Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 30)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“اور سناؤ روحان کیا حال ہیں تمہارے کیسی گزر رہی ہے شادی شدہ زندگی”
کاشف زیری چار مہینے کے بعد کل ہی پاکستان لوٹا تھا تو صبح آفس جانے سے پہلے روحان اس سے ملنے آیا
“الحمدللہ سر بہت اچھی اب کی بار آپ کا ٹور کافی طویل رہا مطلب پورے چار ماہ”
روحان کاشف زیری کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
کاشف زیری کے برابر میں ہی روزی بھی بیٹھی ہوئی تھی جو کہ کاشف زیری کے ساتھ چار مہینے سے دبئی میں تھی پورے چار ماہ بعد وہ روحان کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی ان چار ماہ میں اس نے روحان کو بہت مس کیا کاشف زیری کے بیڈ کی زینت بنی ہوئی وہ تصورات میں صرف اور صرف روحان کو ہی سوچ رہی ہوتی تھی روحان کی شادی کے بارے میں سن کر اس کا دل کو بےپناہ بےسکونی ہوئی مگر روحان کی وائف کو دیکھنا چاہتی تھی
“ہاں اب کی بار یہ دورہ تھوڑا طویل ہوگیا کچھ نئے پلانز دماغ میں ہیں جو تم سے فرصت میں شیئر کروں گا مجھے بہت خوشی ہوئی میرے پیچھے تم نے اور جنید میں سب کچھ بہت اچھے طریقے سے سنبھالا یہ ہمارے بیچ غدار کون پیدا ہوگیا ہے روحان جو ہمارے باہر سے آنے اور جانے والے مال کی پولیس کو انفارمیشن دیتا ہے اس کا تم نے یا جنید نے کچھ پتہ نہیں لگایا اب تک”
کاشف زیری روحان کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا کیونکہ جب وہ دبئی میں تھا اور پولیس نے اس کے بہت سے ساتھیوں کو پکڑا تب کاشف زیری کی بچت ہوگئی تھی مگر اس نے پتہ لگالیا کہ پولیس کو انفارمیشن پاکستان سے دی گئی تھی
“سر وہ جو بھی کوئی ہے اب تک تو میرے یا جنید کی نظر میں نہیں آیا انشاءاللہ بہت جلد پتہ لگالوں گا آپ فکر نہیں کریں”
روحان کاشف زیری کو دیکھتا ہوا بولا
“اب بلیک کینگ واپس آگیا ہے وہ خود اس غدار کو ڈھونڈ لے گا اور اس کو ایسی سزا دے گا نہ صرف اس کی روح کانپے گی بلکہ آنے والی اس کی نسلیں بھی یاد رکھیں گے”
کاشف زیری بہت غور سے روحان کو دیکھتا ہوا بولا اسے کہیں نہ کہیں روحان پر ہی شک تھا کیونکہ اس کا مال اب تک ہر کہیں سے پولیس نے پکڑا تھا مگر روحان کی شپ تک پولیس رسائی حاصل نہیں کرسکی تھی
“خیر یہ باتیں تو ہوتی رہے گی ان چند ماہ تم میرے خاص آدمی بن گئے ہو اور وفادار بھی دبئی میں ہونے کی وجہ سے میں تمہاری شادی میں شرکت نہیں کرسکا اس لئے میں تمہاری دعوتِ خاص کرنا چاہتا ہوں جس میں تمہاری فیملی کے علاوہ تمہاری بہن اور بہنوئی شرکت کریں گے”
کاشف زیری کی بات سن کر روحان ایک پل کے لیے خاموش ہوگیا وہ اپنی فیملی کو اس کی نظر میں نہیں لانا چاہتا تھا اور جیڈی کو تو ہوا بھی نہیں لگنے دینا چاہتا تھا کہ اس کے کاشف زیری سے تعلقات ہیں
“کیا ہوا تمہیں میرے گھر کی دعوت کو قبول نہیں”
روحان کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے کاشف زیری نے اس سے پوچھا تو روحان زبردستی مسکرایا
“ایسی بات نہیں ہے سر یہ تو میرے لیے باعث فخر ہے کہ آپ مجھے میری فیملی کو اپنے گھر انوائٹ کررہے ہیں خاموش میں صرف جیڈی میرا مطلب ہے جہانگیر کی وجہ سے ہوا تھا اس سے میرے تعلقات کچھ خوشگوار نہیں ہیں ایک دوسرے سے قریبی رشتہ ہونے کے باوجود ہم میں تکلف کا رشتہ قائم ہے”
روحان کی یہ بات بالکل درست یا ان دونوں کی شادی کو چار ماہ ہونے کو آیا تھا مگر جہانگیر اور روحان کے بیچ تکلف کی دیوار اب تک قائم تھی جسے وہ دونوں ہی گرانے کو تیار نہیں تھے
“مگر میری خاطر تم اپنے بہنوئی کو مناسکتے ہو میں اس سے ملنا چاہتا ہوں روحان اور پرسو دعوت پر تم اسے میرے گھر لےکر آرہے ہو”
کاشف زیری کا انداز حاکمانہ تھا جس کی وجہ سے روحان مزید کچھ نہیں بولا کاشف زیری جہانگیر سے ملنا چاہتا تھا یہ بات روحان کے لیے کتنے مسائل پیدا کرسکتی تھی اس کا کاشف زیری کو اندازہ نہیں تھا
****
عینا کچن میں موجود تھی تب اسے روحان کی کار کا ہارن سنائی دیا ایک نظر ٹرالی میں سجے لوازمات پر ڈال کے وہ جلدی جلدی چائے کا پانی رکھنے لگی روحان گھر کے اندر داخل ہوا تو عینا نے کچن سے جھانک کر روزانہ کی طرح چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اس کا استقبال کیا۔۔۔ روحان بھی اسے روز کی طرح بیڈروم میں آنے کا اشارہ کر کے اپنے روم میں چلا گیا
ان دونوں کی شادی کو چار ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا عینا نے ان چار ماہ کے عرصے میں یہ تجربہ حاصل کیا تھا چاہے لو میرج ہو یا ارینج میرج ایڈجسٹ دونوں صورتوں میں کرنا پڑتا ہے اس نے ان چار ماہ میں کوئی بہت زیادہ ٹائم نہیں گزارا تھا مگر پھر بھی شروع شروع میں وہ روحان اور فاطمہ کے رویے کو لےکر تھوڑی ڈسٹرب رہتی تھی لیکن جس دن روحان نے اس پر یہ واضح کردیا تھا کہ کچھ بات اس سے شیئر نہیں کرسکتا نہ عینا ان کے متعلق اس سے کوئی سوال کرے پوچھے تب سے عینا نے ان باتوں کو سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا ان چار مہینوں میں روحان ایک لونگ اور کیئرینگ ہسبنڈ ثابت ہوا تھا وہ اس کا خیال رکھتا اسے ہر ممکن خوش رکھنے کی کوشش کرتا عینا اس سے خوش تھی اور اپنی شادی شدہ زندگی سے مطمئن بھی ڈھائی ماہ پہلے ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ مال سے واپسی آتے ہوئے عینا کا کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا اسے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی تھی بس سر پر چوٹ لگنے کے باعث اسٹیچس لگے تھے اس دن عینا نے روحان کو اپنے لیے بہت پریشان دیکھا تھا بلکہ اس نے ہی نہیں منصور، فاطمہ، کے ساتھ جہانگیر نے بھی وہ عینا کے سر پر اسٹیچز دیکھ کر بہت زیادہ ڈسٹرب ہوگیا تھا عینا کے لئے اس کا حساس ہونا فاطمہ، منصور، جہانگیر یا آغول سے ڈھکا چھپا نہ تھا اس معاملے میں عینا اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتی تھی
مگر کبھی کبھی وہ روحان کے رویے سے اکثر الجھ جاتی جیسے کبھی وہ اکثر بہت پریشان دکھائی دیتا اپنے آپ میں الجھا ہوا عینا اس کی پریشانی نوٹ کرنے کے باوجود اس سے سوال نہیں کرسکتی تھی کہ اس کی پرابلم کیا ہے عینا کو معلوم تھا وہ اسے خاموش کروا دے گا یا آنکھیں دکھا دے گا مگر کبھی بھی اس سے کچھ شیئر نہیں کرے گا
ایک دفعہ رات میں ایسا بھی ہوا تھا کہ اس نے روحان کو روتے ہوئے دیکھا تھا اپنے آپ کو بہت روکنے کے باوجود عینا اس سے پوچھے بغیر نہیں رہ سکی کہ اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے تب اس نے عینا کو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کسی طرح یہ نشان وہ اس کی کمر سے ہٹادے مگر اگلے دن وہ پھر سے نارمل ہوگیا تھا جیسے رات میں اسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا
ایک دفعہ اس نے روحان کو لیٹر پیڈ پر کچھ لکھتے ہوئے دیکھا جیسے بہت سوچ سوچ کر وہ کچھ لکھ رہا تھا رات کو روحان کے سونے کے بعد عینا نے وہ لیٹر پیڈ کھولا تو وہاں ایک پہیلی درج تھی یا پھر چیلنج نہ جانے روحان اتنی دیر تک یہ پہیلی کو خود تیار کررہا تھا یا پھر سولو کررہا تھا مگر وہاں جو بھی کچھ لکھا تھا سب عینا کے سر پر سے گزر گیا تھا یہ سب عینا کے لئے روحان کی شخصیت کا ایک پُراسرار پہلو تھا جسے عینا کو اس سے پوچھنے کی اجازت نہ تھی
جہاں تک فاطمہ کے رویے کا سوال تھا تو وہ اس دن صبح ناشتے والے واقعے کے بعد منصور کے ٹوکنے پر عینا سے نہیں الجھتی تھی نہ ہی عینا سے زیادہ مخاطب ہوتی تھی بس اسے وقفے وقفے سے یہ بتانہ نہیں بھولتی تھی کہ اپر کلاس میں ایسا نہیں ہوتا ہے عینا آگے سے فاطمہ کی باتیں سن کر چپ ہوجاتی تھی کیونکہ جو اس کی کلاس تھی اور جس طرح دی جان نے اس کی پرورش کی تھی، اس میں دی جان نے عینا کو بڑوں سے بدکلامی کرنا نہیں سکھایا تھا
ہاں عینا کی اپنے سُسر سے بہت اچھی طریقے سے بنتی تھی وہ کافی سُلجھے ہوئے اور اچھے اخلاق والے انسان تھے البتہ ان چار ماہ میں وہ جہانگیر کے پاس صرف چار بار ہی جاسکی تھی کیونکہ جہانگیر کافی بزی رہنے لگا تھا وہ چھٹی والے دن مشکل سے ہی گھر پر ٹکتا تھا اور رہا آغول کا سوال تو اس نے بھی دوبارہ یونیورسٹی جوائن کرلی تھی وہ مشکل سے ان چار ماہ میں دو بار ہی اپنے میکے آئی تھی وہ بھی اپنے ڈیڈی کے بلانے پر ورنہ زیادہ تر روحان اور فاطمہ میں سے ہی کوئی نہ کوئی اس سے جاکر مل لیتا
دی جان سے اس کی ہر ایک دن چھوڑ کر بات ہوتی وہ دی جان سے جب وہ واپس آنے کا بھی پوچھتی تو وہ اگلے ماہ کا کہہ کر ٹال دیتی عینا کو حیرت بس یہ جان کر ہوئی تھی کہ رحجاب اور آغول کی پچھلے دو ماہ سے موبائل پر بات چیت ہے
“آگئے آپ آفس سے”
عینا بیڈروم میں آتی ہوئی روحان سے پوچھنے لگی
“یہ بتاؤ میرے آفس سے آنے کے ٹائم پر تم کچن میں کیا کررہی ہوتی ہو”
روحان کوٹ اتارنے کے بعد ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے ریلیکس انداز میں بیڈ پر لیٹا ہوا عینا کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کرتا ہوا پوچھنے لگا
“تین دن پہلے کوئی اپنے ڈیڈی سے کہہ رہا تھا کہ اسے اپنی بیوی کے ہاتھ کی چائے پینے سے اپنی دن بھر کی تھکن اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے”
عینا مسکرا کر کہتی ہوئی بیڈ پر اس کے قریب آکر بیٹھی
“تو تم میری اور ڈیڈی کی باتیں چھپ کر سنتی ہو”
روحان اپنی مسکراہٹ چھپا کر گھورتا ہوا عینا سے پوچھنے لگا
“بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں”
عینا اتراتی ہوئی روحان کو دیکھ کر بولی
“اور معلوم ہے شوہر کیسے ہوتے ہیں”
روحان عینا کو کھینچ کر اپنے حصار میں لےلیتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“وہ آپ مجھے بتاتے رہتے ہیں چھوڑیں اور باہر چلیں”
عینا اس کا حصار توڑ کر نکلتی ہوئی بولی
“چار مہینے سے بتارہا ہو مگر پھر بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا لگ رہا ہے اس بار محنت زیادہ کرنا پڑے گی”
روحان بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا کل ہی عینا کو اپنی طبعیت گڑ بھڑ محسوس ہوئی تھی مگر رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں آیا عینا اسکی آخری بات پر گھور کر کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ روحان خود بھی مسکراتا ہوا اسکے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا
****
آج اس کی طبعیت ناساز تھی بخاز ہونے کے باوجود وہ یونیورسٹی چلی گئی تھی جب یونیورسٹی سے گھر واپس آئی تو رانی سے گھر کی صفائی کروا کر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی کروٹیں بدلنے کے بعد جب اسے نیند نہیں آئی اور طبعیت کا بوجھل پن بڑھنے لگا تو کچن میں آکر رات کے لئے کھانا بنانے لگی ان 4 مہینوں میں اس کی زندگی میں کافی اتار چڑھاؤ آئے تھے اب کافی کچھ بدل چکا تھا اس کا اندازہ مزاج، دماغ اور دل بھی
جس رات اس نے جہانگیر کو باتیں سنائی اس وقت فوری طور پر جہانگیر کا ری ایکشن سامنے نہیں آیا مگر اس دن کے بعد یہ ہوا کہ جہانگیر اب بیڈروم میں کسی ضروری کام سے آتا کوئی چیز بیڈ روم سے لینا ہو یا پھر اپنے کپڑے وارڈروب سے لینے ہو اس دن کے بعد سے جہانگیر دوسرے بیڈ روم میں سونے لگا تھا
آغول اور اس کی آپس میں ویسے بھی زیادہ بات چیت نہیں ہوتی تھی مگر اس دن کے بعد سے جہانگیر نے آغول سے بالکل بات کرنا ختم کردیا تھا نہ وہ اسے صبح ناشتے کے لیے بولتا نہ رات کے کھانے کے لئے بولتا وہ بیڈروم میں بھی ریلیکس ہوکر سوتی اپنے کھانے کے لیے آرڈر کرکے باہر سے منگوا لیتی صبح کا ناشتہ رانی سے کہہ کر اپنے لئے بنواتی
جہانگیر کا اسے کچھ پتہ نہیں کہ وہ صبح ناشتہ کہاں کرتا ہے یا رات میں کھانا کہا کھاتا ہے وہ اپنی مرضی کی مالک تھی اور ایسے ہی بہت خوش تھی مگر ایسا صرف پندرہ سے بیس دن تک ہی رہا آغول خود ہی اپنے روٹین سے گھبرا گئی سارا دن گھر میں تنہا رہنا کوئی بولنے والا نہیں کوئی سننے والا نہیں, اوّل تو جہانگیر گھر میں رات گئے تک آتا اور اگر وہ گھر میں موجود بھی ہو تو وہ دوسرے کمرے میں رہتا
آہستہ آہستہ اسے جہانگیر کا رویہ محسوس ہونے لگا تو پھر وہ جان بوجھ کر خود ہی جہانگیر کو مخاطب کرتی مگر وہ اس کی ضروری بات پر مختصر جواب دیتا اور فالتو کی بات پر آغول کو اتنے برے طریقے سے گھورتا کہ آغول خاموش کرجاتی شروع شروع میں اس نے جہانگیر کو تپانے اور غصہ دلانے کے لئے جان بوجھ کر وہی ڈریسنگ کرنا شروع کردی جیسے وہ پہلے کرتی تھی مگر جہانگیر نے اس پر آغول کو کوئی رسپونس نہیں دیا پھر یوں ہوا کہ آغول کے اکاؤنٹ میں پیسے ختم ہوگئے اس نے جان بُوجھ کے جہانگیر کے والٹ سے اچھی بڑی رقم نکالی آغول کو پوری امید تھی کہ جہانگیر رقم سے متعلق اس سے پوچھے گا مگر جہانگیر نے ایسا کچھ نہیں کیا تو الٹا وہ خود تپ گئی اسے جہانگیر کے ایٹیٹیوڈ دکھانے پر غصہ آنے لگا
پھر ایک دن اس نے جہانگیر کے کمرے میں جاکر یہ شوشہ چھوڑا کہ اسے یونیورسٹی دوبارہ جوائن کرنی ہے جہانگیر نے اسے بنا کچھ کہے ایڈمیشن فارم اور کورس کی کتابیں دوسرے ہی دن لاکر دیں دی جس پر اسے بعد میں فاطمہ سے معلوم ہوا کہ روحان نے جہانگیر کے اس قدم کی مخالفت بھی کی
آغول کو پھر خود اپنے اوپر حیرت ہونے لگی آخر وہ کیوں چاہتی تھی کہ جہانگیر اسے لڑے اس پر غصہ کرے… بوریت اور اکیلے پن کا احساس بڑھنے لگا تو اس نے ایک دن کھانا بنایا جو کہ بالکل کھانے کے قابل نہیں تھا مگر یہ کھانا اس نے بہت محنت سے بنایا تھا اس نے خود وہ کھانا تو چند نوالے ہی کھایا مگر جہانگیر کے آنے کے ٹائم پر ڈائننگ ٹیبل پر سجاکر رکھ دیا وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ جہانگیر کیا کرتا ہے بعد میں خالی برتن دیکھ کر اسے حیرت ہوئی آغول کو ہرگز توقع نہیں تھی کہ جہانگیر وہ کھانا کھالے گا
دوسرے دن پھر اس نے جہانگیر کے لیے کھانا بنایا لیکن پھر اسے خود اپنے ہاتھ کا کھاتے ہوئے مایوسی ہوئی اس سے نمک بہت تیز ہوگیا تھا بالکل زہر کی طرح, آغول نے وہ کھانا بھی پہلے دن کی طرح ٹیبل پر سجا کر رکھ دیا آغول کے ہاتھ کا بنا ہوا وہ کھانا بھی کھالیا گیا تھا تب آغول تھوڑی کنفیوز ہوئی اپنے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا وہ خود نہیں کھاسکتی تھی پھر جہانگیر کیسے کھالیتا تھا
تیسرے دن اس نے جان بوجھ کر کھانے میں نمک اور مرچ تیز کردی کھانا ڈائنینگ ٹیبل پر سجا دیا اور چپکے سے وہ جہانگیر کو دیکھنے لگی اس دن اسے جہانگیر کو کھانا کھاتے دیکھ کر بہت ہنسی آئی تھی وہ ہر دو نوالے کے بعد آدھا گلاس پانی بھی پیتا مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا مگر پھر بھی وہ بڑے بڑے نوالے بناکر کھانا کھا رہا تھا جیسے یہ ٹاسک اسے پورا کرنا ہو اس طرح کا عمل کرتا ہوا وہ آغول کو پیارا لگا
“پیارا” آغول کو اپنی ہی سوچ پر ملامت ہوئی وہ پیارا کہاں تھا آغول دوبارہ اسکو غور سے دیکھنے لگی فاطمہ شاید ٹھیک ہی کہتی تھی اس کا رنگ سانولا نہیں گندمی تھا آغول پوری رات اس بات کو سوچ کر کنفویز رہی آیا اس کا رنگ گندمی ہے یا سانولا اور فجر کی اذان کی آواز پر اسے حیرت ہوئی وہ آخر جہانگیر کو سوچ ہی کیو رہی ہے
اس دن کے بعد پھر یہ ہوا آغول توجہ سے کھانا بنانے لگی ہر چیز کا دھیان رکھتے ہوئے آئستہ آئستہ اس نے رانی سے پراٹھا بنانا بھی سیکھ لیا تو وہ رات کو ڈائننگ ٹیبل پر کھانا رکھنے کے بعد جہانگیر کا ناشتہ بھی صبح ڈائننگ ٹیبل پر رکھ دیتی جو جہانگیر کوئی بھی ردعمل کا اظہار کیے بنا آرام سے کھالیتا
جب آغول کے پاس موجود رقم دوبارہ ختم ہوئی اس نے دوبارہ جہانگیر کے والٹ سے پیسے نکالنے چاہے تب اسے جہانگیر کا جملا یاد آیا کہ اسکے پاس اسکے ڈیڈی اور بھائی جتنا پیسا نہیں ہے
“مڈل کلاس آدمی”
آغول نے بڑبڑاتے ہوئے جتنی رقم اس کے والٹ سے پچھلے مہینے نکالی تھی اس بار اس کی آدھی نکالی ایسا تو ہرگز نہیں تھا کہ وہ جہانگیر کے والٹ سے پیسے نکالتی ہو اور جہانگیر کو اس بات کا علم نہ ہو بس وہ اسے کچھ کہتا نہیں تھا آغول کو یہ سوچ سوچ کر بھی الجھن ہونے لگتی کہ وہ اسے کچھ کہتا کیوں نہیں
پھر ایک دن اس نے جہانگیر کو دی جان سے موبائل پر باتیں کرتے سنا وہ انہیں بہت مس کررہا تھا اور ان سے واپس آنے کا پوچھ رہا تھا اس دن آغول کو دی جان کے ساتھ اپنے رویہ پر افسوس ہوا تب اس نے فون کی ڈائری میں سے رحجاب کا موبائل نمبر نوٹ کیا اور اسے کال کی اس نے اپنے رویے کی معافی تو نہیں مانگی البتہ رحجاب سے اچھی طریقے سے بات کی اور دی جان کو بھی واپس آنے کے لیے کہا مگر اُن کا کہنا تھا کہ ابھی فرزانہ کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ اگلے ماہ آئے گی پھر اس طرح اسکی رحجاب سے اچھی دوستی ہوگئی اکثر وہ اسے یا پھر رحجاب اسے فون کرلیتی
وہ منصور کے بلانے پر اپنے میکے گئی تھی فاطمہ کے بےحد اصرار پر بھی وہ رک نہ پائی اسے جہانگیر کے ناشتے اور کھانے کی فکر رہتی اگر وہ رک گئی تو جہانگیر کو پرابلم ہوگی
اب اس کا روٹین بن گیا تھا صبح بیدار ہونے کے بعد وہ جہانگیر کے لیے ناشتہ بناتی اس کے بعد اپنی یونیورسٹی جانے کی تیاری کرتی یونیورسٹی سے واپس آکر رانی سے پورے گھر کی صفائی کرواتی تھوڑی دیر نیند لینے کے بعد شام میں وہ رات کا کھانا بناتی جہانگیر کا کھانا ڈائننگ کے پر رکھنے کے بعد خود اپنا کھانا بیڈ روم میں کھاتی
اور اس کے بعد وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوجاتی جم وہ ڈیلی بیسس پر نہیں جاتی ہفتے میں تین دن جاتی گھر میں ہی یوگا یا ایروبکس کرلیتی
فاطمہ اس کے پاس ہر ہفتے چکر لگاتی جبکہ روحان بھی اس سے تین سے چار بار جہانگیر کی غیر موجودگی میں ہی آیا تھا چار ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا اس کی شادی کو ہوئے
اب اسے جہانگیر کا رویہ شدت سے محسوس ہوتا کبھی کبھی اس کا دل چاہتا وہ جہانگیر کا گریبان پکڑ کے خوب چیخے، چلائے، ڈھاڑے، بہت سارا روئے وہ اپنی اِن سوچوں پر خود بھی پریشان ہوجاتی آخر اسے کیا ہوتا جارہا تھا وہ بھلا پہلے کہاں پسند کرتی تھی سانولے یا گندمی رنگ کو پھر اسے اب یہ رنگ کیوں اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔ نہیں اسے یہ رنگ اب بھی اچھا نہیں لگتا تھا اگر ایسا ہوتا تو اسے رانی بھی اچھی لگتی جو کہ صرف نام کی رانی تھی
اسی جہانگیر اچھا لگنے لگا تھا یعنی کہ اپنا شوہر. اس کا کلر وائٹ نہیں تھا پھر بھی وہ اسے آٹریکٹ کرنے لگا تھا وہ چاہتی تھی کہ جہانگیر اور اس کے بیچ سب کچھ صحیح ہوجائے دوسرے ہسبنڈ وائف کی طرح اس کا اور جہانگیر کے ساتھ ایک نارمل اور ہیلدی ریلیشن ہو
اس کا شدت سے دل چاہتا تھا وہ جہانگیر کی آنکھوں میں اپنے لیے پسند دیدگی اور محبت دیکھے۔ جیسے وہ روحان کی آنکھوں میں عینا کے لیے دیکھتی تھی ویسے ہی محبت وہ جہانگیر کی آنکھوں میں بھی اپنے لئے دیکھنا چاہتی تھی
اس کی خوبصورتی کی ہر کوئی تعریف کرتا تھا آغول کے دل میں شدت سے یہ طلب جاگنے لگی تھی کہ اس کا شوہر بھی اس کو سراہے اس کی تعریف کرے اسے پیار کرے ہاں وہ یہی چاہتی تھی وہ اپنے شوہر کی مکمل توجہ چاہتی تھی وہ اس کی منتظر تھی اور ایک وہ تھا جو اس سے بری طرح ناراض ہوکر بیٹھا ہوا تھا اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے تھا
کتنا تو بدل لیا تھا اس نے اپنے آپکو، وہ کھانا بنانے لگی تھی، پوائنٹ سے یونیورسٹی جاتی، باہر نکلتے وقت باقاعدہ دوپٹے کا خیال رکھتی جو وہ اپنی پاکٹ منی ہر ماہ جہانگیر کے والٹ سے نکالتی کوشش کرتی کہ پورا مہینہ اس میں چلالے مگر ایسا مشکل سے ہی ہو پاتا مگر وہ کوشش تو کرتی تھی نا ایسا کرنے کی یہی نہیں اس کے مزاج میں بھی کافی تبدیلی آئی تھی، وہ اب ضد نہیں کرتی بےجا بولنے سے بھی اس نے اپنی زبان کو بریک لگالیا تھا بس ایک غصہ تھا جو اسے کبھی کبھی شدید آتا مگر وہ اس پر بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی لیکن آج طبعیت خرابی کی وجہ سے وہ چڑچڑی ہورہی تھی نہ جانے کیو کس بات کو لےکر اسے شدید غصہ آرہا تھا
تھوڑی دیر پہلے ہی فاطمہ کی کال آئی تھی جس پر فاطمہ کو اس کی آواز سے طبیعت خرابی کا علم ہوا، فاطمہ کے منع کرنے کے باوجود وہ رات کے لئے کھانا بنارہی تھی کہاں شادی سے پہلے اس کی طبیعت خراب ہوتی تو وہ پورا گھر اپنے سر پر اٹھالیتی اور اب جس کے لیے اس نے اپنے آپ کو اتنا بدل لیا تھا شاید اس کے تو علم میں بھی نہ تھا کے آج اس کی اتنی طبیعت خراب ہے
وہ چہولے پر موجود پیاز براؤن کررہی تھی اور ساتھ ہی پلیٹ میں رکھے ہوئے آلو چہیلنے میں مصروف تھی تب اسے مین گیٹ کھلنے کی آواز آئی
جہانگیر کی عادت تھی وہ بیل نہیں بجاتا تھا اپنے پاس موجود گھر کی چابی سے لاک کھول کر اندر آتا تھا مگر یہ اس کے آنے کا ٹائم نہیں تھا اس وقت دوپہر ہورہی تھی وہ رات میں گھر آتا تو اس وقت کون آیا ہوگا آغول سوچ ہی رہی تھی جب جہانگیر کچن میں آیا
“جب طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو کیا ضرورت ہے کھانا بنانے کی طبیعت خرابی کا رونا بھی رونا ہے اور کھانا بناکر ڈھنڈورا بھی پیٹنا ہے”
جہانگیر نے غصے میں کہتے ہوئے آگے بڑھ کر چہولا بند کیا یعنٰی فاطمہ آغول کے بعد جہانگیر کو کال کرکے آغول کی طبیعت خرابی کا بتاچکی تھی اور یہ بھی کہ وہ طبیعت خراب ہے میں کھانا بنارہی ہے جبھی وہ پولیس اسٹیشن سے سیدھا گھر آیا تھا اور اس پر غصہ کرنے لگا
“جاؤ جاکر کمرے میں آرام کرو ایسا گرا پڑا نہیں ہوں میں جو ایک دن باہر سے کھانا نہیں لاسکتا”
وہ آغول کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر غصے میں اس پر چیختا ہوا بولا کتنا ضروری کام تھا جسے چھوڑ کر وہ فاطمہ کے کال کرنے پر گھر آیا تھا
آغول اس کو سُرخ آنکھوں کے ساتھ دیکھنے لگی ایک تو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اوپر سے آغول کو خود بھی غصہ آیا ہوا تھا وہ اُس کے لئے کھانا بنارہی تھی الٹا جہانگیر اسی کو غصے میں ڈانٹ رہا تھا آغول نے دانت پیس کر ہاتھ میں موجود آلو کھینچ کر جہانگیر کو مارا جو اس کے کندھے پر جا لگا
“آغول”
جہانگیر اسکی بدتمیزی پر آنکھیں دکھاتا ہوا زور سے غصے میں دہاڑا مگر اس کے بعد آغول نے جہانگیر کے غُصّے کی پروا کیے بغیر پلیٹ میں موجود آلو اور ٹماٹر غُصّے میں اس پر برسانا شروع کردیے
جہانگیر شدید غُصّے میں اس کے پاس آیا اور آغول کے ہاتھ میں موجود ٹماٹر اس سے چھین کر آغول کو دھکا دیا ساتھ ہی پلیٹ کھینچ کر دیوار پر دے ماری
“جنگلی، جاہل، بدتمیز، بےشرم لڑکی”
جہانگیر پہلے ہی غصے میں گھر آیا تھا پھر ثابت آلو اور ٹماٹر کھانے کے بعد اس کا پارہ مزید ہائی ہونے لگا ایسا کون بیوی کرتی تھی بھلا شوہر کو آلووں اور ٹماٹروں سے مارے وہ غُصّے میں آنکھیں دکھاتا ہوا اسے القابات سے نوازنے لگا
“ظالم، بےحس، بےدرد، بےرحم آدمی”
آغول بھی اس کے سامنے آکر اُسی کے انداز میں چیختی ہوئی غُصّے میں بولی جہانگیر خاموشی سے اس کا غُصّے اور بخار کی وجہ سے سُرخ ہوتا چہرہ دیکھنے لگا
“کمرے میں جاؤ فوراً”
اب کی بار وہ کمرے کی طرف اشارہ کرتا ہوا ضبط کرتا بولا
مگر اگلے ہی پل وہ آغول کے ری ایکشن پر ایک لمحے کے لئے پریشان ہوگیا
وہ جہانگیر کا گریبان پکڑ کر زور زور سے چیخ رہی تھی نہ جانے کون سا غُصّہ، کون سا غُبار اس کے اندر بھرا ہوا تھا جو وہ اس کا گریبان پکڑ کر چیختی ہوئی نکال رہی تھی
“بی ہیو یور سیلف”
جہانگیر اس کی دونوں کلائیاں پکڑتا ہوا غُصّے میں زور سے چیخا
مگر اگلے ہی لمحہ وہ اور زیادہ پریشان ہوگیا جب آغول اس سے اپنے ہاتھ چھڑا کر چیختی ہوئی زور زور سے اپنے ہاتھوں کو جہانگیر کے سینے پر مار مار کر رونے لگی
اب جہانگیر بالکل خاموش کھڑا ہوا اس کے ہاتھوں سے اپنے سینے پر مار کھا رہا تھا اور چپ ہو کر اُسے روتا ہوا اور شور مچاتا ہوا دیکھ رہا تھا جب وہ چیخ چیخ کر اور اُسے مار مار کر تھک گئی تب وہ جہانگیر کے سینے میں منہ چھپاکر رونے لگی اب وہ اس کے سینے سے لگی زارو قطار روئے جارہی تھی
جہانگیر بالکل خاموش کھڑا ہوا تھا جب آغول سسکیاں بھرنے لگی تب جہانگیر اسے خود سے الگ کرکے بیڈ روم کے اندر لایا
سینے کے پاس سے اس کی وردی آغول کے آنسووں سے نم ہوچکی تھی وہ آغول کو بیڈ پر بٹھاتا ہوا اس کے بھیگے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا
ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر جب اس نے آغول کو تھمایا تو آغول غصے میں جہانگیر کا چہرہ دیکھنے لگی اور اس کے ہاتھ سے ٹشو چھین کر نیچے پھینک دیا جہانگیر خاموشی سے اس کا رویہ نوٹ کرنے لگا دوبارہ ٹشو لاکر وہ خود اس کا بھیگا ہوا چہرہ صاف کرنے لگا
پھر جہانگیر نے اسے پانی سے بھرا گلاس تھمانا چاہا جسے آغول نے بناء جہانگیر کو دیکھے ہاتھ مار کر پانی کا گلاس فرش پر گِرا دیا جہانگیر بنا غُصّہ کیے خاموشی سے دوبارہ اسے دیکھنے لگا وہ نظریں نیچے کیے ماربل کے فرش کو گھور رہی تھی جہانگیر دوبارہ کچن میں گیا اور دوسرے گلاس میں پانی بھر کر لایا اب کی بار اُسے گلاس تھمانے کی بجائے اپنے ہاتھ سے پانی پلانے لگا وہ خاموشی سے پانی پینے لگی آدھا پانی بچا کر جہانگیر میڈیسن باکس میں سے ٹیبلٹ نکال کر لایا اور اس کی طرف بڑھانے کی بجائے خود آغول کے منہ میں ڈال کر اُسے باقی کا پانی پلانے لگا جسے پینے کے بعد وہ جہانگیر کو دیکھنے لگی
جہانگیر نے اُسے بیڈ پر لٹاکر کمفرٹر اُوڑھایا اب وہ وہی کھڑا اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر یونیفارم کی شرٹ چینج کرنے لگا شاید اب اُس کا پولیس اسٹیشن واپس جانے کا ارادہ نہیں تھا آغول بیڈ پر لیٹی ہوئی خاموشی سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اپنی یونیفارم کی شرٹ ہینگ کرنے کے بعد ٹراؤزر لےکر کمرے سے باہر چلا گیا آغول نے اپنی آنکھیں بند کرلی آہٹ کی آواز پر دوبارہ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا وہ گھر کے کیجول کپڑوں میں فرش پر بکھرا ہوا کانچ اٹھا رہا تھا آغول نے جہانگیر کو ایک بار پھر دیکھ کر دوبارہ اپنی آنکھیں بند کرلی
