Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 20)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

جہانگیر نے نکاح نامے پر آغول کے سائن دیکھتے ہوئے خود بھی سائن کیے ہر طرف مبارکباد کی آوازیں گونجی اور باری باری سب اس کے گلے لگ کر اسے مبارکباد دینے لگے یہ پہلا موقع تھا جب روحان اور وہ بغل گیر ہوئے تھے، دل میں ایک دوسرے کے لئے نیک تمنائیں ہو نہ ہو مگر رسِم دنیا تو نبھانی تھی البتہ منصور جہانگیر سے بہت خوشدلی سے ملا تھا اور جو باتیں فاطمہ نے اس سے آغول کے متعلق کہی تھی ویسے ہی منصور بھی نرمی سے، ان ڈائریکٹ اسے سمجھا رہا تھا جس پر جہانگیر فرمابرداری سے سر ہلانے لگا

****

یلو مرجنڈا اور گرین کلر کے کمبینیشن کے چٹاپٹی غرارہ میں جس پر یلو کلر کی شرٹ اور نیٹ کے یلو دوپٹے میں عینا بےحد حسین لگ رہی تھی آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھتی ہوئی وہ اپنی سیلفی لینے لگی تھوڑی دیر پہلے دی جان اس کی نظر اتار کر اور آیتیں پڑھتی ہوئی اس پر دم کرکے گئی تھیں سب اس وقت اپنے روم میں آج کے فنکشن کے لئے تیار ہورہے تھے

“اہم اہم یہ تصویریں کہیں کسی خاص مقصد کے لئے تو نہیں لی جارہی مطلب کسی کو دکھانے کے لئے”

رحجاب عینا کے کمرے میں داخل ہوئی اسے سیلفی لیتے دیکھ کر شوخی سے بولی اس نے لائٹ یلو کلر کا ڈریس زیب تن کیا ہوا تھا اور عادت کے مطابق سر پر اپنے دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا

“توبہ کریں رحجاب آپی ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ تو بس آج ایسے ہی خیال آگیا تو سوچا چند تصویریں لےلو”

عینا جھینپتی ہوئی رحجاب سے بولی

“ویسے آج روحان تمھیں دیکھ کر ٹھنڈی آہ ابھرتے ہوئے یہی سوچے گا کہ کاش میں جہانگیر کی طرح آج ہی نکاح کرلیتا”

رحجاب کی بات سن کر عینا کے گال سرخ ہوگئے

“رحجاب آپی ہم دونوں نے پلان کیا تھا آج ہم بھائی کی ٹانگ کھینچیں گے اور آپ الٹا مجھے دیکھ کر شروع ہوگئی”

عینا اسے مصنوعی گھوری دیتی ہوئی بولی

“کس کی ٹانگ کھینچنے کی بات ہورہی ہے”

عینا کی بات سن کر جہانگیر اس کے کمرے میں آتا ہوا پوچھنے لگا جس پر عینا اور رحجاب مسکرا دی

“اوہو دلہے میاں تو آج خوب جچ رہے ہیں کیو عینا”

وائٹ کلر کے کاٹن کی قمیز شلوار پر بلیک کلر کا واسکوٹ میں جہانگیر کی شخصیت دلکش لگ رہی تھی مگر وہ رحجاب کی بات سن کر ان دونوں کو گھورنے لگا

“خبردار جو تم نے مجھے دلہا میاں کہہ کر پکارا ورنہ پچھلی بار کی طرح نقلی کی بجائے اصلی چھپکلی تم پر پھینک دوں گا”

رحجاب جو صبح سے اسے دلہا میاں کہہ کر چھیڑ رہی تھی چھپکلی کی دھمکی پر بالکل سیدھی ہوگئی کیونکہ چھپکلی سے اس کی جان جاتی تھی

“تم تینوں یہاں کھڑے ہوکر باتیں کر رہے ہو چلو بھئی ایک گھنٹہ ویسے ہی لیٹ ہوچکے ہیں”

ان تینوں کو کمرے میں دیکھ کردی جان وہاں آتی ہوئی بولی

****

مہندی کے فنکشن میں ہر طرف رنگ و خوشبو کا سیلاب بکھرا ہوا تھا ہر طرف لوگوں کی گہما گہمی میں جہانگیر کی نظریں اس کو ڈھونڈتی رہی جس سے آج کے دن اس کا نیا تعلق جڑا تھا۔۔۔ نظروں کو بینکوئیٹ کے چاروں طرف دوڑانے کے بعد بالآخر وہ اس کو نظر آہی گئی سب سے الگ تھلک صوفے پر ایک جگہ بیٹھی ہوئی آنکھوں میں ڈھیر ساری ناراضگی غصہ اور بیزاری لئے۔۔۔ وہ اپنے آپ کو اس ماحول سے اجنبی رکھنے کی کوشش میں مصروف تھی شاید وہ اس نئے بننے والے رشتے پر خوش نہ تھی

جہانگیر کو اندازہ تھا یقیناً اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ اس کا تعلق کس سے جڑا ہے اور جب اس کو معلوم ہوگا تو نہ جانے وہ کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرے، خود جہانگیر کو اپنے اندر اس رشتے کو لے کر کوئی بہت خاص فیلنگز کا احساس نہیں ہورہا تھا البتہ اب اس کی زندگی کے ساتھ ایک اور زندگی جُڑ گئی تھی جو کہ اس کی ذمہ داری تھی

“اتنی دیر سے اپنی بیوی کو گھورنے میں مصروف ہے اس سے بہتر ہے سیدھا سیدھا جاکر بات ہی کرلے۔۔۔۔ کونسا اب رونی تیرا گریبان پکڑنے والا ہے ویسے ہاتھ تو نے صحیح جگہ مارا ہے خوبصورت بیوی کے ساتھ ساتھ اپنے دشمن کو سالا بناکر”

فرحان کی سرگوشی پر جہانگیر نے اس کو گھور کر دیکھا

“تمہیں اگر اپنی عزت پیاری ہے تو خاموشی سے بیٹھے رہو ورنہ یہاں سے کھانا کھلائے بغیر اٹھاکر باہر پھینک دو گا۔۔۔ ویسے رونی کے دوست بھی اس سے، مجھ کو دیکھ کر یہی سب کچھ کہہ رہے ہوگے”

جہانگیر گھورتا ہوا فرحان سے بولا

آج مہندی کے فنکشن میں جہاں جہانگیر نے اپنے تمام تر پرانے دوستوں کو بلایا تھا وہی روحان کے بھی سارے دوست انوائٹ تھے وہ سب ایک دوسرے سے اتنے سالوں بعد ایسے مل رہے تھے جیسے ان سب میں شروع سے ہی بہت دوستی ہو پرانے دور کی باتیں یاد کرکے وہ سب قہقہہ لگانے کے ساتھ ساتھ روحان اور جہانگیر کا بھی سالے بہنوئی ہونے پر خوب ریکارڈ لگا رہے تھے۔۔۔ جہانگیر اور روحان بھی اسی ٹیبل پر موجود تھے اور وہ دونوں بھی ان سب کی باتوں پر ہنستے ہوئے انجوائے کررہے تھے

تھوڑی دیر بعد روحان کو رسم کے لئے اسٹیج پر بلایا گیا۔۔۔ تب ان سب نے بھنگڑا ڈال کر دوست ہونے کا حق ادا کیا

روحان کو عینا کے ساتھ بٹھایا گیا تو سب نے ان دونوں کی جوڑی کو سراہا اور پھر مہندی کی رسم ادا کی گئی روحان کو تو آج عینا کوئی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی جس پر سے نظریں ہٹانا واقعی ایک مشکل آمر تھا

“بچت ہوگئی آج تمہاری اگر آج آغول اور جیڈی کی بجائے میرا اور تمہارا نکاح ہوا ہوتا تو ابھی اور اسی وقت سب کے سامنے اٹھاکر لے جاتا”

روحان عینا کے منہ میں مٹھائی کا چھوٹا سا ٹکڑا ڈالتا ہوا اس کے کان کی صرف جُھک کر سرگوشی کرنے لگا جس سے عینا کا سر مزید جُھگ گیا

“عینا بیٹا اب تم بھی مٹھائی کھلاؤ”

فرزانہ خالا عینا کو دیکھتی ہوئی بولی تھی عینا جُھکے سر اور کانپتے ہاتھوں سے پلیٹ سے مٹھائی اٹھانے لگی

“اس مٹھائی کی ٹکڑے سے میرا کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ اب تو میں ہماری شادی کے دن پورا ریڈ ویلویٹ کیک ٹیسٹ کرو گا”

روحان نے اپنی پسند سے عینا کے لئے ریڈ کلر کا خوبصورت سا ویڈنگ ڈریس لیا تھا۔۔۔ روحان کی سرگوشی پر عینا کا ہاتھ کانپا تھا جسے پکڑتا ہوا وہ عینا کے ہاتھ سے مٹھائی کھانے لگا اسٹیج پر موجود سب لوگوں نے اووو کرتے ہوئے تالیاں بجائی جبکہ عینا اپنی دھڑکنوں پر قابو پانے لگی

اسٹیج کے نیچے بھنگڑا کرتے ہوئے روحان کے دوستوں نے اسے بھی اسٹیج سے نیچے اتار لیا وہ آج خوش تھا اس لئے اپنے دوستوں کا ساتھ دیتے ہوئے اس نے اپنی خوشی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا روحان کو بھنگڑا ڈالتے دیکھ کر اسٹیج پر بیٹھی ہوئی عینا بھی مسکرائی دی تھی

“ابے جیڈی نکاح تو آج تیرا ہوا ہے اصولاً تو تجھے بھنگڑا ڈالنا چاہیے”

شارق جہانگیر کو ڈانس فلور پر کھینچتے ہوئے بولا

“میں اس کام میں بالکل زیرو ہو صرف تالیاں بجا سکتا ہوں تم لوگ انجوائے کرو”

جہانگیر دونوں ہاتھ اٹھاتا ہوا بولا اور ایک سائیڈ پر کھڑا ہوگیا جہانگیر کے دوست بھی ڈانس فلور پر پہنچ کر رونی کے دوستوں سے مقابلہ کررہے تھے

تب فوٹوگرافر نے جہانگیر کے پاس آکر شور کی وجہ سے اسکے کان میں کچھ بولا جہانگیر ڈانس فلور پر چلتا ہوا روحان کے پاس آیا اور اس کے سامنے اپنے بازو پھیلا کر کھڑا ہوا روحان کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگا تب جہانگیر نے اسے فوٹو گرافر کی طرف اشارہ کیا پھر روحان اس کے گلے لگا تو فوٹوگرافر نے ان دونوں کی تصویرں لی جس میں وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے مسکرا رہے تھے دونوں کے دوستوں نے ان دونوں کو دیکھ کر خوب شور مچایا جہانگیر ہستا ہوا ڈانس فلور سے نیچے اتر گیا

****

جب شام میں نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا گیا ایک پل کو اس کے دل میں خیال آیا وہ نکاح نامہ پھاڑ دے اچھا ہے اس کے ڈیڈی اسے کہیں باہر پھینک دیں کسی انجان آدمی کے ساتھ عمر بھر باندھنے سے یہی بہتر تھا جسے اس نے دیکھا تک نہ تھا مگر فاطمہ کی التجائیں،، آنکھوں میں فریاد دیکھ کر اس نے نکاح نامے پر خاموشی سے سائن کردیے اس کے بعد فاطمہ نے اسے ڈھیر سارا پیار کیا اسے سمجھایا بجھایا

فاطمہ کے کہنے پر ہی اس نے بوٹل گرین کلر کی ٹیل شیپ میکسی زیب تن کی ہوئی تھی بیوٹیشن کو فاطمہ نے گھر پر ہی بلالیا تھا تاکہ وہ آغول کو تیار کردے مگر آغول نے چیخ و پکار شروع کرکے بیوٹیشن کو اپنے کمرے سے نکال دیا وہ تو شاید مہندی بھی نہیں لگواتی فاطمہ کی منتیں کرنے اور بےحد اصرار پر اس نے احسان کرتے ہوئے معمولی سے نقش و نگار اپنے ہاتھوں پر بنانے کی اجازت دی

یہاں آکر وہ بور ہورہی تھی اسٹیج پر اس نے دور سے عینا کو دیکھا تھا وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی یقیناً اس کا بھائی بھی اسی کی طرح خوبصورت ہوگا اس بات سے آغول کو تھوڑا اطمینان ہوا تھوڑی دیر بعد فاطمہ اسے جہانگیر اور عینا کی دی جان فرزانہ خالہ اور ایک کزن سے تعارف کروا کر گئی تھی جس پر آغول ان سے لگے بندھے انداز میں ملی تھی دی جان نے اپنے پوتے کی نازک سی خوبصورت سی بیوی کو دیکھ کر اس کی ڈھیر ساری بلائیں لی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں دیں آغول کو پیار کرنے لگی تو آغول پریشان ہوکر فاطمہ کو دیکھنے لگی تب فاطمہ مسکراتی ہوئی دی جان کو باقی سب سے ملوانے کا کہہ کر وہاں سے لے گئی

آغول بےزار انداز میں دوبارہ بیٹھنے لگی تو ڈھول کی آواز اور لڑکوں کے ڈانس پر اس کی توجہ ڈانس فلور پر گئی جہاں پر آٹھ دس لڑکے شور و غل کرتے ہوئے بھنگڑا ڈال رہے تھے اس کا بھائی بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہا تھا آغول کو افسوس ہوا وہ اپنی خوشی میں بہن کو بالکل ہی بھول گیا تھا یا پھر جان بوجھ کر منصور کی طرح اسے نظرانداز کررہا تھا وہی آغول کی نظر اس آفیسر پر پڑی جو ہنستا ہوا اس کے بھائی سے گلے مل رہا تھا

“یہ بھلا یہاں کیا کررہا ہے کیا یہ بھی بھائی کا دوست ہے”

جہانگیر کو دیکھ کر آغول کی بھنویں تن گئی وہ اسے دیکھتی ہوئی سوچنے لگی

آج پہلی بار اس نے جہانگیر کو کُھل کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا کھل کر نہیں شاید ہنسے ہوئے ہی پہلی بار دیکھا تھا ورنہ تو وہ ہر وقت اپنے چہرے پر غصہ سجائے رہتا تھا۔۔۔ آغول دنیا والوں کے ساتھ اسے بھی دفع کرکے بیزار ہوتی ہوئی بینکوئٹ سے باہر نکل گئی

****

“آغول تم یہاں پر ہو میں تمہیں کب سے اندر ڈھونڈ رہی ہوں میری جان”

فاطمہ پورے بینکویٹ کا چکر لگا کر باہر آئی تو سیدھے ہاتھ پر موجود لان میں اسے آغول دکھائی دی

“مما میں ڈرائیور کو بلانے آئی تھی وہ پارکنگ ایریا سے کار لےکر آرہا ہے اب میں گھر جانا چاہتی ہوں”

آغول بیزار ہوتی ہوئی فاطمہ سے بولی

“بیٹا ایسے کیسے جارہی ہو یہ تو ہمارے گھر کا فنکشن ہے سب کیا کہیں گے تم عینا سے بھی نہیں ملی روحان کیا سوچے گا اور جہانگیر اس سے تو مل لیتی”

فاطمہ آغول کو جاتا ہوا دیکھ کر کہنے لگی

“سب کیا کہیں گے، بھائی کیا سوچے گا، یہی سب کچھ بول کر آپ نے میری زندگی کی ڈور نہ جانے کس انجام شخص کے ہاتھ میں پکڑا دی۔۔۔۔ میں ملوگی جہانگیر سے، کیا مجھے الہام ہوا ہے جہانگیر کون ہے ۔۔۔ وہ خود کیا کسی ریاست کا شہزادہ ہے جو مجھ سے آکر نہیں مل سکتا”

آغول نہ جانے کب سے بھری ہوئی بیٹھی تھی ایک دم فاطمہ کے سامنے پھٹ پڑی

“اچھا بابا آہستہ آواز میں تو بولو، جہانگیر کونسا انجان ہے جو ایسے کہہ رہی ہو وہ ہسبینڈ ہے تمہارا۔۔۔ تم ایسے شو کررہی ہو جیسے جانتی نہیں ہوں جہانگیر کو، وہی تو ہے جہانگیر جس نے آگ لگنے پر شاپنگ مال میں تمہاری جان بچائی تھی”

فاطمہ کو اندازہ ہوگیا آغول جہانگیر کو نہیں جانتی اس کا موڈ بحال کرنے کے لیے وہ آغول کو جہانگیر کے بارے میں بتانے لگی مگر دوسری طرف تو گویا آغول کے اوپر جیسے کسی نے بم دے مارا ہو

“وہ آفیسر اس کا نام ہے جہانگیر ہے۔۔۔ اس سے نکاح کروا دیا آپ لوگوں نے میرا… او میرے خدا”

آغول بےیقینی سے فاطمہ کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر فاطمہ الجھ گئی

“تم ایسے کیوں ری ایکٹ کررہی ہو آخر ہوا کیا ہے”

فاطمہ کی بات پر آغول غصے میں اسے دیکھنے لگی ضبط کرنے کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے

“کیو کیا آپ لوگوں نے میرے ساتھ ایسا، آپ نے، ڈیڈی نے، بھائی نے کیوں کیا آخر میرے ساتھ ایسا۔۔۔ معلوم ہے آپ کو اسی آفیسر کے کہنے پر انسپکٹر نے روحان بھائی سے کہا کہ میں سیفی کے ساتھ اس کے روم میں موجود تھی، اسی آفیسر کے کہنے پر لیڈی انسپکٹر نے مجھے اسٹک سے مارا تھا۔۔۔ یہ وہی آفیسر ہے جس کی کار سے میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔ عینا کے مڈل کلاس بھائی کو آپ لوگوں نے میرے سر تھوپ دیا مگر وہ شکلاً اچھا ہوگا یہ سوچ کر میں خاموش رہی مگر ایسا بدصورت کالا انسان آپ لوگوں نے میرے لئے منتخب کیا ہے اس سے تو بہتر ہے کہ سیفی زندہ ہوتا میں اس کے ساتھ کہیں بھاگ جاتی”

آغول روتی ہوئی غصے میں بولی

“کیا فضول بک بک کررہی ہو خدا کو مانو کہاں سے کالا اور بدصورت انسان آگیا جہانگیر سانولا یا گہرا رنگ بھی نہیں ہے اس کا گندمی رنگ ہے اچھی خاصی پرسنیلٹی کا مالک ہے وہ اور کوئی ایسا غریب بھی نہیں ہے جو تم اس طرح ری ایکٹ کررہی ہو یہ ساری فضول باتیں اپنے دماغ سے نکال دو اور سیفی کا نام میں تمہاری زبان سے دوبارہ نہ سنو”

فاطمہ کو معلوم تھا اس کو نہیں معلوم تھا اس کی بیٹی اس حد تک کلر کونشیس ہوگی جہانگیر کی اچھی خاصی پرسنیلٹی کے آگے اس کے کلر کا بہت زیادہ فیئر ہونا کوئی ایسا معنی نہیں رکھتا تھا آغول کا یوں رونا فاطمہ کو نہایت احمقانہ فعل لگا

“جو بھی ہو مما میں جہانگیر کی بیوی بننے سے بہتر خودکشی کرنا پسند کرو گی”

آغول غصے میں فاطمہ کو کہتی ہوئی وہاں سے جانے لگی اس نے چند قدم بڑھائے ہی تھے وہاں جہانگیر کو کھڑا دیکھ کر آغول کے قدم رکے

وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کیے آغول کو بالکل خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا اس کے تاثُرات سے آغول کو اندازہ ہوگیا کہ وہ ساری باتیں سن چکا تھا

“مائی فٹ”

آغول اس کو نظر انداز کرتی ہوئی غصے میں کار کی طرف بڑھی جہاں ڈرائیور اس کا ویٹ کررہا تھا فاطمہ نے حیرت اور بےیقینی سے دیکھا تھا اسی بھی لگ رہا تھا کہ جہانگیر نے ضرور کچھ سنا ہے وہ بالکل سیریس کھڑا تھا اس لیے جلدی سے فاطمہ اس کی طرف بڑھی

“جہانگیر بیٹا وہ دراصل آغول ناں اس وقت کافی ڈسٹرب۔۔۔

فاطمہ نے بات بنانی چاہی تھی مگر اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی کہ جہانگیر وہاں سے چلاگیا