Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Last updated: 22 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

"کیا سوچ کر تم اس ٹیبل پر بیٹھے ہو شاید تم پچھلی بار کی سر امتیاز کی وارننگ بھول چکے ہو" کوئی دوسرا یہ حرکت کرتا تو رونی منہ سے بات کرنے کی بجائے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا مگر سامنے جیڈی تھا اور اسے معلوم تھا وہ کبھی بھی شرافت کا مظاہرہ نہیں کرے گا اس کی ہر بات کا جواب وہ دوبدو اسی کے انداز میں دے گا اس لیے رونی جیڈی کے سامنے کھڑا ہوکر اس سے بولنے لگا "اس ٹیبل پر تمہارے باپ کا نام لکھا ہے جو میں یا کوئی دوسرا نہیں بیٹھ سکتا سر امتیاز نے صرف مجھے وارن نہیں کیا تھا انہوں نے میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی وارننگ دی تھی" جیڈی نے کرسی سے اٹھنا ضروری نہیں سمجھا تھا وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی رونی کو دیکھتا ہوا بولا باقی کینٹین میں موجود تمام اسٹوڈنٹس خاموشی سے ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہے تھے اور کسی تماشے کے انتظار میں تھے "میرے باپ کا نام لینے کی اوقات تمہارے باپ میں بھی نہیں ہوگی اس ٹیبل کو تو کیا پورے کالج کو میرا باپ خرید سکتا ہے اور تم جیسوں کو تو میں اپنے گھر میں ملازم کی نوکری بھی نہ دو معلوم نہیں کہاں کہاں سے منہ اٹھاکر چلے آتے ہیں ایسے تھرڈ گلاس لوگ بڑے بڑے کالجز میں دو منٹ کے اندر ٹیبل خالی کرو نہیں تو دھو ڈالوں گا تمہیں اور تمہارے ان چمچوں کو" رونی حقارت بھری نظر سے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھے جیڈی کو دیکھ کر بولا جو روز اپنی پھٹیچر سی سیکنڈ ہینڈ بائیک پر کالج آتا تھا اس کے عام سے زیب تن کیے کپڑے اس کی کلاس کا خلاصہ کرنے کے لئے کافی تھے رونی کے بولنے پر رونی کے دوست جیڈی کو دیکھ کر ہنسنے لگے رونی کی بات سن کر اور اس کے دوستوں کو اپنے اوپر ہنستا دیکھ کر صرف ایک پل کے لئے جیڈی کا سانولہ رنگ خجالت سے مزید گہرا ہوا تھا "چاندی کا چمچہ منہ میں ڈال کر پیدا ہونے والے تم وہ کُتے ہو جو اپنے باپ کا نام لےکر بھونک بھونک کر دوسروں کو ڈراتے پھرتے ہو تمہارے نام کے ساتھ اگر تمہارے باپ کا نام ہٹادیا جائے تو تمہاری اوقات گلی کے کُتے جتنی برابر بھی نہیں ہوگی دم ہلاتے ہوئے یہاں سے چلتے بنو اور جاکر کسی اور پر بھونکو جو تم سے ڈرے اس ٹیبل سے میں نہیں اٹھنے والا" جیڈی کے بےعزتی کرنے پر جہاں رونی کا سفید رنگ شرمندگی سے سرخ ہوا تھا وہی فرحان بنٹی اور شارق کے قہقہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ٹیبل پر موجود سموسوں کی پلیٹ چٹنی سمیت اس نے جیڈی کو کھینچ کر ماری جس کے بدلے میں جیڈی نے کولڈرنگ سے بھری بوتل زور سے اس کے منہ پر دے ماری باقی کے سارے اسٹوڈنٹس اپنی اپنی ٹیبل اور کرسیاں خالی کر کے دائرے کی شکل میں کھڑے ہوگئے جبکہ جیڈی اور رونی کے ساتھ ان دونوں کے دوست بھی ایک دوسرے کے ساتھ گُتھم گُتھا ہوتے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں کالج کی کینٹین میدانِ حشر کا سما پیش کرنے لگی ****