Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 2)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

وہ یہاں ریسٹورینٹ میں برہان کے بلانے پر آیا تھا اور پچھلے بیس منٹ سے وہ اسی کا ویٹ کر رہا تھا برہان سے اس کی دوستی کالج کے زمانے سے تھی پریکٹیکل لائف میں آکر اپنی اپنی جابز کے بعد سب ہی اپنی لائف میں بزی ہو گئے تھے اور اپنی اپنی مصروفیت کے سبب ان سب کا ملنا اب بہت کم ہوتا تھا دراصل برہان کو دو دن بعد سڈنی جانا تھا اور کل رات سارے دوست برہان کے گھر پر موجود تھے مگر وہ کل رات برہان سے معذرت کرچکا تھا۔۔۔ کل کی ڈیوٹی اس کی کافی ٹف تھی وہ چاہ کر بھی برہان سے ملنے کے لیے وقت نہیں نکال سکا تھا، اسی لئے آج یہاں پر ریسٹورنٹ میں موجود تھا

کھلکھلا کر ہنسی ہنستے ہوئے سامنے بیٹھی لڑکی پر بے ساختہ اس کی نظر پڑی، لڑکی کے ہنسی کی آواز نے ہی اسے متوجہ کیا تھا مگر اس لڑکی کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر ناگوار شکنوں کا جال ابھرا، اسے کبھی بھی حد سے زیادہ ماڈرن لڑکیاں پسند نہیں تھی اور سامنے ٹیبل پر بیٹھی ہوئی لڑکی جسے وہ دیکھ رہا تھا قدرت نے اسے رنگ و روپ اور حسن کی دولت سے مالا مال کیا تھا مگر وہ اپنے اس حسن کی دولت کو چھپانے سے قاصر تھی جبکہ اس کا ماننا یہی تھا کہ موتی سیپ میں چھپا ہوا ہی منفرد اور خاص لگتا ہے نہ صرف اس لڑکی کی ڈریسنگ دیکھنے لائق تھی بلکہ وہ جس لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی اس کا دل چاہا جاکر اس چغط کے منہ پر دو تین تھپڑ رسید کر دے لڑکی کے ساتھ موجود اس لڑکے کے دیکھنے کے انداز سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا وہ کتنی کمینی فطرت رکھتا ہوگا جس انداز میں وہ لڑکا اپنے قریب بیٹھی ہوئی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا صرف اور صرف اس کی نظروں سے غلاظت ٹپک رہی تھی نہ صرف وہ اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا بلکہ بات کرنے کے بہانے سے اس کا بازو بھی چھو رہا تھا

اس لڑکے سے زیادہ افسوس اسے اس لڑکی پر ہوا آج کے دور کی لڑکیاں اپنے آپ کو بولڈ اور کانفیڈینٹ بنانے کے چکر میں معصومیت کو کہیں پیچھے ہی چھوڑ دیتی ہیں

وہ شکر کرنے لگا اس کی بہن ان خرافات سے کافی دور تھی جو بھی تھا، اسے اپنے سامنے بیٹھی یہ خوبصورت لڑکی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی اتنے میں برہان کی کال اس کے موبائل پر آئی برہان اسے باہر بلا رہا تھا

“سیفی اپنا ہاتھ اب قابو میں رکھنا”

وہ ان لوگوں کی ٹیبل کے پاس سے گزرا تو اسے لڑکی کی آواز سنائی دی یقیناً وہ اپنے پاس بیٹھے لڑکے سے مخاطب تھی وہ سر جھٹک کر وہاں سے چلا گیا

****

“ویلکم ینگ مین کیونکہ اب تم ہمارے خاص بندوں میں شامل ہو اس لئے ہم تمہیں اپنے کام کے ساتھ ساتھ اپنے رازوں میں بھی شریک کرنا چاہتے ہیں یہاں میرے ساتھ آؤ، تمہارے دیکھنے لائق بہت سی چیزیں ہیں”

الکینگ نامور مشہور ہوٹل تھا جہاں وہ اس وقت موجود تھا

یہاں آج وہ بلیک کینگ کے بلاوے پر آیا تھا اسے یہ تو علم ہوچکا تھا کہ بلیک کینگ جہاں اسے لےکر جارہا ہے وہ کوئی عام جگہ نہیں ہے بلکہ وہاں بلیک کینگ کے کالے کارناموں کے راز پوشیدہ ہیں، یہ اسی ہوٹل کے اندر انڈر گراؤنڈ ایک خفیہ جگہ تھی جہاں اس وقت کافی اندھیرا تھا وہ بلیک کینگ کے ساتھ چلتا ہوا ماتھے پر آیا ہوا پسینہ ہاتھ میں موجود رومال سے صاف کرنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا یہ لوگ کوئی معمولی لوگ نہیں ہیں اور ان کے راز جاننے کے بعد، ان سے بغاوت کی صورت میں یا بھاگنے کی صورت میں، انجام صرف اور صرف موت ہوتا ہے مگر وہ مجبور تھا اسے یہ رسک لینا تھا اپنے ضمیر کو مردہ کر کے ان کے ساتھ شامل ہونا تھا ورنہ اس کا سب ختم ہو جاتا کیو کہ سب کچھ تو داؤ پر لگا ہوا تھا

سامنے دیوار پر نصب بٹن پریس کرنے کے بعد ایک دروازہ کھلا وہ بلیک کنگ کو دیکھنے لگا جو اسی کو دیکھتا ہوا اپنے ہاتھ سے اسے آگے چلنے کا اشارہ کرنے لگا وہ اپنی گھبراہٹ چھپائے اپنے فیس کے ایکسپریشن کو کافی حد تک نارمل کر کے آگے قدم بڑھانے لگا اس راہداری پر چلتے ہوئے اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا کیونکہ اس کے دائیں اور بائیں طرف لائن سے جیلیں(سیل) بنی ہوئی تھی جس میں معصوم اور چھوٹے بچے قید تھے یہ بچے سات سے 16 سال تک کی عمر رکھتے تھے ان کے معصوم چہروں پر خوف طاری تھا ان بچوں کو دیکھ کر اس کا دل برا ہونے لگا

بلیک کینگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ زبردستی مسکرا کر اسے دیکھنے لگا اب بلیک کینگ اسے ہاتھ کے اشارے سے دائیں جانب گلی میں جانے کا اشارہ کر رہا تھا وہ خاموشی سے اس کے اشارے پر دائیں جانب مڑا دل ایک بار پھر بے قابو ہوا

“یہ غلط ہے”

کوئی آواز اسے اپنے اندر سے سنائی دی جسے اس وقت نظر انداز کرنا ضروری تھا وہ بائیں جانب جیل میں دیکھنے لگا جہاں 12 سال کی عمر سے لے کر پچیس سال کی عمر تک کی لڑکیاں قید تھی ان لڑکیوں کی آنکھوں میں بھی ان معصوم بچوں کی طرح خوف اور بے بسی نظر آرہی تھی وہاں سے گزر کر اب بلیک کینگ اسے ایک عالیشان کمرے میں لے آیا جہاں اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا وہ خاموشی سے صوفے پر برجمان ہوا

“میرا اصل بزنس تو تم اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے ان بچوں اور لڑکیوں کو ہم دوسرے ملک بھیجتے ہیں جہاں انہیں خاص طور پر ٹرینڈ کیا جاتا ہے، لڑکیوں کو جسم فروشی کے لئے اور ان چھوٹے لڑکوں کو ڈرگس کی سپلائی کے لیے, تمہیں یہ بات بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے اگر تم ہمارے کام میں ساتھ دو گے تو تم راتوں رات اپنا ڈوبا ہوا بزنس بچا سکتے ہو بلکے کروڑوں کا منافع بھی تمہیں حاصل ہوگا جبکہ غداری کے انجام سے تم اچھی طرح واقف ہوں گے”

بلیک کینگ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا اسے سارے حقائق سے آگاہ کر رہا تھا

“آپ مجھ پر مکمل اعتبار کرسکتے ہیں مجھے اپنا رازدار بناکر اور اپنے ساتھ شامل کر کے یقیناً آپ کو بھی فائدہ ہی پہنچے گا”

اس کے بولنے پر بلیک کینگ قہقہہ لگا کر ہنسا

وہ صحیح کہہ رہا تھا بلیک کینگ کو وہ ایک کافی ہوشیار لگا، بلیک کینگ ایسے ہی تو کسی کو اپنے راز میں شامل نہیں کرتا یقیناً وہ اپنے سامنے بیٹھے اس شخص سے بہت فائدہ لینے والا تھا

سامنے بیھٹے شخص کا ایکسپورٹ اور امپورٹ کا بزنس تھا، اپنے ذاتی بحری جہاز تھے ان بحری جہاز کے ذریعے سامان کو یہاں سے وہاں منتقل کیا جاتا تھا پولیس اور نیب سے اچھی علیک سلیک کی وجہ سے شپس کی چیکینگ میں ٹائم ضائع ہوئے بغیر شپس منزلِ مقصود پر روانہ کیے جاتے اور یہی بلیک کینگ کے فائدے کی بات تھی اس کے شپس میں وہ لڑکیوں اور بچوں کی اسمگلنگ باآسانی کرسکتا تھا اور انہیں دوسرے ملک منتقل کرسکتا تھا

“ینگ مین آج سے تم ہمارے لئے ایک خاص فرد کی حیثیت اختیار کر گئے ہو اور تمہیں ہمارے گینگ میں شامل ہونے کے لئے ایک چھوٹے سے امتحان سے گزرنا ہوگا، سمجھو یہ امتحان اس گینگ میں شامل ہونے کا ایک راستہ ہے”

بلیک کینگ کی بات پر وہ کچھ کنفیوز ہو کر بلیک کینگ کو دیکھنے لگا تب بلیک کینگ نے اسے اٹھنے کا اشارہ کیا

اب وہ اسے دوسری جگہ پر لے کے جارہا تھا جہاں سے کسی لڑکی کی دردناک چیخوں کی آوازیں آرہی تھی اس سے پہلے وہ ایک ہال نما کمرے میں بلیک کینگ کے ساتھ داخل ہوتا اسی ہال سے ایک آدمی بارہ سالہ بچے کے وجود کو اٹھائے باہر آرہا تھا۔۔۔ معلوم نہیں وہ بچہ مر گیا تھا یا پھر بے ہوش تھا اس کی آنکھیں بند تھی اور گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی تھی اور اس بچے کی قمیض بھی جسم پر موجود نہیں تھی

ایک بار پھر وہ اپنے ماتھے پر آیا ہوا پسینہ پاکٹ سے رومال نکال کر صاف کرنے لگا ہال نما بڑے سے کمرے میں جہاں لال بتی جل رہی تھی وہاں پر اس قسم کی کرسیاں موجود تھی جہاں انسان کو بٹھا کر کرسیوں میں موجود لاک سے انسان کے ہاتھ پاؤں لاک کیے جاتے ایک طرف بڑی بڑی زنجیریں بھی لٹک رہی تھی۔۔۔۔ سامنے ٹیبل پر بڑے سائز کے ہیمر، چمڑے کے ہنٹرز، ڈرل مشینز اور مختلف قسم کے آلات اور اوزار رکھے ہوئے تھے, یہ کمرہ کسی ٹارچرسیل کا پتہ دے رہا تھا

اسے یہ سب دیکھ کر وحشت ہونے لگی ابھی وہ مزید وحشت زدہ ہوتا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں حیرانگی کا منظر ابھرا اس نے اپنی نظریں جھکالی

سامنے سے دو آدمی ایک لڑکی کو اس کے بازوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے لا رہے تھے جس کی تن پر قمیض کندھوں سے نیچے اتری ہوئی تھی اور وہ تکلیف کی حالت میں بری طرح سسک رہی تھی شاید تھوڑی دیر پہلے اسی کی چیخوں کی آواز آرہی تھی معلوم نہیں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا وہ سوچنے لگا مگر اسے یہ علم نہیں تھا کہ ابھی اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا ہے

اس نے ہمت کرکے دوبارہ نظر اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا اس لڑکی کی پیٹھ بری طرح سرخ ہورہی تھی وہ لڑکی بھی اس بچے کی طرح نیم مردہ حالت میں تھی مگر اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھی اب وہ آدمی اس لڑکی کو ڈھانپتے ہوئے اسے کمرے سے باہر لے کر جارہے تھے

بلیک کنگ نے دو بار تالی بجائی تو وہ چونک کر بلیک کینگ کو دیکھنے لگا اتنے میں بلیک کینگ کے دو آدمی اس کے پاس آئے اور اچانک اس کو پکڑ کر اس کی شرٹ اتارنے لگے

“یہ۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ”

وہ ایکدم آنے والی آفتاد پر گھبرا کر چیختا ہوا بلیک کینگ سے پوچھنے لگا

“ینگ مین میں اپنی بات دوبارہ دہرانے کا عادی نہیں ہوں مگر تمہیں بتا دیتا ہو اس گینگ میں شامل ہونے والے ہر فرد حتاکہ یہاں پر لانے والی لڑکیوں اور بچوں کو بھی کمر پر (k) لفظ کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے ک( k) کا ٹیگ سمجھ لوکہ اس گینگ کی پہچان ہے اور یہ تمہارا امتحان بھی ہے تھوڑا تکلیف دہ ہے مگر اس گینگ کا حصہ بننے کے لیے تمہیں اس مرحلے سے گزرنا پڑے گا”

بلیک کینگ اسے بتا رہا تھا اور اس کے اوسان خطا ہورہے تھے وہ دو آدمی اس کی شرٹ اتارنے کے بعد اس کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اس کی پشت پر باندھ رہے تھے

“سر ایک منٹ میری بات سن لیں پلیز۔۔۔ میری بات سنیں آپ”

لوہے کی گرم سلاخ لے کر جب ایک آدمی اس کے پاس آنے لگا تب وہ زور زور سے چیخ کر بلیک کینگ کو پکارنے لگا مگر بلیک کینگ صوفے پر بیٹھا سیگار پینے میں مصروف تھا اسے گھٹنوں کے بل بیٹھانے کے بعد ایک بڑے سے چٹان نما پتھر پر جھکایا جارہا تھا اب وہ سمجھ گیا کہ یہاں سے بچنے کا یا فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں, گرم لوہے کی سلاخ جب اس کی کمر پر چپکائی گئی تب دل دہلانے والی زوردار چیخ اس کے منہ سے نکلی جس سے کمرے کی درودیوار تک دہل گئی

*****

“جہانگیر۔۔۔ اے جہانگیر اٹھ جا بچے ناشتہ تیار ہے”

دی جان جہانگیر کے کمرے میں آتی ہوئے اسے بولیں جہانگیر نے چہرے سے کمفرٹر ہٹاتے ہوئے نیند سے خمار آلود آنکھوں سے انہیں دیکھا

“کتنی بار میں نے آپ کو منع کیا ہے آپ خود سے کام مت کیا کریں مگر مجال ہے جو آپ میری بات مانیں”

جہانگیر اٹھ کر بیٹھتا ہوا دی جان سے خفا ہونے والے انداز میں بولا

“خود سے کوئی کام نہ کروں تو اپنی ہڈیوں کا خانہ خراب کر لو بیٹھے بیٹھے۔۔۔ ویسے بھی کونسا سارا دن گھر میں کام ہوتا ہے، گھر کے سارے کاموں کے لیے رانی کو رکھا ہوا ہے بس آج وہ کام کرنے نہیں آئی تو سوچا اپنے بچے کے لئے خود ناشتہ بنا لو”

دی جان جہانگیر کے پاس بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی تو جہانگیر نے ان کے دونوں ہاتھ تھامے

“ہڈیوں کا خانہ خراب نہیں کیا آپ نے، ساری عمر میرے اور عینا کے لئے اپنی ہڈیوں کو ہی گھسایا ہے اب آرام کرنے کے دن ہے آپ کے کوئی کام مت کیا کریں مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا”

جہانگیر دی جان کے جھریوں زدہ ہاتھ دیکھتا ہوا بولا

“ایسا کون سے محنت والا کام کرلیا پراٹھا املیٹ بنانے میں کوئی محنت لگتی ہے بھلا تمہیں پسند ہے نا اپنی دی جان کے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ”

دی جان اپنے جوان پوتے کو دیکھتی ہوئی بولیں وہ ہو بہو اپنے باپ کی کاپی تھا ویسے ہی اونچا لمبا قد، مضبوط توانا جسم کا مالک، گندمی رنگت اور اسی طرح دی جان پر پیار لٹانے والا وہ اب تک اس کو اور عینا کو دیکھ کر ہی تو جیتی آئی تھیں، یہی ان کے پاس ان کے بیٹے کی آخری نشانیاں تھی

“دنیا میں اور کوئی ایسا پیدا ہو ہی نہیں سکتا جس کے ہاتھ میں آپ کے جیسا ذائقہ ہو یہی بیٹھیں میں خود لارہا ہوں ناشتہ”

جہانگیر بولتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور کچن میں چلا گیا

“ویسے میں نے دیکھا ہے یہ رانی ہفتے میں ایک یا دو چھٹی ضرور کرتی ہے اسی مہینے اس کا حساب کتاب کریں میں کوئی دوسری ملازمہ ارینج کروں گا”

جہانگیر کچن سے اپنا ناشتہ لاتا ہوا دی جان سے بولا اب اسے پّکا یقین تھا وہ جتنا بھی دی جان کو منع کرے گا وہ اس کے جانے کے بعد گھر کی جھاڑ پوچھ شروع کردیں گیں

“ارے، آدمی بیمار ہے اس بیچاری کا، ایسے ہی نہیں مجبوری میں چھٹی کرتی ہے کوئی دوسری ملازمہ آئے گی وہ بھی ایسے ہی نخرے دکھائے گی بس اب تم میری مانو تو جلدی جلدی سے اس گھر میں اپنی بیگم لے آؤ، گھر کی اصل دیکھ بھال ملازمہ نہیں گھر کی عورت کرتی ہے”

دی جان کے مشورے پر جہانگیر نے نوالہ چباتے ہوئے انہیں گھورا

“بات کہاں سے کہاں لے کر چلی گئیں آپ دی جان، بیگم کوئی دوکان پر ملتی ہے جو کہیں سے بھی اٹھاکر لے آؤ، بس یہ عینا اپنے پیپرز سے فارغ ہو جائے تو دیکھ لے گی وہ گھر کو بھی، پیپرز کے دوران تو وہ سب کام ہی فراموش کردیتی ہے”

جہانگیر چائے کی سپ لیتا ہوا دی جان سے بولا

“وہ کیوں دیکھے گی اس گھر کو، اب اس کی عمر ہوگئی ہے اپنے گھر کو دیکھنے کی، جلدی سے کوئی نیک اور شریف لڑکا اس کے لیے بھی دیکھ لو اب یہ مت بولنا کہ ہمہاری عینا ابھی بچی ہے پورے 22 سال کی ہونے والی ہے اگلے ماہ میری شادی تو سولہ سال کی عمر میں ہوگئی تھی”

اب دی جان کا شادی والا پسندیدہ ٹاپک شروع ہوچکا تھا اور جہانگیر کو اندازہ تھا اگر اس نے اس وقت دی جان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی تو لازمی لیٹ ہوجائے گا