ہوا عینا کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“اگر اب آپ نے زیادہ غور و فکر کیا تو میں آپ سے ناراض ہوجاؤ گی”

عینا کے دھمکی دینے پر وہ زور سے ہنسا تھا

دوبارہ عینا کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوا تو عینا کو بھی کھڑا ہونا پڑا اب وہ اسے اس سائیڈ لےکر جارہا تھا جہاں سے وہ دونوں بہتا ہوا پانی قریب سے دیکھ سکے

“آج سے پہلے پانی کا یہ سفر مجھے اتنا اچھا نہیں لگا جتنا اچھا آج لگ رہا ہے من چاہا ہمسفر ساتھ ہو تو زندگی کا سفر اور بھی حسین ہوجاتا ہے میں تمہارے ساتھ اپنی باقی تمام زندگی گزارنا چاہتا ہوں میں نے اپنے پیرنٹس سے تمہارے بارے میں بات کرلی تھی ابھی نہیں بہت پہلے ہی، جب تم نے مجھے کال بھی نہیں کی تھی تب عینا میں اسی منتھ اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر لانا چاہتا ہوں”

ہوا کا زور کافی تھا جس سے عینا کے دوپٹہ کے ساتھ بال بھی لٹو کی صورت ہوا میں اڑ رہے تھے دوپٹے کو تو اس نے اپنے ہاتھوں سے قابو میں کیا ہوا تھا اس کے بالوں کی لٹو کو روحان اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے پر سے پیچھے ہٹانے لگا

“اتنی جلدی میرا مطلب ہے آپ نے تو اپنے پیرنٹس سے بات کرلی مگر میں کیسے اپنی فیملی سے بات کرسکتی ہوں”

عینا اس کی بات سن کر ایک دم پریشان ہوگئی تھی

“کیوں نہیں کرسکتی بات اس میں کیا پرابلم ہے یار آج کل تو پرانے خیالات کے لوگ بھی اپنے بچوں کی پسند کو ترجیح دیتے ہیں دیکھو عینا ڈیڈی اور مما میری خوشی کی خاطر تمہارے گھر رشتہ لےکر آئیں گے اگر انہیں کولڈ رسپونس یا کوئی نگیٹیو رپلائی ملے گا تو ان کے ساتھ مجھے بھی اچھا نہیں لگے گا اس لئے تمہیں اپنے بھائی کو اعتماد میں لےکر اسے ہمارے بارے میں بتانا ہوگا میں چاہتا ہوں سارے مراحل بہت آسانی سے اور خوش اسلوبی سے طے ہوجائیں”

روحان عینا کو سمجھاتا ہوا بولا

“اور اگر بھائی نہیں مانے تو”

عینا اپنا خدشہ ظاہر کرتی ہوئی روحان سے بولی عینا کی بات سن کر روحان کے چہرے کے تاثرات یخلکت سنجیدہ ہوئے وہ عینا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا

“تو پھر میں تمہیں تمہاری بھائی سے چھین لوں گا یہ تو طے ہے کہ تمہاری شادی مجھ سے ہی ہوگی اس میں تمہارے گھر والوں کی مرضی شامل ہو یا نہیں بیوی تم روحان منصور کی ہی بنو گی”

روحان اس کا چہرہ تھامتا ہوا بالکل نارمل انداز میں بول رہا تھا اور عینا اس کی باتوں سے ڈر گئی وہ ایسا کرسکتا تھا جیسے آج اس نے کیا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی

“روحان آپ مجھے ڈرا رہے ہیں”

عینا غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتی ہوئی بولی

“ابھی سے ڈر گئی ابھی تو تم نے روحان منصور کی شخصیت کا دوسرا رخ دیکھا ہی نہیں”

روحان کی بات سن کر عینا الجھتی ہوئی اس کو دیکھنے لگی کیونکہ روحان کا لہجہ بہت عجیب تھا

“مطلب”

وہ کنفیوز ہوکر روحان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“کچھ نہیں یہاں ہوا بہت تیز ہے آو روم میں چلتے ہیں”

ہوا سے سرد پڑتے عینا کے گالوں سے روحان اپنے ہاتھ ہٹاکر اس کا ہاتھ تھام کر اسے روم کی طرف لے جانے لگا ہے

وہی شپ پر ایک چھوٹا سا کچن بھی تھا جہاں سے بھینی بھینی تلی ہوئی مچھلی کی خوشبو آرہی تھی شپ کے اندر ایک چھوٹا سا روم تھا جس میں ایک سائیڈ پر بڑے سائز کا بیڈ اسکے سامنے قد آدم آئینہ موجود تھا جبکہ دوسرے سائڈ پر صوفے اور سامنے دیوار پر ایل ای ڈی موجود تھی

“یہ آپ کا شپ ہے” عینا نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے روحان سے پوچھا

“اپنا ہے مگر میرا ذاتی نہیں اس کے ذریعے ہمارا سامان دوسرے ممالک جاتا ہے اور وہاں سے یہاں آتا ہے”

روحان اسے بتاتا ہوا بیڈ کے نیچے بڑی ڈراز کھول کر مختلف سائز کے بہت سے ڈبے (جوکہ گفٹ ریپر میں لپٹے تھے) نکالتا ہوا ٹیبل پر رکھنے لگا

“کھڑی کیو ہو بیٹھو”

روحان اس کو دیکھتا ہوا بولا تو عینا صوفے پر بیٹھ گئی

“یہ کیا ہے”

گفٹ پر نظر ڈالتے ہوئے وہ روحان سے پوچھنے لگی

“تمہارے لئے کچھ چیزیں پسند آئی تھی تو فوراً خرید لی اب یہ مت بولنا کہ ان سب چیزوں کی کیا ضرورت تھی میرے پاس الریڈی یہ ساری چیزیں ہیں تم یہ چیزیں اپنے یوز میں لاو گی تو مجھے اچھا لگے گا”

روحان عینا کو دیکھتا ہوا بولا تو روحان کو دیکھنے لگی

“تم چاہو تو یہ سارے گفٹ ابھی کھول سکتی ہو”

عینا کے دیکھنے پر روحان اس کو بولتا ہوا عینا کے برابر میں صوفے پر بیٹھ گیا ایک کر کے وہ سارے گفٹ کھولنے لگی جس میں لیڈیز واچ، بیگ، پرفیوم، موبائل اور بڑے سے پیکٹ میں ایک ڈریس تھا مگر وہ ویسٹرن اسٹائل میں شارٹ سا اسکرٹ تھا عینا کو تھوڑی دیر پہلے روحان کا بولا ہوا جملہ یاد آیا وہ کتنے مزے سے بول رہا تھا کہ یہ ساری چیزیں یوز کرنا اسے بڑی خوشی ہوگی عینا ڈریس ہاتھ میں لیے روحان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی

“میں نے کل رات کو خواب میں تمہیں اس ڈریس میں دیکھا تھا ایسا کرنا تم باقی ساری چیزیں یوز کرلینا بس یہ ڈریس تم شادی کے بعد یوز کرنا وہ بھی صرف ہمارے بیڈروم کے اندر”

روحان کی باتیں سن کر اس کا رنگ شرم سے دوبارہ سرخ ہونے لگا عینا جلدی سے وہ ڈریس واپس پیکٹ میں رکھنے لگی کال پر تو وہ عینا سے بالکل ایسی باتیں نہیں کرتا تھا مگر اس وقت اس کی باتیں سن کر عینا کا دل بہت زور سے دھڑکنے لگا تھا تبھی اس نے عینا کا ہاتھ پکڑا

“تم نے پوچھا نہیں خواب میں تم اس ڈریس میں کیسی لگ رہی تھی”

بولنے کے ساتھ ہی روحان نے عینا کو اپنی طرف کھینچا وہ اس کے سینے سے آ لگی اپنا ایک ہاتھ عینا کے گال پر رکھتا ہوا وہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کرچکا تھا روحان اپنے ہونٹ عینا کے ہونٹوں کے نزدیک لانے لگا

“روحان پلیز میں اس شپ میں آپ پر بہت ٹرسٹ کرکے آئی تھی”

روحان کے ہونٹوں کو دیکھ کر عینا فوراً اپنی نظریں جھکاتی ہوئی اس سے بولی تھی

“میں ٹرسٹ کہاں توڑ رہا ہو صرف اپنے دل میں آئی خواہش پوری کررہا ہوں”

روحان مدہوش انداز میں عینا کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتا ہوا کہنے لگا کتنے اور بھی حسین چہرے اس کی نظروں سے گزرے تھے مگر ایسے احساسات تو اس میں صرف یہ لڑکی جگا گئی تھی

“میں آپ سے ناراض ہوجاؤ گی اور کبھی بھی بات نہیں کرو گی”

عینا آنکھیں بند کرکے اسے دھمکی دینے لگی وہ اس وقت مکمل طور پر اس کے حصار میں تھی دھمکی دینے کے علاوہ اور کیا کرسکتی تھی

“یہ پہلی اور آخری دفعہ جب میں تمہاری مان رہا ہوں آئندہ ناراض ہونے کی یا بات نہ کرنے کی دھمکی مت دینا ورنہ اس دھمکی کا خمیازہ بہت برے انداز میں بھکدنا ہوگا”

روحان اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا ہوا صوفے کے پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور ایسا کرتے ہوئے وہ اچھا خاصا بدمزا ہوا تھا

مگر وہ عینا کو ناراض بھی نہیں کرسکتا تھا روحان کے دور ہونے پر عینا نے اپنی آنکھیں کھولی وہ صوفے سے ٹیک لگائے ناراض نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا

“اب آپ ناراض ہوکر سارا وقت ایسے ہی گزار دیں گے تو یہ صحیح نہیں ہوگا”

عینا روحان کو دیکھ کر بولی تھی اسکی بات پر روحان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

اس سے پہلے وہ کچھ بولتا ہے اس کا موبائل بج اٹھا موبائل پر آنے والی کال سے اس کے چہرے کی مسکراہٹ مدھم ہوئی وہ ایک نظر عینا پر ڈال کر اپنا موبائل لےکر روم سے باہر نکل گیا عینا اپنی انگلی میں روحان کی پہنائی ہوئی رینگ دیکھ رہی تھی وہ رینگ اسے تھوڑی سی لوز تھی اچانک رینگ اس کی انگلی سے اتر کر نیچے گری

عینا نے میز کے نیچے جھانکا رینگ میز کے نیچے بچھے ہوئے رگ کے اوپر ہی پڑی تھی عینا نے ہاتھ بڑھا کر اس رینگ کو لینا چاہا تو اسے محسوس ہوا جیسے رگ کے نیچے کوئی اور چیز بھی موجود ہے تجسس میں وہ میز ہٹاکر رگ ہٹانے لگی وہ کوئی ہینڈل تھا جسے پکڑ کر لکڑی کا تختہ ہٹایا جاسکتا تھا عینا نے ہینڈل اٹھایا تو لکڑی کا تختہ اوپر کو اٹھا اور اندر جانے کا راستہ بن گیا عینا نے ایک نظر کمرے کے دروازے پر دیکھا جو ہلکا سا کھلا ہوا تھا روحان اسے وہاں سے موبائل پر بات کرتا ہوا مصروف نظر آیا عینا سیڑھیوں کے ذریعے نیچے اترتی ہوئی اندر چلی گئی

دیوار پر ہاتھ ٹٹول کر اس نے سوئچ ان کیا چاروں طرف روشنی پھیل گئی اندر پورا ہال نما بڑا سا کمرہ موجود تھا جو کہ اس وقت خالی تھا وہاں پر اسے کافی وحشت سی محسوس ہوئی گھٹن کا احساس ہونے لگا تو واپس جانے کے لئے پلٹی بےساختہ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی

روحان بالکل اس کے پیچھے کھڑا تھا وہ کب سیڑھیاں اتر کر اس کے پیچھے آیا عینا کو خبر ہی نہیں ہوئی ابھی وہ روحان کو دیکھ کر اپنا سانس بحال بھی نہیں کر پائی تھی کہ روحان نے سختی سے اس کا بازو پکڑا

“کیو آئی ہوں یہاں پر”

وہ اس کا بازو سختی سے اپنے ہاتھ میں جکڑے سرد انداز میں پوچھنے لگا عینا کو انداز اور سرد سا لہجہ کافی محسوس ہوا

“ایسے ہی دیکھنے آئی تھی یہاں کیا ہے”

عینا روحان کے انداز پر گھبرا گئی تھی وضاحت دینے لگی

“کیوں”

روحان اسے آنکھیں دکھاتا ہوا بولا اس کا بی ہیویئر دیکھ کر عینا کو رونہ آنے لگا

“سوری”

عینا اس کا انداز اور اپنے ساتھ رویہ دیکھ کر اتنا ہی بول پائی تھی

اس وقت وہ اسے وہ روحان منصور نہیں لگا جسے وہ ایک ماہ سے بات کرتی آرہی تھی عینا کے سوری بولنے پر روحان نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرنے لگا

“لنچ تیار ہوچکا ہے چلو لنچ کرلیتے ہیں”

اب کی بار وہ نرمی سے بولا اور سیڑھیوں کی طرف عینا کو اشارہ کیا عینا خاموشی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی روحان پورے ہال میں ایک نظر ڈال کر خود بھی سیڑھیاں چڑھنے لگا