Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 31)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
کل نہ جانے اس کی طبیعت خرابی میں کیا ہوگیا تھا جو وہ کل جہانگیر کے سامنے اوور ری ایکٹ کرگئی تھی اس کے سونے کے کافی دیر تک جہانگیر بیڈ روم میں ہی اس کے پاس موجود رہا تھا وہ نیند میں بھی اس کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کرسکتی تھی ہر تھوڑی دیر بعد وہ اس کے ماتھے کو چھو کر آغول کا بخار چیک کرتا آغول بند آنکھوں کے باوجود اس کے ہاتھ کا لمس وقفے وقفے سے اپنے ماتھے پر محسوس کررہی تھی
کتنی دیر جاگنے کے باوجود وہ اپنی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی تھی تاکہ جہانگیر اسی کمرے میں اس کے پاس موجود رہے مگر وہ آغول کی پلکوں کے لرزنے سے اس کے جاگنے کا اندازہ لگا چکا تھا اس لئے کمرے سے نکل کر چلاگیا تو آغول نے اپنی آنکھیں کھولی اس کا دل اداس ہوا
مگر تھوڑی دیر بعد جہانگیر ہاتھ میں ٹرے لیے دوبارہ کمرے کے اندر داخل ہوا اور اس کے سامنے آکر بیٹھا اسے سہارا دے کر بٹھانے کے بعد وہ اپنے ہاتھ سے اسے کھانا کھلانے لگا آغول خاموشی سے اسے دیکھتی ہوئی اسکے ہاتھ سے کھانا کھانے لگی کھانا کھلانے کے بعد جہانگیر نے اسے میڈیسن دی جب وہ اٹھ کر جانے لگا تب آغول نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ جہانگیر اس کے پاس جائے مگر جہانگیر اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کمرے سے باہر چلاگیا تھا
اس وقت کچن میں موجود کھانا بناتی ہوئی وہ یہی سوچ رہی تھی بھلا اسے کل رات جہانگیر کو روکنے کی کیا ضرورت تھی کتنی انا رکھتا تھا یہ شخص
آج صبح اس کا بخار ٹھیک ہوگیا تھا مگر وہ آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی رانی سے سارے گھر کا کام کروانے کے بعد وہ تھوڑی دیر لیٹ کر ریسٹ کرنے لگی تو اس کی آنکھ لگ گئی شام ہونے کو آئی تھی تو آغول نے کھانا بنانے کا سوچا وہ ابھی کھانا بناکر فارغ ہوئی تھی کہ گھر کی ڈور بیل بجی
“بھائی”
دروازہ کھولنے پر جب اس نے روحان کو دیکھا تو مسکرا کر اس کے گلے لگی کافی دنوں بعد وہ روحان کو دیکھ رہی تھی
“تمہاری بھائی کی شکل دیکھ کر ہی محبت جاگتی ہے چکر کیوں نہیں لگایا اتنے دنوں سے گھر کا”
روحان پیار سے اس کا سر تھپتھپاتا ہوا پوچھنے لگا
“یونیورسٹی کی وجہ سے شیڈیول تھوڑا بزی ہوگیا ہے آپ نے بھی تو اتنے دنوں بعد شکل دکھائی ہے”
وہ روحان کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آتی ہوئی روحان سے شکوہ کرنے لگی
“میں یہاں تم سے ملنے کے لیے چار سے پانچ دفعہ آچکا ہوں بھائی شادی کے بعد اتنا ہی بہنوں کے گھر آتے ہیں ہاں تمہیں آنا چاہیے ڈیڈی مما تمہارا ویٹ کرتے ہیں کہیں جیڈی نے تو نہیں روکا ہوا تمہیں آکے سے”
روحان صوفے پر بیٹھتا ہوا آغول سے پوچھنے لگا وہ نوٹ کررہا تھا ان چار مہینوں میں آغول کی شخصیت میں کافی بدلاو آیا تھا اس کی نیچر کے حساب سے ڈریسنگ کے لحاظ سے بقول فاطمہ کے کہ اب وہ کوکنگ خود کرتی ہے مگر یہ سب چیزیں روحان کو پوزیٹو لگی تھی
“وہ مجھے کسی بھی بات کے لئے نہ ہی روکتے نہ ہی ٹوکتے یہ بتائیں کھانا چلے گا ڈائریکٹ آفس سے آرہے ہیں ناں”
آغول روحان کے پاس سے اٹھنے لگی تو روحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھالیا
“آفس سے سیدھا آرہا ہوں مگر کھانا گھر جاکر کھاؤ گا میرے چکر میں عینا خود بھی کھانا نہیں کھاتی، یہاں میں تم سے ملنے آیا ہوں یہ بتاؤ وہ جن ابھی تک پولیس اسٹیشن سے نہیں آیا”
روحان آغول کو دیکھتا ہو اس سے جہانگیر کا پوچھنے لگا
“ابھی آیا ہوں تم سناؤ تمہارا کیسے آنا ہوا”
آغول کے کچھ بولنے سے پہلے جہانگیر ڈرائنگ روم کے اندر آتا ہوا بولا وہ ابھی ابھی پولیس اسٹیشن سے لوٹا تھا اور اس وقت یونیفارم میں موجود تھا
“کافی دن ہوگئے تھے آغول سے ملے ہوئے اسے ملنے آیا تھا تم سناؤ کیسے ہو”
روحان جہانگیر کے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر اس سے ہاتھ ملاکر اس کی خیریت دریافت کرنے لگا اور اپنے آنے کی وجہ بھی بتائی
“میں ٹھیک ہوں عینا کیسی ہے اس نے تو بالکل ہی آنا چھوڑ دیا کہیں تم نے تو اس پر پابندی نہیں لگائی”
جہانگیر صوفے پر بیٹھتا ہوا روحان سے پوچھنے لگا جس پر روحان مسکرایا جبکہ آغول خاموشی سے روحان کے برابر میں بیٹھی جہانگیر کو دیکھ رہی تھی
“میں نے تمہاری بہن پر کوئی پابندی نہیں لگائی، اب وہ خود سے میری پابند ہوگئی ہے لڑکیاں شاید ایسی ہی ہوتی ہیں اب آغول کو ہی دیکھ لو میں بھی اِس سے یہی شکوہ کررہا تھا کہ اس نے اپنے گھر بالکل ہی آنا چھوڑ دیا”
روحان جہانگیر کو جتاتا ہوا بولا
“میں نے تمہاری بہن کو اپنا پابند بالکل نہیں بنایا یہ تمہارے سامنے بیٹھی ہے تم اس سے پوچھ سکتے ہو بلکہ تم لوگ بیٹھ کر باتیں کرو میں چلتا ہوں”
جہانگیر روحان کو دیکھتا ہوا بولا اور صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
“ایک منٹ جیڈی مجھے کچھ تم سے ضروری بات کرنی ہے جس کے لیے میں یہاں آیا تھا”
روحان جہانگیر کو اٹھتا ہوا دیکھ کر ایک دم بولا
“مگر تم ابھی کہہ رہے تھے کہ تم آغول سے ملنے آئے ہو”
جہانگیر سیریس ہوکر اس کو دیکھتا ہوا بولا آغول خاموشی سے صرف اور صرف جہانگیر کے انداز دیکھ رہی تھی وہ بالکل اس کے بھائی سے ویسے ہی بات کرتا تھا جیسے اس سے وہ صرف اپنی بہن اور دی جان سے ہی خوش ہوکر بات کرتا تھا شاید
“میں پچھلے چار سے پانچ دفعہ جب یہاں آغول سے ملنے آیا ہوں تو اس ٹائم آیا جب تم پولیس اسٹیشن میں ہوتے تھے اور آج میں تمہارے گھر آنے کے ٹائم پر آیا ہوں وجہ یہی ہے کہ مجھے تم سے بھی مل کر ضروری بات کرنا تھی”
روحان جہانگیر کو اچھی طرح وضاحت دیتا ہوا بولا
“کہو کیا بات کرنی ہے”
جہانگیر دوبارہ صوفے پر بیٹھتا ہوا روحان سے پوچھنے لگا
“میرے ایک جاننے والے ہیں ان سے اچھی سلام دعا ہے میری پچھلی چار ماہ سے وہ ملک سے باہر تھے اس لئے ہماری شادی میں شریک نہیں ہوسکے تھے دو دن پہلے ہی پاکستان لوٹ کر آئے ہیں تو انہوں نے ہماری پوری فیملی کو انوائٹ کیا ہے خاص طور پر تمہیں اور آغول کو بھی دعوت دی ہے کاشف زیری نام ہے ان کا”
روحان نے بغیر تہمید باندھے ہوئے کاشف زیری کا پیغام جہانگیر کو دیا
“ہوٹل الکینگ کا مالک کاشف زیری”
جہانگیر آنکھیں سکیڑ کر یاد کرتا ہوا روحان سے تصدیق کرنے لگا
“ہاں وہی وہ چاہتے ہیں کہ تم۔۔۔۔
روحان بولنے لگا تب جہانگیر اس کی بات کاٹ کر بولا
“میں نہیں ملنا چاہتا میری طرف سے معذرت کرلینا”
جہانگیر بولتا ہوا صوفے سے اٹھکر کمرے سے باہر نکلنے لگا
“بھائی ان سے بولیئے گا ہم آئیں گے”
آغول جو کہ سارے عرصے خاموش بیٹھی تھی جہانگیر کے تیور دیکھ کر ایک دم بول اٹھی
“آغول”
آغول کے بولنے پر جہانگیر مڑ کر آغول کو آنکھیں دکھاتا ہوا اس کی طرف دیکھنے لگا جیسے اسے آغول کا بیچ میں مداخلت کرنا بالکل پسند نہیں آیا ہو
“اپنا ایٹیٹیوڈ اپنے تک ہی محدود رکھا کریں یا پھر ان لوگوں کو دکھایا کریں جن سے آپ خوش ہوکر ملتے ہیں یا جن کے ناز اُٹھاتے ہیں”
آغول کھڑی ہوکر جہانگیر کو دیکھ کر بولی وہ ایسے اس کے سامنے اس کے بھائی کی انسلٹ نہیں کرسکتا تھا
“اب زبان بالکل نہیں چلانا آگے سے”
جہانگیر روحان کا بناء لحاظ کیے آغول کے پاس آکر اسے وارن کرنے لگا
“آغول نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے جو تم اس کے ساتھ یوں بات کررہے ہو”
روحان جہانگیر کے تیور دیکھتا ہوا خود بھی اٹھ کھڑا ہوا اور جہانگیر کو نرمی بولا اسے اپنی بہن سے جہانگیر کا یہ رویہ برداشت نہیں ہوا
“تم ہمارے بیچ میں مت بولو رونی”
جہانگیر اب انگلی اٹھاکر روحان کو بولا
“وہ کیوں نہیں بولے بیچ میں وہ میرے بھائی ہیں وہ بولیں گے بیچ میں کیسی تکلیف ہوئی تھی اس دن آپ کو اپنی بہن کے تھپڑ کا سن کر… لیا تھا نہ میاں بیوی کے بیچ میں پڑ کر فوراً بدلا ایسی ہی جب انہیں تکلیف ہوگی تو یہ بھی بولیں گے بیچ میں”
آغول جہانگیر کے آنکھیں دکھانے کی پروا کیے بغیر بناء ڈرے اس کو دیکھ کر بولی جہانگیر اب خاموشی سے آغول کو دیکھ رہا تھا جبکہ روحان نے آگے بڑھ کر آغول کو گلے سے لگالیا
“کیا ہوگیا اتنا سیریز کیو ہوگئی اٹس اوکے یار میں جیڈی سے ایک نارمل بات کر رہا تھا اس نے مجھے نارمل جواب دیا کہ وہ نہیں جانا چاہتا ایسا کوئی کمپلسری بھی نہیں ہے جانا میں ان سے معذرت کرلوں گا اب بالکل کول ہوجاؤ اس طرح ویٹ لوز کیا ہے تم نے غصہ کھا کھا کر پاگل لڑکی”
روحان آغول کو بہلاتا ہوا بولا روحان نے سوچا وہ کاشف زیری سے دوبارہ معذرت کرلے گا آغول اور جیڈی کے بیچ تعلقات خراب ہو یہ بھی ٹھیک نہیں تھا
“میں غصہ نہیں کررہی ہو بھائی مگر ہم وہاں پر جائیں گے آپ انہیں بتادیے گا”
آغول جہانگیر کو دیکھ رہی تھی مگر بات روحان سے کررہی تھی جہانگیر آغول کو دیکھتا ہوا بغیر کچھ بولے اپنے روم میں چلاگیا
“اچھا بتاؤ ذرا آج کھانے میں کیا بنایا ہے چلو یار آج اپنی بہن کے ہاتھ کھانا ٹیسٹ کر کے دیکھ لیتا ہوں”
روحان آغول کو بہلاتا ہوا بولا
****
اسے نہیں معلوم تھا کہ روحان کی کاشف زیری سے دوستی تھی نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ کاشف زیری کو اس بات کا علم ہے کہ ایس۔ پی جہانگیر روحان کا بہنوئی ہے اس کے کاشف زیری کے گھر جانے کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی، نہ ہی اسے کاشف زیری کا اپنے گھر انوائٹ کرنے کی وجہ سمجھ میں آئی مگر روحان کے جانے کے بعد رات میں وہ روحان کو کال کرکے اس سے اپنی اور آغول کی کاشف زیری کے گھر جانے کی حامی بھر چُکا تھا
کل روحان کے جانے کے بعد جب وہ بیڈ روم کے اندر آغول سے کھانے کا پوچھنے کے لئے آیا کیوکہ روزانہ کی طرح کھانا ڈائننگ ٹیبل پر موجود نہ تھا تو اس نے آغول کو روتے ہوئے دیکھا وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی ہوئی رو رہی تھی جہانگیر کو پرسوں سے ہی اس کا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا
چار مہینے پہلے جس رات وہ آغول کے قریب آیا تھا اس رات اس پر یہ راز کُھلا تھا اسے صرف اس لڑکی کی کشش نے یا حُسن نے اپنی طرف متوجہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ اسے اچھی لگنے لگی تھی معلوم نہیں کب سے، اپنی تمام تر بدتمیزیوں کے باوجود
قبول تو جہانگیر نے اسے نکاح کے وقت ہی کرلیا تھا مگر شادی کے دن جو کچھ اس نے کیا بےشک وہ غصے کا ردعمل رہا ہو مگر اسکے بعد وہ آغول کے قریب اپنی انا کی تسکین یا نفس کی خواہش کر کے ہرگز نہیں آیا تھا وہ بیوی تھی اسکی مضبوط اور جائز رشتا رکھتا تھا اس سے اور آغول نے اس رات اس کو کیا کیا باتیں سنائی
تب جہانگیر نے سوچ لیا تھا اب وہ اس پر اپنی مرضی بالکل مسلط نہیں کرے گا نہ اسے کسی چیز کے لیے روکے گا ٹوکے گا، نہ ہی اس سے بات کرے گا، یہاں تک کہ بیڈ روم میں اس کے پاس سوئے گا بھی نہیں اور اس سے اپنے دل کی بات شیئر کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہ اسے نفس کا غلام سمجھتی تھی تو پھر وہ بھی اس سے لاتعلقی برتے گا مگر ایک بات تھی جو جہانگیر کو اندر ہی اندر کھولائے رکھتی جسے سوچ کر اُسے اکثر غصہ آجاتا
اس کی بیوی اس کی قربت سے گھبراتی تھی، کیا اس کی وجہ واقعی اسکا کامپلیکشن اور مڈل کلاس ہونا تھا یا پھر سیفی۔۔۔ بےشک وہ ویڈیو میں دیکھ چکا تھا کہ اس دن آغول نے سیفی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا پر یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ وہ سیفی کے اس خوفناک روپ سے ڈر گئی ہو مگر دل ہی دل میں سیفی کو چاہتی ہو تبھی وہ اسے اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی یہ سوچ کر جہانگیر کو اکثر کو غصہ آتا
جہانگیر آغول کو روتا ہوا دیکھ کر اس وقت تو کمرے سے نکل گیا تھا مگر صبح ناشتے پر وہ اُسے بول چکا تھا کہ وہ شام میں جلدی گھر آجائے گا اور یہ بھی کہ وہ کاشف زیری کے گھر جانے کے لیے تیار رہے
وہ ریڈی ہوکر آغول کے پاس بیڈ روم میں پہنچا تاکہ آغول سے جانے کا پوچھ سکے دروازے پر ہی جہانگیر کے قدم رک گئے ڈارک بلو کلر کے ڈریس کے ساتھ وائٹ کلر کے کمبینیشن کی قمیض اور ٹراؤزر میں وہ بہت پرکشش لگ رہی تھی۔۔۔ اُسی کشش کے زیِراثر جہانگیر آغول کی طرف کھینچتا ہوا چلا آیا
وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہونٹوں پر لپ اسٹک لگا رہی تھی بالوں کو اس نے کاندھے پر آگے ایک سائیڈ پر کیا ہوا تھا اس کی پشت جہانگیر کی طرف تھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے پیچھے جہانگیر کو آتا دیکھ چکی تھی مگر پھر بھی اس نے اپنا کام جاری رکھا اس کے ڈریس کی سلیوز لانگ تھی مگر پیچھے سے گلا تھوڑا گہرا
“چینج کرو اس ڈریس کو اور دوسرا ڈریس پہن کر 10 منٹ میں باہر آؤ”
جہانگیر اس کی پشت پر کھڑا اسے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
آغول کو حیرت ہوئی جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو آغول دیکھ کر رک گیا تھا اپنی جانب جہانگیر کو بڑھتا ہوا دیکھ کر، وہ اس کی نظروں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی جس سے اس کے دل میں پھول کھل گئے یہی تو وہ چاہتی تھی نہ جانے پھر کیا ہوا جو وہ اسے ڈریس چینج کرنے کا کہہ کر باہر نکل گیا آغول بےدلی سے ڈریس چینج کرنے لگی
ڈریس چینج کرکے جب وہ باہر آئی تو جہانگیر اس کا ویٹ کررہا تھا آغول پر ایک نظر ڈال کر وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا اس ڈریسنگ میں بھی اس کی بیوی اس کی پوری توجہ اپنی جانب کھینچی ہوئی تھی مگر تھوڑی دیر پہلے پہنے ہوئے ڈریس میں پرابلم یہ تھی کہ اس کا پیچھے سے گلا تھوڑا بڑا تھا جس کی وجہ سے شولڈر کی نیچے وہ تِل آج بھی جہانگیر کو دکھ رہا تھا اور اس تِل کی وجہ سے چار ماہ پہلے کام بہت خراب ہوچکا تھا جہانگیر اب بالکل نہیں چاہتا کہ بار بار وہ تِل جہانگیر کو دکھے اور جہانگیر کی توجہ اپنی طرف کھینچے وہ اس تِل کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لیے آغول سے ڈریس چینج کرنے کو کہا
****
“غالباً ہماری یہ دوسری بار ملاقات ہورہی ہے مل کر خوشی ہوئی”
کاشف زیری نے جہانگیر سے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھایا جسے جہانگیر نے تھاما
“مگر میرے محسوسات آپ سے مختلف ہیں، زیری صاحب میں آپ کو یہ نہیں کہہ سکتا مجھے بھی آپ سے مل کر خوشی ہوئی خیر کیسے ہیں آپ”
جہانگیر آغول کے ساتھ اس وقت کاشف زیری کی عالیشان کوٹھی میں کھڑا ہوا تھا جبکہ روحان اور عینا 15 منٹ پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے کاشف زیری کی آنکھیں جہانگیر کے ساتھ کھڑی آغول کو دیکھ کر چکاچوند ہوچکی تھی اتنا مکمل حسن یہ یقیناً روحان کی بہن تھی
دشمنی کی تھی روحان نے اس سے اپنی اتنی خوبصورت بہن کو چھپا کر جو اب ایس پی کی بیوی بن چکی تھی کاشف زیری نے بہت مشکلوں سے اپنی نظروں کو قابو میں کیا تھا اور ان دونوں کو مہمان خانے میں اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی
“کیا ہوا”
جہانگیر اندر داخل ہوتے ہوئے آہستہ سے آغول سے پوچھنے لگا جو کہ اسے تھوڑی غائب دماغ لگی
“کچھ نہیں”
آغول آہستہ سے جہانگیر کو بولتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی… کتنا بدصورت آدمی تھا یہ کاشف زیری, بدصورتی بھی شاید اسی پر آکر ختم ہوتی تھی آغول کاشف زیری کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی اور اس نے صرف ایک نظر اس پر ڈالی تھی آغول کو اس نظر سے گھبراہٹ ہونے لگی تھی
اندر روم میں روحان اور عینا کے ساتھ روزی بھی موجود تھی۔۔ آغول عینا سے ملی اس کے بعد روزی سے, روزی ان دونوں کو لےکر وہاں سے دوسرے روم میں چلی گئی جبکہ جہانگیر اور روحان کاشف زیری کے ساتھ وہی بیٹھ گئے
“اور ایس پی صاحب آج کل کس کس کی شامت آئی ہوئی ہے آپ کے ہاتھوں، سنا ہے بڑے بڑے لوگوں کی گردن پر ہاتھ ڈالا ہے آپ نے”
کاشف زیری جہانگیر کو دیکھ کر بات کا آغاز کرتا ہوا بولا
“اب تک جن کی گردن پر ہاتھ ڈالا ہے ان کی گردن سلامت نہیں رہی ہے اور جن کی گردن پر نظر رکھی بس موقع ملنے کی تلاش میں ہے اکثر ایسے بیوقوف بھی ہوتے ہیں جو خود موقع فراہم کرتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی شامت خود بلالیتے ہیں”
جہانگیر کی بات سن کر کاشف زیری ہنسا
“کبھی کبھی دوسروں کی شامت لانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اپنی شامت کتنے برے انداز میں آسکتی ہے خیر جو بھی ہو آپ نے میری دعوت کو قبول کیا مجھے خوشی ہوئی”
کاشف زیری چبھتی ہوئی نظروں سے جہانگیر کو دیکھتا ہوا بولا
“تم کیوں آج اتنے خاموش بیٹھے ہو، تم نے بتایا نہیں زیری صاحب کے ساتھ تمہاری دوستی کیسے ہوئی”
جہانگیر روحان کو اپنی طرف دیکھتا پاکر اس سے پوچھنے لگا
“روحان تم نے واقعی اپنے بہنوئی کو میری اور اپنی دوستی کے بارے میں نہیں بتایا”
کاشف زیری بھی اب روحان کی طرف متوجہ ہوکر اس سے پوچھنے لگا
“اس میں چھپانے والی کونسی بات ہے کاشف صاحب سے میری ملاقات چند ماہ پہلے فلائٹ میں ہوئی تھی وہی سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا”
روحان ایک نظر کاشف زیری پر ڈال کر جہانگیر کو بتانے لگا
اتنے میں ایک ویٹر آیا اور سوفٹ ڈرنگ باری باری ان تینوں کو سرو کرنے لگا روحان کو ڈرنگ تھماتے ہوئے وہ باقاعدہ روحان کی طرف جُھکا جہانگیر کی نظروں سے وہ منظر چھپ نہیں پایا جب اس نے روحان کے کوٹ کی جیب میں شاید کوئی چٹ ڈالی تھی
وہ ویٹر اب کاشف زیری کو ڈرنگ دے رہا تھا تب جہانگیر کے ہاتھ سے اپنا گلاس چھوٹ کر اچانک نیچے گرا
“او شٹ”
جہانگیر پاکٹ سے رومال کے ساتھ اپنا موبائل نکالتا ہوا بولا کاشف زیری کے ساتھ روحان کی توجہ بھی اس کی طرف گئی
“زیری صاحب کیا آپ مجھے واشروم کا راستہ بتاسکتے ہیں”
جہانگیر کے پوچھنے پر کاشف زیری نے اسے راہداری سے سیدھے جاکر الٹے ہاتھ پر مُڑنے کا بتایا
“انکل کی کال آرہی ہے پلیز زرا ریسیو کرلو”
جہانگیر روحان کے قریب آتا ہوا اپنا موبائل اسے تھما چکا تھا کیوکہ روحان کی ساری توجہ اس کے موبائل پر منصور کی کال کی طرف تھی تب جہانگیر نے نامحسوس طریقے سے اس کے کوٹ کی پاکٹ سے وہ چٹ نکالی اور واش روم کی طرف چل دیا
“اگر وہ لیفٹ سائڈ کی جگہ راہداری کے رائٹ سائیڈ پر جاتا تو اس چٹ میں موجود اس روم کے اندر پہنچتا جہاں روحان کو بلایا گیا تھا جہانگیر راہداری کے اندر داخل ہوتا ہوا سوچنے لگا اور سیدھے ہاتھ کے دوسرے کمرے کی طرف اندر داخل ہوا
کمرے کے اندر مکمل اندھیرا تھا اسے یوں محسوس ہوا اس کے پیچھے کوئی موجود تھا اس سے پہلے جہانگیر مڑتا کسی نے اس کے گرد اپنے ہاتھوں لپیٹے وہ مرد کے ہاتھ نہیں بلکہ نسوانی ہاتھ تھے جہانگیر بالکل خاموش کھڑا رہا
“اپنی جان پر کھیل کر تمہیں یہاں بلایا ہے اور تم نے یہاں آکر ثابت کردیا تم بھی جی دار ہو ایسے ہی تھوڑی نہ تم پر دل آ گیا مانا کے تمہاری بیوی بہت خوبصورت ہے مگر حسین تو میں بھی کم نہیں, کاشف کی پناہوں میں رہ کر روزی صرف اور صرف تمہارا سوچتی ہے کبھی تم بھی چند لمحات فراہم کرکے روزی کا سوچ لیا کرو”
روزی جہانگیر کے کان کے قریب اپنے ہونٹ کیے بول رہی تھی، اس کے ہونٹ بات کرتے ہوئے جہانگیر کے کارلر کو چھونے لگے
وہ بات کرتے کرتے جہانگیر کے سامنے آئی اس کے گلے کا ہار بنتی ہوئی جہانگیر کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھنے ہی والی تھی کہ جہانگیر نے اسے پیچھے دھکا دیا اور دیوار پر لگے سوئچ پر ہاتھ مار کر لائٹ ان کی, کمرہ ایک دم روشن ہوا روزی نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑے روحان کے بہنوئی کو دیکھا
“افسوس رونگ نمبر”
جہانگیر افسوس کرتا ہوں روزی کا حیرت ذدہ چہرہ دیکھ کر بولا
جہانگیر کی بات سن کر وہ بےشرموں کی طرح مسکراتی ہوئی جہانگیر پر نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی
*****
“روحان وہ جو روزی ہے کاشف صاحب سے اس کا کیا تعلق ہے”
روحان اور عینا کاشف زیری کے گھر سے واپس لوٹ کر آرہے تھے تب عینا کا واک کرنے کا دل چاہا روحان نے اپنی بیوی کی فرمائش پوری کرنے کی خاطر گھر سے چند قدم دور اپنی کار کھڑی کردی اب وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے روڈ پر پیدل چل رہے تھے اور رات ہونے کی وجہ سے روڈ سنسان تھی تب عینا روحان سے پوچھنے لگی
“کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو”
روحان نے عینا کی طرف دیکھتے ہوئے غائب دماغی میں پوچھا کیونکہ وہ غائب دماغی میں ہی ڈرائیونگ کررہا تھا
اس کا دماغ دو باتوں پر اٹکا ہوا تھا کاشف زیری کے گھر پر مشروب تھماتے ہوئے ویٹر نے روحان کو اس کے کوٹ کی جیب کی طرف اشارہ کیا تھا اور دوسرا جب جہانگیر نے اسے اپنا موبائل تھمایا تھا تو منصور اسے جہانگیر سمجھ کر پوچھ رہا تھا کہو کیسے کال کی، یعنی کال منصور نے نہیں جہانگیر نے منصور کو کی تھی وہ کافی دیر سے ان دونوں باتوں کو سوچ رہا تھا بیچ میں کچھ مسنگ تھا؟ کیا وہی چیز جو ویٹر نے اس کے کوٹ کی جیب میں ڈالی تھی جہانگیر اسے اپنا موبائل تھماتا ہوا کیا اس کے کوٹ کی جیب سے وہ چیز نکال چکا تھا وہ کالج کے دور سے ہی بہت خبیث رہا تھا روحان کو اس میں کوئی شک نہ تھا مگر اس کا کاشف زیری کے گھر آنا روحان اور کاشف زیری دونوں کے لئے خطرے کا سبب بن سکتا تھا جس طرح کی وہ باتیں کاشف زیری سے کررہا تھا روحان نے اس سے اندازہ لگایا
“کیا روحان معلوم نہیں آپ میری بات سن رہے ہیں کہ نہیں”
ساتھ چلتی ہوئی عینا اس کا بازو جھنجھوڑ کر بولی تو روحان اپنی سوچوں سے نکل کر عینا کو دیکھنے لگا
“بولو نہ میری جان کیا بول رہی ہو میں سن رہا ہوں”
روحان اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا اور دماغ سے ساری سوچیں ترک کرکے اپنی توجہ عینا کی طرف مندمل کرنے لگا
“میں بول رہی تھی جب میں نے روزی سے پوچھا آپ کاشف صاحب کی وائف ہیں تو وہ مجھے اور آغول کو دیکھ کر ہنسنے لگی بہت عجیب طریقے سے اور کہنے لگی کہ وائف سے بھی اوپر کی چیز ہو مطلب کیا تھا روزی کی اس بات کا”
عینا روحان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی سچ تو یہ تھا اسے روزی سے مل کر بالکل بھی اچھا نہیں لگا وہ بہت عجیب سی لڑکی تھی عجیب الٹی اور معنی خیز باتیں کرنے والی
“اب روزی کی باتوں کا مطلب مجھے کیا معلوم یہی بتانا چاہ رہی ہوگی کہ وہ کاشف سر کی گرل فرینڈ ہے”
روحان نے رکھیل کی بجائے گرل فرینڈ کا لفظ استعمال کیا جوکہ اسے عینا کے سامنے رکھیل کے مقابلے میں تھوڑا مہذب لگا
“کیسی باتیں کررہے ہیں آپ روحان کاشف صاحب تو اچھی خاصی بڑی عمر کے آدمی ہیں وہ اس عمر میں گرل فرینڈ بنائیں گے ویسے روحان آپ کو ایک بات بتاؤ مجھے روزی بالکل بھی اچھی نہیں لگی وہ بار بار آپ کی طرف دیکھ رہی تھی اور مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اس کا آپ کی طرف دیکھنا”
عینا نے جو محسوس کیا وہ روحان کے سامنے سڑک پر اس کے ساتھ چلتے ہوئے روحان کو بتانے لگی روحان نے اس کا پکڑا ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا
“تمہارا شوہر وہ بار بار کس کو دیکھ رہا تھا تم بس اس بات کو سوچو”
روحان کی بات سن کر عینا اس کو دیکھ کر مسکرا دی کیوکہ جب وہ سب کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی روحان ہر تھوڑی دیر بعد اس کو دیکھ کر اسمائل دے رہا تھا چوتھی بار روحان کے اس طرح دیکھنے پر عینا نے اسے ہلکی سی آنکھیں دکھائی تو وہ اسے آنکھ مارنے لگا اس کے بعد عینا نے روحان کو دیکھنے سے مکمل گرہز کیا کیونکہ جہانگیر بھی سامنے ہی بیٹھا تھا
ابھی وہ دونوں باتیں کرتے کرتے چل رہے تھے تب اچانک ایک لڑکی بھاگتی ہوئی ان دونوں کے سامنے آئی
“پلیز میری مدد کریں وہ دو آدمی میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں”
اس لڑکی کی عمر مشکل سے 15 سال کی ہوگی جو گھبرائی ہوئی عینا اور روحان کو دیکھ کر بولی عینا اور روحان دونوں نے سامنے دیکھا دور سے دو آدمی ان تینوں کی ہی طرف آرہے تھے روحان انہیں پہچان چکا تھا وہ بلیک کینگ کے آدمی تھے
“عینا چلو کار میں بیٹھو”
ان دونوں آدمیوں کو دیکھ کر روحان اس لڑکی کو نظرانداز کرتا ہوا عینا کا ہاتھ پکڑ کر کار کی طرف لے جانے لگا
“روحان اس بچی کو ہماری ہیلپ کی ضرورت ہے دیکھیں وہ آدمی اِسی کی طرف آرہے ہیں”
عینا روحان سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولنے لگی اور وہ بچی روحان اور عینا کو وہاں سے جاتا دیکھ کر پریشان ہوکر رونے لگی
“کسی دوسرے کے معاملے میں ہمیں نہیں پڑنا چاہیے یہ ان لوگوں کا آپس کا معاملہ ہے”
روحان عینا کو سمجھاتا ہوا دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کار کی طرف بڑھنے لگا
“پلیز بھائی مجھے ان لوگوں سے بچالیں”
وہ لڑکی روتی ہوئی روحان کو دیکھ کر بولی تب عینا نے دوبارہ اپنا ہاتھ روحان سے چھڑایا
“آپ اس کی ہیلپ نہیں کریں گے مگر میں اسے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی میں بھائی کو کال کرکے بلالیتی ہوں”
عینا روحان کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی کیونکہ اسے اپنا وقت یاد آگیا تھا جب دو آدمیوں نے اسے بھی کیڈنیپ کیا تھا
روحان کو عینا کی بات سن کر غصہ آنے لگا اب وہ دونوں آدمی ان کے قریب پہنچ چکے تھے وہ بچی عینا کے پیچھے چھپنے لگی جبکہ عینا کو روحان نے اپنی پیچھے کرلیا وہ دونوں آدمی بھی روحان کو پہچان چکے تھے اس لئے کوئی عمل کیے بغیر ویسے ہی کھڑے رہے
“عینا جاؤ اسے لے جا کر کار میں بیٹھو میں آتا ہوں”
روحان پیچھے مڑ کر عینا کو دیکھتا ہوا بولا عینا اس بچی کو لےکر کار کی طرف بڑھ گئی
“سر آپ اصولوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں بلیک کینگ ناراض ہوں گے”
ان میں سے ایک آدمی روحان کو دیکھ کر مخاطب ہوا
“کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے میں نے، رات میں اس لڑکی کو خود الکینگ ہوٹل لےکر آجاؤ گا ابھی تم دونوں یہاں سے جاؤ”
روحان ان دونوں کو بولتا ہوا اپنی کار کی طرف بڑھ گیا
