Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 32)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
گھر آنے کے بعد وہ ڈریس چینج کرتا ہوا بیڈ روم میں آکر لیٹ کر مستقل روزی اور روحان کے متعلق سوچ رہا تھا کاشف زیری کی کوئی فیملی نہیں تھی اتنا اسے معلوم تھا پھر روزی اس کی کیا ہوگی وہ روزی کے انداز اور اطوار دیکھ کر سمجھ گیا تھا مگر روزی نے اس سے جو بھی کچھ کہا تھا وہ اسے رونی سمجھ کر کہا تھا کیا پھر رونی اور روزی؟؟؟
مگر اس کا دل نہیں مانا، مانا کہ رونی کمینہ تھا مگر گھٹیا اور گرا ہوا نہیں, عینا کے لیے محبت اس کے انداز سے واضح چھلکتی تھی مگر جہانگیر کو رونی اور کاشف زیری کی اچھی خاصی دوستی لگی تھی رونی کی کاشف زیری سے دوستی کچھ مناسب نہ تھی کیوکہ کاشف زیری اسے پہلی ملاقات میں ہی مشکوک آدمی لگا تھا جہانگیر چاہ کر بھی اس پر ڈائریکٹ ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اس کا اندازہ اسے الکینگ ہوٹل پر ریڈ ڈال کر ہوگیا تھا شاید اسے رونی کو منع کرنا چاہیے تھا کہ وہ کاشف زیری سے دور رہے جہانگیر اپنی ہی سوچوں میں گم تھا اچانک بیڈروم کا دروازہ کُھلا اور آغول دندناتی ہوئی کمرے کے اندر داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں اپنی شرٹ دیکھ کر جہانگیر بیڈ پر لیٹا ہوا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا
“آپ پہلے سے کاشف زیری کو جانتے تھے”
آغول جہانگیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ غصہ دبائے ہوئے بول رہی ہو
“ہاں”
جہانگیر مختصر جواب دے کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس کے اگلے سوال کا انتظار کرنے لگا
“پھر تو آپ روزی کو بھی جانتے ہوگے”
اب کی بار وہ لفظ لفظ چبا چبا کر بولی
“دماغ مت کھاؤ آغول کام کی بات پر آؤ”
جہانگیر آغول کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر بولا
“مجھے وہاں لےکر جانا پڑ رہا تھا تبھی آپ وہاں جانے سے انکار کررہے تھے”
اب کی بار بھی وہ غصے میں بولی
“میں نے تم سے ابھی کہاں ہے کام کی بات پر آؤ”
جہانگیر نے اس کے چہرے پر غصہ دیکھ کر اپنی بات دہرائی
“تو پھر سنیں کام کی بات اور جواب دیں اس کا کیا ہے یہ”
آغول جہانگیر کی شرٹ بیڈ پر پھینکتی ہوئی غصے میں بولی
تھوڑی دیر پہلے جب آغول اپنے کپڑے ہینگ کررہی تھی تب اس کی نظر جہانگیر کی ہینگ ہوئی شرٹ کے کالر پر پڑی جس پر سرخ لپ اسٹک کا نشان تھا یہی شرٹ تھوڑی دیر پہلے جہانگیر نے پہنی ہوئی تھی آغول کا دماغ فوراً اس فروزی رنگ کے کپڑوں میں موجود روزی پر گیا اس سفید بھوتنی نے ہی لال لب اسٹک سے اپنے ہونٹ رنگے ہوئے تھے اور کالر پر یہ اسی لپ اسٹک کا نشان تھا
“یہ میری شرٹ ہے اور دوسری بات اب تمیز کے دائرے میں بات کرنا مجھ سے”
جہانگیر جو اس کی بدتمیزی کافی دیر سے دیکھ رہا تھا اور برداشت کررہا تھا آغول کو دیکھ کر وارن کرتا ہوا بولا
“میں اس شرٹ کا نہیں پوچھ رہی ہوں آپ سے شرٹ کے کالر پر کیا ہے”
جہانگیر کی وارننگ پر اس نے واقعی اب کی بار تمیز سے بات کی تھی مگر غصہ ہنوز برقرار تھا
جہانگیر اپنی شرٹ اٹھاکر کالر دیکھنے لگا اس کو وہ منظر یاد آیا جب روزی اس سے بات کررہی تھی جہانگیر نے نظر اٹھاکر آغول کو دیکھا جس کی آنکھوں سے اس وقت شرارے نکل رہے تھے اپنے کالر پر لپ اسٹک کا نشان دیکھ کر اور آغول کی حالت دیکھ کر ایک پل کو اسے ہنسی آئی تھی جسے وہ سنجیدگی کے لبادے میں چھپا گیا اپنی شرٹ اٹھا کر بیڈ سے اترتا ہوا وہ آغول کے سامنے کھڑا ہوا
“یہ روزی کی لپ اسٹک کا نشان ہے”
جہانگیر آغول کو بتانے لگا اور آغول جہانگیر کے اطمینان پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“آپ کو شرم نہیں آرہی ہے یہ سب میرے سامنے بولتے ہوئے”
آغول نے غُصے میں اس کی شرٹ اٹھاکر دور پھینکی
“کیوں تمہیں کیا فرق پڑتا ہے اس سے اور یہ شرٹ کیوں اٹھاکر پھینکی ہے جاؤ اسے واپس ہینگ کرکے آؤ”
جہانگیر اسے دیکھتا ہوا سنجیدگی بولا
اسے کیوں نہیں فرق پڑتا تھا فرق اسی کو تو پڑتا تھا آغول چاہ کر بھی ایسا بول نہیں پائی
“اس شرٹ کو ہینگ نہیں کرو گی بلکہ آگ لگادو گی میں اور خون پی جاو گی اس سفید بھوتنی کا اور ساتھ آپ کا بھی سنا آپ نے”
آغول غصے میں بولتی ہوئی شرٹ اٹھاکر کچن میں آئی مٹی کا تیل اور میچ باکس لیتی ہوئی گھر کے پچھلے حصے پر گئی اس کو شدید تکلیف ہورہی تھی جہانگیر کی شرٹ کو دیکھ کر اور اسی تکلیف کے سبب آغول نے واقعی اس کی شرٹ جلا دی
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا یہ میری نئی شرٹ تھی جو تم نے جلا دی”
جہانگیر غصے میں اس کی حرکت کو دیکھ کر آغول پر چیخا تھا اسے اپنی شرٹ سے زیادہ آغول کے ری ایکشن پر غصہ آنے لگا آخر اسے اتنا غصہ آہی کیوں رہا تھا وہ یہ جاننے سے قاصر تھا
“آپ کو آگ نہیں لگا سکتی نہ، اس لئے شرٹ کو آگ لگادی, برے ہیں آپ۔۔۔ بہت برے۔۔۔ جہانگیر بہت برے ہیں آپ”
آغول روتی ہوئی جہانگیر سے بولی تھی اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
****
“عینا سونا بھی ہے یا نہیں”
عینا فروا کے ساتھ گیسٹ روم بیٹھی ہوئی تھی تب روحان گیسٹ روم میں آتا ہوا عینا سے بولا
“آرہی ہوں روحان فروا سے ذرا اس کے گھر کا کانٹیکٹ نمبر اور ایڈریس لےلو”
عینا روحان کو دیکھتی ہوئی بولی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ لوگ گھر آئے تھے تب فروا نے عینا کو بتایا کہ وہ اس شہر میں نئی ہے راستوں کا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا اس لیے وہ بھٹک گئی وہی سے دو آدمی اس کے پیچھے پڑگئے بھاگنے کے چکر میں اور ان سے بچاؤ کے چکر میں نہ جانے اس کا موبائل کہاں پر رستے میں کھو گیا
“لاؤ یہ کانٹیکٹ نمبر مجھے دے دو میں یہاں کا ایڈریس تمہاری پیرنٹس کو سمجھا دیتا ہوں”
فروا اپنا فون نمبر اور ایڈریس والا پیپر عینا کی طرف بڑھا رہی تھی تب روحان جلدی سے وہ پرچہ فروا کے ہاتھ سے لیتا ہوا بولا اور اپنی جیب میں رکھا
“بہت بہت شکریہ بھائی آپ دونوں نے میری مدد کی میں آپ دونوں کی ہی شکر گزار ہوں”
فروا کی بات سن کر روحان اور عینا مسکرائے
“میں تمہارے گھر والوں کو انفرم کردیتا ہوں جب تک تم یہاں ریسٹ کرلو”
فروا جھجھک کے مارے یہ نہیں کہہ سکی میرے پیرنٹس سے موبائل پر میری بات کروا دیں بس وہ روحان کی بات سن کر اثبات میں سر ہلاکر خاموش ہوگئی
روحان عینا کو بیڈروم میں آنے کا اشارہ کر کے خود وہاں سے چلا گیا عینا مسکرا کر فروا کو دیکھتی ہوئی اپنے روم کی طرف جانے لگی تب اسے محسوس ہوا روحان کچن میں ہے
“یہاں کیا کررہے ہیں”
عینا کی بات سن کر وہ مڑا شیلف پر دو گلاس موجود تھے جن میں اورنج جوس موجود تھا
“جاؤ یہ فروا کو دے آؤ وہ سوچے گی کیسے لوگ ہیں پانی تک کا نہیں پوچھا ان لوگوں نے”
روحان نامحسوس طریقے سے چھوٹے سائز کی شیشی اپنی پاکٹ میں رکھتا ہوا عینا کو جوس کا گلاس تھماتا ہوا کہنے لگا
“اور یہ دوسرا گلاس”
عینا دوسرا شیلف پر رکھا ہوا گلاس دیکھ کر پوچھنے لگی
“یہ میری پیاری سی بیوی کا ہے”
روحان مسکرا کر عینا کو دیکھتا ہوا بولا ہے روحان کی بات پر اس نے روحان کو اسمائل دی جوس کا گلاس فروا کو دے آئی
عینا جب اپنے بیڈ روم میں آئی تو روحان بیڈ روم میں ہی موجود تھا اور جوس سے بھرا ہوا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا
“میرا موڈ نہیں ہورہا روحان جوس پینے کا”
روحان نے اس کی طرف گلاس بڑھایا تو عینا اسے بولنے لگی
“میرے ہاتھ سے بھی نہیں”
روحان گلاس عینا کے ہونٹوں تک لےگیا تب عینا نے ایک سپ لیا اور گلاس کو تھام لیا
“آپ کے ہاتھوں سے تو میں زہر بھی پی سکتی ہو”
عینا روحان کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی
“تمہیں میں زہر یا پھر کوئی تکلیف نہیں دے سکتا اس سے پہلے میں خود اس تکلیف سے گزرنا پسند کرو گا”
روحان عینا کے گال پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا اور وارڈروب کی طرف بڑھا اپنے کپڑے لےکر چینج کرنے چلا گیا
جب وہ واپس آیا تو خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا اور عینا نائٹی میں موجود آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنے بالوں میں برش پھیر رہی تھی تب روحان اسے بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لایا
“روحان آپ نے فروا کے پیرنٹس کو کال کردی”
وہ عینا کو بیڈ پر لٹاکر اس پر جھکا تب عینا روحان سے پوچھنے لگی
“ہہمم بات ہوگئی ہے میری، ایڈریس سمجھا دیا ہے ان کو واچ مین کو بھی کہہ دیا ہے جب وہ آئیں گے تو واچ مین انفارم کردے گا”
روحان اپنی انگلی عینا کے ہونٹوں پر رکھتا ہوا اسے بولا اور یہ اشارہ تھا اب وہ کوئی دوسرا سوال نہ کرے
عینا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے اس کی نائیٹی کے اسٹیپ نیچے کرنے لگا عینا نے اپنی انکھیں بند کرلیں وہ عینا کے بازو نرمی سے سہلاتے ہوئے اس کی گردن پر جُھک کر اپنے پیار کی مہر لگارہا تھا چند منٹ گزرے تب اسے عینا میں کوئی ہِل جُھل محسوس نہیں ہوئی وہ اٹھ کر عینا کو دیکھنے لگا عینا آنکھیں بند کئے لیٹی تھی اورنج جوس اپنا کام دکھا چکا تھا، روحان نے اس کی نائیٹی کے اسٹیپ اوپر کئے اور اس کو کمفرٹر اوڑھاتا ہوا بیڈ سے اٹھا وہ آہستہ سے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا کار کی کیز اٹھانے لگا ایک نظر سوتی ہوئی اپنی بیوی پر ڈال کر اس نے کمرے کی لائٹ بند کی اور نائٹ بلب ان کرکے کمرے سے نکل گیا
دروازہ بند کرنے کی آواز پر عینا نے اپنی آنکھیں کھولیں اورنج جوس اسے پکڑانے سے پہلے عینا روحان کے ہاتھ میں شیشی دیکھ چکی تھی جو وہ عینا کی نظروں سے چھپاتے ہوئے اپنی پاکٹ میں رکھ رہا تھا عینا کو اس سے بہت سے سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے وہ خاموش ہی نہیں رہی بلکہ انجان بھی بن گئی جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو جب روحان اس سے جوس پینے کا اسرار کیا تب عینا نے اس کے ہاتھ سے گلاس تھام لیا تھا
عینا کو معلوم تھا اس کا شوہر اسے زہر تو نہیں دے سکتا مگر وہ آگے کیا کرنے والا تھا یہ جاننے کے لیے جب روحان ڈریس چینج کرنے کے لئے گیا تو وہ کھڑکی سے جوس باہر پھینک چکی تھی اور جب روحان اس کے قریب آیا تو تھوڑی دیر بعد وہ سوتی ہوئی بن گئی
وہ اسے ابدی نیند نہیں سلانا چاہتا تھا مگر وقتی نیند سلانے کے بعد ہی اپنا کام کرنا چاہتا تھا عینا کو یہی بات سمجھ میں آئی تھی بہت آہستہ سے وہ اپنے اوپر سے کمفرٹر اتار کر اپنا گاون پہنتی ہوئی سلیپرز کے بنا کمرے سے باہر نکلی
*****
روحان فروا کے کمرے میں آیا اور خالی جوس کا گلاس اس نے ٹیبل پر رکھا ہوا دیکھا اس گلاس میں روحان نے زیادہ نیند کی گولیاں ڈالی تھی فروا جتنی دیر سوتی رہے گی اتنی دیر تک اس کی زندگی آسان رہے گی ایک نظر اس نے فروا کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی وہ عمر میں چھوٹی کمسن اور معصوم تھی اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے روحان کے ہاتھ کانپے تھے
بھائی۔۔۔ روحان کو یاد آیا تھوڑی دیر پہلے اس نے روحان کو بھائی بولا تھا جیسے آغول بولتی تھی روحان نے اس کی طرف بڑھایا ہوا ہاتھ پیچھے کیا اور چہرے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرنے لگا شاید اس کی آنکھوں میں بھی نمی تھی اس نے اپنی آنکھوں کو چھو کر دیکھا ہاں وہ نم ہی تھی
مگر فروا کے ساتھ رعایت کرنے کا مطلب تھا اپنی فیملی کو مشکل میں ڈالنا وہ ایسا ہرگز نہیں کرسکتا تھا اپنی آنکھوں کو رگڑتا ہوا، اس نے فروا کو اٹھایا اور کمفرٹر کے اندر رول کیا پھر کمرے سے باہر نکل گیا
جیسے ہی فروا کے کمرے کا دروازہ کھلا دیوار کے پیچھے سے ہلکا سر نکال کر عینا نے روحان کو دیکھا
روحان کمفرٹر میں لپٹی ہوئی کوئی چیز اپنے ہاتھوں میں لیے باہر نکل رہا تھا عینا قدم بڑھاتی ہوئی ہال میں آئی اور آہستہ سے ہال کا دروازہ کھولا جھری سے باہر کا منظر دیکھا جہاں روحان گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کمفرٹر ڈال کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا کار اسٹارٹ کررہا تھا
گارڈ نے باہر کا مین گیٹ کھولا تو روحان کی کار اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی عینا بھاگتی ہوئی فروا کے روم میں آئی جہاں خالی بستر تھا وہاں اب فروا موجود نہیں تھی عینا روتی ہوئی فرش پر بیٹھ گئی
اسے نہیں معلوم تھا اس کا شوہر کس قسم کاموں میں ملوث ہے مگر کچھ غلط تھا بہت زیادہ غلط عینا کو رونا آرہا تھا معلوم نہیں فروا پر یا خود پر
