Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 34)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا طبیعت ٹھیک ہے”

جہانگیر عینا کے بجھے بجھے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا تو روحان بھی عینا کو دیکھنے لگا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر لوٹا تھا چینج کرنے کے بعد جہانگیر اور آغول کے پاس لیونگ روم میں ہی بیٹھ گیا

“نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے صبح کافی دیر بعد جاگی تو شاید اس لیے فیل ہورہا ہوگا”

روحان کی نظریں عینا کے اوپر تھی مگر عینا اسے دیکھے بغیر جہانگیر کو مسکرا کر بولی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب کی بار اس کی وجہ سے کوئی بھی بدمزگی ہو جس کی وجہ سے آغول اور اسکے بھائی کے بیچ بات بھی خراب ہو

“چلو صبح دیر سے جاگی کم از کم تمہاری نیند تو پوری ہوگئی بھئی جہانگیر میں تو وہ ساس نہیں ہوں جو ہر معاملے میں بہو پر روک ٹوک کرے یا پھر بلاوجہ کی گھر کی ذمہ داریاں ڈال کر رکھے بہو پر”

کمرے میں موجود فاطمہ بھی گفتگو میں حصہ لیتی ہوئی جہانگیر سے بولی اور ذمہ داریوں کا تذکرہ کر کے بہت کچھ جتایا تو آغول ایک دم جہانگیر کو دیکھنے لگی

“کوئی بھی ذمہ داری بلاوجہ کی نہیں ہوتی آنٹی اچھی بات ہے آپ اس کے آرام کا خیال رکھتی ہیں اور میرے خیال میں عینا تمہیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے”

جہانگیر فاطمہ کے بعد عینا کو دیکھتا ہوا بولا جس پر اس نے خاموشی سے سر ہلایا

****

“کاشف زیری سے تمہارے تعلقات کس حد تک سنجیدہ ہیں رونی”

ڈنر کرنے کے بعد جہانگیر اور روحان باہر لان میں بیٹھے ہوئے تھے تب جہانگیر روحان سے پوچھنے لگا روحان نے چونک کر جہانگیر کو دیکھا

“اتنے بھی سنجیدہ نہیں ہے جتنی سنجیدگی سے تم سوال کررہے ہو”

روحان نے جہانگیر کی بات کو مذاق میں اڑاتے ہوئے کہا منصور آج گھر پر موجود نہیں تھا اس لیے روحان آغول کے خیال سے جہانگیر کو پورا تھوڑا ٹائم دے رہا تھا

“اور روزی کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا”

جہانگیر غور سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“کیا مطلب ہے تمہارا”

یہ سوال غیر متوقع تھا اس لئے روحان بگڑے ہوئے زاویے کے ساتھ جہانگیر کو دیکھتا ہوا بولا اب اسے سمجھ میں آیا کل روزی کے کہنے پر ویٹر نے اس کی پاکٹ میں کوئی چیز ڈالی ہوگی جو جہانگیر نے نکالی

“ایسا تو نہیں ہے رونی کے تم میرا مطلب نہیں سمجھے”

جہانگیر روحان کو جتانے والے انداز میں بولا

“مجھے نہیں معلوم تم کس سلسلے میں بات کررہے ہو روزی کاشف صاحب کی اچھی دوست ہے میرا اس سے کیا لینا دینا”

روحان اُکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولنے لگا

“میں تم پر شک نہیں کررہا لیکن تمہیں اس بات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ زیری سے دوستی تمہارے لیے مفید ثابت نہیں ہوسکتی اس سے دور رہو”

جہانگیر روحان کو مشورہ دیتا ہوا بولا

“تم ہوتے کون ہو مجھ پر شک کرنے والے اگر تم روزی کو لےکر یہ بات کررہے ہو تو میرا کریکٹر کلین ہے لیکن اس بات کی وضاحت مجھے تمہیں دینے کی ضرورت نہیں اور رہی کاشف صاحب کی بات کہ ان سے میری دوستی کب ہوئی کیوں ہوئی کیسے ہوئی اور کتنی گہری ہے اس کے لئے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”

روحان آرام سے اس کی طبیعت صاف کرتا ہوا بولا آخر وہ کون ہوتا تھا اسے کوئی بھی مشورہ دینے والا

“میں پریشان تمہارے لئے ہرگز نہیں ہوں میری بہن سے تمہارا تعلق جڑا ہے، میں صرف اپنی بہن کے لیے فکر مند ہوں اس لئے یہ سب تم سے کہا، آگے تمہاری مرضی زیری میری نظر میں مشکوک ابھی بھی ہے جب سے میں نے اس کے ہوٹل پر ریڈ کیا تھا تب سے, بدقسمتی صرف یہ ہے کہ اس کے خلاف میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اس کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لےسکتا دوسرا اس کی بیک پر کوئی مضبوط سپورٹ ہے لیکن جس دن مجھے اس کے خلاف کوئی ایک بھی ثبوت ملا اس دن وہ مجھ سے نہیں بچے گا اور جو اس کے انڈر کام کرتے ہیں یا اس کے پارٹنر ہیں سب شکنجے میں آئے گے تم نے آج کافی وقت دیا اس کا شکریہ”

جہانگیر روحان کو بولتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا تاکہ آغول کو لےکر گھر کے لیے نکلے جبکہ روحان چہرے پر پریشانی لیے وہی بیٹھا کچھ سوچنے لگا

****

میوزک کی تیز آواز پر روزی رقص کرنے میں مصروف تھی رقص کرنے کے دوران وہ اپنے جسم سے ایک ایک کر کے لباس بھی اتار رہی تھی جبکہ کاشف زیری اس کے سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا ہاتھ میں جام لئے مدہوش نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا

روزی کی شکل میں اسے بار بار آغول کا چہرہ نظر آرہا تھا جسے دیکھ کر وہ جھومتا ہوا مدہوش ہونے لگا پھر اچانک اسے آغول کی کہی ہوئی بات یاد آئی

یہی وہ ناگن تھی جو بستر اس کا گرم کرتی تھی اور ایس۔ پی کو اُس کے خلاف انفارمیشن دیتی تھی کاشف زیری روزی کو نفرت سے دیکھتا ہوا سوچنے لگا اور ہاتھ میں موجود جام خالی کر کے، گلاس کو روزی کے پاؤں کے قریب پھینکا صرف ایک پل کے لیے اس کے پاؤں تھمے تھے، دوسرے ہی پل وہ کاشف زیری کی طرف مسکراہٹ اچھالتی ہوئی دوبارہ رقص کرنے میں مصروف ہوگئی

کاشف زیری نے اپنے سامنے شیشے کی ٹیبل پر رکھا ہوا چمڑے کا ہنٹر اٹھایا اور روزی کے پاس آیا رقص کرتی ہوئی روزی کی کمر پر اس نے زور دار ہنٹر مارا

“سس”

روزی کے منہ سے سسکی نکلی مگر کاشف زیری کے اشارہ کرنے پر وہ دوبارہ رقص کرنے لگی کیونکہ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ روزی کو بیڈ پر لے جانے سے پہلے شراب کے نشے میں اسے خوب مارتا پیٹتا اس لئے روزی کی نازک کھال بھی اس تشدد کی عادی تھی

وہ بنا تکلیف چہرے پر مسکراہٹ سجائے اب بھی رقص کررہی تھی کاشف زیری نے اب کی بار اس کو پہلے سے بھی زیادہ زور سے ہنٹر مارا جس کا وہ بنا اثر لیے رقص کرتی رہی اس کے بعد کاشف زیری ہاتھ نہیں رکا وہ پوری قوت سے یکے بعد دیگرے جنونی انداز میں روزی کی چمڑی ہنٹر سے ادھیڑنے لگا

یہاں تک کہ روزی چکنے ماربل پر گر چکی تھی اس کی کھال بےتحاشا سرخ ہونے کے بعد اب جگہ جگہ سے اس کے جسم پر خون رِسنے لگا تھا وہ تکلیف کی شدت سے مسلسل چیخیں جارہی تھی مگر اس کی چیخیں کاشف زیری کو مزا دے رہی تھی وہ اپنا ہاتھ روکے بنا روزی کو ہنٹر سے مارے جارہا تھا جب روزی بری طرح سے سِسکنے لگی تب کاشف نے ہنٹر دور پھینکا اور روزی کے نیم مردہ وجود کو بالوں سے گھسیٹتا ہوا کمرے کے بیچ و بیچ لےکر آیا جہاں گلاس کے ٹوٹنے کے باعث کانچ کے ٹکڑے پڑے تھے

جب کاشف زیری نے کانچ کا ایک نوکیلا ٹکڑا اٹھایا تو روزی کی خوف آنکھیں پھیلی مگر اس میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ اپنا بچاؤ کرسکے

کاشف زیری نے بہت آرام سے اس کی شہ رگ کاٹی اور روزی بنا اپنا قصور جانے دنیا سے چلی گئی

“جنید لےکر جاؤ اس کمینی کی لاش کو اور اسے پولیس اسٹیشن کے باہر پھینک واو تاکہ ایس پی کو پتہ چلے اب کی بار اس نے کس سے پنگالیا ہے”

کاشف زیری نے جنید کو کال کرکے اپنے کمرے میں بلایا تھا جنید کے کمرے میں آتے ہی اسے حکم دیا

اب وہ خود صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لے رہا تھا شاید روزی کو مار مار کر وہ خود بھی تھک گیا تھا جنید روزی کی لاش کو گھسیٹتا ہوا کمرے سے لے جانے لگا تب کاشف زیری کی آواز پر وہ دوبارہ رکا

“ایس۔ پی کی بیوی چاہیے مجھے کل یہاں میرے بیڈ پر سمجھ آرہا ہے تمہیں”

روزی کا قصّہ اب ختم ہوچکا تھا کاشف زیری کو اب دوسرا کھلونا چاہیے تھا جس کے ساتھ وہ کھیل سکے پھر کھلونا وہی کیوں نہ ہو جس کے لئے اس کا دل بےقرار تھا

“میں کل رات گوہر کو ایس۔ پی کے گھر بھیج دیتا ہوں وہ ایس۔ پی کی بیوی اٹھا لائے گا”

جنید کاشف زیری کو بولتا ہوا روزی کی لاش کو کمرے سے باہر لے گیا

*****

“عینا یار میری بلیک شرٹ تو پریس کروا دو زاہدہ سے”

اسے چند گھنٹے گزرے تھے آفس سے گھر آئے ہوئے لیکن اسے میٹنگ کے سلسلے میں دوبارہ جانا تھا وہ عینا سے دوستانہ لہجے میں بولا

تین دن پہلے صبح جو تلخ کلامی ان دونوں کے درمیان ہوئی تھی تب سے ہی عینا نے اس سے بات چیت ترک کی ہوئی تھی روحان کو اپنے رویے کا احساس تھا وہ غُصّے میں اس سے کافی زیادتی کرچکا تھا مگر اب پھر ہر دفعہ کی طرح پشیمان تھا

“جی”

عینا مختصر سا جواب دے کر وارڈروب سے اس کی شرٹ نکالنے لگی

تین دن سے وہ روحان کی ہر بات کا اسی طرح مختصر جواب دے رہی تھی تین دن سے ہی روحان آفس سے گھر آتے ہوئے ڈیلی اس کے لیے پنک کلر کے بیلا کے روزز لےکر آرہا تھا عینا ان روزز کو بھی نظر انداز کیے ہوئی تھی اس کا بہت دل چاہا تھا کہ دو دن پہلے جہانگیر کے ساتھ گھر چلی جائے مگر بہت مشکلوں سے اس نے خود کو روکا تھا

“یہ والی شرٹ تھوڑی کہہ رہا ہوں میری جان وہ والی بلیک شرٹ جو پچھلے مہینے تم میرے لئے لےکر آئی تھی”

عینا نے وارڈروب سے اس کی شرٹ نکالی جسے روحان بیڈ پر پھینک کر، عینا کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اُسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا

“اوکے”

عینا اپنی کمر سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر دوبارہ مڑی اور اپنی لائی ہوئی بلیک کلر کی شرٹ نکلنے لگی

روحان کے اوپر بلیک کلر بہت سوٹ کرتا تھا چاہے وہ قمیز شلوار ہو یا پینٹ شرٹ عینا کو محسوس ہوتا ہے اس کی پرسنالٹی پر یہ کلر کافی جچتا ہے عینا اس کے لیے شرٹ نکال ہی رہی تھی تب اسے اپنی پُشت پر روحان کی موجودگی کا احساس ہوا اس سے پہلے وہ پلٹتی روحان اس کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کرچکا تھا اسے خود سے قریب کرتا ہوا اس کے بالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھونے کے بعد وہ عینا کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

عینا نے ایک بار پھر اس کے ہاتھ ہٹاکر خود کو آزاد کیا وہ جانے کے لئے مڑی تو روحان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

“جانتی ہوں یہ بیلا کے روزز میں تمہارے لئے کیوں لےکر آرہا ہوں جب کسی سے دوستی میں پہل کی جاتی ہے تو ہی بیلا کے روز دیے جاتے ہیں یار غصہ آتا ہے تو میں بہت ہی اسٹوپڈ بن جاتا ہوں لیکن تم سے زیادہ دیر تک خفا بھی نہیں رہ سکتا نہ تمہیں رہنے دے سکتا ہوں پلیز دوستی کرلو اس طرح خاموش رہو گی تو مجھے بہت برا لگے گا”

روحان اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر بولا

“آپ سے دوستی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے روحان آپ کو دوبارہ غصہ آئے گا آپ دوبارہ مجھے ماریں گے اور دوبارہ بیلا کے روزز میرے لیے آئے گیں”

عینا روحان کے ہاتھ اپنے گالوں سے ہٹاتی ہوئی کہہ کر کمرے سے جانے لگی تو روحان نے اس کو بازو تھام کر دوبارہ عینا کا رخ اپنی طرف کیا

“پھر اس طرح کب تک خفا رہوگی یہ بتاؤ”

روحان اب کی بار عینا سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“جب تک آپ مجھے فروا کے بارے میں سچ نہیں بتادیتے”

عینا جیتی سنجیدگی سے بولی اتنی ہی تیزی سے روحان کے چہرے کے زاویے بگڑے

“عینا تم ایک انجان لڑکی کیلئے ہمارے رشتے کو خراب کررہی ہو”

روحان اس کے بازوؤں سے ہاتھ ہٹاکر اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا بولا

“آپ کی مشکوک حرکتیں ہمارا رشتہ خراب کررہی ہے آپ کو مجھے بتانا پڑے گا کہ آپ فروا کو کہاں لےکر گئے تھے اس رات”

عینا روحان کو دیکھتی ہوئی بولی چند منٹ تک روحان خاموشی سے عینا کا چہرہ دیکھتا رہا پھر کمرے سے باہر نکل گیا