Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 4)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“ضروری ہے اکرام بھائی کی شادی میں جانا کتنی ٹھنڈ ہے آج اور صبح آپ کو زکام بھی ہورہا تھا چھوڑیں نہ کینسل کریں وہاں جانے کا پروگرام”
عینا دی جان کے کمرے میں آ کر انہیں باریزے کے آف وائٹ کلر کے چکن کے سوٹ میں تیار دیکھتی ہوئی بولی
“ارے کیوں کینسل کرو پروگرام، کتنی محبت سے اکرام کی اماں بلا کر گئی تھی، آخر کو پرانے محلے میں ہمارے ساتھ رہے ہیں اتنے سالوں کا ساتھ ہے جب سے جہانگیر نے یہاں پر بنگلہ لیا ہے کوئی آس پڑوس ملتا ہی نہیں اور یہ بھی خوب کہی تم نے, اگر سردی ہو یا طبیعت خراب ہو تو کونسا دنیا کے کام رک جاتے ہیں اصولًا تو تمہیں بھی چلنا چاہیے میرے اور جہانگیر کے ساتھ”
دی جان عینا کو دیکھتی ہوئی بولیں تین دن پہلے ہی ان کے پرانے محلے سے شادی کا انویٹیشن آیا تھا جس میں دی جان جانے کے لیے کافی پرجوش دکھائی دے رہی تھیں جہانگیر ان دنوں کافی مصروف تھا مگر دی جان کی خوشی اور تیاری دیکھ کر اس نے اپنی مصروفیت میں سے ٹائم نکالا تھا
“دی جان میں کیسے جاسکتی ہوں بھلا سمسٹر اسٹارٹ ہونے والے ہیں میرے، پیپرز کی تیاری کرنی ہے مجھے”
عینا دی جان کیلئے کشمیری شال نکال کر انہیں تھماتی ہوئی اپنی مجبوری بتانے لگی
“بچے یہ تو تمہارا بچپن کا رونا ہے، تم پڑھائی کی جان چھوڑو تو پیپرز تمہاری جان چھوڑیں کہیں آو گی جاوگی تو ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ دی جان کی اتنی خوبصورت سی پوتی بھی ہے”
دی جان کی بات سن کر عینا کو ہنسی آئی کیونکہ اب دی جان کا فیورٹ ٹاپک اسٹارٹ ہونے والا تھا
“یہ غلط ہے دی جان آپ نے بھائی کو تو خوب پڑھایا لکھایا ہے میری باری میں آپ کو فوراً میری شادی یاد آ جاتی ہے۔۔۔ میں یہاں سے تب تک نہیں جانے والی جب تک بھائی میرے لئے ایک عدد پیاری سی بھابھی نہیں لے آتے”
عینا دی جان کو دیکھتی ہوئی بولی ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا
“یہ توپوں کا رخ میری طرف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں سنگل بندہ ہی اپنی لائف میں خوش اور مطمئن ہوں”
جہانگیر جوکہ دی جان کے کمرے میں داخل ہو رہا تھا عینا کی بات سن کر فوراً اس کو دیکھتا ہوا بولا
“تم دونوں بہن بھائی تو بالکل ہی دیوانہ ہو گئے ہو جو ایسی بات کر رہے ہو کان کھول کر سن لو اسی سال تم دونوں کی شادی کرواؤں گی بلکہ جہانگیر کے لئے تو آج کی تقریب میں کوئی لڑکی نظر آجائے کل ہی رشتہ لے کر جاؤں گی”
دی جان ان دونوں کی طرف دیکھ کر دھمکاتی ہوئی بولی اور اپنا پلان بتانے لگی جس پر جہانگیر دی جان کو حیرت سے دیکھنے لگا جبکہ عینا جہانگیر کی حیرت زدہ شکل لے کر مسکرانے لگی
“تو اکرام کی شادی میں آپ کے جانے کی اصل وجہ یہ تھی دی جان یعنیٰ حد ہوگئی”
جہانگیر افسوس سے نفی میں سر ہلاتا ہوا دی جان کو دیکھ کر بولا
“ارے حد کس بات کی ہو گئی ہے کوئی انوکھا کام ہے شادی سبھی کرتے ہیں دیکھنا تمہارے لئے ایسی خوبصورت لڑکی ڈھونڈو گی کے سب دیکھتے رہ جائیں گے”
دی جان اپنے پیارے سے پوتے کو دیکھتی ہی بولی جو آج کے تیز دور میں بھی دوسرے لڑکوں کی طرح ہر لڑکی کے پیچھے بھاگنے والا نہیں تھا
“آجکل خوبصورت لڑکیوں کی ڈیمانڈ اور دماغ بہت اونچے ہیں دی جان”
جہانگیر دی جان سے بولا ساتھ ہی اسے وہی بدتمیز اور مغرور لڑکی یاد آئی جو اسے آئینے میں شکل دیکھنے کا مشورہ دے رہی تھی یہ نہیں تھا کہ جہانگیر کو کسی قسم کا احساس کمتری تھا مگر اس سے پہلے کبھی کسی لڑکی نے اس سے اس طرح بدتمیزی نہیں کی تھی اگر دوبارہ کبھی اس لڑکی سے جہانگیر کا سامنا ہوتا تو جہانگیر نے اسے مزہ ضرور چکھانا تھا یہ اس نے سوچ رکھا تھا کیونکہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ وہ بھولتا تھا نہ چھوڑتا تھا
“تو عینا کا بھائی کونسا کم ہے لڑکیاں سارے جہاں میں ڈھونڈتی پھرے گی تو انہیں میرے بھائی جتنا ہینڈسم کوئی دوسرا نہیں ملے گا”
عینا جہانگیر کے سامنے آکر تفکر سے بولی جس پر جہانگیر مسکرانے لگا
“بےفکر رہو تمہارا بھائی بھی تمہارے لیے بہت ہینڈسم سا لڑکا ڈھونڈے گا”
جہانگیر عینا کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتا ہوا بولا تو عینا جھینپ گئی
“اوہو بھائی کیسی باتیں کررہے ہیں آپ بھی”
وہ اپنی جھینپ مٹاتی ہوئی بولی تو جہانگیر مسکرانے لگا
“چلیں دی جان واپسی جلدی کرنی ہوگی عینا دروازہ اچھی طرح لاک کرلینا”
جہانگیر ان دونوں کو بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا
****
وہ بڑے انہماک سے نوٹس میں سر دیے ہوئے پڑھائی میں مصروف تھی تب ڈور بیل بجی، اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا ساڑھے گیارہ بج رہے تھے عینا نے پاس رکھی ہوئی گرم شال اٹھاکر خود کو لپیٹا اور دی جان کی آمد کے خیال سے دروازہ کھولنے چلی گئی۔۔ جب لاونچ میں پہنچی تو اچانک لائٹ چلی گئی سامنے ہی ڈائینگ ٹیبل سے کینڈل اٹھا کر اسے جلاتی ہوئی دروازے تک پہنچی تاکہ دی جان کے لئے دروازہ کھولنے کے بعد جنریٹر آن کر سکے
جیسے ہی باہر کا دروازہ کھولا تو ہوا کا سرد جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا جس سے بےساختہ عینا نے جھرجھری لی، ہوا کے زور سے موم بتی بجھ چکی تھی جس کی وجہ سے عینا آنے والے کو نہیں دیکھ سکی
“کون”
وہ اندھیرے میں اپنے سامنے کھڑے شخص کو پہچان نہیں پائی تھی اس لئے آنے والے سے پوچھنے لگی
“روحان”
آنے والے نے اپنا نام بتانے کے ساتھ ہی لائٹر جلایا آگ کا شعلہ نکلنے کے ساتھ ہی سامنے کھڑے شخص کا چہرہ اسے نظر آیا، نام سن کر وہ بری طرح چونکی تھی اور اب روحان کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ بے یقینی سے دو قدم پیچھے ہٹی روحان گھر کے اندر داخل ہوا اور باہر کا دروازہ بند کیا اب وہ لائٹر کی مدد سے عینا کے ہاتھ میں موجود کینڈل جلا رہا تھا عینا ہاتھ میں کینڈل لیے سانس روکے اپنے سامنے کھڑے شخص کو کینڈل کی روشنی میں دیکھنے لگی جوکہ خود بھی عینا کا چہرہ بہت فرصت سے دیکھنے میں مصروف تھا یہ وہی روحان تھا جو اسے پھول بھیجتا تھا
****
جہانگیر دی جان کو لےکر بینکیوٹ میں پہنچا آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد وہاں رونما ہوئے واقعے سے لوگوں میں عجیب ہلچل مچ گئی
“سب خیریت ہے کیا ہوا ہے باہر”
جہانگیر لوگوں کی باتیں سن کر باہر جانے کا ارادہ کر رہا تھا راستے میں اکرام کا چھوٹا بھائی نظر آیا جو اس وقت باہر سے آرہا تھا جہانگیر اس سے پوچھنے لگا
“جہانگیر بھائی دس منٹ پہلے بڑی سی گاڑی یہاں سڑک سے گزری تھی گاڑی کے اندر موجود شخص کوئی بڑا سا سوٹ کیس پھینک کر گیا ہے یا معلوم نہیں شاید اس سے غلطی سے گر گیا ہو۔۔۔ اب لوگ اس سوٹ کیس کو دیکھ کر پریشان ہے نہ جانے اس میں کیا ہے”
اکرام کا بھائی جہانگیر کو دیکھ کر تفصیل سے بتانے لگا
جہانگیر وہاں پہنچا تو لوگوں کا رش لگا ہوا تھا اور سڑک کے بیچو بیچ ایک بلیک کلر کا بڑا سا سوٹ کیس پڑا ہوا تھا لوگ سوٹ کیس کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر رہے تھے کہ اندر کہیں کوئی پھٹنے والا مواد نہ ہو
“سب پیچھے ہٹو، خالی کرو جگہ کو”
جہانگیر زوردار آواز میں بولتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر انسپکٹر شکیل کو کال ملانے لگا اب وہ بیگ کے قریب جاکر اس کا چاروں طرف سے جائزہ لینے لگا اس نے بیگ کی زپ کے پاس گیلی سطح کو انگلی سے چھوا اور ناک کے پاس لے جا کر اسمیل کرنے لگا اندر کوئی زہریلا پھٹنے والا مواد نہیں تھا یہ خون کی اسمیل تھی بہت ممکن تھا کہ اندر کوئی دل دہلا نے والی چیز موجود ہوں مگر اس محکمے میں آ کر دل خودبخود سخت اور مضبوط ہو جایا کرتے ہیں
“سنائی نہیں دے رہا تم لوگوں کو خالی کرو روڈ”
جہانگیر پھر بلند آواز میں چیخا تھا کیونکہ اس کے بیگ کے قریب آنے سے لوگ بھی ہمت کرتے ہوئے قریب آرہے تھے ساتھ ہی پولیس کی وین بھی وہاں پر پہنچ چکی تھی جس میں سے پولیس نکل کر لوگوں کو پیچھے ہٹانے لگے
انسپیکٹر شکیل جہانگیر کے پاس پہنچا اور خود بھی بیگ کا معائنہ کرتا ہوا ربر کے گلفز پاکٹ سے نکالنے لگا
“گلفز مجھے دو”
جہانگیر کے بولنے پر انسپکٹر شکیل نے گلفز اس کی طرف بڑھائے وہ گلفز ہاتھ میں پہن کر سوٹ کیس کے پاس بیٹھا اور زپ کھولنے لگا زپ کھولنے کے بعد جیسے ہی سوٹ کیس کھلا تو اندر سے آتی بدبو کی وجہ سے ان دونوں کو اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا مگر اندر موجود لڑکی کی لاش دیکھ کر ان دونوں کی نظریں بھی جھک گئی
“اس سے پہلے میڈیا کی ٹیم آئے اور رش بڑھے، باڈی کو اچھی طرح کور کرو پوسٹ مارٹم کے لیے باڈی کو ہاسپیٹل پہنچانے کا انتظام کرو”
جہانگیر کی ہدایت پر شکیل “یس سر” کہتا ہوا اٹھا
جہانگیر نے ایک نظر دوبارہ اس لڑکی کی لاش پر ڈالی جسے معلوم نہیں بری طرح زیادتی کا نشانہ بناکر مارا گیا تھا یا پھر کسی دشمنی کے طور پر اسے مارنے سے پہلے اذیت دی گئی تھی اس کے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے کپڑے اور جسم پر موجود رسی اور تاروں سے باندھنے کے نشان موجود تھے اس کے جسم کو جگہ جگہ سے جلایا اور کاٹا گیا تھا اس کے جسم پر موجود نشان لڑکی کے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کی درد ناک کہانی اپنے منہ سے بیان کررہے تھے مگر جس چیز پر جہانگیر دوبارہ اس لڑکی کی لاش کو دیکھنے پر مجبور ہوا تھا وہ اس لڑکی ہی کمر پر موجود ٹیٹو تھا جو(k ) کی صورت اس کی کمر پر چسپاں تھا
****
ایک ماہ پہلے ہونے والے یونیورسٹی کے فنکشن میں بطور گیسٹ منصور ملک کو بلایا گیا تھا مگر مصروفیت کے باعث منصور ملک کی بجائے یونیورسٹی میں روحان منصور نے شرکت کی تھی اسی فنکشن میں عینا نے اسٹیج پر اسپیچ بھی کی تھی عینا کو یاد آیا یہ وہی روحان منصور تھا تو کیا یہ اسے بُکے بھیجتا تھا, عینا کا دماغ اس کی طرف کیوں نہیں گیا وہ کینڈل ہاتھ میں لیے روحان کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی
“یہاں کیوں آئے ہیں آپ”
عینا اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی، اسے اپنے سامنے دیکھ کر عینا کو عجیب گھبراہٹ ہو رہی تھی
“کل آپ نے فلاورس لینے سے انکار کردیا تو سوچا آج خود آپ کے سامنے آکر آپ سے وجہ پوچھ لو اور اچھا ہے آپ مجھے دیکھ لیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں فلور دینے کے قابل ہو بھی کے نہیں”
روحان کینڈل کی روشنی میں اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جس چہرے کو ایک دفعہ دیکھنے کے بعد ہر روز وہ اسے خیالوں میں سوچتا رہتا آج وہ اس چہرے کو پہلی بار بےحد قریب سے دیکھ رہا تھا
“آپ فلاورز کیوں بھیجتے ہیں مجھے”
عینا ڈرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی وہ جانتی تھی “اس قابل” والی بات وہ طنزیہ کہہ رہا ہے اس کے ڈرائیور نے اسے عینا کی ہوئی بات بتائی ہوگی مگر سچ تو یہ تھا کہ سامنے کھڑا ہوا وہ ہینڈسم سا بندہ ہر لحاظ سے قابل تھا عینا چور نظروں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اپنی نظریں جھکا گئی
“اچھی لگی تھیں آپ مجھے تو سوچا روبرو یہ بات بتانے سے پہلے پُھولوں کا سہارہ لےلیا جائے سنا ہے پُھول بھی حالِ دل بیان کردیتے ہیں تو سوچا شاید آپ بھی میرے دل کی بات پُھولوں کے ذریعے سمجھ جائیں”
روحان دلچسپی سے اس کے چہرے پر نظر ٹکائے بول رہا تھا جبکہ عینا اسے حیرت سے دیکھنے لگی کوئی بھلا پہلی ملاقات میں یوں لڑکی سے اپنا حال دل بیان کرتا ہے
“میرے علاوہ اور کتنی لڑکیوں کو اس طرح بُکے بھیجوا کر حالِ دل بیان کرچکے ہیں آپ”
عینا کو اپنے اوپر اس کی جمی ہوئی نظر صاف محسوس ہورہی تھی، اتنا امیر اور ہینڈم شخص یقیناً وہ اس سے فلرٹ کررہا ہوگا تھا جبھی عینا روحان کو دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے پوچھنے لگی مگر عینا کی بات سن کر روحان نے جاندار قہقہہ لگایا
“اطمینان رکھیے، آپ خاتونِ اوّل ہیں مس عینا، جسے دیکھ کر میرے دل میں آپ کو پُھول بھیجنے کی خواہش جاگی اگر آپ یہ سوچ رہی ہیں کہ میں آپ سے فلرٹ کررہا ہوں تو میری لائف کافی بزی ہے ان خرافات میں پڑھ کر میں وقت ضائع کرنے والا انسان نہیں ہوں بلکہ ہر بات کو سیدھے اور آسان لفظوں میں بیان کرنا میری عادت ہے آپ مجھے اچھی لگی تو میرا دل چاہا آپ کو اپنے دل کی بات سے آگاہ کرو اگر میں بھی آپ کو اچھا لگا تو آپ مجھ سے موبائل پر بات کرسکتی ہیں میں آپ کی کال کا ویٹ کرو گا”
روحان کے بولتے ہی اچانک لائٹ آگئی اور کمرہ ایک دم روشن ہوا روحان نے پھونک مار کر کینڈل بجھائی اور عینا کے ہاتھ سے لےکر اسے سائڈ میں رکھی چھوٹی سی میز پر رکھ دی اب وہ اپنی پاکٹ سے ایک کارڈ نکال کر عینا کی طرف بڑھانے لگا
“اور اگر میں نے آپ کو کال نہیں کی تو”
عینا نے ایک نظر اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ڈالی پھر وہ اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی عینا کی بات سن کر روحان کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ رینگی
“تو پھر میں دوبارہ آپ سے ملنے آپ کے گھر پر آؤ گا مگر اگلی بار یہ اطمینان کروانے کے بعد کے آپ کی فیملی بھی گھر پر ہی موجود ہو”
روحان اس کا نازک ہاتھ تھام کر اسے کارڈ پکڑاتا ہوا مسکرا کر بولا جس پر عینا اسے گھورنے لگی
“مطلب آپ ڈرا رہے ہیں یا بلیک میل کررہے ہیں مجھے”
عینا کو اس پر غصہ آیا تھا جس کی پروا کرتے ہوئے روحان اپنی مسکراہٹ چھپا گیا
“نہ میں آپ کو ڈرا رہا ہو اور نہ ہی بلیک میل کررہا ہو مجھے پورا یقین ہے آپ مجھے کال کریں گیں”
روحان کے لہجے میں یقین تھا جسے دیکھ کر عینا کو حیرت ہوئی وہ جانے کے لیے مڑا اور دروازے پر پہنچ کر پلٹ کر دوبارہ عینا کو دیکھنے لگا
“عینا میں وقت گزاری کرنے والا انسان نہیں ہوں اپنے جذبوں میں کھرا ہو، میں شدت سے آپ کی کال کا انتظار کرو گا”
روحان ایک نظر عینا کو دیکھتا ہوا بولا اور دروازے سے باہر نکل گیا عینا گھر کا دروازہ بند کرنے کے بعد اپنے ہاتھ میں موجود کارڈ دیکھ رہی تھی جو اسے روحان پکڑا کر گیا تھا
