Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 7)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“آپ واپس اندر نہیں جاسکتی آگ بری طرح پھیل رہی ہے”
لوگوں کا ہجوم مال کے باہر کھڑا ہوا تھا پولیس وقت پر پہنچ گئی تھی اور فائر بریگیٹ کو بھی بلوا لیا گیا تھا ایک عورت روتی ہوئی اندر جانے کی کوشش کررہی تھی تب ایک پولیس والا اس سے بولا
“پلیز مجھے جانے دیں میرا بچہ اندر رہ گیا ہے”
وہ زار و قطار روتی ہوئی پولیس سے بولی اس کا شوہر بھی پولیس سے مستقل منتیں کررہا تھا بہت سے لوگ خوف سے کوئی زخمی ہونے کی وجہ سے رو رہا تھا ایمبولینس آنا شروع ہوگئی تھی ایمبولینس میں جلے ہوئے اور زخمی لوگوں کو بٹھایا جارہا تھا
ہر طرف افراتفری کا عالم تھا میڈیا کی گاڑیاں بھی وہاں پر پہنچ گئی تھی
پولیس میڈیا کی ٹیم کے ساتھ ساتھ لوگوں پر بھی قابو پانے کی کوشش کررہی تھی
“کس فلور پر گُم ہوا تھا آپ کا بیٹا کچھ اندازہ ہے آپ کو”
جہانگیر نے اس عورت کو تڑپتے ہوئے دیکھا تو اس کے ساتھ موجود اس کے شوہر سے پوچھنے لگا
“یہی اسی فلور سے سیڑھیاں اترتے ہوئے ہاتھ چھوٹ گیا تھا پلیز آپ ہماری ہیلپ کریں ہم آپ کے زندگی بھر مقروض رہیں گے”
وہ آدمی بےبسی سے جہانگیر کو دیکھتا ہوا بولا
ویسے ہی مال کے سیکنڈ فلور کا شیشہ ٹوٹا اور آگ میں لپٹا ہوا ایک وجود کھڑکی کے نیچے آگرا لوگوں میں چیخ و پکار مچ گئی خوف وہراس پھیلنے لگا نہ جانے کتنے لوگ اندر ابھی بھی پھنسے ہوئے تھے
“کیا کررہے ہیں آپ اندر جانا الاؤ نہیں ہے”
جہانگیر نے اندر کی طرف قدم بڑھائے تو انسپکٹر سخت لہجے میں اس سے گویا ہوا جہانگیر پاکٹ سے اپنا آئی ڈی کارڈ نکال کر پولیس کو دکھانے لگا
“سر اندر جانا کافی رسکی ہے آگ کافی تیزی سے پھیلتی ہوئی پوری بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے”
اب کی بار انسپکٹر سلوٹ مارتا ہوا جہانگیر کو نرمی سے بولنے لگا
“فائر بریگیڈ کی ٹیم کو دوبارہ کال کرو”
جہانگیر اسے مشورہ دیتا ہوا مال کے اندر آگ سے بچتا بچاتا ہوا چلا گیا نیچے والا فلور تقریباً پورا آگ کی لپیٹ میں موجود تھا چاروں طرف شاپس پر آگ لگی ہوئی تھی دھواں اتنا زیادہ تھا کہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا بچے کی رونے کی آواز پر جہانگیر پیچھے مڑا
“یہاں آؤ بیٹا”
جہانگیر 6 سالہ بچے کے طرف بھاگتا ہوا گیا جو ڈرا ہوا رو رہا تھا بچہ بھی ڈر کے مارے فوراً جہانگیر سے لپٹ گیا
“پلیز میری ہیلپ کرو کوئی”
جہانگیر نے بچے کو اٹھایا تب اسے روتی ہوئی کسی لڑکی کی آواز آئی جہانگیر نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا یہ اوپر سے آواز آرہی تھی جہانگیر بچے کو لےکر تھوڑی مشکل سے آگ سے بچتا ہوا باہر نکلا
“سر پلیز رکیں”
بچہ بھاگتا ہوا باہر آیا مگر جہانگیر کو دوبارہ مال کی طرف اندر جاتا دیکھ کر پولیس آفیسر چیخا تھا لیکن تب تک جہانگیر واپس اندر جا چکا تھا وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تب زوردار دھماکے کے ساتھ لکڑی کا بڑا سا تختہ داخلی دروازے کی طرف جاگرا جسے آگ نے پوری طرح لپیٹ میں لیا ہوا تھا
اب باہر نکلنے کا راستہ تقریباً بند ہوچکا تھا اور نیچے والا فلور پور آگ کی لپیٹ میں تھا
“پلیز کوئی مدد کرو مجھے بچالو”
دھواں بڑھنے کی وجہ سے جہانگیر کو دیکھنے میں مشکل پیش آرہی تھی سامنے ایک لڑکی جو الٹی فرش پر گری ہوئی تھی اس کی کمر کے اوپر بڑا سا ریگ گرا ہوا تھا وہ یقیناً جہانگیر کو ہی پکار رہی تھی جہانگیر بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا
“تم آگئے اب جلدی سے مجھے بچالو”
آغول جہانگیر کو دیکھ کر ایسے بولی جیسے اس کی جہانگیر سے کافی اچھی دوستی رہی ہو جبکہ جہانگیر اس بدمزاج اور مغرور لڑکی کے میٹھے لہجے پر غور کرنے کی بجائے اس ریک کو ہٹانے لگا جس کے نیچے اس کا آدھا دھڑ دبا ہوا تھا ریک میں موجود نیل میں آغول کی شرٹ پھنسی ہوئی تھی جہانگیر نے جھک کر دونوں ہاتھوں سے ریک ہٹایا تو آغول کی شرٹ پھٹ گئی
“آآآآ بےھودہ انسان تمیز ہے تم میں یا نہیں آنکھیں نیچی کرو فوراً اپنی”
وہ بدتمیز انسان آغول کی شرٹ پھار چکا تھا ابھی وہ اٹھ بھی نہیں پائی تھی کہ جہانگیر کی نظریں دیکھتی ہوئی چیخ کر بولی
“اوئے تمیز سے بات کرو تمہیں یہاں بچانے کے لئے آیا ہوں احسان مانو میرا اگر زیادہ بک بک کی تو دوبارہ اس ریک نیچے دبا کر واپس چلا جاؤں گا”
جہانگیر ساری شرافت بلائے طاق رکھتا ہوں اس سے بولا اور اپنی جیکٹ اتار کر اس لڑکی پر پھیکی جو اپنی زبان کے جوہر دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنواتی تھی آغول بہت مشکل سے بغیر کسی سہارے کے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی اب وہ جیکٹ پہنتی ہوئی جہانگیر کو دیکھ رہی تھی جو نیچے جانے کی بجائے سیکنڈ فلور کی طرف سیڑھیاں بڑھتا ہوا بھاری بھرکم سامان ہٹاتا ہوا اوپر جانے کا راستہ بنارہا تھا
اس فلور کی شاپز کو بھی آگ کی لپیٹ میں تھی آگ مزید تیزی سے بڑھ رہی تھی آغول کو آنکھوں میں اور ناک میں دھواں بھرتا ہوا محسوس ہورہا تھا وہ مسلسل کھانس رہی تھی بمشکل جہانگیر کے پاس آئی کیونکہ اس سے چلا بھی نہیں جارہا تھا اس کا سیدھا پاؤں بری طرح زخمی ہوچکا تھا
“جلدی سے یہاں سے چلو میں بالکل بھی مرنا نہیں چاہتی”
آغول روتی ہوئی جہانگیر کا بازو پکڑ کر بولی وہ ہر طرف آگ دیکھ کر خوفزدہ تھی جہانگیر نے ایک نظر اس کے روتے ہوئے چہرے پر ڈالی اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا
“باہر جانے کا راستہ نیچے فلور پر ہے”
آغول نے روتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی تھی لہجہ بھی سخت نہیں رکھا تھا اور اسے بیوقوف کہنے کی غلطی تو بالکل بھی نہیں کرسکتی تھی
“اگر نیچے سے جائیں گے تو سیخ کباب بن جائیں گے نیچے پورے فلور پر آگ پھیل چکی ہے اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہوچکا ہے کیا تم تھوڑا تیز نہیں چل سکتی”
جہانگیر اس کے رونے سے چڑتا ہوا بولا تھا
“نہیں میں بالکل تیز نہیں چل سکتی میرا پاؤں بہت درد کررہا ہے پلیز مجھے اٹھا لو”
اتنی ٹینشن زدہ سچویشن میں اس لڑکی کی انوکھی فرمائش پر جہانگیر نے گھور کر اسے دیکھا اب جہانگیر کو سمجھ میں آیا وہ آگ کے ڈر کے ساتھ ساتھ اپنے پاؤں میں درد کی وجہ سے بھی رو رہی تھی
“پاؤں زخمی ہوا ہے ٹوٹا نہیں ہے آرام سے خود ہی چلو”
جہانگیر اس ملکہ عالیہ کو دیکھتا ہوا بولا وہ یہاں اس کی ہیلپ کرنے کے لیے آیا تھا اور وہ لڑکی اسے اپنا نوکر ہی سمجھ بیٹھی تھی اب جہانگیر اس کا ہاتھ چھوڑ کر بازو پکڑ چکا تھا تھا
“اے لڑکی تیز چلو”
سیکنڈ فلور پر پہنچتے ہوئے جہانگیر نے اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا کیونکہ اس فلور پر نیچے فلور کی بانسبت زیادہ آگ پھیلی ہوئی تھی اسے وہاں سے جلدی نکلنا تھا مگر آغول نے جہانگیر کے گلے لگ کر زور زور سے رونا شروع کردیا جہانگیر کی نظر اس ڈیڈ باڈی پر گئی جو بری طرح جل چکی تھی آغول یقیناً اسی کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی تبھی وہ اس کو اپنے کندھے پر ڈال کر تیزی سے سیڑھیاں بڑھنے لگا
وہ آغول کو اٹھائے مال کی چھت پر پہنچ چکا تھا تب اس نے آغول کو نیچے اتارا اور کھلی فضا میں لمبے سانس لیتا ہوا آغول کو گھورنے لگا یہ خوبصورت فگر والا ایٹم صرف دیکھنے میں ہی نازک لگتا تھا تین فلور تک 48 کےجی کے لگ بھگ وزن کو اپنے کندھے پر ڈالے چڑھنا کوئی مذاق بات نہیں تھا
“او شکر خدا کا ہم بچ گئے اب ہم نیچے کیسے جائیں گے”
آغول مال کی چھت پر آکر بالکل ریلیکس تھی وہ نیچے لوگوں کا رش دیکھتی ہوئی جہانگیر سے پوچھنے لگی جو موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا ساتھ ہی نیچے کسی کو ہاتھ ہلاکر اشارہ بھی کررہا تھا
“ہاں مگر پہلے میڈیا کے کیمرے بند کرواو اور لوگوں کا ہجوم بھی دور کرو”
جہانگیر موبائل پر کسی سے بولتا ہوا آغول کو اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا
“کتنی اونچائی سے جمپ لگا سکتی ہو”
جہانگیر کی بات سن کر آغول کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
“مطلب کیا ہے تمہارا ہمیں یہاں پانچ منزلہ سے نیچے جمپ لگانی ہوگی”
آغول گھبراتی ہوئی جہانگیر کا چہرہ دیکھنے کے بعد اب نیچے دیکھنے لگی جہاں پر بڑے سے پیراشوٹ کی چادر کو کھولا جارہا تھا
“یہی آپشن ہے فائر برگیڈ کی گاڑی تو ابھی تک نہیں پہنچی”
جہانگیر کندھے اچکاکر نارمل لہجے میں بولا
“نہیں نہیں میں ایسے کیسے آآآآ چھوڑو مجھے تم پاگل ہوچکے ہو پر میں پاگل نہیں ہو”
آغول نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تبھی جہانگیر نے اس کی بات سنے بغیر اس کے دونوں بازو پکڑے اب وہ اس کے نخرے برداشت کیے بغیر اسے کھینچ کر دیوار تک لایا خود دیوار کے اوپر اچھی طرح پاؤں جمانے کے بعد وہ اس کو بازو سے پکڑ کر اوپر کھینچتا ہوا دیوار پر کھڑا کر چکا تھا
“آآآآ مجھے اپنے آپ سے بہت محبت ہے میں بالکل مرنا نہیں چاہتی”
آغول نے نیچے دیکھتے ہوئے چیخ کر کہا
“اگر نیچے پہنچ کر تم بچ گئی تو میں تمہارا گلا دبا کر تمہیں مار ڈالوں گا اب میرے کان پر چیخنا مت”
جہانگیر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتا ہوا چھلانگ لگانے سے پہلے آغول کو وارننگ دی تھی آغول نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی تھی
اسے خبر نہیں تھی کہ وہ چیخی یا نہیں چیخی مگر اسے لگ رہا تھا کہ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے ہوا کے زور سے اب اس کا دل بند ہونے لگا اسے لگا زمین سے اپنی طرف نیچے کھینچ رہی ہے ساتھ ہی اسے اپنا وجود ہلکا پھلکا محسوس ہوا مگر اس کے ہاتھ پر جہانگیر کے ہاتھ کی گرفت سخت تھی جسے وہ محسوس کرسکتی تھی دھب سے وہ پیراشوٹ کے اوپر گری ساتھ اسکے گرنے کے ایک اور بار آواز آئی اب زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجنے کی آوازیں سنائی دی جس پر آغول نے آنکھیں کھولی وہ دونوں شاید پوری عوام کے سامنے مرکزِ نگاہ تھے
جہانگیر اسکے چہرے پر گھبراہٹ اور خوف دیکھ کر پولیس والوں سے کہتا ہوا پبلک اور میڈیا والوں کو دور ہٹاتا ہوا آغول کا ہاتھ پکڑ کر اسے پولیس وین کی طرف لےکر آیا جہاں زیادہ رش نہیں تھا
“اوووو سوئیٹی تھینک گاڈ تم صحیح سلامت ہوں میں تو کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا”
جہانگیر نے مڑ کر دیکھا لوگوں کے ہجوم میں سے نکل کر وہی لڑکا جس کے ساتھ وہ مغرور اور بد دماغ لڑکی کو دیکھ چکا تھا ان دونوں کے پاس آیا
“سیفی”
آغول جہانگیر سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس کی طرف بڑھی
“پلیز بھائی کو یہاں پر فون کرکے بلاؤ جلدی سے”
وہ لڑکی اسکی جیکٹ پہنے شاید اب بھی خوف کے حصار میں تھی وہ روتی ہوئی اس لڑکے سے بول رہی تھی جہانگیر ان دونوں پر ایک نگاہ ڈال کر وہاں سے جانے لگا تب اس بچے کے والدین جہانگیر کے پاس آکر اس کا شکریہ ادا کرنے لگے جس بچے کی جان جہانگیر نے تھوڑی دیر پہلے بچائی تھی
****
“کوئی فکر ہے آپ کو ہماری کچھ احساس ہے آپ کو میرا اور دی جان کا اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو ہمارا کیا ہوتا”
دی جان جب جہانگیر کی اچھی خاصی خبر لینے کے بعد نماز ادا کرنے گئیں تو عینا نیوز چینل کی آواز بند کرتی ہوئی جہانگیر کی کلاس لینا اسٹارٹ کرچکی تھی نیوز چینل پر بار بار ایک لڑکی اور بچے کی جان بچانے کا کلپ چلا کر ایک بہادر افسر کے کارنامے کو سراہا جارہا تھا
“یار کیا ہوگیا تمہیں اور دی جان کو یہ سب میری جاب کا حصہ ہے”
جہانگیر ریموٹ اٹھا کر اسکرین آف کرتا ہوا بولا کیونکہ جب تک نیوز چینل لگا رہتا ان دونوں خواتین کا بھی ٹیپ مسلسل چلتا رہتا اب اسے معلوم تھا پورا مہینہ دی جان دن رات اس کا حفاظتی حصار کھینچ کر آیتیں پڑھ پڑھ کر اس پر پھونکتی رہے گی اور اس کی جان کا صدقہ دینے کا بھی سلسلہ دوبارہ چل نکلے گا جوکہ چند دنوں پہلے ہی بند ہوا تھا
“وہ آپ کی ڈیوٹی آورز نہیں تھے جس میں آپ اپنی جان مشکل میں ڈال کر ہیرو بنتے ہوئے سب کی جان بچارہے تھے”
عینا اسکے کف فولڈ کرتی ہوئی ڈیٹول میں ڈوبی ہوئی روئی سے اس کا بازو صاف کرتی ہوئی بولی جہانگیر کو تو یہ بھی یاد نہیں تھا یہ چوٹ اس کو کب لگی شاید اس لڑکی پر سے وہ بھاری ریک ہٹاتے ہوئے
“ڈیوٹی آورز نہیں تھے مگر انسانیت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے میں پوری کیلکولیشن کرکے ہی اندر گیا تھا بیس منٹ سے پہلے کسی بھی طرح وہاں سے باہر نکلنا تھا”
جہانگیر صوفے پر نیم دراز ہوکر دونوں پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھتا ہوا اپنی چھوٹی بہن کو مطمئن کرنے لگا جوکہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی اس کے ہاتھ پر بینڈیج کررہی تھی
“نام کیا ہے ویسے اس لڑکی کا کچھ دیکھی دیکھی سی لگ رہی ہے”
عینا جہانگیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“میں وہاں اس کی ہیلپ کرنے گیا تھا اس کا نام جاننے نہیں”
اگر جہانگیر عینا کو یہ بتادیتا کہ وہ تمہاری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے تو عینا بلاوجہ اس کا ریکارڈ لگانا شروع کردیتی اور دی جان کو یہ بات لازمی بتاتی کہ دال میں کچھ کالا ہے اور دی جان کو ایک بار پھر اس کی شادی کرنا یاد آجاتا
“ارے آپ نے اس کی جان بچائی اس نے آپ کو اپنا نام تو بتایا ہوگا یا آپ کا نام تو پوچھا ہوگا”
عینا حیرت کا اظہار کرتی ہوئی جہانگیر کو دیکھ کر بولی
“ایسی کوئی کہانی نہیں ہوئی عینا زیادہ دماغ مت کھاؤ اب”
جہانگیر سیریس ہوکر بولا کیونکہ وہ اس ٹاپک کو ختم کرنا چاہتا تھا
اس لڑکی میں تو مروت نام کی کوئی چیز نہیں تھی جب جان پر بنی ہوئی تھی تو کس طرح کہہ رہی تھی کہ مجھے گود میں اٹھالو اور جب جان بچ گئی تو کیسے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس لڑکے کے ساتھ چلی گئی
“اسکرین پر فیس تو کلیئر نہیں آیا مگر لگ رہا ہے خوبصورت سی ہوگی, کیوں”
عینا نے لقمہ دیتے ہوئے جہانگیر کی رائے لینی چاہی
“معلوم نہیں یار میں نے زیادہ غور سے نہیں دیکھا”
جہانگیر اس کا خوبصورت چہرہ یاد کرتا ہوا بولا چہرے کی خوبصورتی زبان کی کڑوی جہانگیر دل میں سوچتا ہوا خود سے مخاطب ہوا
“کیا بات کررہے ہیں بھائی اتنی خوبصورت لڑکی کو اتنے قریب سے دیکھا اس کی جان بچائی پھر بھی غور سے نہیں کیا کہ وہ خوبصورت ہے کہ نہیں میں مان ہی نہیں سکتی”
عینا کی بات سن کر جہانگیر گھور کر اس کو دیکھنے لگا
“کیا سمجھ رکھا ہے تم نے اپنے بھائی کو کوئی نظر باز ہو میں چھچھورہ یا لفنگا ٹائپ انسان ہوں جو لڑکیوں پر غور و فکر کروگا اور یہ بڑے بھائی سے اس طرح بات کی جاتی ہے چلو فوراً اٹھو اسڑونگ سی چائے بناکر لاؤ میرے لیے”
جہانگیر اس کو اچھی طرح گُھرکتا ہوا بولا تو عینا منہ پھلا کر صوفے سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی مگر پھر پلٹ کر جہانگیر کی طرف دیکھ کر مسکرائی
“میرا بھائی چھچھورا یا لفنگا ٹائپ کا انسان نہیں ہوسکتا مگر وہ اتنا بد ذوق بھی نہیں ہوسکتا آپ چاہے مجھے کتنا ہی ڈانٹ لیں میں ابھی بھی نہیں ماننے والی کے آپ نے اس لڑکی کو غور سے نہیں دیکھا ہوگا”
عینا بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی اور اس کے پیچھے جہانگیر مسکرانے لگا
عینا نے ٹھیک کہا تھا وہ اتنا بد ذوق ہرگز نہیں تھا اور اس کی قریب کی نظر تو دور کی نظر سے دس گناہ تیز تھی وہ لڑکی بھی بلاشبہ بہت خوبصورت تھی مگر اس کے ٹائپ کی ہرگز نہیں تھی جہانگیر لاشعوری طور پر آغول کے بارے میں سوچنے لگا
اسے وہ منظر یاد آنے لگا جب وہ لڑکی ڈر کر اس کے گلے لگی تھی فرسٹ ٹائم اس کی لائف میں کوئی لڑکی یوں ایک دم اس کے گلے لگی تھی پھر ہارٹ بیٹ کو تو ایک دم سے تیز ہونا ہی تھا اور فرسٹ ٹائم اس نے کسی لڑکی کو اسطرح اٹھایا تھا دماغ کو تو بوکھلاہٹ کا شکار ہونا ہی تھا نیچے کی طرف جمپ لگاتے ہوئے اس نے بےحد مضبوطی سے اس لڑکی کا ہاتھ تھامے رکھا تھا دل اور دماغ میں یہ بات بھٹاتے ہوئے کہ یہ ہاتھ اس کو بالکل نہیں چھوڑنا ہے اس نے وہ ہاتھ چھوڑا بھی نہیں بلکے اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ہجوم اور رش میں سے اس لڑکی کو نکالتا ہوا دور لے گیا پھر اس لڑکی نے خود اپنا ہاتھ جہانگیر سے چھڑالیا
“کس کو سوچ رہا ہوں میں اس کو تو ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا ہوگا”
جہانگیر سر جھٹک کر سوچتا ہوا دوبارہ ریموٹ اٹھاکر ایل ای ڈی آن کر چکا تھا
