Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 39)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

روحان کو پانچ منٹ ہوئے تھے کاشف زیری کے پاس آکر بیٹھے ہوئے کل شپ کے ذریعے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو دوسرے ملک روانہ کرنا تھا جہاں ان کی بولی لگائی جاتی اور نعلامی ہوتی روحان اسی بارے میں کاشف زیری سے بات کرنے آیا تھا ساتھ ہی ان لڑکیوں کے چہرے بھی دیکھنے آیا تھا جن کو کل اس کے شپ میں پہنچایا جاتا تبھی روتی ہوئی انسانی آواز پر وہ بےساختہ مڑا کاشف نے بھی روم کے اندر آتے ہوئے جنید کو دیکھا جو کسی لڑکی کو بالوں سے پکڑتا ہوا روم کے اندر لارہا تھا

“جنید”

روحان نے عینا کو دیکھا جس کو بالوں سے جنید نے پکڑا ہوا تھا روحان غصے میں جنید پر دھاڑا آج اسے عینا کو اس جگہ دیکھ کر معلوم ہوا پیروں تلے زمین نکلنا کسے کہتے ہیں

روحان کے بری طرح چیخنے پر جیسے ہی جنید نے عینا کو چھوڑا عینا بھاگتی ہوئی روحان کے گلے سے لگی اور زور زور سے رونے لگی

روحان کے ساتھ ساتھ کاشف زیری بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور حیرت سے روحان کی بیوی کو دیکھنے لگا آخر اس کی بیوی یہاں تک کیسے پہنچی جنید بھی حیرت زدہ تھا کہ یہ لڑکی روحان کی بیوی ہے شادی والے دن میک اپ کی وجہ سے شاید وہاں اسے پہچان نہیں پایا تھا

“تمہاری بیوی یہاں کیا کررہی ہے روحان”

کاشف زیری عینا کو دیکھتا ہوا روحان سے پوچھنے لگا جاننا تو روحان بھی عینا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ آخر یہاں پر کیا کررہی ہے مگر اس سے پہلے جنید بول پڑا

“مجھے نہیں معلوم تھا یہ آپ کی وائف ہے مگر تھوڑی دیر پہلے اس نے کہا کہ یہ آپ کا پیچھا کرتی ہوں یہاں پر آئی تھی”

جنید روحان کو دیکھتا ہوا بتانے لگا روحان ابھی تک عینا کی حرکت پر غصے سے زیادہ صدمے کی حالت میں تھا اور عینا ابھی بھی خوف کے مارے روحان سے چپکی ہوئی رو رہی تھی

“سر میں آپ سے رات میں بات کرتا ہوں”

روحان کاشف زیری سے بولتا ہوا عینا کے شولڈر کے گرد اپنا بازو لپیٹ کر وہاں سے نکلنے لگا

“وہی رک جاؤ روحان”

کاشف زیری کی آواز پر روحان کے قدم رکے تو عینا کو بھی روکنا پڑا روحان پلٹ کر کاشف زیری کو دیکھنے لگا اور عینا اپنے شوہر کا گھبرایا ہوا چہرا دیکھنے لگی

“الیاس یاد ہے تمہیں، اس کی بیوی کو یہاں پر انجانے میں لایا گیا تھا جبکہ تمہاری بیوی یہاں پر خود چل کر آئی ہے تمہارا پیچھا کرتے ہوئے یہ اب تمہارے ساتھ ساتھ میری اصلیت سے بھی واقف ہوگئی ہے اسے تم یہاں سے نہیں لے جاسکتے”

کاشف زیری روحان کو دیکھتا ہوا بولا ایک بار پھر عینا نے خوف سے روحان کو جکڑ لیا روحان عینا کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے خود بھی ڈر گیا تھا

“آپ مطمئن ہوجائیں یہ کسی کو کچھ نہیں بولے گی”

روحان کو اس وقت ڈرنا نہیں تھا اس لئے وہ اپنا کانفیڈینس بحال کرتا ہوا بولا یہاں اپنی بیوی کو چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

“میں مطمئن نہیں ہوسکتا روحان نہ ہی اپنے لئے کوئی رسک لےسکتا ہو ویسے بھی تمہاری بیوی ایس۔ پی کی بہن ہے یہ بات بہت خطرناک ہے”

کاشف زیری نے جنید کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس سے پسٹل لیا

پسٹل ہاتھ میں لئے وہ چلتا ہوا روحان کے پاس آیا عینا روحان کے گلے لگ کر رونے لگی روحان خاموشی سے پہلے کاشف زیری کو دیکھنے لگا پھر اس کے ہاتھ میں موجود پسٹل کو دیکھنے لگا

“یہاں موجود لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ یقیناً تم اپنی بیوی کے ساتھ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے کیوں ایسا ہی ہے ناں روحان”

کاشف زیری پسٹل کا رخ روحان کی طرف کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

روحان کو لگا جیسے آج وہ سرعام لُٹ جائے گا کہیں اس کی عزت خاک میں نہ مل جائے وہ خاموشی سے کاشف زیری کو دیکھنے لگا عینا ابھی بھی روحان کے گلے لگی ہوئی خوف سے رو رہی تھی

“اپنے ہاتھ سے ختم کردو اپنی بیوی کو”

کاشف زیری پسٹل کو اپنے ہاتھ کے اوپر رکھ کر روحان کی طرف بڑھتا ہوا بولا عینا نے کاشف زیری کی بات سن کر ایک دم سر اٹھایا اور پوری آنکھیں کھولے وہ روحان کو دیکھنے لگی جو کاشف زیری کے ہاتھ سے پسٹل اٹھارہا تھا

“روحان”

عینا روحان کو چھوڑ کر بےیقینی سے اسے دیکھتی ہوئی بولی وہ رونا بھول کر روحان کو بنا پلکیں جھپکائے دیکھنے لگی روحان نے اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسنہ صاف کرکے عینا کی پیشانی پر پسٹل رکھی عینا نے اپنی آنکھیں بند کرلی

وہ اپنی عزت کو پامال ہوتے تو نہیں دیکھ سکتا تھا شاید اسے ختم کرنا بہتر تھا عینا کی جان لیتے ہوئے روحان کے ہاتھوں لرزنے لگے پھر وہ خود جی کر کیا کرے گا یہ سوچ آتے ہی روحان نے عینا کی پیشانی سے پسٹل ہٹاکر اچانک پسٹل کا رُخ کاشف زیری کی طرف کیا

“نہ ہی میں اس کو یہاں پر چھوڑ کر جاسکتا ہوں اور نہ ہی مار سکتا ہوں آپ کو مجھ پر بھروسہ کرنا پڑے گا یہ اپنے بھائی سے یا کسی سے بھی کچھ نہیں بولے گی میں آپ پر کوئی آفت نہیں آنے دو گا آپ کو میرا یقین کرنا پڑے گا سر پلیز مجھے اپنی بیوی کو لےکر یہاں سے جانے دیں”

روحان نے پسٹل کا رخ کاشف زیری کی طرف کیا ہوا تھا دوسرے ہاتھ سے عینا کو اپنی طرف کھینچ کر اسے اپنے حصار میں لے لیتا ہوا بولا عینا ایک بار پھر اسکے سینے میں منہ چھپا کر رونے لگی

“یہ تم صحیح نہیں کر رہے ہو روحان بلیک کینگ تو غلطی کے بعد کسی کو ایک موقع نہیں دیتا جبکہ ہفتے پہلے تمہارے گھر سے ہماری ایک لڑکی بھاگ گئی تھی”

کاشف زیری غصے میں روحان کو دیکھتا ہوا یاد دلانے لگا یقیناً وہ فروا کی بات کررہا تھا عینا روحان کے سینے سے لگی سوچنے لگی، وہ مکروہ چہرے والا کاشف زیری آج عینا کو اس کا چہرہ دیکھ کر خوف آرہا تھا وہ اس کو دیکھنے کی بجائے روحان کے سینے میں اپنا چہرہ چھپائے ہوئی تھی

“سر آپ کو اس بار بھی مجھے معاف کرنا پڑے گا کل شپ کے زریعہ جو آگے ڈیلیوری ہونی ہے اس کا اپنی منزل پر پہنچنا آپ کے لیے کس قدر امپورٹنٹ ہے یہ آپ اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں”

عینا کی موجودگی میں روحان کاشف زیری کوڈ ورڈز میں لڑکیوں کے متعلق آگاہ کرنے لگا جن کا کل شپ کے ذریعے دوسرے ملک پہنچنا بہت ضروری تھا ورنہ کاشف زیری کو اچھا خاصا نقصان پہنچتا روحان کی بات سن کر کاشف زیری پیچ و تاب کھا کر رہ گیا وہ اس وقت نہ روحان سے بگاڑ سکتا تھا نہ زور زبردستی کرسکتا تھا

“اگر کسی بھی طرح کی اونچ نیچ ہوئی یا شک کے دائرے میں میرا نام آیا تو روحان یاد رکھنا میں اپنا نفع نقصان کا سوچے بنا تمہیں تمہاری فیملی سمیت۔۔۔”

کاشف زیری ادھوری بات چھوڑ کر روحان کو دیکھنے لگا

“آپ مطمئن ہوجائیں آپ پر کبھی کوئی آنچ نہیں آئے گی”

روحان نے پسٹل اپنے ہاتھ پر رکھ کر کاشف زیری کی طرف بڑھائی اور اسے یقین دلاتا ہوا عینا کو وہاں سے لےکر نکل گیا

****

کل رات وہ کافی لیٹ آغول کو واپس گھر لےکر آیا تھا اس کی عینا یا روحان سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی

منصور سے دس منٹ باتیں کرکے فاطمہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے پی کر وہ آغول کو واپس گھر لےکر آگیا گھر آنے کے بعد آغول بیڈ پر اس کے برابر میں لیٹی ہوئی کافی دیر تک اس سے باتیں کرتی رہی مگر جہانگیر کا دماغ روحان پر اٹکا ہوا تھا کل اس کی شپ پر لڑکیاں دوسرے ملک اسمگل ہونے تھی روحان کی گرفتاری کے بعد کیا کچھ ہوگا جہانگیر وہ سب کچھ سوچ رہا تھا اسے خبر نہیں ہوئی کب آغول اس کے سینے پر سر رکھ کر سو چکی تھی تھوڑی دیر بعد جہانگیر بھی نیند کی وادیوں میں چلاگیا

نیند میں جہانگیر نے بیڈ پر ہاتھ رکھا تو آنکھیں بند کئے آغول کو اپنے ہاتھ سے تلاشنے لگا آغول بیڈ پر اپنی جگہ پر موجود نہیں تھی صبح ہوچکی تھی جہانگیر نے دوسری طرف کروٹ لےکر سامنے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی پچھلے چار ماہ سے وہ اکثر اسے ایسے ہی یوگا کرتا ہوا دیکھتا آرہا تھا

اس وقت وہ فرش پر سجدے کی حالت میں لیٹی ہوئی تھی جبکہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس نے بالکل اسٹریٹ فرش پر رکھا ہوا تھا چند منٹ گزرنے کے بعد وہ دونوں ہاتھوں کو آدھے دھڑ کے ساتھ آئستہ سے موو کرتی ہوئی لیفٹ سائیڈ پر لے جانے لگی پھر سجدے والی پوزیشن میں واپس آئی اور تھوڑی دیر بعد اسی طرح اپنے ہاتھوں اور آدھی باڈی کو موو کرتی ہوئی رائٹ سائڈ پر لے کے جانے لگی

جہانگیر خاموشی سے اسے یوگا کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا جہانگیر نے نوٹ کیا تھا وہ سلم ہونے کے باوجود اپنے ویٹ کو لےکر بہت زیادہ ٹینس رہتی تھی اب وہ بالکل اسٹریٹ کھڑی ہوگئی تھی اس کی پُشت جہانگیر کی طرف تھی اپنی شرٹ کو کمر سے نیچے کرتے ہوئے، اب وہ سانس رُکتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھانے کے بعد پاؤں تک لے جاکر نیچے جُھکی

جہانگیر نے سائیڈ ٹیبل پر آغول کے نوٹس کے اوپر رکھا ہوا پین اٹھایا اور نیچے جُھکی ہوئے اپنی بیوی کا نشانہ لیا وہ جو پوری توجہ سے یوگا کر رہی تھی اچانک کوئی چیز اس کی بیک پر لگی جس سے اس کا ربط ٹوٹا وہ سیدھی ہوکر پلٹ کر سامنے بیڈ پر لیٹے ہوئے جہانگیر کو دیکھنے لگے جو کہ چہرہ بلکل سنجیدہ کیے مگر آنکھوں میں شرارت بھرے اسی کو دیکھ رہا تھا آغول خاموشی سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی

“یہ کیا تھا”

پین کو واپس نوٹس کے اوپر رکھتی ہوئی وہ اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر جہانگیر سے اس کی تھوڑی دیر پہلے والی حرکت کے بارے میں پوچھنے لگی

“تمہیں اپنے پاس بلانے کا طریقہ” جہانگیر نے بیڈ پر لیٹے لیٹے آغول کے ہاتھ اسکی کمر سے ہٹاتے ہوئے خود اس کو کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر گرایا

“کیا کررہے ہیں ناشتہ بنانا ہے مجھے”

وہ آغول کو اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لٹا چکا تھا آغول اس کا ارادہ بھانپتی ہوئی بولی

“یہ تمہاری مما کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے کا نتیجہ ہے اب ان کو بتادینا آپ کے داماد پر اس کراماتی چائے کا اثر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے آپ بہت جلد نانی بن جائیں”

جہانگیر آغول کا چہرہ دیکھ کر جتنی سنجیدگی سے بولا تھا جہانگیر کی بات سن کر آغول کی آنکھیں حیرت سے باہر آئیں مگر اس سے پہلے وہ کچھ بولتی جہانگیر اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ کر اس کی بولتی بند کرچکا تھا

“یعنی آپ اس دن مما اور میری باتیں سن رہے تھے”

آغول جہانگیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی پوچھنے لگی جہانگیر مسکراہٹ چھپاتا ہوا اپنی بنیان اتار رہا تھا تب آغول دوبارہ بولی

“میں نے اس کے بعد زاہدہ کی خوب کلاس لی تھی اور اسے خبردار کیا کہ آئندہ مما کو الٹی سیدھی جگہوں پر لےکر جانے کی کوئی ضرورت نہیں, میں تو وہ پانی بھی مما سے لےکر ضائع کرچکی ہو”

آغول فاطمہ کی پوزیشن کلئیر کرتی ہوئی جہانگیر سے بولی، نہ جانے وہ اس کی مما کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے جہانگیر آغول کے اوپر جُھک کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھ چکا تھا

“جہانگیر آپ نہ جانے کیا سوچ رہے ہوگیں…

آغول کے بولتے ہی جہانگیر نے سر اٹھاکر اسے گھور کر دیکھا

“کیا تم خاموش رہ سکتی ہو تھوڑی دیر کے لیے”

جہانگیر سیریس ہوکر آغول سے پوچھنے لگا تو آغول خاموش ہوگئی اب آغول کو اندازہ ہونے لگا وہ فاطمہ کو جلد نانی بنادے گا

****

مسحور کن لمحات کو چند پل ہی گزرے تھے جہانگیر بغیر شرٹ کے کمفرٹر کے اندر لیٹا ہوا تھا جبکہ آغول اپنی شرٹ ٹھیک کرتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگی جہانگیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنی طرف کھینچا

“آج کیا گھر پر ہی دن گزارنے کا ارادہ ہے آپ کا”

ایک تو اس سے فوراً ہی جہانگیر سے نظریں نہیں ملائی جارہی تھی پھر جہانگیر کے دیکھنے پر وہ مزید اس سے نظریں ملائے بغیر بولی

“تم بتاؤ آج کا پورا دن تمہارے نام کردو”

جہانگیر بیڈ پر لیٹا ہوا اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھسائے سنجیدگی سے آغول کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“مجھے تو بہت خوشی ہوگی آگر آج آپ سارا دن گھر میں گزارے گے”

شرمیلی مسکراہٹ ہونٹو پر سجائے آغول نے جہانگیر کے سینے پر سر رکھ کر کہا تو جہانگیر نے اسے اپنے بازووں کے حلقے میں بھرلیا

“ٹھیک ہے پھر میری ایک شرط ہے آج کا پورا دن تم بیڈ سے نیچے نہیں اترو گی آج ہم یوں ہی ایک دوسرے کے قریب رہیں گے”

جہانگیر کی بات سن کر آغول نے اس کے سینے سے سر اٹھاکر گھورتے ہوئے جہانگیر کو دیکھا

“ناشتہ بنانے جارہی ہوں میں”

جہانگیر کے سینے پر پنچ مارتی ہوئی وہ بیڈ سے اٹھ گئی جہانگیر اس کو بیڈروم سے باہر نکلتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگا