Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 35)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“آغول آکر باہر کا دروازہ لاک کرلو”
آغول تیزی سے قلم چلاتی ہوئی اپنے نوٹس تیار کررہی تھی تب جہانگیر بیڈ روم میں جھانکتا ہوا اس سے بولا
“اس وقت کہاں جارہے ہیں آپ”
آغول نے سر اٹھا کر دیکھا تو جہانگیر کیجول ڈریسنگ میں ملوث شولڈر پر گن ہولسٹر باندھے باہر جانے کے لئے تیار کھڑا تھا
“ایک ضروری کام سے جارہا ہوں دو سے تین گھنٹے لگ جائیں گے واپسی پر دروازہ اندر سے لاک کرلینا یاد سے”
جہانگیر اسکو بولتا ہوا چلا گیا،،
وہ شام جلدی گھر آگیا تھا رات کا کھانا کھانے کے بعد اس کے موبائل پر شکیل کی کال آئی جس پر شکیل نے اسے بتایا کہ ایک کار پولیس اسٹیشن کے باہر کسی لڑکی کی ڈیڈ باڈی پھینک کر گئی ہے اسلیے انویسٹیگیشن کے لئے وہاں جہانگیر کو جانا پڑھ رہا تھا
آغول غائب دماغی میں جہانگیر کی بات پر سر ہلا کر دوبارہ نوٹس بنانے میں مصروف ہوگئی کیوکہ اس کی ساری توجہ اپنے نوٹس پر تھی تین دن سے وہ بالکل پڑھ نہیں پارہی تھی
تین دن گزر چکے تھے ان دونوں کا ریلیشن اس حد تک نارمل ہوا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بات چیت کرنے لگے تھے تین دن سے آغول خود بھی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر جہانگیر کے ساتھ کھانا کھاتی
یہ چینج جہانگیر کو بہت اچھا لگا تھا مگر اس کا جہانگیر نے آغول کے سامنے کوئی خاص اظہار نہیں کیا تھا ہاں تین دن سے وہ رات گئے تک پولیس اسٹیشن سے گھر نہیں لوٹتا تھا کوشش کر کے شام میں ہی آجاتا تھا
پرسوں وہ دونوں کھانے کے بعد واک پر نکلے تھے آپس میں باتیں کرتے کرتے اتنے آگے نکل گئے کہ ان دونوں کو ہی احساس نہیں ہوا یہ پہلی بار تھا جب ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے سے اتنی ڈھیر ساری باتیں کی تھی ایک دوسرے کو اپنی پسند ناپسند بتائی تھی، ایک دوسرے سے اپنے بچپن کے واقعات شیئر کیے تھے مزید ایک دوسرے کے خیالات جانے اس طرح ایک دوسرے سے ڈھیر ساری باتیں کرنا ان دونوں کو ہی بہت اچھا لگا تھا جس کا اظہار ان دونوں نے ایک دوسرے سے نہیں کیا
جبکہ کل جہانگیر نے ڈنر کرنے بعد ایک مووی لگادی تھی جس میں فنی سینز دیکھ کر وہ دونوں ہی ہنس رہے تھے اور ساتھ مووی کو انجوائے کررہے تھے آغول کو لگا تھا وہ کتنے دنوں بعد یوں کُھل کر ہنسی تھی جہانگیر بھی اپنی عادت کے برخلاف فنی سینز پر ہنستا ہوا مووی دیکھ رہا تھا
مگر وقفے وقفے سے اس کی نظر اپنے برابر میں بیٹھی آغول پر پڑتی وہ زور زور سے ہنستی ہوئی مووی کو خوب انجوائے کررہی تھی جہانگیر اس کو بھی دیکھ کر مسکرا دیتا کیوکہ وہ اس وقت ہنستی ہوئی اسے بہت کیوٹ لگ رہی تھی
مگر اچانک سے ان دونوں کی ہنسی کو بریک تب لگا جب مووی میں موجود ہیرو اور ہیروئن رومینٹک ہوئے اب جہانگیر بالکل سیریس ہوکر خاموشی سے اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا جبکہ اس کے قریب بیٹھی آغول نظریں نیچے جھکائے چور نگاہوں سے کبھی اسکرین کو دیکھتی تو کبھی اپنے برابر میں بیٹھے جہانگیر کو تو کبھی اس کی نظر اپنے اور جہانگیر کے بیچ میں ریموٹ پر جاتی
جب ہیرو ہیروئن کا مزید جذباتی منظر شروع ہوا تو جہانگیر کی نظروں کا زاویہ خود بخود آغول کی طرف گیا وہ ریموٹ کو دیکھ رہی تھی جہانگیر نے دوبارہ اپنی نگاہیں اسکرین کی طرف کرلی
مووی میں موجود سین مزید بولڈ ہونے لگا بات جب حد سے زیادہ بڑھ گئی جہانگیر نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر دوبارہ آغول کو دیکھا جو سر نیچے جھکائے اپنے دوپٹے سے کھیل رہی تھی مووی میں جو سین چل رہا تھا آغول سے اب نظریں بھی نہیں اٹھائی جارہی تھی جہانگیر کے دل میں اس وقت نہ جانے کیا خیال آیا جو اس نے آغول کا ہاتھ پکڑا
ہاتھ پکڑنے کی دیر تھی آغول جو کہ پہلے سے ہی گھبرائی ہوئی بیٹھی تھی چیخ مار کر ایک دم پیچھے ہوئی جس پر جہانگیر ایک دم شرمندہ ہوگیا وہ آغول کو وضاحت دینے لگا کہ وہ تو ریموٹ اٹھارہا تھا، غلطی سے اس کا ہاتھ آغول کے ہاتھ سے آگیا جہانگیر کے کمرے سے جانے کے بعد آغول کو کل کتنی ہی دیر تک اپنی حرکت پر افسوس ہوا تھا
جہانگیر کو گھر سے نکلے ہوئے مشکل سے 15 منٹ گزرے تھے آغول نوٹس بنانے میں اتنی مگن ہوئی کہ وہ جہانگیر کی ہدایت پر عمل کرنا بھول گئی چونکی وہ تب جب اسے محسوس ہوا کہ باہر کسی نے دروازے کھولا ہے تب اسے یاد آیا کہ وہ اندر سے دروازہ لاک کرنا بھول گئی تھی
“کون”
آغول جلدی سے بیڈ سے اٹھی بیڈ روم سے باہر نکل کر بلند آواز میں پوچھتی ہوئی وہ لاؤنچ کے اندر آئی، تب پیسج سے دو آدمی لاؤنچ کے اندر داخل ہوچکے تھے
“کون ہو تم دونوں گھر کے اندر کیسے آئے”
آغول حیرت سے ان دونوں کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے
“یہی ہے وہ بلبل قابو کر اسے”
ان میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھی کو بولا
اس سے پہلے وہ دونوں آغول کی طرف بڑھتے وہ بھاگتی ہوئی جلدی سے لاؤنچ میں موجود سلائیڈ ڈور کا دروازہ لاک کرکے اپنے بیڈ روم کی طرف بھاگی
جب وہ بیڈروم کا دروازہ بند کرنے لگی تو تب اسے سلائیڈنگ ڈور کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی وہ دونوں آدمی لاؤنچ میں موجود کرسی سے سلائیڈنگ ڈور کا شیشہ توڑ چکے تھے
آغول بیڈروم کا دروازہ اندر سے لاک کرچکی تھی اس کی اپنے موبائل پر نظر پڑی جو بیڈ پر موجود تھا اس نے جلدی سے موبائل اٹھاکر جہانگیر کا نمبر ملایا جو ابھی گھر سے زیادہ دور نہیں گیا ہوگا آغول سوچنے لگی, وہ اس وقت شدید گھبرائی ہوئی تھی اس کی گھبراہٹ پریشانی میں تب بدلی جب اسے جہانگیر کے موبائل کی رینگ ٹون جہانگیر کے روم سے سنائی دی وہ اپنے روم میں نہیں ہوسکتا تھا شاید وہ اپنا موبائل گھر پر ہی چھوڑ کر چلاگیا تھا آغول کو رونا آنے لگا
وہ دونوں آدمی اس کے کمرے کے باہر کھڑے مسلسل دروازے پر دھکے مار رہے تھے اور دروازے کا لاک کھولنے کی کوشش کررہے تھے آغول نے جلدی سے روحان کا نمبر ملایا روحان کے نمبر پر مسلسل بیلز جارہی تھی مگر وہ کال ریسیو نہیں کررہا تھا
“بھائی پلیز کال ریسیو کریں”
آغول روتی ہوئی بےبسی سے بولی اس کی نظریں مسلسل دروازے پر ٹکی ہوئی تھی زور زور سے دروازے پر دھکا مارنے سے دروازے کے اوپر لگی چٹخنی کُھل چکی تھی وہ دونوں آدمی اب دروازے کا ہینڈل توڑنے کی کوشش کررہے تھے آغول نے بیڈ پر رکھے ہوئے پین کو اپنی مٹھی میں زور سے دبایا اُسے آنے والے وقت سے ڈر لگ رہا تھا وہ مسلسل روحان کو کال ملا رہی تھی
اس کی نظر واشروم پر گئی وہ اٹھ کر واشروم کی طرف بھاگنے لگی مگر تب تک وہ دونوں دروازہ توڑ کر اندر آچکے تھے
“بھاگ کر کہاں جارہی ہے بلبل تجھے ہم لینے آئے ہیں”
ان دونوں میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر آغول کا ہاتھ پکڑا
آغول نے اپنے ہاتھ میں موجود پین کی نوک پوری طاقت سے اس آدمی کے ہاتھ پر ماری جس سے اس نے آغول کا ہاتھ پکڑا تھا اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھا اس لئے بلبلا کر پیچھے ہٹا دوسرا آدمی تیزی سے آغول کے قریب آیا
“پیچھے ہٹو”
آغول نے زور سے چیختے ہوئے پین کی نوک اس کی آنکھ میں مارنی چاہی مگر وہ آدمی آغول کی کلائی پکڑ چکا تھا
“ہم سے مقابلہ کرے گی”
اس آدمی نے آغول کی کلائی پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے آغول کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا
جس سے وہ بیڈ کے پاس جاگری اور بیڈ کا کونا زور سے اس کے سر پر لگا اس کا دوپٹہ وہی گرچکا تھا ایک پل کے لیے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
“اس کے دونوں ہاتھ اور منہ باندھ میں باہر زبیر کو بولتا ہوں وہ گاڑی اسٹارٹ کرے”
گوہر اپنے ساتھی کو بولتا ہوا باہر جانے لگا
دوسرا آدمی آغول کے پاس آنے لگا تب فرش پر آغول کا گرا ہوا موبائل بجنے لگا اس پر روحان کی کال آرہی تھی ان دونوں آدمیوں کی توجہ موبائل کی بیل پر مندمل ہوئی جس کا فائدہ اٹھا کر آغول جلدی سے اٹھی بیڈ کے سائیڈ پر موجود الارم پیس اٹھاتی ہوئی کھینچ کر اس آدمی کے سر پر دے مارا جو اس کے قریب آرہا تھا اور قریب ہی واش روم کی طرف بھاگتی ہوئی وہ واش روم کا دروازہ بند کرچکی تھی
“ایک لڑکی نہیں سنبھل رہی تجھ سے نامرد ہوگیا ہے کیا”
گوہر اپنے ساتھی پر چیخا
اب وہ دونوں واش روم کے دروازے پر زور زور سے دھکا مارتے ہوئے مسلسل ہینڈل گھما رہے تھے
آغول نے رونا شروع کردیا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وائپر اٹھایا مگر وہ جانتی تھی وہ دو آدمیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی جو دیکھنے میں طاقتور اور توانا تھے
وہ دونوں ہی آدمی واشروم کا دروازہ کھولنے کی کوشش کررہے تھے تب ان کے ساتھی کی کال آئی جو کہ باہر گاڑی میں ان کا انتظار کررہا تھا
“ابے نکل یہاں سے ایس پی واپس آگیا ہے”
موبائل کی کال کاٹتا ہوا گوہر اپنے ساتھی سے بولا وہ دونوں آدمی گھر سے باہر دروازے کی طرف بڑھے
****
جہانگیر اپنی کار ڈرائیو کرتا ہوا تھوڑی دور ہی پہنچا تھا تب کسی بات کے یاد آنے پر اس نے شکیل کو کال ملانی چاہی اپنی پاکٹ میں موبائل کے ٹٹولا مگر موبائل موجود نہیں تھا اپنے اوپر افسوس کرتا ہوا وہ کار واپس موڑ چکا تھا
گھر کے پاس پہنچا تو اسے دور سے ہی اپنے گھر کے سامنے ایک گاڑی کھڑی ہوئی نظر آئی… نہ جانے کیوں اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی جہانگیر نے اپنی کار کی اسپیڈ بڑھائی دو آدمی اس کے گھر سے دروازہ کھول کر تیزی سے باہر نکلتے ہوئے اس کار کے اندر بیٹھے
جہانگیر نے وہی اپنی کار کو بریک لگایا گن ہولسٹر سے اپنی پسٹل نکالتا ہوا اس نے بھاگتے ہوئے کار پر فائر کیا مگر وہ کار پہلے سے ہی اسٹارٹ تھی ان دونوں آدمیوں کے بیٹھتے ہی چل پڑی
“رکو”
جہانگیر نے بھاگتے ہوئے کار پر فائر کیا جو کار کے بیک شیشے پر لگا جبکہ دوسرا فائر اس نے کار کے ٹائر پر کیا وہ کار کا نمبر نوٹ کرچکا تھا کار زیادہ دور تک نہیں جاسکتی تھی
“آغول”
اس کا دماغ آغول کی طرف گیا وہ بھاگتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا
لاؤنچ کے سلائیڈنگ ڈور کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا ایک پل کے لئے اس کا دل بری طرح ڈرا
“آغول”
وہ دوبارہ آغول کو بلند آواز میں پکارتا ہوا بیڈ روم میں آیا
بیڈ پر اس کے نوٹس بکھرے ہوئے تھے اور آغول کا موبائل فرش پر گرا ہوا تھا
“آغول”
وہ کمرے میں کہیں بھی نہیں تھی بیڈ کے پاس اس کا دوپٹہ گرا ہوا تھا جہانگیر کو خوف سا محسوس ہوا اس نے واشروم کا دروازہ کھولنا چاہا جو اندر سے لاک تھا
“آغول دروازہ کھولو پلیز جلدی”
جہانگیر واش روم کا دروازہ زور سے کھٹکھٹاتا ہوا بولا
“ہاں جہانگیر کی آواز تھی اسکے شوہر کی آواز”
آغول نے ہاتھ میں موجود وائپر وہی پھینکا اور واش روم کا دروازہ کھولا
“جہانگیر”
جہانگیر کو اس وقت اپنے سامنے دیکھنا آغول کو کسی معجزے سے کم نہیں لگا تھا
دوسری طرف آغول کو صحیح سلامت دیکھ کر جہانگیر کی جان میں جان آئی جہانگیر نے اگے بڑھ کر آغول کو خود میں چھپالیا
جہانگیر کے سینے سے لگنے کی دیر تھی آغول نے رونا شروع کردیا وہ کافی دیر تک اسے سینے سے لگائے کھڑا رہا تھا اور آغول اسکے سینے سے لگی ہوئی خدا کا شکر ادا کررہی تھی کہ اس کا شوہر گھر آگیا تھا
جب جہانگیر کو اچھی طرح اطمینان ہوگیا کہ اس کی بیوی صحیح سلامت ہے تو جہانگیر اسے اپنے سے الگ کرتا ہوا آغول کے آنسو صاف کرنے لگا اس کے ماتھے پر چوٹ کا نشان اور گال پر انگلیوں کے نشان دیکھ کر جہانگیر کا خون کھول اٹھا فرش پر گرا ہوا دوپٹہ اٹھاکر وہ آغول کے گرد لپیٹنے لگا اسے بیڈ پر بٹھاکر اپنے روم میں آیا اپنا موبائل اٹھاکر جہانگیر نے قریبی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو فون ملایا
“آپ کار کا نمبر نوٹ کریں اس کار میں موجود تین افراد مجھے ابھی اور اسی وقت چاہیے میں اپنے گھر پر ہی موجود ہوں ان تینوں کو وہی لے کر آئے”
ایس۔ایچ۔او نعیم سے وہ اپنا تعارف کروائے بغیر بولا کیونکہ وہ جہانگیر کو اچھی طرح جانتا تھا
جہانگیر گھر میں دوسری چیزوں کا جائزہ لیتا ہوا واپس بیڈروم میں آیا جہاں آغول بیڈ پر بیٹھی تھی وہ اس وقت کافی ڈری ہوئی لگ رہی تھی جہانگیر نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا خاموشی سے کمرے کے چکر کاٹنے لگا آخر کون اس کے گھر میں اسطرح آنے کی جرت کرسکتا ہے وہ سوچ ہی رہا تھا تھوڑی دیر بعد اس کا موبائل بجا
“سر میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہو ایک بندہ فرار ہوچکا ہے باقی دو کو اپنے میں اپنے ساتھ لایا ہو”
ایس ایچ او نعیم جہانگیر کو موبائل پر بتانے لگا
“ٹھیک ہے میں دو منٹ میں آتا ہوں”
جہانگیر نے اسے بول کر کال کاٹی اور شکیل کو کال ملا کر اسے اور اسلم کو فوراً اپنے گھر پر بلایا
آغول خاموشی سے سہمی ہوئی بیڈ پر بیٹھی جہانگیر کو اتنی دیر سے ٹہلتا ہوا اور موبائل پر باتیں کرتا دیکھ رہی تھی آغول کو لگا ابھی وہ اس پر غصہ کرے گا غلطی اس کی تھی اسے جہانگیر کے نکلتے ہی اندر سے لاک لگانا چاہے تھا اسلیے وہ اسے ڈر کے مارے کچھ نہیں بول رہی تھی شکیل سے بات کرکے وہ آغول کے پاس آیا اور اسے بیڈ سے اٹھایا
“جو آدمی تھوڑی دیر پہلے یہاں آئے تھے ان میں سے دو پکڑے گئے ہیں مجھے صرف اشارے سے یہ بتانا کہ ان میں سے تم پر کس نے ہاتھ اٹھایا تھا”
جہانگیر آغول کے سر پر دوپٹہ رکھتا ہوا نرمی سے اس سے بولا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے جانے لگا
“جہانگیر مجھے نہیں جانا میں نہیں جاؤ گی کسی کی بھی سامنے پلیز”
آغول اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی جہانگیر کو انکار کرکے بولی وہ تھوڑی دیر پہلے ہوئے واقعے سے کافی ڈر گئی تھی
“میں ہوں ناں تمہارے ساتھ”
جہانگیر اس کا چہرہ تھام کر بولا تو آغول خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جہانگیر اسے اپنے ساتھ لاؤنج سے باہر لےکر آیا اور گھر کا مین ڈور کھولا
ایس ایچ او نعیم کے ساتھ کانسٹیبل بھی موجود تھا جس نے دو آدمیوں کو پیچھے شرٹ کے کالر سے پکڑا ہوا تھا ان دونوں کے ہاتھ پیچھے کی طرف رسّی سے باندھے ہوئے تھے آغول ان دونوں کو دیکھ کر گھبرانے لگی
جہانگیر نے آغول کا چہرہ دیکھا جیسے وہ جاننا چاہتا ہو کس نے اس پر ہاتھ اٹھایا
آغول بغیر کوئی اشارہ کرے یا بولے اسی کو دیکھنے لگی جس کے مارے گئے تھپڑ سے اسے سر پر بھی چوٹ لگی تھی جہانگیر نے آغول کی نظروں کا تعاقب کیا
“نعیم صاحب بہت بہت شکریہ آپ کے تعاون کا، میں کل صبح آپ سے بات کرتا ہوں”
جہانگیر نے ایس ایچ او کا شکریہ ادا کر کے اسے اور کانٹیبل کو گھر سے رخصت کیا
“اندر جاؤ میں آتا ہوں”
جہانگیر آغول کو دیکھتا ہوا بولا وہ پریشان نظروں سے جہانگیر کو دیکھ کر اندر چلی گئی
ابھی آغول بیڈ روم کے اندر پہنچی ہی تھی اسے زور زور سے مارنے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی کسی دوسرے کے منہ پر ایک کے بعد ایک لگاتار تھپڑ مار رہا ہو آغول نے ڈر کر مارے بیڈروم کی کھڑکی سے باہر دیکھا پیسج میں جہانگیر کھڑا اسی آدمی کے چہرے پر ایک کے بعد ایک زور دار تھپڑ لگا رہا تھا جہانگیر کے چہرے پر غضب ناک تاثرات دیکھ کر آغول کو ڈر لگنے لگا وہ پردہ برابر کرتی ہوئی بیڈ پر آکر بیٹھ گئی تب اس کے موبائل پر روحان کی کال آنے لگی
وہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتاکر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی مگر روحان سے تو بات کرنا بھی ضروری تھی ورنہ وہ پریشان ہوجاتا اس لیے آغول اس کی کال ریسیو کرکے روحان سے بات کرنے لگی
****
“شکیل کیا کیا اس لڑکی کی ڈیڈ باڈی کا کچھ آئیڈیا ہے کس طرح مرڈر ہوا”
شکیل اسلم کے ساتھ اس کے گھر پر موجود تھا وہ دونوں ان دو آدمیوں کو دیکھنے لگے جن کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک کا چہرہ بری طرح سُوجھا ہوا تھا جہانگیر شکیل کی توجہ اپنی طرف مندمل کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“سر باڈی کو پوسٹ مارٹم کیلئے پہنچا دیا گیا ہے کوئی لڑکی کی برہنہ لاش کو چادر میں لپیٹ کر پولیس اسٹیشن کے پاس ایک گھنٹے پہلے پھینک کر گیا تھا بقول انسپکٹر شہناز کے ڈیڈ باڈی ہر جگہ جگہ مارنے کے نشان تھے جیسے لڑکی کو مار مار کر اس کی کھال اُدھیڑ دی گئی ہو یا پھر مارنے کے بعد لاش پر تشدد کیا ہو گلا کاٹ کر اس لڑکی کو مارا گیا ہے اور سب سے اہم بات ڈیڈ باڈی کی کمر پر وہی ٹیٹو موجود ہے”
انسپکٹر شکیل ڈیڈ باڈی کی تفصیلات جہانگیر کو بتانے لگا
“ٹھیک ہے ابھی تو مشکل ہے میں صبح پولیس اسٹیشن آؤ گا تم دونوں کو یہاں پر اس لئے بلایا ہے ان دونوں کو یہاں سے لےکر جاؤ اور لاک اپ میں بند کرو یہ جو بھی کھانے پینے کو مانگیں انہیں فوراً مہیا کرو لیکن اگر انہیں حاجت محسوس ہو تو کوئی انہیں واشروم نہیں جانے دے گا اور یہ میرے آرڈرز ہیں جنھیں بہت سیریس ہوکر فالو کرنا ہے سن رہے ہو تم اسلم”
جہانگیر سخت لہجے میں اسلم کو دیکھتا ہوا بولا جس پر اس نے جلدی سے سر ہلایا
“اور تم دونوں کان کھول کر سن لو اگر تم دونوں میں سے کسی نے بھی جیل کا فرش یا دیواریں گندی کی تو پھر میں تم دونوں کے ساتھ وہ کرو گا جو تم سوچ بھی نہیں سکتے”
جہانگیر ان دونوں کی طرف دیکھتا ہوا سخت لہجے میں بولا
“لے جاؤ ان دونوں کو”
جہانگیر نے شکیل کو دیکھتے ہوئے کہا اور ان لوگوں کے رخصت ہونے کے بعد باہر کا دروازہ لاک کر کے وہ اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کو دیکھتا ہوا آغول کے پاس کمرے میں جانے لگا
