Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 29)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“آغول اٹھو ناشتہ کرلو پھر مجھے نکلنا بھی ہے”

جہانگیر کمرے کے اندر داخل ہوکر ناشتے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا

“مجھے ناشتہ نہیں بنانا”

آغول بیڈ پر لیٹی ہوئی بغیر آنکھیں کھولے جہانگیر سے بولی

“اپنی آنکھیں کھولو اور اٹھ کر بیٹھو ناشتہ میں بناچکا ہوں”

جہانگیر وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکال کر ایک نظر آغول کو دیکھتا ہوا بولا آغول نے آنکھیں کھول کر سائڈ ٹیبل پر ناشتے کی ٹرے دیکھی اور پھر جہانگیر کو دیکھنے لگی

“شکل مت دیکھنے بیٹھ جاؤ جلدی سے برش کرکے آؤ”

جہانگیر اس کی سُست طبعیت پر اسے ٹوکتا ہوا بولا یونیفارم ہینگ کرتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا

“بول تو ایسے رہے ہیں جیسے مری جارہی ہوں میں اس شکل کو دیکھنے کے لئے”

آغول جہانگیر کو دیکھ کر سوچتی ہوئی واشروم چلی گئی واپس آئی تو جہانگیر اس کے انتظار میں بیٹھا تھا اسے اتنی عزت دینے پر آغول کو اس پر حیرت ہونے لگی وہ خاموش کرکے جہانگیر کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی

“روز اتنا اوئیلی ناشتہ نہیں کیا جاتا مجھ سے”

آغول پراٹھا دیکھ کر باقاعدہ منہ بناکر بولی

جہانگیر خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور روم سے باہر نکل گیا آغول ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ کہاں گیا ہے جہانگیر واپس روم میں آیا براؤن بریڈ اس کے ہاتھ میں موجود تھی

“تھوڑی دیر پہلے لےکر آیا تھا تمہارے لئے”

جہانگیر براون بریڈ کا پیکٹ آغول کی طرف بڑھاتا ہوا بولا آغول اس کی کرم نوازی پر باقاعدہ جہانگیر کو سر اٹھا کر دیکھنے لگی پھر اس کے ہاتھ سے بریڈ کا پیکٹ لیا جہانگیر نوٹ کررہا تھا وہ صبح ناشتہ بہت مجبوری میں کرتی ہے شاید اسے ہیوی ناشتہ کرنے کی عادت نہیں تھی اس لیے آج صبح بیدار ہوا تو اس کے لیے بریڈ لے آیا تھا

آغول بریڈ کھا کر چائے کے سپ لیتی ہوئی چور نظروں سے جہانگیر کی پلیٹ کو دیکھنے لگی وہ کتنے مزے سے روز پراٹھے کے ساتھ املیٹ کھاتا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ عام پولیس والوں کی طرح اس کی ٹمی بھی باہر نہیں تھی وہ تو مشکل سے ہی ادھا پراٹھا کھا سکتی تھی

“ویسے تو تمہیں جم جوائن کرنے کی ضرورت نہیں ہے اچھا باڈی شیٹ ہے تمہارا مگر کل تم جم جوائن کرنے کا ذکر کررہی تھی یہاں سے دس منٹ کی واک پر جم موجود ہے، رانی سے گھر کی صفائی کروانے کے بعد چلی جانا”

جہانگیر ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے والٹ سے ہزار ہزار کے چند نوٹ نکال کر آغول کی طرف بڑھاتا ہوا بولا

آغول حیرت سے منہ کھول کر اسے دیکھ رہی تھی وہ کتنا میسنا تھا کس طرح اس کے باڈی شیٹ پر غور و فکر کرتا تھا شاید وہ اسے جم کے لئے ایڈمیشن فیس دے رہا تھا آغول نے اس کے ہاتھ سے پیسے لینے کے بعد اس کا والٹ جو کہ جہانگیر دوبارہ اپنی پاکٹ میں رکھنے والا تھا اس کے ہاتھ سے لیا اور کھول کر چند ہزار کے نوٹ مزید نکالنے لگی

“اتنے میں گزارا کیسے ہوگا میرا اور بھی دوسری ضرورت کی چیزیں ہوتی ہیں”

جہانگیر نے بڑی بڑی آنکھیں نکال کر اسے گھورا تو آغول الٹا اس کو گھورتی ہوئی بولی

“ہلکا ہاتھ رکھ کر خرچ کرنے کی عادت ڈالو اب تمہارے ڈیڈی یا بھائی جتنا پیسے نہیں ہے میرے پاس”

جہانگیر اس کے ہاتھ سے اپنا والٹ لےکر واپس اپنی پاکٹ میں رکھتا ہوا بیڈ سے اٹھا

آغول اس کی پشت کو دیکھ کر اسے منہ چڑانے لگی جہانگیر اس کی حرکت آئینے میں دیکھ چکا تھا آغول نے آئینے میں دیکھا تو اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کی بجائے مسکرا کر اسے دیکھنے لگی

“ویسے اتنے مڈل کلاس بھی نہیں ہے آپ، وارڈروب تو اچھا خاصا ہے آپ کا، موبائل بھی اتنا مہنگا رکھا ہوا ہے بس یہ گاڑی جو آپ نے رکھی ہوئی ہے وہ تھوڑی کھٹارا… میرا مطلب ہے پرانے ماڈل کی ہے اور یہ بیڈ روم کا فرنیچر بہت سمپل ہے چلے ایسا کرتے ہیں پہلے ہم بیڈ روم کا فرنیچر چینج کریں گے اور اس کے ایک دو مہینے بعد نیو کار لےلیں گے”

آغول ہاتھ میں موجود پیسوں کو بیڈ پر رکھتی ہوئی خوشی خوشی اسے آئیڈیا دینے لگی جسے سن کر جہانگیر اس کے پاس آیا

“میں ایک مڈل کلاس آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا خاصہ کے کفایت شعار انسان بھی ہو فرنیچر بیشک سمپل ہے مگر یہ اتنا پرانا نہیں ہے چند ماہ پہلے ہی لیا تھا اور میری گاڑی جو تمہیں کھٹارا لگ رہی ہے اسے میں تین سال تک مزید استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں”

جہانگیر آغول کے پاس آکر اسے بولتا ہوا بیڈ پر رکھے ہوئے پیسے اٹھتا کر دراز کے اندر رکھتا ہوا اس سے مزید بولا

“یہ پیسے میں نے بہت محنت سے کمائے ہیں اس لئے انہیں اور آگے بھی سوچ سمجھ کے خرچ کرنا”

جہانگیر کو اندازہ تھا آغول کو اس کی باتیں پسند نہیں آئی ہوگی یا شاید اسے برا بھی لگا ہو کیونکہ اسے کھلا خرچ کرنے کی عادت ہوگی لیکن اب اسے جہانگیر کے ساتھ زندگی گزارنی تھی تو یہ سب عادتیں بھی اسے ڈالنی ہوگی

دوسری طرف جہانگیر کی باتیں سن کر تو آغول کا دل ہی گھبرانے لگا یہ جو پیسے اس نے جہانگیر سے لئے تھے اسے ان پیسوں کی ضرورت نہیں تھی اس کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم موجود تھی مگر وہ اس کا شوہر تھا تو وہ اس کے پیسوں پر حق رکھتی تھی اس لیے اس نے جہانگیر سے پیسے لے لیے تھے

“ویسے جہانگیر جو عنایات آج صبح آپ نے کی ہیں، وہ کس خوشی میں کی ہے مطلب خود سے ناشتہ بنانا اور پیسے دینا کیا یہ کل رات والے تھپڑ کا مداوا ہے”

جہانگیر چینج کرکے آیا تو آغول اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“صبح جلدی آنکھ کھل گئی تھی اس لیے ناشتہ خود بنالیا اور یہ پیسے تمہاری پاکٹ منی ہیں میں عینا کو بھی دیتا تھا ہاتھ اٹھانے کا مداوا نہیں ہے یہ سب چیزیں, ویسے تو اس کے لیے کل رات تم سے معافی مانگ چکا ہوں لیکن اگر تم اس کا مداوا چاہتی ہو تو وہ آج رات مداوا کردو گا”

جہانگیر گہری نگاہوں سے اس کو دیکھتا ہوا بولا تو آغول اس سے نظریں چرا گئی

“اچھا سنو آج رات کا کھانے بنانے کی ٹرائے کرنا جو بھی آسانی سے بن جائے وہ بنالینا میں سات بجے تک آجاؤں گا”

جہانگیر نے اس کو نظریں چراتے ہوئے دیکھا تو بولا آغول اس کو گھورنے لگی

“آپ کو معلوم ہے نا کھانا بنانا مجھے نہیں آتا آپ پھر وہی باتیں لےکر بیٹھ گئے جہانگیر مجھ سے نہیں بنایا جائے گا کھانا”

آغول اس کو دیکھ کر اب منہ بگاڑ کر بولی

“جیسا بھی بنے گا میں کھالوں گا مگر تم ٹرائے ضرور کرنا اور اب دروازہ بند کرلو میں جارہا ہوں”

جہانگیر اس کو بولتا ہوا پولیس اسٹیشن کیلئے روانہ ہوگیا

****

“روحان کی شرٹ پریس نہیں کی تم نے”

ناشتے کی ٹیبل پر منصور روحان عینا موجود تھے تب فاطمہ روحان کو دوسری شرٹ میں دیکھ کر عینا سے پوچھنے لگی روحان نے چونک کر اپنی ماں کا لب و لہجہ دیکھا

“پریس کررہی تھی مگر غلطی سے وہ جل گئی مجھ سے”

عینا اپنی نظریں جُھکا کر آہستگی سے فاطمہ کو بتانے لگی

“تمہیں کچھ آتا جاتا بھی ہے یا پھر اپنے گھر میں بھی ایسے ہی کام کرتی تھی اور یہ ناشتہ کیوں نہیں بنانے آئی تم”

فاطمہ کرخت لہجے میں عینا کو دیکھتی ہوئی بولی

“یہ بات کس لہجے میں کررہی ہے آپ اِس سے”

روحان حیرت سے فاطمہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جبکہ منصور کو بھی فاطمہ کا یہ انداز پسند نہیں آیا عینا خاموش بیٹھی رہی

“کیا غلط کہہ رہی ہوں میں اپنے گھر میں کام کرسکتی ہے سسرال میں نہیں کرسکتی کل تو اس کا بھائی بڑا لڑکیوں کی تربیت پر باتیں سناکر گیا تھا اپنی بہن کو کچھ نہیں سکھایا اُس نے”

فاطمہ روحان سے بولتی ہوئی عینا کو گھورنے لگی

“مما عینا میری بیوی ہے آپ اسے اس طرح ٹریٹ کریں گی تو مجھے بہت برا لگے گا”

روحان نے فاطمہ کو ناراضگی سے بولتے ہوئے بھی اپنا لہجہ نرم رکھا تھا

“اور یہ تمہاری بیوی اس نے سرعام سب کے سامنے اپنے کمرے کی باتیں کھولی تب برا نہیں لگا تمہیں”

فاطمہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی جس سے عینا کا سر تھوڑا اور زیادہ جُھک گیا

“فاطمہ اب بالکل خاموش ہوجاؤ جو بات گزر چکی ہے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ذرا اپنے رویے پر غور کرو آئندہ نہ میں دیکھو، نہ سنو، کہ تم نے عینا کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے”

منصور جو کہ خاموش بیٹھا ہوا تھا فاطمہ کو ٹوکتا ہوا بولا

“اور آپ کو معلوم ہے اس کے بھائی نے ہماری بیٹی کے ساتھ کیسا رویہ رکھا ہے”

فاطمہ اب شوہر کو دیکھتی ہوئی بولی

“فاطمہ میں تم سے کہہ رہا ہوں خاموش ہوجاؤ تو اس کا مطلب ہے اب تم بالکل خاموش ہوجاؤ, ان دونوں کی جو بھی بات ہے وہ میں جہانگیر آغول سے خود اپنے سامنے بٹھاکر ان سے پوچھ لوں گا اس ٹاپک پر اب کوئی بات نہیں ہونی چاہیے”

منصور سخت لہجے میں بیوی کو بولتا ہوا ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ گیا اور آفس کے لیے نکل گیا تھوڑی دیر بعد روحان بھی ناشتہ کرکے آفس کے لیے نکل گیا جبکہ فاطمہ کھا جانے والی نظروں سے عینا کو گھورتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی

****

“کھانا بنالیا تھا تم نے”

جہانگیر کو گھر آتے آتے اٹھ بج چکے تھے وہ گھر آیا تو آغول کو ایل ای ڈی کے آگے بیٹھا دیکھا آغول نے اس کے آنے کا کوئی رسپونس نہیں دیا تھا اس کی ساری توجہ اسکرین کی طرف تھی جہانگیر خود ہی اس سے پوچھنے لگا

“پزا آرڈر کردیا تھا میں نے کچن میں رکھا ہے جاکر کھالیں”

وہ اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر جہانگیر سے بولی

“میں نے تم سے صبح کہا کہ کھانا تم نے بنانا ہے سمجھ میں نہیں آئی تھی تمہیں میری بات”

اس نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا اسے ویسے ہی بھوک لگ رہی تھی اوپر سے آغول کی بات سن کر جہانگیر کو غصہ آنے لگا

“آپ کو کیوں نہیں آتی میری بات سمجھ میں کتنی بار تو کہا ہے کہ نہیں بنانا آتا مجھے کھانا بس وہی ایک پر ہر وقت جاہلوں کی طرح لڑنا”

اچھی بھلی وہ مووی دیکھ رہی تھی اسے جہانگیر کا بیچ میں مداخلت کرنا بالکل پسند نہیں آیا تبھی آغول چڑتی ہوئی بولی جہانگیر نے آگے بڑھ کر آیل ای ڈی سوئچ آف کیا اور آغول کے سر پر کھڑا ہوگیا

“یہ جاہل کس کو بولا تم نے جن عورتوں کو بات کرنے کی تمیز نہ ہو وہ صرف جوتے کھانے کے لائق ہوتی ہیں آئندہ اگر تم نے آگے سے بکواس کی نا تو پھر میں تمہیں بتاؤ گا کہ جہالت کا مظاہرہ کیا ہوتا ہے فوراً کچن نے جاؤ اور کھانا بناؤ ابھی اور اسی وقت”

جہانگیر اس پر چیختا ہوا اسے بازو سے کھینچ کر اٹھاتا ہوا بولا

“بول تو رہی ہوں کہ پزا آرڈر کردیا ہے پھر کیو بناو کھانا ریموٹ دیں مجھے”

آغول نے جہانگیر کے چیخنے کی پروا کیے بغیر اس سے ریموٹ لینا چاہا جو جہانگیر نے غصہ میں دیوار پر دے مارا

“مجھے پزا نہیں پسند کچن میں جاؤ اور کھانا بناؤ”

جہانگیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا

“اس طرح کھانا بنوائیں گے آپ مجھ سے کھانا تو میں اب بالکل نہیں بناؤ گی بلکہ اپنے آپ کو آگ لگا لوگی تاکہ یہ کھانا بنانے کا چیپٹر ہی کلوز ہوجائے”

اغول خود بھی غصے میں چیختی کی ہوئی کچن کے اندر گئی اور کیبنٹ کھول کر میچ باکس نکالا

جہانگیر اس کے پیچھے تیزی سے کچن میں آیا اور جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے میچ باکس لیا

“چھوڑے مجھے آج میں اپنے آپ کو آگ لگاکر ختم کرلو گی”

آغول چیختی ہوئی جہانگیر سے میچ باکس لینے کے لیے چھپٹی تبھی جہانگیر نے اس کو دھوکہ دیا وہ فرش پر جاگری

“تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں یہاں پر بچانے کے لئے آیا ہوں ایسے نہیں جل کر مرو گی تم”

جہانگیر نے دوبارہ دوسرا کیبنٹ کھولا اور ایک چھوٹے سائز کا گیلن نکالنے لگا

“یہ کیا ہے”

آغول نے گھبراتے ہوئے فرش سے اٹھ کر پوچھا

“مٹی کا تیل، پہلے یہ تم پر چھڑکو گا اور پھر اپنے ہاتھ سے خود تمہیں آگ لگاؤں گا”

جہانگیر نے گیلن کا کیپ ہٹاتے ہوئے مٹی کا تیل اس پر چھڑکنا چاہا آغول تیزی سے کمرے کی طرف بھاگی

“آپ کو قسم ہے اپنی دی جان کی جو آپ میرے پاس آئے تو”

وہ چیختی ہوئی بولی اور اپنے آپ کو واش روم میں بند کرلیا

وہ ڈر گئی تھی اسے لگا جہانگیر سچ میں اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر اسے آگ ہی نہ لگادے غصے میں وہ خود کونسا اپنے آپ کو سچ میں آگ لگانے والی تھی وہ تو صرف جہانگیر کو ڈرا رہی تھی

“یہ مرنے کے ایکٹینگ اپنی فیملی کے سامنے کرو جو تمہارے ڈراموں پر یقین کریں آئندہ میرے سامنے مت کرنا ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمہارا کام تمام کردو گا شرافت سے واش روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلو اور کھانا تیار کرو میرے لیے”

واش روم کے اندر اسے جہانگیر کی آواز سنائی دی تو آغول زور و شور سے روتی ہوئی باہر نکلی

“جب ایک کام مجھے آتا ہی نہیں ہے تو آپ میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں اس طرح زور زبردستی سے آپ مجھ سے کھانا بنوائے گے روز”

باہر نکلتی ہوئی وہ جہانگیر کو دیکھ کر بولی

“تمہارے بارے میں مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ تم ایک ڈھیٹ لڑکی ہو پیار کی زبان تمہیں راس نہیں آتی بھوک اور غصے سے تم میرا پارہ مزید ہائی کررہی ہو آغول، اس سے پہلے میں تم سے بہت برے طریقے سے پیش آؤ شرافت سے کچن میں آجاؤ”

جہانگیر اسے وارننگ دیتا ہوا خود بھی کچن میں آگیا چولہا جلاکر نون اسٹک پین چولہے پر رکھا

“چلو آئل ڈالو اس میں… بس اتنا نہیں،، سوئمنگ کرنی ہے کیا اس میں”

جہانگیر آغول کو روتا ہوا دیکھ کر غصے میں بولا اور پیاز لےکر آیا

“کاٹو اسے۔۔۔ یا میرے مالک، پہلے چھلکا اتارتے ہیں پیاز کا۔۔۔ بےوقوف لڑکی صرف زبان چلانی آتی ہے ہاتھ نہیں چلائے جاتے”

جہانگیر اس کے ہاتھ سے پیاز چھینتا ہوا کاٹنے لگا

“جاؤ فرج سے مٹر نکل کر لاؤ”

اس کے بعد جہانگیر نے پوری ریسیپی بتاتے ہوئے آغول کے رونے کی پروا کیے بغیر اس سے مٹر پلاؤ بنوایا

جسے بنانے کے بعد وہ سیدھی بیڈروم میں چلی گئی کل رات سے لےکر صبح تک جہانگیر کا اپنے ساتھ رویہ دیکھ کر وہ فاطمہ کو مطمئن کرچکی تھی مگر اسے کیا معلوم تھا کہ پولیس اسٹیشن سے آنے کے بعد وہ دوبارہ جلاد بن جائے گا وہ سمجھ رہی تھی جہانگیر اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر اب یونہی اسے پیار سے باتیں کرتا رہے گا

ایک گھنٹے سے وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جہانگیر نے معلوم نہیں کھانا کھا لیا تھا یا نہیں وہ اس کو چھوڑ کر آگئی تھی نہ جانے وہ دوسرے کمرے میں کیا کررہا تھا آغول کو اس کے اوپر شدید غصہ تھا اس نے سوچ لیا تھا اب وہ اس سے بات ہی نہیں کرے گی اور نہ ہی اسے خود سے فری ہونے دے گی یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی

****

تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے دی جان سے بات کی تھی بارہ بجے کے قریب جہانگیر اپنے بیڈ روم میں آیا تو اس نے آغول کو سوتا ہوا دیکھا

جب وہ پولیس اسٹیشن سے واپس گھر آیا تھا تو اس کا موڈ اچھا تھا اسے لگ رہا تھا کہ آغول بھی اس سے خوشگوار موڈ میں ملے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جب وہ واپس آیا آغول نے اس کے آنے کا رسپانس ہی نہیں دیا تو جہانگیر نے اسے خود سے مخاطب کیا

اسے لگا تھا کہ آغول نے رات کا کھانا بنالیا ہوگا اس نے سوچا تھا کہ وہ جیسا بھی کھانا بنائی گی وہ بغیر نقص نکالے کھالے گا تاکہ اگلے دن بھی اسے کھانا بناتے ہوئے برا نہ لگے

مگر جہانگیر کے پوچھنے پر آغول نے بتایا کہ اس نے کھانا نہیں بنایا جس پر جہانگیر کو غصہ آیا وہ اسے کھانا بنانے کے لیے فورس نہیں کرتا اگر آغول آگے سے بدتمیزی سے جواب نہ دیتی اگر وہ اس سے کل رات سے نرمی برت رہا تھا تو آغول پورا پورا اس کی نرمی کا فائدہ اٹھا رہی تھی

جہانگیر کو اس پر مزید غصہ تب آیا جب آغول نے اوور ایکٹینگ شروع کردی شاپنگ مال میں جب آگ لگی تھی وہ ڈیڈ باڈی کو دیکھ کر جس طرح ڈری تھی جہانگیر کو معلوم تھا وہ کبھی خود کو آگ نہیں لگا سکتی وہ صرف اسے دھمکانے کے لیے ایسا کررہی ہے

“ڈرامہ کوئین” جہانگیر سوتی ہوئی آغول کا چہرہ دیکھ کر بڑبڑایا اور اپنے کپڑے لےکر چینج کرنے چلا گیا

واپس آکر بیڈ پر لیٹا تو آغول کی پشت اس کی طرف تھی پیچھے سے بڑے گلے کی وجہ سے اس کی نظر آج پھر آغول کے دائیں کندھے کے تھوڑا نیچے اس کے تِل پر پڑی جو کہ اس کی قمیض سے جھانک رہا تھا جہانگیر اپنی انگلی سے اسکی قمیض کو نیچے کرتا ہوا تِل کو دیکھنے لگا۔۔۔ آج پھر اس تِل کو دیکھنے کے بعد جہانگیر کے دل میں اس تل کو چھونے کی خواہش جاگی مگر اب کی بار وہ یہ تِل ہاتھ سے نہیں بلکہ ہونٹوں سے چھونا چاہتا تھا

خواہش کے جاگنے سے اسے اپنی سوتی ہوئی بیوی کا خیال آیا مگر آغول کو سوتا ہوا دیکھ کر بھی وہ اپنی اس خواہش کو سلا نہیں پایا تھوڑا نزدیک آکر جہانگیر اپنے ہونٹوں سے اس تِل کو چھونے کی جسارت کرنے لگا

تِل پر اپنے ہونٹ رکھتے ہی جذبات کا طوفان اسکے اندر امڈ آیا ہر چیز سے بےنیاز وہ مدہوشی کے عالم میں آغول کی قمیض کی زپ کھولنے لگا

آغول کی کمر کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہوا وہ اپنی انگلیاں نرمی سے اس کی کمر پر پھیرنے لگا اب وہ اپنا ہاتھ آغول کے گرد لپیٹتا ہوا اس کے پیٹ کو نرمی سے چھو رہا تھا جہانگیر آغول کا کندھا پکڑتے ہوئے اسی سیدھا کرنے لگا وہ ابھی بھی آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی

کیا وہ اتنی بےخبر سو رہی تھی یا پھر اس وقت جان بوجھ کر بےخبر بن رہی تھی جہانگیر اس کے اور بھی نزدیک آکر اس کے چہرے کی ایک ایک نقش کو اپنی انگلیوں سے چھو کر دیکھنے لگا بےشک وہ ضدی، بددماغ، مغرور، بدتمیز تھی مگر اس کی بیوی تھی اس کی محرم جہانگیر آغول کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوئے

اس کی گردن پر جُھکا وہ دیوانہ وار اس کی گردن کو چومتا ہوا اپنے آپ کو سیراب کرنے لگا

وہ جو گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی اسے اپنے کندھے سے تھوڑا نیچے ایک اجنبی سے لمس محسوس ہوا کچھ عجیب سا جسے وہ نیند میں سمجھ نہیں پائی جب نیند میں اسے اپنی قمیض کی زپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو آغول کا نیند کا غلبہ جاتا رہا اس کا دماغ بیدار ہونا شروع ہوا یہ ہونٹوں کا لمس تھا جہانگیر کے ہونٹوں کا لمس۔۔۔ وہ اس کی کمر کو چھو رہا تھا آغول کا دل خوف سے بری طرح ڈھڑکا

تھوڑی دیر پہلے تو وہ اسے آگ لگانے کے لیے تیار تھا پھر یہ اچانک کیا ہوا اس نے تو جہانگیر کے کھانے میں کوئی نشہ آور چیز بھی شامل نہیں کی تھی پھر وہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کررہا تھا

وہ باقاعدہ اس کی کمر پر اپنے ہونٹوں سے مہر لگانے کے ساتھ ساتھ اپنی انگلیوں سے نرمی سے اس کی کمر کو چھو رہا تھا پھر اس نے جہانگیر کا ہاتھ اپنے گرد محسوس کیا وہ اسے اپنے حصار میں لےچکا اب وہ اس کی انگلیوں کی نرماہٹ اپنے پیٹ پر محسوس کررہی تھی آغول کی ہتھیلیاں بھیگنے لگی مزید ڈر اسے تب لگا جب جہانگیر نے اس کا کندھا پکڑا

اب وہ اسے سیدھا کرکے لٹا رہا تھا آغول نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کرلی جہانگیر مزید اس کی نزیک آکر جھکا آنکھیں بند ہونے کے باوجود وہ جہانگیر کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرسکتی تھی

ایک بار پھر وہ اپنی انگلیوں سے اس کے چہرے کے نقوش چھونے لگا جب وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا پھیر رہا تھا تب آغول کا دل چاہا وہ اپنی آنکھیں کھول لے مگر اب وہ اس کی گردن پر جھک چکا تھا وہ اس کی گردن پر اپنے ہونٹوں سے جگہ جگہ مہر ثبت کرنے لگا

آغول کو اس کا اپنے ساتھ رویہ یاد آنے لگا شادی کی رات وہ اسے اس کے عشق کے طعنے دے رہا تھا اس کی اوقات بتاتے ہوئے کس طرح اس نے زبردستی اس کے ساتھ بےشک وہ اس سب کے لیے معافی مانگ چکا تھا مگر وہ اسے معاف کرنے والی ہرگز نہیں تھی آغول نے جہانگیر کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے پوری طاقت سے اسے پیچھے دھکیلا وہ جیسے مدہوشی سے ایک دم ہوش میں آیا اور اٹھ کر بیٹھا

“کیا کررہے تھے آپ میرے ساتھ”

آغول خود بھی اٹھ کر بیٹھی اور شدید غصے میں جہانگیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“اس فضول سوال کا مطلب کیا غلط کررہا تھا… تم سے جائز رشتہ جوڑا ہے بیوی ہو تم میری”

جہانگیر اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر خود بھی سنجیدگی سے بولا

“اچھا تو آپ کی بیوی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کا دل چاہا آپ مجھ پر اپنا حکم چلائیں گے مجھ سے اپنی مرضی کے کام کروائیں گے مجھے اپنی مرضی کا پہنائے گے اور جب آپ کا دل چاہے گا تو آپ میرے ساتھ کھیلیں گے کوئی حیثیت ہے آپ کی نظر میں میری یا نہیں”

آغول اسے دیکھ کر غصے میں چیخی

“اپنی بکواس بند کرو آغول اور اب کوئی غلط بات مت کرنا مجھ سے”

جہانگیر غصہ میں انگلی اٹھاتا ہوا اسے وارن کرنے لگا

“کیوں کیا غلط کہا ہے میں نے شادی والی رات آپ مجھے میری اوقات یاد دلاچکے ہیں نا تو پھر آج دوبارہ کیوں مجھے میری اوقات یاد دلارہے ہیں اس لئے کہ میں نے آج کھانا نہیں بنایا آپ کے لیے یا پھر یہ کہ اوقات یاد دلانے کی آڑھ میں آپ اپنے نفس کی تسکین چاہ رہے ہیں”

آغول کا جملہ مکمل ہوا تو جہانگیر کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا مگر ہاتھ کی مٹھی بند کرکے وہ اپنا غصہ ضبط کرتا قہر آلود نظروں سے آغول کو دیکھنے لگا جہانگیر کا ہاتھ فضا میں بلند دیکھ کر آغول بھی اب خاموش ہوچکی تھی

“کل رات جو میں نے تمہارے گال پر تھپڑ مارا تھا اس کا مجھے بعد میں افسوس ہوا تھا اور یہ تھپڑ جو آج میں تمہیں مارتے مارتے رہ گیا مجھے اس تھپڑ کے نہ مارنے کا بھی افسوس زندگی بھر رہے گا”

وہ آغول کو دیکھ کر غصے میں بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا