Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 21)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“عینا کے مڈل کلاس بھائی کو آپ نے میرے سر تھوپ دیا لیکن وہ شکلاً اچھا ہوگا میں یہ سوچ کر خاموش رہی ایسا بدصورت اور کالا انسان آپ لوگوں نے میرے لئے منتخب کیا ہے اس سے تو بہتر سیفی ہے وہ زندہ ہوتا تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاتی”

بیڈ پر لیٹے جہانگیر کو، آغول کے جملے یاد آئے تو اسے شدید غصہ آیا

وہ بینکوئیٹ سے باہر برہان کی کال ریسیو کرنے آیا تب اسے بینکوئٹ کے پاس بنے لان میں آغول ٹہلتی ہوئی دکھی برہان سے بات کرکے اس نے آغول کی طرف قدم بڑھائے وہ اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اپنا اور اس کا رشتہ بتاتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا لیکن اس کے آغول کے پاس پہنچنے سے پہلے وہاں فاطمہ آگئی وہ فاطمہ کو دیکھ کر درخت کی آڑھ میں ہوگیا پھر جو اس نے آغول کے منہ سے اپنے لیے سنا وہ بےحد شاکڈ تھا جہانگیر کو معلوم تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی مگر وہ اسے اس حد تک ناپسند کرتی ہے اس کا جہانگیر کو اندازہ نہ تھا

وہ اس لڑکی کے لیے اپنے دل میں بھلا کیا فیلنگز پیدا کرسکتا تھا جو اسے مڈل کلاس اور بدصورت سمجھتی ہوں سب سے زیادہ غصہ جہانگیر ہو تب آیا جب اس نے سیفی کو اس سے بہتر کہا وہ سیفی جو اسے ہوٹل میں بلاکر اگر اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا تو وہ آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ ہوتی اس سیفی کو جہانگیر پر ترجیح دے رہی تھی آغول کی باتیں سن کر اُس وقت توہین کے احساس سے جہانگیر کا چہرہ سرخ ہورہا تھا مگر اِس وقت رات کے پہر غصے کے احساس سے جہانگیر کا چہرہ سرخ ہونے لگا

“میری بیوی بننے سے خودکشی کرنا تمہیں بہتر لگ رہا ہے ناں۔۔۔ تو تم آج رات ہی مر جاؤ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔۔۔ نہیں تو شادی کے بعد میں تمہیں مار دوں گا”

جہانگیر آنکھیں بند کرتے ہوئے آغول کا چہرہ سامنے لاکر اسے بولنے لگا

****

“کیوں اتنا پریشان کرکے رکھ دیا ہے ہمہیں، آخر کب باز آو گی تم اپنی ان حرکتوں سے, منصور کو اگر معلوم ہوا تو وہ کتنی ٹینشن لیں گے”

آغول کے ڈرائیور کے ساتھ نکلتے ہی کسی خدشے کے تحت فاطمہ بھی روحان کے ساتھ آغول کے پیچھے گھر پہنچی

روحان اگر اپنی پستول آغول کے ہاتھ سے کھینچ کر دور نہ پھینکتا تو نہ جانے وہ کیا کر بیٹھتی”

فاطمہ کے ساتھ ساتھ زاہدہ بھی آغول کے ردعمل سے ڈر گئی تھی

“مما پلیز اپنے کمرے جائے”

روحان فاطمہ کو بولتا ہوا آغول کو اس کے کمرے میں لے گیا

“کیا حماقت ہے یہ آخر کیوں کیا تم نے ایسا”

روحان اسے بیڈ پر بٹھاتا ہوا خود اس کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگا

“اپنی خوشیوں کے آگے آپکو بہن کے آنسو دکھائی نہیں رہے ہیں یا پھر آپ بھی جان بوجھ کر ڈیڈی کی طرح انجان بن رہے ہیں”

آغول روتی ہوئی روحان سے شکوہ کرنے لگی

“جو بھی کہنا ہے کھل کر کہو پہلیاں مت بجھاؤ آغول”

روحان نے کوشش کی کہ اپنا لہجہ نرم رکھے

“مجھے یہ شادی نہیں کرنی”

آغول اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی

“نکاح ہوچکا ہے صرف تمہاری رخصتی باقی ہے ہفتے بعد”

روحان اسے یاد دلاتا ہوا بولا

“یہ رخصتی رکوا دیں بھائی، مجھے جہانگیر پسند نہیں ہے”

آغول بےبسی سے بولی

“تو کون پسند ہے تمہیں، وہ سیفی جس کو پولیس نے مار دیا جانتی ہوں لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر کس کام کے لئے بلیک میل کرتا تھا وہ”

روحان نے اپنی بہن کے دماغ سے سیفی کا خیال نکالنا چاہا وہ سیفی کی حقیقت آشکارا کرتا ہوا بولا

“اس طرح سے پسند نہیں کرتی تھی میں سیفی کو کہ اس کے مرنے کا افسوس کرنے بیٹھ جاؤ پلیز مجھے اتنا مشکوک ہوکر مت دیکھیں بھائی سیفی سے میرا کوئی ایسا تعلق نہیں تھا مگر میں جہانگیر کو اپنے شوہر کے روپ میں ایکسپٹ نہیں کر پارہی ہو میں اس سے کوئی رشتہ قائم نہیں رکھ سکتی پلیز آپ کچھ کریں”

آغول نے پھر رونا شروع کردیا

“اوکے میں کچھ کرتا ہوں مگر پرومس کرو اپنے آپ کوئی نقصان نہیں پہنچاو گی۔۔۔ مما ڈیڈی اور میں تم سے بہت پیار کرتے ہیں پلیز یار ہم پر رحم کرو”

روحان آغول کو گلے لگاتا ہوا بولا وہ سوچ رہا تھا منصور سے بات کرکے چند ماہ کے لئے اس کی روخصتی فلحال ملتوی کردے, جب آغول مینٹلی ریلیکس ہوجائے تب اس کی رخصتی کے بارے میں سوچے

ے

****

“اچھا ہوا تم آگئے میں ابھی تمہارے پاس ہی آنے والا تھا”

روحان دوسرے دن صبح جب منصور کے کمرے میں آغول کے متعلق بات کرنے کے لیے آیا تب منصور اس کو اپنے کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر بولا

“کیا کوئی ضروری کام تھا خیریت ہے نا”

روحان منصور کو دیکھتا ہوا بولا شام میں اس کی برات کا ایونٹ تھا جس کی وجہ سے اس کو تھوڑے بہت کام تھے

“ابھی جہانگیر کی کال آئی ہے میرے پاس دراصل وہ کل تمہارے ریسیپشن پر ہی آغول کی رخصتی چاہ رہا ہے اسکے کچھ آفیشلی ایشوز آگئے ہیں جس کی وجہ سے رخصتی کا پریڈ تھوڑا لیٹ ہوجائے گا”

منصور روحان کو اپنی اور جہانگیر کے متعلق گفتگو بتانے لگا

“ایسے کیسے کل آغول کی رخصتی دے سکتے ہیں ہم، ٹھیک ہے اگر رخصتی کا پروگرام اسکی طرف سے لیٹ ہوتا ہے تو ہم چند ماہ کا ویٹ کرلیتے ہیں یہی ٹھیک رہے گا”

روحان منصور کو دیکھتا ہوا بولا

“کیسی فضول بات کررہے ہو جب نکاح ہوگیا ہے تو رخصتی لیٹ کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ میں جہانگیر کی بات کو ایگری کرچکا ہوں، تمہیں اس لئے بتارہا ہوں تمہارے ریسپشن والے دن ہی آغول کی برات کا ایونٹ بھی ہوگا جو بھی ارینجمنٹس ہو وہ دیکھ لینا”

منصور روحان کو کہتا ہوں اپنے کمرے سے نکل گیا

****

تھوڑی دیر پہلے ہی روحان اور عینا کا نکاح عمل میں آیا تھا

عینا کو روحان کے پاس اسٹیج پر لاکر بٹھایا گیا روحان ایک پل کے لئے اس کے حسن کو مہبوت سا دیکھے گیا دوسرے ہی پل لوگوں کی موجودگی کے احساس سے اس نے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کیا مگر وہ آج اپنی خوش قسمتی پر خوب سرشار تھا لوگوں سے مبارکباد وصول کرتا ہوا وہ کوئی شرارتی سا فقرہ ہر تھوڑی دیر بات سامنے دیکھ کر عینا کو کہہ دیتا جس سے عینا کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھ جاتی مگر وہ مسلسل پلکیں جھکائے بیٹھی تھی اس طرح رخصتی کا وقت ہوا

رخصت ہوتے وقت وہ دی جان اور جہانگیر کے گلے لگ کر بہت روئی تھی بچپن سے لے کر اب تک گزارا ہوا ایک ایک منظر اسے یاد آرہا تھا دی جان تو کافی رو رہی تھی مگر جہانگیر کافی ضبط سے کام لے رہا تھا، عینا کو رخصت کرتے ہوئے اندر سے دل اس کا افسرد تھا

بچپن میں ننھی سے پری کو گود میں لیے پیار کرنا، اسکے ساتھ کھیلنا، کبھی کسی بات پر عینا کا روٹھنا، اسکا غصہ کرنا، لڑنا، منانا اس کی ہر سالگرہ پر اس کے لئے کیک بنانا سب باتیں جہانگیر کو یاد آرہی تھی

“عینا کا بہت خیال رکھنا”

عینا کو کار میں بٹھانے کے بعد جہانگیر روحان کو دیکھتا ہوا بولا

“وہ میرے ساتھ خوش رہے گی تمہیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہاں یہ جملہ میں تمہیں کل کی بجائے آج ہی ایڈوانس میں کہہ دیتا ہوں تم آغول کا خیال رکھنا”

روحان جہانگیر کو دیکھتا ہوا بولا تھا

“کیا وہ بھی میرے ساتھ خوش رہے گی”

جہانگیر روحان سے پوچھنے لگا تو روحان نے چونک کر جہانگیر کو دیکھا

آج آغول روحان کی برات کے فنکشن میں نہیں آئی تھی بقول فاطمہ کے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن یہ بات سچ بھی تھی کیونکہ وہ زاہدہ سے کل رات ان کے گھر میں ہونے والا واقعہ جان چکا تھا جب وہ روحان کی پسٹول سے خودکشی کرنے کی کوشش کررہی تھی

“تم خوش رکھو گے تو وہ ضرور خوش رہے گی”

روحان کی بات سن کر جہانگیر نے سر ہلایا روحان کار میں بیٹھ گیا۔۔ اور جہانگیر دی جان کے پاس چلا آیا انہیں چپ کروانے کے لئے فاطمہ جاتے وقت بھی جہانگیر کے پاس آکر اسے آغول کی طرف سے صفائیاں دے رہی تھی جس پر جہانگیر نے مسکراتے ہوئے فاطمہ کو مطمئن کیا کہ اس نے کل کی آغول کی کسی بھی بات کو سیریس نہیں لیا

****

ساری رسم ادا ہونے کے بعد عینا کو روحان کے کمرے میں لا بٹھایا گیا پورا کمرہ ہی گلاب کے پھولوں سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی روحان کے آنے کا انتظار کررہی تھی یہ انتظار اسے زیادہ دیر تک نہیں کرنا پڑا مشکل سے بیس منٹ گزرے تھے کہ کمرے کا دروازہ کُھلا عینا نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو روحان بیڈروم کا دروازہ لاک کرنے کے بعد اسی کو دیکھ رہا تھا عینا نے دوبارہ اپنی پلکیں جُھکا لی روحان مسکرا کر چلتا ہوا اس کے پاس آیا

“آج میں بہت خوش ہوں جس کے ساتھ کی میں نے تمنا کی اس کو حاصل بھی کرلیا اس سے اندازہ لگا لوں تمہارے حصول کی خواہش اور میری لگن اتنی سچی ہے کہ آج تم میرے پاس موجود ہو”

روحان بیڈ پر بیٹھتا ہوا ہے عینا کے حنائی ہاتھ تھام کر بولا جو اس وقت سرد پڑ رہے تھے

“تم کچھ نہیں کہو گی”

وہ عینا کے ہاتھ سے ایک ایک کرکے ساری انگوٹھیاں اتارتا ہوا اسے پوچھنے لگا

“کک۔۔۔۔ کیا بولوں”

شاید وہ نرس ہورہی تھی روحان سمجھ گیا

“کچھ بھی بات کرو یار جیسے موبائل پر کرتی تھی”

روحان عینا کے ہاتھ سے چوڑیاں اتارتا ہوا بولا

“کیا بات کرو”

عینا کنفیوز ہوکر اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ عینا کی بات سن کر آخر کی دو چوڑیاں اتارتا ہوا روحان کا ہاتھ رکا وہ عینا کو دیکھنے لگا

“تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو”

وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ لائے بغیر عینا کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا اور باقی کی دو چوڑیاں بھی اتار دی

“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے میں کیوں گھبراو گی”

عینا اپنے آپ کو ریلیکس کرتی ہوئی بولی اسے ریلکس رہنا چاہیے تھا آخر کو وہ اس کا شوہر تھا عینا نے دل میں سوچا

“اگر تم گھبرا نہیں رہی ہو یہ تو بہت اچھی بات ہے”

روحان نے بولنے کے ساتھ ہی اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کیے اور اسے اپنے حصار میں لے لیتے ہوئے بیڈ پر لٹاکر خود اس پر جُھکا

“روحان”

عینا نے بےساختہ شرما کر اس کا نام پکارا

“بولو روحان کی جان”

روحان اس کی کمر سے اپنے دونوں ہاتھ نکال کر اس کے سر پر پن اپ ہوا دوپٹہ اتارنے لگا عینا کو دوبارہ گھبراہٹ ہونے لگی

“ریلیکس ہو جاؤ یار شوہر ویڈنگ نائٹ پر جن تھوڑی بن جاتے ہیں جو تم ایسے ڈر رہی ہو مجھ سے”

روحان اس کے ماتھے کی بندھیا اور جھومر اتارتا ہوا نارمل انداز میں بولا

“جن نہیں بنتے مگر بےشرم تو بن جاتے ہیں نا”

عینا بےحد آہستگی سے بولی تھی جس پر روحان قہقہ مار کر ہنسا

“اتنی امپورٹینٹ بات معلوم ہے تمہیں، ویسے یہ بےشرم بننے والی بات تمہیں پہلے سے معلوم تھی یا خاص کر بتائی گئی ہے”

روحان اپنی ہنسی روکتا ہوا عینا کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“مازیہ نے بتایا تھا”

عینا نظر جھکا کر اپنی سہیلی مازیہ کا نام لیا جس کی ایک ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی

“تو تمہیں تمہاری سہیلی نے ڈرایا ہے ویسے کیا کیا بتایا ہے مطلب کیسے بےشرمی کرتے ہیں شوہر”

روحان بالکل سیریس ہوکر پوچھتا ہوا اسکی کمر پر ہاتھ لے جاکر شڑٹ کی زپ کھولنے لگا

“اففف روحان آپ بہت۔۔۔ پلیز لائٹ بند کریں روم کی”

عینا اس کی حرکت پر نظر ملائے بغیر شرم سے بولی ساتھ ہی اپنے حنائی ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھنے کی بجائے روحان کی آنکھوں پر رکھ دیے جنہیں وہ مسکرا کر چومنے لگا

“پہلے بتاؤ کیسی بےشرمی کرتے ہیں شوہر نہیں تو میں آج رات بےشرم جن بن جاؤ گا”

روحان اس کے گلے کا نیکلس اتار کر اسے دھمکی دیتا ہوا بولا جس سے عینا اسے ڈر کر دیکھنے لگی مگر اس کی آنکھوں میں واضح شرارت نمایاں تھی

“آپ ایسی بےشرمی والی باتیں مت کریں مجھے واقعی شرم آرہی ہے اور انسان کبھی بھی جن نہیں بن سکتے اس طرح مجھے ڈرانا بند کریں”

عینا ناراض ہوکر اس سے شکوہ کرنے لگی ساتھ ہی اپنے حنائی ہاتھ روحان کی سینے پر رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی روحان کو اندازہ تھا وہ اس سے گریز نہیں برت رہی بلکہ شرم کی وجہ سے اسے پیچھے ہٹا رہی ہے

“کوئی لڑکی مجھ سے شادی سے پہلے کہتی تھی اسے بالکل ڈر نہیں لگتا کیونکہ وہ ایک پولیس والے کی بہن ہے”

وہ عینا کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے پکڑ کر تکیے پر رکھتا ہوا اسے یاد دلانے لگا ساتھ ہی اپنے ہونٹ عینا کے گال پر رکھ دیے جس سے عینا نے بےساختہ آنکھیں بند کی

“یہ جن تم پر شادی سے پہلے ہی بری طرح عاشق تھا اور اب یہ تم پر اپنا پورا پورا قبضہ جمانا چاہتا ہے”

عینا کو روحان کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ عینا کو اپنے حصار میں قید کرچکا تھا روحان نے اسکی گردن اپنے ہونٹ رکھے تو وہ خود میں سمٹنے لگی

“یار اس طرح شرماؤ گی تو کیسے کام چلے گا”

روحان اپنا سر اٹھاتا ہوا عینا کو دیکھ کر بولا جو اس وقت آنکھیں بند کئے ہوئے تھی، جسم کا سارا خون اس کے چہرے کی لالی بنا ہوا تھا روحان اسکا چہرہ غور سے دیکھنے لگا

“کیا آپ رحم نہیں کرسکتے آج رات مجھ پر”

عینا بند آنکھوں سے یہ محسوس کرسکتی تھی کہ روحان کی نظریں اسی کے چہرے پر موجود ہیں

“تم پر رحم کرنے کا مطلب ہے آج رات خود پر جبر کرنا جو میں ہمیشہ سے تمہیں دیکھ کر خود پر کرتا آیا ہو مگر آج رات میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا”

روحان عینا کو بولتا ہوا پورا پورا من مانیوں پر اتر آیا تھا اسے نہیں معلوم تھا لائٹ کھلی ہوئی ہے یا بند بس عینا نے اپنی آنکھوں کو بند رکھا تھا وہ روحان کے ہونٹوں کا لمس اس کی شدت سب محسوس کرسکتی تھی وہ اس وقت واقعی جن بنا ہوا تھا جوکہ پورا پورا اس پر قابض تھا

****

صبح عینا کی آنکھ کھلی تو چہرے پر خود بخود ہلکی مسکراہٹ در آئی کل رات روحان نے ناصرف عملی طور پر اپنی محبت کا ثبوت دیا تھا بلکہ اس کے ایک ایک انداز سے عینا کو ظاہر ہورہا تھا وہ اس کے لیے کتنی معنی رکھتی ہے

کل رات روحان کی بڑھتی ہوئی جسارتوں اور من مانیوں کے بعد تو عینا اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی تب روحان نے اسے ریلیکس کرنے کے لئے اسے اس کا نائٹ ڈریس تھمایا جسے وہ چینج کرکے بیڈ پر لیٹ گئی تب روحان نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا عینا سے ڈھیر ساری باتیں کی جیسے وہ روز اس سے موبائل پر کرتا تھا۔۔۔ اس کی اور اپنی باتیں، اپنے فیوچر کی باتیں، آگے کی پلاننگز، ڈھیر سارے وعدے۔۔۔ عینا اس کے سینے پر سر رکھ کر ساری باتیں سنتی رہی کسی بات پر سینے سے سر اٹھا کر اس کی بات کا جواب دے دیتی اس طرح وہ دونوں کافی دیر باتیں کرنے کے بعد سوئے

عینا کچھ رات کے منظر یاد کرکے شرمائی کچھ باتیں سوچ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری اپنے چہرے کا رخ اس نے دوسری سائیڈ کیا جہاں روحان ابھی تک بےخبر سو رہا تھا اس کی پشت عینا کی طرف تھی وہ بغیر شرٹ کے لیٹا ہوا تھا کل رات اس کو نائٹ ڈریس تھمانے کے بعد روحان نے شرٹ نہیں پہنی تھی جس کی وجہ سے عینا کو جھجھک محسوس ہورہی تھی

عینا نے کمفرٹر روحان کے اوپر ڈالنا چاہتا تو اس کی نظر روحان کی پیٹھ پر (k) نشان کے ٹیٹو پر گئی جسے وہ غور سے دیکھنے لگی عینا اس کی پیٹھ پر موجود نشان پر اپنی انگلی پھیرنے لگی تبھی روحان کی آنکھ کُھلی، عینا کی انگلی کا لمس اپنی پیٹھ پر موجود نشان پر محسوس کرکے ایک دم اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہوئے برق رفتاری سے مڑ کر اس نے عینا کا ہاتھ پکڑا یوں اچانک ہونے والے حملے پر عینا ڈر گئی

“اُف روحان آپ نے تو مجھے ڈرا دیا”

عینا اس کے چہرے کے تاثرات کا نوٹس لیے بغیر بےساختہ بولی مگر وہ ابھی بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

“کیا کررہے ہیں میرا ہاتھ چھوڑیں”

عینا کو اپنی کلائی پر سختی محسوس ہوئی تو وہ روحان کو دیکھ کر بولی

“تم کیا کررہی تھی”

روحان اس کی کلائی چھوڑے بغیر بولا اس کا لہجہ بےانتہا سرد تھا جس سے ایک پل کے لیے عینا خاموشی سے اسے دیکھنے لگی روحان کے انداز میں آنکھوں میں یا چہرے پر مزاق کا یا شرارت کا شائبہ تک نہ تھا

“کیا پوچھ رہا ہوں میں تم ابھی کیا کررہی تھی”

اب کی بار سنجیدگی کے ساتھ لہجے میں سختی در آئی تھی جس سے عینا سہم گئی

“وہ۔۔۔ میں۔۔۔ وہ آپ کی پیٹھ پر جو نشان”

عینا کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی تو روحان نے عینا کی کلائی پر اپنے ہاتھ کی گرفت مزید سخت کی

“کون سا نشان”

روحان پتھریلے لہجے میں عینا کو آنکھیں دکھاتا ہوا پوچھنے لگا

“میرا ہاتھ چھوڑیں پلیز مجھے درد ہورہا ہے”

کل رات وہ ایک محبت کرنے والا شوہر تھا لیکن اس وقت وہ اسے کوئی ظالم محسوس ہوا شادی کی پہلی صبح اتنی جلدی آخر کوئی کیسے بدل سکتا تھا

“میں پوچھ رہا ہوں کون سا نشان دیکھا ہے تم نے میری پیٹھ پر”

وہ مکمل اٹھ کر بیٹھ چکا تھا اور عینا کا ہاتھ مڑوڑ کر اس سے پوچھنے لگا درد کی وجہ سے عینا کے منہ سے چیخ نکل گئی

“کوئی نشان نہیں ہے کچھ نہیں دیکھا میں نے پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں”

بولتے ہوئے عینا کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے تب روحان نے عینا کا ہاتھ چھوڑا

“گڈ، مجھے اسی طرح کی انٹیلیجنٹ بیوی چاہیے تھی اب یہ بات زندگی بھر یاد رکھنا، تم نے میری پیٹھ پر کوئی نشان نہیں دیکھا بلکہ میری پیٹھ پر کوئی نشان موجود ہی نہیں ہے اوکے میری جان”

وہ نرمی سے اس کا ہاتھ سہلاتا ہوا بولا اس کے انداز میں اور لہجے میں دوبارہ نرمی سمٹ آئی تھی مگر عینا اب خوفزدہ ہوکر اسے دیکھ رہی تھی روحان نے عینا کو اپنی طرف کھینچ کر حصار میں لیا اور بیڈ پر لیٹ گیا اسے اب اپنی بیوی کو ریلیکس کرنا تھا شاید وہ اس سے ڈر گئی تھی کل رات سے تھوڑا زیادہ