Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 1)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
لے ٹھونس کھانا اگر اس سے بھی تیرا پیٹ نہ بھرے تو مجھے اور اپنے باپ کو بھی کھا جائیو منحوس نے میری زندگی”” میں آکر اپنی شکل کی طرح میری قسمت بھی کالی کردی”
نجمہ نے تقریباً پلیٹ میں موجود سالن کاشف کی طرف پٹختے ہوئے رکھا وہ کچن کا کام کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑانے لگی
گیارہ سالہ کاشف نے غصے میں اس عورت کو گھورا جو کہ اسکے باپ کی دوسری بیوی تھی وہ اسے دو دن بعد کھانا دے رہی تھی مگر احسان جتاتے ہوئے کاشف کا قصور صرف اتنا تھا کہ پیدائش کے وقت اس کی سگی ماں اسے پیدا کرنے کے بعد مر چکی تھی فہیم نے دوسری شادی نجمہ سے کی مگر نجمہ کالی صورت کے کاشف کو قبول نہیں کر پائی اپنی اولاد نہ ہونے کے باوجود اسے شروع سے ہی کاشف کا وجود کھٹکتا تھا شادی کے پانچ سال بعد اب وہ ماں بننے کے مراحل سے گزر رہی تھی مگر تب بھی اس کے دل میں کاشف کے لیے نرمی پیدا نہیں ہوسکی
“کیا روٹی اور مل سکتی ہے مجھے بھوک لگ رہی ہے” کاشف نے بغیرت بن کر ساری کڑوی کسیلی باتوں کو نظر انداز کرکے نجمہ سے پوچھا دو دن بعد ایک روٹی سے بھلا اس کی بھوک کیسے مٹ سکتی تھی
“بھوک لگ رہی ہے تجھے روٹی کھانی ہے یہ لے کھا روٹی”
نجمہ جو کہ سل پر چٹنی پیس رہی تھی کاشف کی بات سن کر اس کو پتنگے لگ گئے اس نے اپنے پاؤں سے چپل اتار کر کاشف کو مارنا شروع کردیا
پچھلے پانچ سال سے وہ کاشف کے ساتھ ایسا ہی کرتی آرہی تھی لیکن کاشف اب بڑا ہورہا تھا وہ اس کے ظلم کب تک سہتا اس نے نجمہ کو آج پیچھے زوردار طریقے سے دھکا دیا آٹھ ماہ کا بھاری بھرکم وجود لیے وہ پیچھے زمین پر گر پڑی اور تکلیف کی شدت سے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی مگر کاشف اس کو تڑپتا ہوا دیکھ کر ہنسنے لگا بالکل ویسے ہی جیسے وہ فہیم سے اس کو مار پڑوا کر ہنستی تھی
“کھا جاؤں گا آج میں تجھے بھی اور تیرے اس بچے کو بھی”
کاشف کچن میں موجود بٹہ لےکر آیا اور اس نے غصے میں بٹے سے نجمہ کا سر کچل دیا درد کی شدت سے نجمہ کی چیخیں ایک بار پھر بلند ہوئی وہ سسکنے لگی نجمہ کا خونم خان وجود صحن کے بیچ و بیچ پڑا تھا کاشف چنگیر سے دوسری روٹی نکال کر پلیٹ میں موجود سالن کو صاف کرنے لگا
“نجمہ۔۔۔ نجمہ اے کیا ہوا ہے اسے” فہیم اسی وقت گھر لوٹا تھا صحن میں نجمہ کا خونمً خان وجود دیکھ کر وہ اسے جھنجھوڑ کر پکارنے لگا مگر نجمہ کے وجود میں ہلکی سی جنبش نہیں ہوئی تب وہ کاشف کی طرف آیا اور چیختا ہوا اس سے پوچھنے لگا کاشف جو کہ بٹہ اپنی گود میں رکھے آرام سے کھانا کھانے میں مگن تھا باپ کے چیخنے پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگا
“ابا اچھی عورت نہیں تھی تیری بیوی جب دیکھو چیختی رہتی تھی اس کی آوازیں میرے سر میں گُھستی تھی جبھی آج میں نے اس کا سر کھول کر رکھ دیا”
کاشف آرام سے اپنے باپ کو بتانے لگا دوسری روٹی بھی ختم ہوچکی تھی مگر کاشف کی بھوک ابھی بھی باقی تھی
“تو نے مار ڈالا اس کو, حرام خور یہ تیری ماں تھی”
فہیم غصے میں زور سے چلاتا ہوا بولا وہ کاشف کے پاس آکر اس کا گریبان پکڑتا کاشف نے گود میں رکھا ہوا بٹہ فہیم کے سر پر بھی دے مارا جس سے وہ زمین پر گر پڑا اور خون فوارے کی صورت اس کے سر سے نکل پڑا
“اب تو بھی چیخ رہا ہے بالکل اس نیچ عورت کی طرح”
کاشف فہیم کے پاس آکر مزید بٹے سے اس کے اوپر وار کرتا ہوا بولا فہیم اس سے معافی مانگتا ہوا خوف سے پیچھے ہٹنے لگا
“تُو نے ماں بولا اسے میری، یہ ماں نہیں تھی ڈائن تھی اور تُو، تُو بھی میرا باپ نہیں اس ڈائن کا شوہر ہے”
کاشف نے فہیم کے سر کو مزید نشانہ بناتے ہوئے کہا جب فہیم سسک سسک کر مر گیا تب کاشف نے چنگیر میں رکھی ہوئی تیسری روٹی نکالی مگر اب سالن ختم ہوچکا تھا
“یہ تُو نے اچھا کام کیا مرنے سے پہلے چٹنی پیس گئی” کاشف سِل پر موجود پودینے کی چٹنی سے کچن میں کھڑے ہوکر روٹی کھانے لگا
****
کالج کی کنٹین اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، اس وقت صرف ایک ہی ٹیبل خالی تھی اور اس پر بیٹھ کر کوئی بھی “ڈیول گروپ” سے ٹکر لینے کی جرت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس ٹیبل پر اسی گروپ کے لڑکے فری پیریڈ میں موجود ہوتے۔ یہ گروپ چھ لڑکوں پر مشتمل تھا اور یہ چھ لڑکے انتہا کے بگڑے ہوئے امیر زادے تھے، اس بوائز کالج میں ان کے خلاف کوئی بھی کچھ نہیں بول سکتا تھا اور نہ ایکشن لے سکتا تھا جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے “ڈیول گروپ” اکثر کالج کے رولز توڑ کر اپنی من مانی کرتا ہوا پایا جاتا
“یہاں تو ہاؤسفل ہے باس چلو کالج کے کمپاؤنڈ میں چلتے ہیں”
فرحان کینٹین میں رش دیکھ کر شارق بنٹی اور جیڈی سے بولا
“لگتا ہے پڑھ کر تمہاری آنکھوں کی بینائی کم ہوگئی ہے جو تمہیں وہ خالی ٹیبل نظر نہیں آرہی چلو اس پر چل کر بیٹھتے ہیں”
جیڈی فرحان کو دیکھتا ہوا بولا اور ٹیبل کی طرف جانے لگا اس کے پیچھے بنٹی اور شارق بھی چل دیئے
“کیوں پنگا لے رہا یار ان لوگوں سے بلاوجہ میں پچھلی بار سر امتیاز کی وارننگ بھول گیا اگر اب تیرا رونی سے جھگڑا ہوا تو بات کالج کے ڈین تک جائے گی”
رونی “ڈیول گروپ” کا سردار تھا جس کے دم پر اس کے باقی کے پانچ دوست اُچھلتے تھے باقی کے دوسرے اسٹوڈنٹس اور جونیئرز، “ڈیول گروپ” کے آگے کچھ نہیں بولتے مگر انہی کی کلاس کا جیڈی جس سے رونی کا ہمیشہ 36 کا آکڑا رہتا اکثر و بیشتر جیڈی اور رونی میں کسی نے کسی بات کو لے کر تضاد ہوتا، جو اکثر جھگڑے کے بعد مار پیٹ پر ختم ہوتا
“پنگا میں نہیں رونی اور اس کا گروپ لیتا ہے مجھ سے اور یہ بات تم بھی اور پورا کالج جانتا ہے”
جیڈی فرحان کو دیکھتا ہوا بولا
“مگر ابھی تو اس کی ٹیبل پر بیٹھ کر بات کو بڑھاوا دے رہا ہے”
ان کی کلاسز ختم ہوچکی تھی اب ایگزیم شروع ہونے والے تھے فرحان نہیں چاہتا تھا کالج سے رخصت ہوتے وقت کوئی بدمزدگی ہوں اس لئے وہ جیڈی کو سمجھانے لگا
“اس ٹیبل پر اس کے باپ کا نام لکھا ہے جو یہاں ہم یا کوئی دوسرا نہیں بیٹھ سکتا صحیح کہہ رہا ہے جیڈی ہم چاروں آج اسی ٹیبل پر بیٹھیں گے”
شارق فرحان کو دیکھتا ہوا بولا ویسے بھی شارق کو لڑائی جھگڑوں سے زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا وہ پڑھائی میں جیڈی جیتنا ذہین نہیں تھا مگر جیڈی کی طرح براؤن بیلٹ تھا اس لیے جب “ڈیول گروپ” سے ان کا جھگڑا ہوتا وہ مار پیٹ میں جیڈی کا پورا پورا ساتھ دیتا
“بات دراصل اتنی ہے فرحان میرا رونی سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے مگر جب کوئی زیادتی کرے تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اگر ہم آج اس کے خلاف نہیں بولیں گے تو اس کی دیکھا دیکھی کل کوئی دوسرا بھی اپنے آپ کو “ڈیول گروپ” بناکر دوسرے اسٹوڈنٹ پر بلاوجہ کی حکومت کرنا پسند کرے گا”
جیڈی فرحان کو دیکھتا ہوا بولا وہ رونی یا پھر اپنے دوستوں جتنا امیر و کبیر نہیں تھا بلکہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا لڑکا تھا جو ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ حق بات بولنے پر پیچھے نہیں ہٹتا تھا
“تم لوگوں کو سمجھانا میرا فرض تھا مگر اب جب تھوڑی دیر بعد ہنگامہ ہوگا تو اس میں تم لوگوں کا ساتھ دینا میری مجبوری آخرکار دوستی بھی تو نبھانی ہے تم تینوں اُلو کے پٹھوں سے”
فرحان ان تینوں کو بولتا ہوا خالی ٹیبل پر جانے لگا جیڈی شارق اور بنٹی تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور اس کے پیچھے ٹیبل پر چل دیے
****
“اوئے وہ دیکھ ڈیول گروپ سے پھر یہ جیڈی پنگا لینے لگا ہے لگتا ہے آج پھر کوئی تماشا ہوگا”
سامنے کی ٹیبل پر بیٹھا ہوا ایک اسٹوڈنٹ اپنے دوسرے ساتھیوں کو ان چاروں کی طرف متوجہ کرتا ہوا بولا
“میرے خیال میں پہلے ہی سر امتیاز کو انفارم کردینا چاہیے”
ان میں سے ایک لڑکے تجویز دی
“ابے چھوڑ ناں ویسے ہی پڑھائی کا اتنا برڈن ہے پہلے ایکشن مووی انجوائے کرلیتے ہیں بعد میں سر امتیاز کو بھی بلا لیں گے”
دوسرے لڑکے نے مشورہ دیا
جیڈی اور اس کے دوستوں کے ٹیبل پر بیٹھنے کے بعد ایسے ہی دوسرے ٹیبلز پر چے مگوئیاں ہونے لگی اور سب میں کھلبلی مچ گئی جب رونی اپنے پانچوں دوستوں کے ساتھ کینٹین کے اندر داخل ہوا اور اپنی مخصوص ٹیبل پر جیڈی کو اس کے دوستوں کے ساتھ بیٹھا دیکھا تو دانت پیستا ہوا ان کے پاس آیا رونی کے دوست بھی اس کے پیچھے موجود تھے
“کیا سوچ کر تم اس ٹیبل پر بیٹھے ہو شاید تم پچھلی بار کی سر امتیاز کی وارننگ بھول چکے ہو”
کوئی دوسرا یہ حرکت کرتا تو رونی منہ سے بات کرنے کی بجائے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا مگر سامنے جیڈی تھا اور اسے معلوم تھا وہ کبھی بھی شرافت کا مظاہرہ نہیں کرے گا اس کی ہر بات کا جواب وہ دوبدو اسی کے انداز میں دے گا اس لیے رونی جیڈی کے سامنے کھڑا ہوکر اس سے بولنے لگا
“اس ٹیبل پر تمہارے باپ کا نام لکھا ہے جو میں یا کوئی دوسرا نہیں بیٹھ سکتا سر امتیاز نے صرف مجھے وارن نہیں کیا تھا انہوں نے میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی وارننگ دی تھی”
جیڈی نے کرسی سے اٹھنا ضروری نہیں سمجھا تھا وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی رونی کو دیکھتا ہوا بولا باقی کینٹین میں موجود تمام اسٹوڈنٹس خاموشی سے ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہے تھے اور کسی تماشے کے انتظار میں تھے
“میرے باپ کا نام لینے کی اوقات تمہارے باپ میں بھی نہیں ہوگی اس ٹیبل کو تو کیا پورے کالج کو میرا باپ خرید سکتا ہے اور تم جیسوں کو تو میں اپنے گھر میں ملازم کی نوکری بھی نہ دو معلوم نہیں کہاں کہاں سے منہ اٹھاکر چلے آتے ہیں ایسے تھرڈ گلاس لوگ بڑے بڑے کالجز میں دو منٹ کے اندر ٹیبل خالی کرو نہیں تو دھو ڈالوں گا تمہیں اور تمہارے ان چمچوں کو”
رونی حقارت بھری نظر سے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھے جیڈی کو دیکھ کر بولا جو روز اپنی پھٹیچر سی سیکنڈ ہینڈ بائیک پر کالج آتا تھا اس کے عام سے زیب تن کیے کپڑے اس کی کلاس کا خلاصہ کرنے کے لئے کافی تھے رونی کے بولنے پر رونی کے دوست جیڈی کو دیکھ کر ہنسنے لگے رونی کی بات سن کر اور اس کے دوستوں کو اپنے اوپر ہنستا دیکھ کر صرف ایک پل کے لئے جیڈی کا سانولہ رنگ خجالت سے مزید گہرا ہوا تھا
“چاندی کا چمچہ منہ میں ڈال کر پیدا ہونے والے تم وہ کُتے ہو جو اپنے باپ کا نام لےکر بھونک بھونک کر دوسروں کو ڈراتے پھرتے ہو تمہارے نام کے ساتھ اگر تمہارے باپ کا نام ہٹادیا جائے تو تمہاری اوقات گلی کے کُتے جتنی برابر بھی نہیں ہوگی دم ہلاتے ہوئے یہاں سے چلتے بنو اور جاکر کسی اور پر بھونکو جو تم سے ڈرے اس ٹیبل سے میں نہیں اٹھنے والا”
جیڈی کے بےعزتی کرنے پر جہاں رونی کا سفید رنگ شرمندگی سے سرخ ہوا تھا وہی فرحان بنٹی اور شارق کے قہقہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ٹیبل پر موجود سموسوں کی پلیٹ چٹنی سمیت اس نے جیڈی کو کھینچ کر ماری جس کے بدلے میں جیڈی نے کولڈرنگ سے بھری بوتل زور سے اس کے منہ پر دے ماری باقی کے سارے اسٹوڈنٹس اپنی اپنی ٹیبل اور کرسیاں خالی کر کے دائرے کی شکل میں کھڑے ہوگئے
جبکہ جیڈی اور رونی کے ساتھ ان دونوں کے دوست بھی ایک دوسرے کے ساتھ گُتھم گُتھا ہوتے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں کالج کی کینٹین میدانِ حشر کا سما پیش کرنے لگی
****
“شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو کالج میں یوں بدآمنی پھیلاتے ہوئے انسان ہوکر آپ لوگ جانوروں کی طرح بی ہیو کرتے ہیں یہی سب کچھ سکھایا جاتا ہے آپ کو اپنے گھروں میں”
اس وقت رونی اور جیڈی اپنے دوستوں کے ساتھ بگڑے ہوئے حلیوں میں سر جھکائے ڈین کے آفس میں موجود تھے جو اپنے لہجے میں سختی لائے ان سب کو کافی حد تک شرمندہ کرچکے تھے
“آپ کے بارے میں تو میں نے کافی پروفیسر سے سنا ہے آپ کا شمار لائق اسٹوڈنٹس میں ہوتا ہے مگر آپ کو دیکھ کر کہیں سے یہ احساس نہیں ہوتا کہ آپ ایک ذہین اسٹوڈنٹ ہیں”
ڈین جیڈی کا پھٹا ہوا گریبان دیکھ کر بولے
“سوری سر مگر ہر دفعہ پہل”
جیڈی نے بولنے کی کوشش کی
“شٹ اپ میں کچھ نہیں سننا چاہتا”
ڈین جیڈی کے بولنے پر اسے گُھرکتے ہوئے بولے تو جیڈی شرمندہ ہوکر سر مزید نیچے جھکا گیا
“ہیں کیا آپ لوگ اٹھارہ اٹھارہ انیس سال کے لڑکے ذرا سی شیو کیا اُگ آئی ہے چہروں پر خود کو ہیرو سمجھ کر ایک دوسرے سے مقابلے کرنے پر اتر آئے ہیں آپ لوگ بیشک آپ کے والد محترم ایک بڑا نام ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کالج میں بد نظامی پھیلائیں گے اور اصول و قوانین کی خلاف ورزی کریں گے اور آپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا”
ڈین اب رونی کو دیکھتا ہوئے بولے تو رونی “سوری سر” کہتا ہوا اپنا سوجھا ہوا منہ نیچے جُھکا گیا
ڈین نے غصے بھری نظر باقی لڑکوں پر میں ڈالی جو بکھرے ہوئے حلیے اور پھٹے ہوئے یونیفارم میں کوئی ہُوش جنگلی لگ رہے تھے وہ سب شرمندہ ہوکر اپنی گردن نیچے جھکا گئے
“بیس دن کے بعد آپ سب کے پیپر اسٹارٹ ہیں اس سے پہلے اگر مجھے کوئی بھی لڑتا جھگڑتا کالج کے رولز توڑتا ہوا نظر آیا تو میں اسے ایگزامز میں بیٹھنا الاؤ نہیں کروں گا نہ تو کسی کی ذہانت کام آئے گی نہ ہی کسی سفارش از ڈیڈ کلیئر”
ڈین کی گرجدار آواز پر کمرے میں موجود تقریباً سارے لڑکے باآواز “یس سر” بولے اور روم سے باہر نکل گئے
“تم کوشش کرنا ان بیس دنوں میں میرا تمہارا سامنا نہ ہو کیوں کہ میں تمہیں اب اور مزید برداشت نہیں کرسکتا نہ ہی معاف کرسکتا ہوں”
روم سے باہر نکل کر رونی جیڈی کو دیکھتا ہوا بولا
“تم صرف 20 دنوں کی بات کررہے ہو کوشش کرنا زندگی میں کبھی بھی ہمارا آمنا سامنا نہ ہو کیونکہ میں بھی اعلی ظرفی دیکھا کر معاف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والوں میں سے ہوں”
جیڈی کی بات سن کر رونی زہر خواندہ نظر اس پر ڈال کر وہاں سے نکل گیا
****
صبح سویرے وہ تیار ہوکر یونیورسٹی کے لیے نکل رہی تھی تب گھر کی ڈور بیل بجی دی جان کی نیند نہ خراب ہوا ہو عینا نے جلدی سے دوپٹہ سیٹ کیا اور گھر کا دروازہ کھولا مگر اپنے سامنے اس لڑکے کو دیکھ کر وہ حیران اور پریشان رہ گئی ہر دفعہ کی طرح وہ ہاتھ میں پھولوں کا بُکے لیے کھڑا تھا مگر عینا کو پریشانی اس بات سے ہوئی کے آج وہ اس کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا
“میم یہ آپ کے لیے”
وہ عینا کی حیرت زدہ شکل دیکھتا ہوا بولا اور پھولوں کا بُکے اس کی طرف بڑھایا عینا نے گھبرا کر ایک نظر گھر کے اندر ڈالی اور جلدی سے اس لڑکے کے ہاتھ سے بُکے لیا وہ لڑکا اب منتظر کھڑا تھا کہ عینا اس سے کچھ پوچھتی کیونکہ پچھلی بار اسے لگا تھا وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے یا اس سے بات کرنا چاہتی ہے مگر وہ جلدی میں یونیورسٹی سے چلا گیا تھا اس لئے اب کی بار وہ منتظر نظروں سے بُکے تھمانے کے بعد عینا کو دیکھنے لگا مگر پریشانی اور گھبراہٹ کی وجہ سے عینا نے بُکے اس لڑکے سے تھام کر جلدی سے دروازہ بند کردیا
وہ پھولوں کے بُکے کو ہاتھ میں پکڑے جلدی سے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوئی میز پر بُکے رکھتی ہوئی اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگی اب وہ پریشان نظروں سے پھولوں کے بُکے کو دیکھ رہی تھی
آج تیسری بار ایسا ہوا تھا جب وہ لڑکا اسے پھولوں کا بُکے دے کر گیا تھا پہلے دو دفعہ اسے بُکے یونیورسٹی میں ملا تھا
پہلی دفعہ میں وہ کنفیوز سوچتی رہی آیا یہ بُکے اسے غلط فہمی میں دے کر چلاگیا ہے مگر دوسری بار یونیورسٹی ٹائم میں جب وہ گھر جانے کے لیے نکل رہی تھی تب دوبارہ وہ لڑکا اسے بُکے دینے آیا جسے لینے کے بعد وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی تھی کہ یہ پھول وہ اسے کیو دے کر جارہا ہے مگر عینا کے کچھ بولنے سے پہلے وہ لڑکا کار میں بیٹھ کر جاچکا تھا اب کی بار عینا نے سوچا تھا اس لڑکے سے وہ ضرور بات کرے گی مگر اب کی بار وہ اس لڑکے کو یونیورسٹی کی بجائے اپنے گھر کے ایڈریس پر دیکھ کر تھوڑی پریشان ہوگئی تھی
پھول اسے ہمیشہ اپنی طرف اٹریکٹ کرتے تھے وہ ابھی تازہ گلاب کی خوشبو کو اپنے نتھنوں کے ذریعے اندر اتارنا چاہتی تھی مگر ہر دفعہ کی طرح ایک خوف بھی اسے گھیرے میں لیے ہوئے تھا وہ لڑکا کون تھا جو پچھلے ایک مہینے میں یہ تیسری دفعہ اسے بُکے دے چکا تھا اور وہ کیا چاہتا تھا عینا پھولوں کے بُکے کو دیکھ کر یہ سارے سوالات خود سے ہی سوچنے لگی
