Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 17)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“منصور کیا کررہے ہیں جوان بیٹی پر
ہاتھ اٹھائیں گے پیچھے ہٹے”
تھوڑی دیر پہلے فاطمہ ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل جاکر آغول کو گھر لےکر آئی تھی اور ساتھ ہی اس نے منصور کو بھی انفارم کردیا تھا کہ وہ گھر پہنچ جائے آغول اب گھر پر موجود ہے منصور گھر پر پہنچ کر آغول کے کمرے میں داخل ہوتا ہوا غصے میں اس کی طرف بڑھا۔۔۔ وہ ہاتھ اٹھانے ہی والا تھا تب فاطمہ اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی
“تمہاری ڈھیل کا نتیجہ ہے جو یہ لڑکی اس مقام تک پہنچی ہے آنکھیں دیکھو اس کی کیسے دیکھ رہی ہے اسے کوئی شرمندگی یا ندامت ہی نہیں ہے اپنی حرکت پر”
منصور اب کی بار تیز آواز میں بیوی پر چیخا تو آغول نے خفت سے چہرہ جُھکالیا۔۔۔ روحان شور کی آواز سن کر اپنے کمرے سے نکل کر آغول کے کمرے میں آچکا تھا
“دیکھ تو رہے ہیں آپ, کتنی چوٹ لگی ہے اس کو وہ شرمندہ ہے معافی مانگے گی آپ سے پلیز آپ اپنے کمرے میں جائیں اس وقت”
فاطمہ شوہر کے غصے کو ٹھنڈا کرتی ہوئی نرمی سے بولی
“کیا ہوگیا آپ دونوں کو اور یہ پیر پر کیسے لگی تمہارے”
روحان پہلے ماں باپ کو دیکھتا ہوا بولا پھر آغول کے پاس آکر فکرمندی سے پوچھنے لگا وہ آغول سے ناراض تھا مگر وہ بہن تھی اس کی اس کے پلاسٹر چڑھے پیر کو دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا
“اس سے نہیں مجھ سے پوچھو بلکہ یہ پڑھو خود معلوم ہوجائے گا تمہاری بہن کیا کارنامہ کرنے جارہی تھی”
منصور غصے میں اپنی جیب سے پرچہ نکال کر روحان کو تھماتا ہوا بولا
“گھر سے بھاگ رہی تھی صبح صبح، تب اس کا ایکسیڈنٹ کسی لڑکے کی گاڑی سے ہوا اس نے اسے بروقت اسپتال پہنچاکر ہمہیں اس کے بارے میں انفارم کیا”
روحان کے پرچہ پڑھنے کے ساتھ ہی منصور اسے آگے کی کہانی بتارہا تھا جس پر آغول حیرت سے باپ کو دیکھنے لگی یعنی اس آفیسر نے اس کے گھر والوں کو انفارم کیا تھا روحان کو پورا قصہ سمجھ میں آگیا وہ غصے میں آغول کو دیکھنے لگا
“ہاں۔۔۔ اب آپ بھی غصہ کرے مجھ پر مار ڈالیں مجھے… کسی لڑکے کے ساتھ نہیں بھاگ رہی تھی میں، یونیورسٹی کے ساتھ جارہی تھی ٹرپ پر، معلوم نہیں مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو آپ لوگ اس طرح کا سلوک کررہے ہیں میرے ساتھ”
آغول روحان کو دیکھتی ہوئی بولی
“سنی تم نے اس کی بات فاطمہ اسے اپنی غلطی کا احساس تک نہیں ہے بجائے اس کے کہ یہ اس بات پر شرمندہ ہو کہ یہ گھر سے بغیر کسی کو بتائے دس دن کے لئے جارہی تھی الٹا اپنے گناہ ہم سے پوچھ رہی ہے۔۔۔ مسز فردوس نے پچھلے سال اپنے بیٹے طلال کے لیے اسے مانگا تھا آج انہیں فون کرو اور اس کا رشتہ ڈن کرو وہی۔۔ میں اب اس کی شادی جلد سے جلد کرنا چاہتا ہوں اور اس بات پر کوئی مجھ سے بحث نہیں کرے گا”
منصور غصے سے میں فاطمہ کو کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا اور روحان بھی ناراض نظر آغول پر ڈال کر اپنے کمرے سے چلا گیا
“مما سن لیں میں اس مرد نما عورت سے ہرگز شادی نہیں کرو گی”
آغول روتی ہوئی چیخ کر بولی اور فاطمہ اپنا سر پکڑ کر وہی اس کے کمرے میں بیٹھ گئی
****
آج پانچ دن ہوچکے تھے اسے عینا کی آواز سنے ہوئے ایک عجیب سی کیفیت عجیب بیزاری وہ اپنی طبیعت میں محسوس کررہا تھا اگر وہ اس کی بات مان جاتی تو کیا ہوتا محبت کرتی تھی وہ اس سے تو بھائی کے مخالف جاکر شادی کیوں نہیں کرسکتی تھی رشتہ تو وہ لےکر گیا تھا عزت دار طریقے سے مگر اس کے بھائی نے کیا کیا
اور وہ کونسا بعد میں ظالم شوہر ثابت ہوتا جو اسے اس کے بھائی سے اور گھر والوں سے ملنے نہیں دیتا معلوم نہیں یہ بیزاری کی کیفیت یہ اداسی، وہی محسوس کررہا ہوں یا عینا بھی اسکے بغیر اداس ہورہی ہوگی روحان نے سر کو جھٹکتے ہوئے اپنی سوچوں کو بھی جھٹکا تھا
“بلاوجہ کی ضد بنارہی ہو… اب دیکھنا میں کیا کروں گا”
خیالوں میں عینا کا چہرہ نظر آیا تو روحان عینا سے بولا کار کی کیز اٹھاکر آفس سے اٹھتا ہوا وہ الکینگ ہوٹل کے لئے نکلنے لگا
****
“کیا کہہ رہا تھا وہ کمشنر”
کاشف زیری کو اپنے پکڑے جانے والے مال کا شدید غصہ تھا کتنی بھاری مقدار میں اس نے باہر سے کوکین منگوائی تھی جوکہ پولیس کی چیکنگ میں پکڑی گئی تھی اس لئے غصے میں اس نے کمشنر کی بھونڈی وضاحتیں سننے کے لئے کال ریسیو نہیں کی
“سر کمشنر کہہ رہا تھا چیکنگ کے وقت ایس۔پی جہانگیر وہاں موجود تھا اسی کے آرڈرز پر ٹرک کی تلاشی لی گئی مگر کمشنر نے ساتھ میں یہ بھی اطمینان دلایا کہ آپ کا نام کہیں نہیں آیا کمشنر نے آگے سے بات سنھبل لی ہے اور ڈرائیور کو بھی کمشنر نے اپنی تحویل میں لےلیا ہے”
جنید کاشف زیری کو بتانے لگا
“یہ وہی ایس۔ پی ہے نا۔۔۔ جس نے ہوٹل میں بھی ریڈ ڈالی تھی۔۔۔ بہت اچھل رہا ہے لگ رہا ہے اس کو سبق سکھانا پڑے گا معلوم کرو اس کے آگے پیچھے کون ہے”
کاشف زیری جنید کو دیکھتا ہوا بولا
“سر معلومات تو میں اس کی تب ہی لے چکا تھا جب اس نے ہوٹل میں ریڈ دلوائی تھی۔۔۔ ایک بڑھیا اور ساتھ میں جوان بہن گھر میں موجود ہے اس کے۔۔۔ اور وہ جوان ہونے کے ساتھ ساتھ کافی خوبصورت بھی ہے”
جنید نے کاشف زیری کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا
“اگر جوان ہے اور خوبصورت ہے تو وہ ایس۔پی کے گھر پر کیا کررہی ہے بھئی۔۔ یہاں لےکر آؤ ایس۔پی کی بہن کو، زرا بلیک کینگ بھی تو قریب سے دیکھے کہ وہ کتنی خوبصورت ہے”
کاشف زیری نے خباثت سے ہنستے ہوئے جنید سے کہا
“اسی وقت آدمیوں کو بھیجتا ہوں سر”
جنید کاشف زیری سے کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا
“آؤ ینگ مین، تم نے تو بہت دنوں بعد اپنی شکل دکھائی”
کاشف زیری روحان کو دیکھتا ہوا بولا
“مال تو آپ کا باحفاظت پہنچ گیا کوئی کام تھا آپ کو”
روحان صوفے پر بیٹھتا ہوا کاشف سے پوچھنے لگا
“اب ہم دونوں کے بیچ صرف مال اور کام کی ہی باتیں ہوگی۔۔۔ اپنی اداسی کی وجہ بتاؤ”
کاشف زیری اس کا چہرہ جانچتا ہوا پوچھنے لگا
“آپ کو کس نے کہا میں اداس ہو، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے”
روحان مزید ریلیکس ہوکر بیٹھا مسکراتا ہوا بولا
“ایک عمر گزار چکا ہوں میں ینگ مین۔۔۔ اس وقت جو تمہاری آنکھیں میں اداسی ہے وہ تم میرے سے نہیں چھپاسکتے میرے خاص بندے ہو تم، چلو آج میں تمہاری اداسی چند لمحوں میں غائب کر دیتا ہوں”
کاشف زیری نے بولنے کے ساتھ وائن سے بھرا ہوا گلاس منہ کو لگایا
“وہ کیسے”
روحان کے پوچھنے پر کاشف زیری معنی خیزی سے مسکرایا
“جاؤ جنید روزی کو بلاکر لاؤ”
کاشف زیری جنید کو دیکھتا ہوا بولا جو دوبارہ کمرے میں آیا تھا
“آج تمہیں میری دوستی اور اپنی اہمیت کا اندازہ ہوجائے گا ینگ مین روزی وہ بلا ہے جس کو بلیک کنگ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا مگر آج شام تم اس کے ساتھ گزار سکتے جتنی دیر چاہو”
کاشف زیری کی بات سن کر وہ ایکدم گڑبڑایا
“آپ معلوم نہیں کیا سمجھ رہے ہیں میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا آپ پلیز جنید کو منع کریں”
روحان کاشف زیری کو دیکھتا ہوا بولا
“ینگ مین میری ایک بات یاد رکھنا اگر تمہیں لائف میں آگے بڑھنا ہے تو کبھی بھی کسی کو اپنی کمزوری مت بنانا۔۔۔ دل بہلانے اور خوش رہنے کے لئے دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک سامان ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے تمہاری حرکات پر نظر رکھی ہوئی ہے مگر تمہاری مجنوں والی شکل دیکھ کر میں تمہیں یہ مشورہ دے رہا ہوں عورت صرف استعمال کرنے کی چیز ہے عشق کرنے کی نہیں”
کاشف زیری کی بات سن کر روحان خاموش ہوگیا
تھوڑی دیر میں وہاں روزی آگئی روحان بلیک کینگ کو دیکھنے لگا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“روزی آج شام کو تمہیں روحان کا دل خوش کرنا ہے اس کی ساری اداسی ساری فکریں اپنے حسن کے جادو سے غائب کردو جاؤ ینگ مین انجوائے کرو”
کاشف زیری روحان کو معنی خیزی سے دیکھتا ہوا آنکھ مار کر بولا روحان نے روزی کو دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
****
کیا عینا سے اس طرح بدلہ لینا ٹھیک ہے چند پل کے لیے وہ عینا کو نظرانداز کرکے روزی کے ساتھ۔۔۔ روحان روزی کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا جو کہ اب کمرے کا دروازہ بند کرکے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھا ہوا اپنے سامنے کھڑی اس حسین دوشیزہ کو دیکھ رہا تھا جو حُسن کی دولت سے مالا مال تھی روزی روحان کے سامنے ایک ادا سے جُھک کر اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی اسے صوفے اٹھانے لگی۔۔۔ روحان ٹرانس کی کیفیت میں چلتا ہوا اس کے ساتھ بیڈ تک آیا اسے ہوش تب آیا جب روزی نے اسے بیڈ پر دھکا دیا وہ پیر نیچے لٹکائے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا روزی معنیٰ خیزی سے اسے دیکھتی ہوئی اپنے لونگ کوٹ کے بٹن کھولنے لگی جس کے اندر اس نے نیم عریاں لباس پہنا ہوا تھا روحان کو اس کا خوبصورت جسم دیکھ کر عجیب وحشت ہونے لگی مگر اس کے دل و دماغ میں ایک عجیب جنگ چھڑی ہوئی تھی روزی اس کے اوپر جُھک کر اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی روحان کا دل چاہا وہ اسے پیچھے ہٹادے کیوکہ یہ اپنی محبت سے بےوفائی تھی مگر وہ ایسے کر نہیں پایا بلکہ اپنی آنکھیں بند کرلیں آنکھیں بند کرتے ہی اسے عینا کا چہرہ نظر آیا وہ خفا تھی اس سے۔۔۔ روحان نے ایک دم آنکھیں کھولی تو روزی کو اپنے اوپر جھکا پایا وہ اس کے سینے پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی
“ڈونٹ ڈو دس”
اس نے روزی کو یہ سب کرنے سے منع کیا وہ اس معاملے میں عینا سے بےایمانی نہیں کرسکتا تھا مگر روحان کی بات کا روزی پر اثر نہیں ہوا اس نے روحان کے سینے پر اپنے ہونٹ رکھیے
“موو بیک”
روحان نے چیختے ہوئے روزی کو پیچھے ہٹایا اور اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا
“ظالم مت بنو روحان کاشف آج ایس۔پی جہانگیر کی بہن کے ساتھ مصروف ہوگا میں یہ چند حسین پل تمہارے ساتھ گزارنا چاہتے ہو”
روحان کو بیڈ سے اٹھتا دیکھ کر روزی اس کی طرف لپکتی ہوئی بولی جنید جب اسے لینے پہنچا تھا تو اس نے روزی کو آج رات کاشف کا بھی پروگرام بتادیا تھا اور اسے اس کا کام بھی بتادیا تھا
“کیا بکواس کررہی ہو”
روحان اس کی بات سن کر غصے میں بولا اور روزی کا ہاتھ جھٹکا جوکہ اس نے روحان کے گرد حمائل کیا ہوا تھا
“بکواس نہیں بالکل سچ ہے جنید نے خاور اور زبیر کو بھیجا ہے ایس پی کی بہن کو اٹھوانے کے لیے یہ لمحات یوں ضائع مت کرو میری تڑپ کو سمجھو”
روزی روحان کا گریبان پکڑتی ہوی بولی روحان نے اپنے گریبان سے روزی کے ہاتھ ہٹائے اور غصے میں کمرے سے باہر نکل گیا
****
عینا دی جان سے لائبریری کا کہہ کر نکلی تھی جو کہ گھر کے قریب ہی موجود تھی وہ بکس ایشو کروا کر واپس آرہی تھی تب اچانک ایک گاڑی بالکل اس کے قریب آکر رکی
عینا ایک دم پیچھے ہوئی گاڑی کا دروازہ کھلا اور تیزی سے اس میں سے آدمی باہر آیا جو عینا کو بازو سے پکڑتا ہوا اسے زبردستی گاڑی میں بٹھانے لگا
“کیا کررہے ہو چھوڑو مجھے”
عینا چیختی ہوئی اس آدمی کو بولی
“چل بیٹھ گاڑی میں”
اس آدمی نے تھپڑ عینا کے گال پر مارتے ہوئے کہا اور کھینچتا ہوا اسے گاڑی میں بٹھایا فوراً گاڑی اسٹارٹ کردی گئی
کیا یہ روحان نے کروایا ہے عینا کو سوچتے ہوئے خوف آنے لگا اس نے اپنے بیگ سے موبائل نکالنا چاہا تو اس آدمی نے عینا سے بیگ چھین لیا
“چلاک بن رہی ہے میرے سامنے، اگر کوئی بھی چلاکی کی نہ تو یہی کاٹ کر پھینک دوں گا تجھے”
اس آدمی کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر عینا سہم گئی
“مال اچھا ہے اڈے پر لے جانے سے پہلے کیوں نہ ہم بھی ہاتھ صاف کرلیں، کیا بولتا ہے”
کار چلاتا ہوا موٹا آدمی کار کے شیشے سے اپنے ساتھی کو دیکھتا ہوا کہنے لگا عینا کے برابر میں بیٹھا ہوا آدمی اس کو ہوس بھری نظروں سے دیکھنے لگا
“آئیڈیا برا نہیں ہے گاڑی راشد کے گیراج میں لے لے”
عینا کے پاس بیٹھے ہوئے آدمی نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے آدمی کو مشورہ دیا عینا کو ان دونوں کی باتیں سن کر گھبراہٹ ہونے لگی
“دیکھیے پلیز آپ لوگ میری رو”
عینا نے روتے ہوئے بولنا چاہتا تبھی وہ آدمی عینا کے پیٹ پر چاقو کی نوک رکھ چکا تھا
“خاموشی سے بیٹھ”
وہ آدمی اس کو دھمکاتا ہوا بولا تو عینا بری طرح لرزنے لگی اس چاقو کے خوف سے نہیں بلکہ اپنے انجام سے۔۔۔ گاڑی گیراج کے اندر داخل ہوئی گیراج کا شرٹر نیچے گرا دیا گیا
“آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دیں خدا کے لیے”
عینا نے روتے ہوئے ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑے تھے جو اس کو کھینچ کر گاڑی سے اتار رہے تھے
“دیکھ شرافت سے مان جا ویسے بھی تیری خوبصورتی دیکھ کر سر کے استعمال کے بعد آگے تیری بولی لگنے والی ہے”
موٹے آدمی نے بولتے ہوئے عینا کا دوپٹہ کھینچا جس سے وہ چیختی ہوئی بند شرٹر کی طرف بھاگی جس کو تالا نہیں لگایا گیا تھا
وہ اپنے دل میں سورتیں پڑھنے کی بجائے باآواز سورتیں پڑھنے لگی شاید ان دونوں کو اس پر رحم آجائے اور وہ ترس کھا کر اسے چھوڑ دیں کیونکہ وہ دو آدمی تھے اس لیے اسانی سے عینا کو فوراً قابو میں کرچکے تھے
“بھائی۔۔۔ بھائی”
اسے معلوم تھا جہانگیر اس کے پاس نہیں آسکتا تھا مگر وہ خدا کو یاد کرنے کے بعد اپنے بھائی کو ہی پکار سکتی تھی عینا ان دونوں سے اپنا آپ چھڑانے لگی جو اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی کی طرف لے جارہے تھے وہ مسلسل چیختی ہوئی جہانگیر کو پکار رہی تھی
ان دونوں نے عینا کو بازوؤں سے پکڑ کر کار کے بونٹ کے اوپر لٹا دیا
کیا یہ سب اس کے ساتھ روحان کے آدمی کرنے لگے ہیں عینا کے دل میں خیال آیا
“روحان۔۔۔۔ روحان”
اب وہ زور زور سے چیخ کر روحان کو پکارنے لگی
موٹا آدمی عینا کے اوپر جھکنے ہی والا تھا تبھی شرٹر کسی نے اوپر کھینچا اور تیزی سے اندر آکر شرٹر کو دوبارہ بند کردیا
موٹا آدمی پلٹ کر آنے والے کو دیکھنے لگا دوسرے آدمی نے بھی عینا کے دونوں بازوں کو چھوڑ دیا عینا فوراً اٹھ کر کھڑی ہوگئی
وہ جو بھی کوئی تھا اس نے بلیک کلر کی پینٹ کے اوپر بلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی سر بالوں سے لےکر چہرے تک کالے رنگ کا کپڑا ماسک کی صورت پہنا ہوا تھا صرف دو آنکھیں اس کی نظر آرہی تھی وہ چلتا ہوا ان تینوں کے قریب آنے لگا
“کون ہے بے تو، چہرہ دکھا اپنا”
عینا کے قریب کھڑا آدمی اس نقاب پوش سے بولنے لگا نقاب پوش نے اپنا ہاتھ پیچھے کمر کی طرف لے جاکر بیلٹ ہولسٹر سے پسٹل نکالی اور بولنے والے کے سامنے پسٹل کا رخ کیا اسے دوبارہ کچھ بولنے کی مہلت دیئے بغیر نقاب پوش نے فائر کیا اور گولی اس آدمی کے سر پر جالگی
“آآآآ”
خوف کے مارے عینا کے منہ سے چیخ نکلی جہانگیر کے پاس گھر میں موجود پسٹل ریوالور اس نے ہزار دفعہ دیکھی تھی مگر آج اس سے اپنی آنکھوں کے سامنے مرڈر ہوتا وہ پہلی بار دیکھ رہی تھا جسے دیکھنے کے بعد عینا بری طرح خوف سے لرزنے لگی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ موٹا آدمی بھی خوفزدہ تھا نقاب پوش اب اپنی پسٹل کا رخ موٹے آدمی کی طرف کرچکا تھا اس نے پھرتی سے عینا کو پکڑ کر اپنے آگے کھڑا کیا
“میرے قریب مت آ ورنہ اس لڑکی کی گردن مروڑ دوں گا”
موٹا آدمی نقاب پوش کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر دھمکی دینے لگا جس سے وہ ایک ہی جست میں بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا عینا کو بازو سے پکڑ کر دھکا دیا اور اس موٹے آدمی کی گردن اپنے ایک ہاتھ سے دبوچ کر اسے پیچھے کار کے بونٹ پر لٹا دیا۔۔۔ وہ موٹا آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی گردن چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا
“مم۔۔۔ مجھے معاف کردو”
موٹا آدمی اس سے بولا مگر نقاب پوش نے اپنی پسٹل کو اس آدمی کے ماتھے پر رکھ کر فائر کیا
“اآآآ”
عینا اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھکر دہشت سے دوبارہ دیوانہ وار چیخ رہی تھی وہ اب عینا کی طرف مڑا
“ششش”
ہاتھ کی انگلی کو اپنے ہونٹوں پر رکھ کر اس نے عینا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پسٹل کو واپس کمر کے پیچھے بیلٹ ہولسٹر میں رکھتا ہوا وہ اپنے دونوں ہاتھ سرینڈر کی صورت اوپر کرتا اس کے پاس آنے لگا
اسے لگا عینا پسٹل دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی مگر عینا ابھی بھی خوفزدہ ہوکر اس نقاب پوش کو دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے بغیر ڈرے دو آدمیوں کی جان لے چکا تھا تن پر دوپٹہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے دونوں ہاتھ سینے رکھتی ہوئی پیچھے کی طرف قدم اٹھانے لگی۔۔۔ اس کے پاس اس کا دوپٹہ موجود نہیں تھا سامنے والے کی نیت کیا تھی اسے نہیں معلوم تھا مگر اسے لگا آج اگر وہ بےآبرو ہوئی تو وہ جی نہیں پائے گی
جس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ چھپاتی ہوئی رو رہی تھی نقاب پوش کے قدم وہی رک گئے وہ چاروں طرف نظر دوڑاتا ہوا اسکا دوپٹہ دیکھنے لگا جو کہ گاڑی کے پاس نیچے ہی پڑا تھا
وہ بھاگتا ہوا اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کی طرف بڑھنے لگا عینا اب بھی اسی پوزیشن میں کھڑی روتی ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے قدم اٹھانے لگی وہ کافی ڈری ہوئی تھی شاید جو تھوڑی دیر پہلے اس کے ساتھ ہوچکا تھا وہ کسی پر بھی اعتبار نہیں کرسکتی تھی نقاب پوش نے عینا کا دوپٹہ کھول کر اس کے کندھوں پر ڈال دیا
عینا روتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جسکی آنکھوں کے سوا اسے کچھ نہیں دکھ رہا تھا وہ اس کے سامنے بالکل خاموش کھڑا تھا پھر اس نے عینا کے گال سے آنسو صاف کرنے چاہے اسے اپنی طرف ہاتھ بڑھاتا دیکھ کر عینا ڈر کے مارے پیچھے ہوئی مگر اب وہ حیرت سے اس کی آنکھوں کو دیکھ رہی تھی
نقاب پوش دوبارہ اس کے آنسو صاف کرنے لگا اس کے ہاتھوں کا لمس اجنبی ہرگز نہ تھا عینا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس کا نقاب ہٹانا چاہا،، اس نے فوراً عینا کا ہاتھ پکڑ کر نفی میں سر ہلایا وہ اسے اپنا چہرہ دکھانے کو تیار نہ تھا
“رو۔ ۔۔ حا۔ ۔ن”
عینا روتی ہوئی بولی اور کانپتے ہوئے اس نے روحان کا نام لیا تھا تب اس نے عینا کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کے لیے کہا عینا کو پورا گیراج گھومتا ہوا محسوس ہوا
اس کی آنکھیں بند ہوئی اس سے پہلے وہ نیچے گرتی وہ نقاب پوش کے بازوؤں میں تھی اپنے بازوؤں سے پھسلتے ہوئے وجود کو بےحد آہستگی سے نیچے فرش تک لایا۔۔ خود بھی فرش پر بیٹھ کر اس نے عینا کو اپنے بازوؤں میں چھپانا چاہا
اپنے چہرے پر نمی محسوس کرکے روحان نے چہرے پر سے کالے رنگ کا ماسک ہٹایا اس کے گالوں پر یہ نمی شاید آنسوؤں کی تھی
کیا کردیا تھا آج اس نے اپنی بیوقوفی میں اس نے یہی سمجھا تھا کہ جیڈی کو ٹرک کے بارے میں بتانے پر وہ لازمی اس ٹرک پکڑے گا۔۔۔ جب یہ خبر کاشف زیری تک پہنچے گی تو کاشف ہمیشہ کی طرح، دھمکی کے طور پر یا تو اس کو فون کروا کر وارننگ دلوائے گا یا پھر اسے ڈرانے کے لیے اس پر حملہ کروائے گا جیسے وہ ہمیشہ کرواتا ہوا آتا تھا
اسے ہرگز اندازہ نہیں تک کاشف کا ردعمل اتنا سخت ہوگا وہ عینا کو ہی اٹھوالے گا۔۔۔ اگر آج عینا کو کچھ ہوجاتا یا وہ وقت پر نہ پہنچتا تو شاید وہ خود بھی مر جاتا کو
اس نے کبھی کسی کا مرڈر کرنے کا سوچا تک نہیں تھا زندگی میں پہلی بار اس نے مرڈر کیا بھی تو ایک نہیں دو۔۔۔ بےخوف ہوکر بنا ڈرے کیونکہ انہوں نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جیسے وہ اپنی عزت بنانا چاہتا تھا اصولاً تو آج اسے کاشف زاری کا مرڈر کردینا چاہیے تھا مگر فی الحال ایسا ناممکن تھا کاشف زیری کی جان لینا اتنا آسان ہرگز نہ تھا
جیڈی کے پاس عینا سیو نہیں تھی اب وہ خود اس کی حفاظت کرے گا اپنی جان سے بھی زیادہ عینا شاید اس کو پہچان چکی تھی مگر وہ اس کو سمجھا دے گا آسان طریقے سے یا دوسرے طریقے سے
“عینا کا دوپٹہ کندھے سے ڈھلکتا ہوا فرش کو چھو رہا تھا وہ بےجان گڑیا کی مانند روحان کے بازوؤں میں چھپی ہوئی تھی روحان اس کا دوپٹہ کاندھے پر ڈالتا ہوا عینا کو اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا
آج تک اس نے عینا کو بغیر دوپٹے کے نہیں دیکھا تھا، وہ ان دونوں جانوروں کے سامنے بغیر دوپٹے کے کتنا پریشان ہوئی ہوگی روحان کا دل چاہا وہ ان دونوں کی لاشوں میں مزید گولیاں بھردے روحان عینا کو وہاں سے لے جانے لگا
