Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 22)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

تھوڑی دیر پہلے ہی بیوٹیشن اپنا کام مکمل کرکے اس کے کمرے سے باہر نکلی تھی آغول نے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا عکس دیکھا وہ کسی دوسرے کی تعریف کی محتاج نہیں لگ رہی تھی آئینہ خود اس کی خوبصورتی کی گواہی دے رہا تھا

تھوڑی دیر پہلے ہی منصور اور فاطمہ اس کے کمرے میں آئے تھے ان دونوں نے اسے ڈھیر سارا پیار کیا خاص طور پر منصور نے اسے گلے لگاکر بہت پیار سے منایا، اسے نصیحتیں کی، ڈھیر ساری دعائیں دی جنہیں وہ خاموشی سے سنتی رہی پھر فاطمہ نے زاہدہ کے ہاتھوں اس کے لیے جوس بھیجنے کا کہا کیونکہ فاطمہ کو معلوم تھا وہ کھانا بالکل نہیں کھائے گی وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی زاہدہ کا انتظار کررہی تھی تب زاہدہ ہاتھ میں جوس کا گلاس تھامے اس کے پاس آئی

“آج تو میرے اس گھر سے جانے پر تم بھی بہت خوش ہوگی، بہت پریشان کرتی تھی میں تمہیں بار بار اپنے کام بول کر”

زاہدہ نے اس کے آگے جوس کا گلاس بڑھایا تو آغول زاہدہ کو دیکھ کر بولی

“کیسی باتیں کررہی ہیں میم میں نے تو آپ کے لیے ڈھیر ساری دعائیں کی ہیں خدا آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے، ویسے بھی جہانگیر سر بہت اچھی ہیں وہ کل آپ کا مجھ سے پوچھ بھی رہے تھے اور انہوں نے ایک میسج بھی دیا ہے آپ کے لیے”

زاہدہ نے آخری بات ذرا ڈرتے ہوئے بولی، اور زاہدہ کے منہ سے جہانگیر کا نام سن کر آغول کو غصہ آنے لگا

“کیا بول رہا تھا وہ”

جسے وہ کنٹرول کرکے زاہدہ سے پوچھنے لگی

“جی وہ کہہ رہے تھے کہ اپنی میم سے کہنا کہ وہ منتظر ہے آپ کے۔۔۔ انہیں شدت سے انتظار ہے جب آپ ان کے سامنے موجود ہو”

زاہدہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی جہانگیر کا میسج آغول کو دینے لگی اسے لگا تھا یہ مسیج سن کر اس کی میم خوش ہوگی جبکہ اس کے برعکس آغول نے غصے میں جوس سے بھرا گلاس فرش پر دے مارا

“نکلو میرے کمرے سے”

وہ غصے میں زاہدہ پر چیختی ہوئی بولی زاہدہ کو سمجھ نہیں آیا اس سے کہا غلطی ہوئی مگر وہ فوراً کمرے سے نکل گئی یہ سوچ کر کہیں اسکی میم کا مزید موڈ خراب نہ ہوجائے ابھی وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہی تب روحان اس کے کمرے میں آیا ایک نظر فرش پر ٹوٹے ہوئے گلاس پر ڈال کر وہ آغول کے پاس آکر صوفے پر بیٹھا

“آج کے دن اپنے بھائی سے ذرا ناراض نہیں ہونا ورنہ مجھے بہت دکھ ہوگا”

روحان اس کی آنکھوں میں ناراضگی دیکھ کر بولا

“آپ نے رخصتی کو چند ماہ ڈلے کرنے کی بجائے ہفتے سے پہلے ہی سب کچھ ارینج کردیا اتنی کھٹکنے لگی تھی میں آپ کو نظروں میں”

آغول روحان کو دیکھ کر شکوے بھرے انداز میں بولی

“کیا فضول بول رہی ہو اور مجھے اپنی بہن کھٹکے گی اپنی نظروں میں, جب میں ڈیڈی کے پاس گیا بات کرنے کے لیے تو وہ مجھ سے پہلے ہی جیڈی سے فون پر بات کرچکے تھے اور جیڈی کے کہنے پر آج رخصتی رکھی گئی ہے، میں نے ڈیڈی کو بولا بھی مگر وہ اس کی بات پر ایگری کرچکے تھے”

روحان آغول کو وضاحت دینے لگا کیوکہ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی بہن گھر سے جاتے وقت اس سے دل برا کرکے جائے

“اس نے تو یہ سب کرنا ہی تھا بدلہ جو لینا ہے اپنی بےعزتی کا مجھ سے وہ مار ڈالے گا مجھے”

آغول روحان کو دیکھ کر بےتاثر انداز میں بولی

“ایسے ہی مار ڈالے گا روحان منصور کی بہن ہو تم کوئی میری بہن کو ہاتھ تو لگاکر دکھائے اس کے ہاتھ توڑ دوں گا۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کرے گا, جیڈی تمہارے ساتھ کوئی مس بی ہیو نہیں سکتا کیونکہ اسے معلوم ہے اس کی بہن خود رونی کی بیوی ہے تو وہ رونی کی بہن کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتا میری بہن خوش رہے گی تبھی تو اس کی بہن خوش رہے گی اس لیے کوئی بھی وہم دل میں پالنے کی ضرورت نہیں بالکل ریلکس ہوجاؤ شاباش”

روحان آغول کو کسی بچے کی طرح بہلا رہا تھا تب اس نے آغول کو دیکھا جو دروازے کی سمت دیکھ رہی تھی روحان کی نظر بھی دروازے پر پڑی جہاں عینا کھڑی ہوئی روحان کو دیکھ رہی تھی روحان کے دیکھنے پر وہ رکی نہیں وہاں سے چلی گئی روحان عینا کے پیچھے جانے لگا تب آغول نے اس کا ہاتھ پکڑا روحان آغول کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

“جیڈی کو یہ بھی معلوم ہے کہ رونی اس کی بہن سے محبت کرتا ہے وہ کبھی بھی اس کی بہن کو ہرٹ نہیں کرے گا مگر میرے ساتھ اس کا ایسا کوئی معاملہ نہیں”

آغول روحان کا ہاتھ چھوڑ کر تلخی سے بولی

“پر رونی اگر جیڈی کی بہن سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنی بہن سے بھی محبت کرتا ہے اور یہ بات مجھے جیڈی کو باور کروانے کی ضرورت نہیں اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے اور وہ رونی کو بھی اچھی طرح جانتا ہے”

روحان آغول کا گال تھپتھپا کر وہاں سے نکل گیا

****

آج اس کا ریسپشن تھا اور بیوٹیشن اسے تیار کرکے گئی تھی وہ روحان کو ڈھونڈتے ہوئے عینا کے کمرے کے پاس پہنچی مگر ان دونوں بہن بھائیوں کی باتیں سن کر اپنے کمرے میں آگئی کل رات وہ بہت خوش تھی مگر صبح ہی روحان نے اسے اپنے الگ روپ سے متعارف کروایا جو اس کے لئے حیران کن نہیں تھوڑا پریشان گن تھا وہ تو اپنی خوشی میں یہ بات بھی فراموش کرچکی تھی روحان دو قتل بھی کرچکا ہے وہ اس وقت روحان سے اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی جتنی آج صبح ہوئی تھی لیکن اس کے بعد روحان اسے بالکل بچوں کی طرح ٹریٹ کررہا تھا جیسے کسی بچے کو غلط کام کرنے سے روکنے کے لیے ڈرایا جاتا ہے جب وہ بچہ سہم جائے تو اسے پیار کرکے بہلایا جائے, بہلنے کے باوجود عینا سمجھ گئی تھی اس کی پیٹھ پر موجود نشان کے بارے میں عینا کو اب کبھی بھی اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ یہ بات کسی کو بتانے کی ضرورت ہے

صبح ناشتے پر وہ آغول سے ملی اس کے انداز میں عینا کے لیے کوئی گرمجوشی نہیں تھی عینا کو اب اپنے بھائی کی بھی فکر ہونے لگی وہ اپنی خوشیوں میں جہانگیر کو تو بھول ہی گئی تھی جہانگیر نے اس کی خوشی کی خاطر تو روحان کی بہن سے شادی کی شرط رکھی تھی آغول اس کے ساتھ جیسی بھی ہو مگر اس کے بھائی کے ساتھ اچھی ہو کیونکہ اسکا بھائی محبت کرنے والا انسان تھا وہ ایک اچھی لڑکی ڈیزرو کرتا تھا

ناشتے کے وقت البتہ اُس کے سسر اس سے بہت خوش ہوکر ملے تھے وہ ایک خوش اخلاق انسان تھے روحان کی مما اس کے ساتھ ٹھیک ہی رہی اپنے شوہر کی طرح بہت زیادہ خوش نہیں تھی بس ٹھیک تھی یا پھر ان سے ٹھیک رہنے کے لیے کہا گیا تھا

ناشتے کے تھوڑی دیر بعد دی جان، رحجاب اور فرزانہ خالہ آگئی جب عینا دی جان کے گلے لگی تو پھر اسے ڈھیر سارا رونا آگیا نہ جانے کیوں, پر دی جان پریشان ہوگئی تھی تو فاطمہ آنٹی مسکرا کر عینا کو خاموش کروانے لگی اور اپنے بارے میں بتانے لگی وہ بھی اپنی شادی کے دوسرے دن اپنی مدر سے ایسے ہی گلے لگ کر رو رہی تھی رحجاب نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے مسکراتے ہوئے اسے کو مطمئن کیا رونا تو بس اسے ایسے ہی آگیا تھا کیونکہ اب اس کا گھر اس کا میکہ بن گیا تھا اور لڑکیاں تو یوں بھی حساس ہوتی ہیں چھوٹی سے چھوٹی بات تو پر رو جانے والی بڑی سے بڑی باتوں کو سہہ جانے والی

وہ لوگ زیادہ دیر تک نہیں رکے تھ آغول کو ایک بار دی جان نے فاطمہ سے کہہ کر بلوایا مگر فاطمہ خوبصورتی سے ان کی بات کو ٹال گئی اور سب کے جانے کے بعد فاطمہ نے اسے آرام کرنے کی غرض سے اسے اس کے روم میں بھیجا کیونکہ آج ہی ریسیپشن تھا ساتھ آغول کی رخصتی شام میں اسے اور آغول کو تیار کرنے کے لئے بیوٹیشن کو آنا تھا

روحان تھوڑی دیر کے لئے بیڈ روم میں آیا اس کو ڈھیر سارا پیار کرکے یقین دلایا کہ وہ اس کا وہی روحان ہے جو اسے شادی سے پہلے ڈھیر ساری باتیں کرتا تھا اس سے شدت سے محبت کرنے والا کیونکہ صبح والے واقع کے بعد روحان کو محسوس ہوا عینا اس سے ڈر گئی تھی وہ اپنی بیوی کو ڈرانا ہرگز نہیں چاہتا تھا مگر عینا کو بہت سے معاملات سے دور رکھنے کے لیے اسے ایسا کرنا پڑا تاکہ عینا اس کا ذکر کسی دوسرے سے کرے نہ اس سے زیادہ سوالات کرے

دروازہ کھلنے کی آواز پر عینا نے دیکھا کہ روحان کمرے میں آیا

تھوڑی دیر پہلے جو باتیں روحان نے آغول سے کی تھی عینا کو وہ سب باتیں ذرا اچھی نہیں لگی عینا کو لگا اب وہ یقیناً اپنی ان سب باتوں کا اس سے ایکسکیوز کرے گا عینا انتظار کرنے لگی

“ہاں سارے ارینجمنٹ کرواؤ کہیں کوئی کمی بیشی یا غلطی کی گنجائش نہ ہو میں آج اپنا موڈ ہرگز خراب نہیں کرنا چاہتا تین سے چار گھنٹے ہیں تمہارے پاس”

روحان نے بات کرنے کے بعد موبائل واپس اپنی پاکٹ میں رکھا اب وہ وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈال رہا تھا پھر وہ عینا کو دیکھنے لگا

“تمہیں، آغول کو اور مما کو ڈرائیور ہوٹل چھوڑ آئے گا میں تھوڑی دیر بعد پہنچوں گا مما باہر ویٹ کررہی ہوں گی تمہارا”

روحان عینا کو دیکھتا ہوا نارمل لہجے میں بولا

وہ جو سمجھ رہی تھی روحان اس کی غلط فہمی دور کرے گا الٹا وہ اسے کمرے سے جانے کے لیے بول رہا تھا عینا صوفے سے اٹھی “اوکے” کہتی ہوئی روم سے نکل گئی اس نے وارڈروب کا دوسرا ڈور کھولا اس پورشن میں عینا کے کپڑے رکھے ہوئے تھے روحان اپنے کام میں مشغول ہوگیا

****

ہوٹل میں روحان کے ریسیپشن کے ساتھ آغول کی رخصتی کا بھی ایونٹ تھا اس لیے دو جگہ اسٹیج منعقد کروائے گئے تھے جہاں ایک طرف روحان اور عینا کی جوڑی کی تعریفیں جاری تھی وہی جہانگیر آغول کو دیکھ کر بھی لوگ سراہا رہے تھے

جہانگیر نے بہت سے لوگوں کے منہ سے آغول کے حسن کی تعریف سنی بقول رحجاب کے آج آغول کا حسن غضب ڈھا رہا تھا غضب تو وہ بھی ڈھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر بیڈ روم میں جانے کے بعد

آغول کی اتنی تعریف سننے کے باوجود اس نے ایک نظر اپنے برابر میں بیٹھی اپنی بیوی پر نہیں ڈالی

“روحان تمہاری بیوی کا ڈنر کرنے کا موڈ نہیں ہورہا تم دیکھ لو بھئی اپنی بیگم کے نخرے میں ذرا آغول کو کچھ کھلا دو معلوم نہیں وہاں جاکر اس سے کوئی کھانے کا پوچھے گا بھی کہ نہیں”

فاطمہ کافی مصروف انداز میں روحان کے پاس آکر بولی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی ان چاروں کپل کا فوٹو شوٹ مکمل ہوا تھا

“مما عینا کا دل نہیں چاہ رہا ہوگا اس لئے وہ نہیں کھا رہی ہوگی اب میں یہاں گیسٹ کو چھوڑ کر تو اس کے منہ میں اپنے ہاتھ سے نوالے نہیں ڈالوں گا نہ، آپ آغول کے پاس جائے”

روحان نے جھنجھنلا کر فاطمہ کو جواب دیا تھوڑی دیر پہلے ہی جنید پھولوں کے بکے کے ساتھ وہاں آیا تھا روحان کو شادی کی مبارکباد دینے، روحان نے اسے جلد از جلد فارغ کیا اور اس بات کا بھی شکر ادا کیا کہ کاشف زیری آج کل ملک سے باہر ہے وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی اور کاشف زیری کی دوستی جہانگیر کی نظر میں آئے آج آغول کی باتوں سے وہ تھوڑا ڈسٹرب بھی ہوگیا تھا اپنی خوشی میں وہ بہن کو اگنور نہیں کرسکتا تھا شاید اسے جہانگیر سے بات کرنی چاہیے تھی یہی سوچ کر وہ اس ٹیبل کی طرف گیا جہاں جہانگیر اپنے دوستوں کے ساتھ چئیر پر برجمان تھا

****

“بولو یہاں کیوں بلایا ہے مجھے”

ہوٹل کے بیک سائیڈ پر جہاں لوگوں کی بھیڑ موجود نہیں تھی جہانگیر روحان کے پیچھے آتا ہوا اسے پوچھنے لگا

“کیا میں پوچھ سکتا ہوں تمہیں رخصتی کی اتنی کیا جلدی تھی میرا مطلب ڈیڈی سے اتنی جلدی رخصتی کا کیوں کہا تم نے”

روحان نے جہانگیر کو دیکھ کر بات کا آغاز کیا

“میں نے تم سے پوچھا تمہیں شادی کی اتنی جلدی کیوں تھی، دو ہفتے کے بعد ہی انکل سے کہہ کر شادی کی ڈیٹ فکس کروادی تم نے”

روحان کی بات سن کر جہانگیر نے الٹا اس سے سوال کیا روحان اس کا سوال سن کر سٹپٹا گیا

“دیکھو جیڈی یہ تم بھی جانتے ہو عینا اور میرا معاملہ دوسرا ہے جبکہ آغول اور تمہارا معاملہ بالکل مختلف ہے آغول کو بچپن سے ہی بہت پیار اور توجہ ملی ہے اس لیے وہ تھوڑی موڈی ہے اور اس کی نیچر میں ضد شامل ہے لیکن ساتھ ہی وہ حد سے زیادہ سینسیٹیو ہے، شادی کے لئے اس کا مائنڈ بالکل ریڈی نہیں تھا اس لیے وہ غصے میں ری ایکٹ کرگئی مہندی والے دن تمہیں ریلائز کرنا چاہیے کہ اس کی عمر 20 سال ہے اسے اپنے اور تمہارے رشتے کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگے گا”

روحان سے جتنا ہوسکا تھا اس نے جہانگیر کو اپنی بات نرمی سے اور مناسب لفظوں میں سمجھائی

“سو واٹ بیس سال کی ہے بچی تو نہیں ہے اور اب میری بیوی ہے تم کیا چاہ رہے ہو اپنی بیوی کو میں کسی چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کرو یہ بھی تم نے خوب کہی کے سینسیٹیو ہے تمہاری بہن، عینا بھی سینسیٹیو ہے ہر لڑکی سنسیٹیو ہوتی ہے مگر جب لڑکی کی شادی ہوجائے تو اس وقت لڑکی کو سمجھایا جاتا ہے کہ اب اسے اپنے شوہر کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے اور تم اپنی بہن کو سمجھانے کی بجائے یہاں آکر مجھے سمجھارہے ہو”

جہانگیر طنزیہ ہنستا ہوا بولا اور روحان نے اپنے لب بھینچ لیے جیڈی سے اچھے کی توقع کرنا ہی بیکار تھی

“میں صرف یہ بولنا چاہ رہا ہوں آغول کو اس رشتے کے لیے تھوڑا سا ٹائم چاہیے ہوگا ایڈجسٹ تو اب اسے کرنا ہی ہے تمہارے ساتھ”

روحان اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا بولا

“تم کون ہوتے ہو یہ مشورہ دینے والے کہ ٹائم دینا چاہیے یا کیا کرنا چاہیے، تمہاری بہن اب میری بیوی ہے یعنی میری ذمہ داری یہ میرا سر درد ہے کہ مجھے اس کے اور اپنے رشتے کو کیسے ہینڈل کرنا ہے تمہیں مجھے گائیڈ کرنے کی بجائے کوشش کرنی چاہیے کہ تم اپنی بیوی کو خوش رکھو اس کا خیال رکھو”

جہانگیر اس کو بولتا ہوا وہاں سے جانے لگا

“عینا خوش بھی رہے گی اور میں اس کا خیال رکھوں گا اصل فکر مجھے اپنی بہن کی لاحق ہے”

روحان جہانگیر کو جتاتا ہوا بولا تو جہانگیر کے قدم رک وہ روحان کے پاس واپس آکر اسے دیکھتا ہوا بولا

“اگر اتنی ہی فکر لاحق ہے تو آج ہی واپس لے جاؤ اپنی بہن کو اور گھر بٹھا کر رکھو اسے”

جہانگیر روحان کو سنجیدگی سے بولا تو روحان کو غصہ آنے لگا

“تم یہ بھول رہے ہو جیڈی تمہاری بہن سے میری شادی ہوئی ہے اگر۔۔۔

روحان کے بولنے سے پہلے جہانگیر انگلی اٹھاکر بولا

“اگر میری بہن کو لےکر تم نے مجھے کوئی بھی دھمکی دی تو یاد رکھنا رونی تم بہت تڑپو گے”

جہانگیر اس کو بولتا ہوا چلا گیا روحان اپنا بگڑا موڈ درست کرنے لگا