Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 24)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
بھرپور نیند کے بعد اس کی آنکھ کھلی تو ایک حسین صبح اس کی منتظر تھی عینا نائٹی میں مبلوس روحان کے سینے سے سر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی روحان ابھی تک سویا ہوا تھا عینا کے سر اٹھاتے ہی اس نے نیند میں دوسری طرف کروٹ لی شاید وہ کافی دیر سے سیدھا لیٹے لیٹے تھک گیا تھا روحان کے کروٹ لینے پر عینا کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا مگر کروٹ لیتے ہی اس کی پیٹھ پر عینا کو وہی ٹیٹو نظر آیا جس سے عینا کے لب سکھڑے لیکن اب وہ کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے روحان پر اچھی طرح کمفرٹر ڈال کر اس نے اپنا گاؤن پہننے کیلئے اٹھایا گاؤن کی ڈوریوں کو اپنی کمر پر اچھی طرح کستے ہوئے اس نے اپنے آپ کو کور کیا اور روم سے باہر نکل گئی
صبح کا حسین منظر اس کا منتظر تھا تھا ملگجا سا اندھیرا رخصت ہورہا تھا بادلوں میں چھپا ہوا سورج منتظر تھا کہ وہ چاروں سو اپنی روشنی پھیلائے آسمانوں پر غول کی صورت پرندے اڑ رہے تھے جبکہ ہلکے نیلے پانی میں ان کا شپ مدھم رفتار سے چل رہا تھا عینا لوہے کے پائپ کو تھامے نیچے جُھک کر پانی کی گہرائی کا جائزہ لے رہی تھی تب اسے اپنی پشت پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس سے پہلے عینا مڑ کر دیکھتی روحان اس کے گرد اپنے بازو حائل کر کے عینا کو اپنے حصار میں قید کرچکا تھا
“اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی”
وہ جھک کر عینا کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا پوچھنے لگا آواز میں ابھی بھی ہلکی ہلکی نیند کی خماری موجود تھی شاید وہ کمرے میں عینا کی غیر موجودگی محسوس کرکے یہاں آیا تھا
“اتنی جلدی نہیں اٹھتی تو کتنا حسین منظر مس کر دیتی دیکھیے روحان کتنا حسین لگ رہا ہے نہ صبح کا یہ منظر”
عینا کے انداز میں بچوں جیسی خوشی تھی وہ روحان کی طرف چہرہ کرتی ہوئی پوچھنے لگی تو روحان نے اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے
“یہ منظر بھی اچھا ہے مگر مجھے صبح کا وہ منظر زیادہ حسین لگتا جب میری آنکھ کھلتی اور میں تمہیں اپنی باہوں میں موجود پاتا”
روحان مدہوش لہجے میں بولا وہ شاید رات والی مدہوشی کے حصار میں اس وقت بھی تھا روحان کی بات سن کر عینا اس کی طرف مڑی اور مسکرا کر روحان کو دیکھنے لگی
“پھر تو میں زیادہ لکی ہوں وہ منظر تھوڑی دیر پہلے میری نگاہیں دیکھ چکی ہیں”
عینا نے بولتے ہوئے شرم سے اپنا سر روحان کے سینے پر رکھا روحان نے دوبارہ اس کے گرد اپنے بازو حائل کئے
“اب میں بھی لکی بننا چاہتا ہوں کل رات والے ہمارے کپل ڈانس کے بعد والے سین کو دوبارہ دہرا کے”
وہ عینا کا چہرہ تھامتا ہوا بولا اور روحان کی فرمائش پر عینا کی نظریں جُھک گئی وہ عینا کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اسے اٹھا کر واپس روم میں لے جانے لگا
****
جہانگیر نے کروٹ لی تو بیڈ پر کسی کی موجودگی کے احساس سے اس کی آنکھ کھلی اپنے برابر میں سوئی ہوئی آغول کو دیکھ کر اس کا ذہن بیدار ہوا وہ کل رات والے برائیڈل ڈریس میں موجود تھی سوتے وقت اس نے اپنی جیولری بھی اتارنے کی زحمت نہیں کی تھی جب وہ کروٹ لے کے دوسری سائیڈ پر لیٹا تھا کافی دیر تک وہ اس کی سسکیاں سنتا رہا تھا جس طرح وہ مجرموں کو سزا دیتا تھا اسی طرح کل رات اس نے آغول کو بھی ٹریٹ کیا تھا
جہانگیر نے آغول کا چہرا دیکھا اس وقت اس کا سارا میک اپ سونے اور رونے کی وجہ سے اچھا خاصا خراب ہوچکا تھا آگے ہاتھ بڑھا کر اس نے آغول کے بالوں میں اٹکا ہوا جُھومر نکالا جوکہ کبھی بھی گرسکتا تھا
جس دن اسے معلوم ہوا تھا آغول رونی کی بہن ہے جس سے اس کی شادی ہونے والی ہے اس دن اسے بھی حیرت ہوئی تھی یہ مغرور نک چڑی سی لڑکی اسے اپنی نیچر کی وجہ سے پسند نہ تھی مگر اس نے اس بات کو زیادہ نہیں سوچا تھا ویلولا تو وہ مچا ہی نہیں سکتا تھا یہ اسکی اپنی رکھی گئی شرط تھی شرط نہ بھی ہوتی تو اسے آغول کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہی تھا، اسے معلوم تھا آغول خود بھی اسکو ناپسند کرتی ہے اسے بھی جب معلوم ہوگا اس کی شادی کس سے ہورہی ہے تو وہ بھی بہت شوگڈ ہوگی مگر اپنے لئے اتنے حقارت زدہ لفظ سن کر الٹا جہانگیر ہی شاکڈ ہوگیا تھا
کل رات اس نے کمرے میں آتے ہی سب سے پہلے آغول کو سیفی کا طعنہ دیا وہ اس کی بیوی تھی،، اب ساری زندگی اسے جہانگیر کے ساتھ ہی گزارنا تھی وہ چاہتی تو سیفی اور اپنے رشتے کو کل رات ہی اسکے سامنے کلیئر کرسکتی تھی یا جو کچھ اس نے مہندی والی رات کہا تھا وہ اپنی ان باتوں کی معافی بھی مانگ سکتی تھی مگر اس نے ہمیشہ کی طرح بدتمیزی کرنا اور زبان چلانا شروع کردیا
کل رات والا مناظر یاد کرتے ہوئے جہانگیر کی نظر اس کے چوڑیوں سے بھرے حنائی ہاتھ پر پڑی جسے آئستہ سے تھام کر وہ اس کی سفید چمکتی ہوئی کلائی دیکھنے لگا جس پر ہلکی سی سُرخ لکیر ابھری ہوئی تھی یہ چوڑیاں ٹوٹنے کے سبب ہوا تھا جہانگیر اس لکیر پر نرمی سے اپنا انگوٹھا پھیرنے لگا آغول اسکا ہاتھ جھٹک کر کروٹ لےکر لیٹی شاید اسے نیند میں بھی اسے جہانگیر کی قربت گوارا نہ تھی وہ سفید رنگ کی حامل خوبصورت نقوش رکھنے والی لڑکی تھی اسے یہ شکل اللہ نے عطا کی تھی اس میں اس کا کوئی کمال نہیں تھا کہ وہ دوسرے کو کم تر جانے یا اس کی تذلیل کرے
آغول کے کروٹ لیتے ہی جہانگیر نے اس کی پُشت کو دیکھا بےساختہ اس کی نظر کندھے سے تھوڑے نیچے اس تل پر پڑی جو شرٹ میں سے ہلکا سا جھانکتا ہوا مسکرا رہا تھا نہ جانے کیو جہانگیر کے دل میں یہ خواہش جاگی کے وہ اس تِل کا دیدار کرے جہانگیر نے آئستہ سے اس نے شرٹ کی ڈوری کھولی اب اسے وہ تِل واضح نظر آرہا تھا اس تِل کو دیکھنے کے بعد جہانگیر کا دل چاہا کہ وہ اسے چھو کر بھی دیکھے, ہاتھ بڑھاتا ہوا بےحد آئستگی سے وہ اس تِل کو چھونے کی کوشش کرنے ہی لگا تھا کہ آغول نے دوبارہ کروٹ لی اور وہ سیدھی ہوکر لیٹ گئی جہانگیر نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور ماتھے پر شکن لائے وہ سوتی ہوئی آغول کو گھورنے لگا
“سوتے ہی رہنا ہے یا جاگنا بھی ہے اٹھو فوراً”
جہانگیر آغول کا کندھا ہلاتا ہوا بولا آغول نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی اپنے برابر میں لیٹے ہوئے جہانگیر کو دیکھا اس کا ہاتھ اپنے کندھے پر دیکھ کر ناگواری کی لہر اس کے چہرے پر ابھری
“کون مر گیا ہے اتنی صبح جو مجھے اٹھا دیا”
وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی اور سامنے ٹنگی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھا صبح کے آٹھ بج رہے تھے اس کا موڈ کافی بگڑا
“مجھے لگا شاید تم فوت ہوگئی ہو کل رات والی واردات کا صدمہ لےکر مگر میں بھول گیا تھا تم کافی ڈھیٹ شے ہو, جاؤ جاکے شاور لو اور چینج کرو دی جان جاگ گئی ہوگیں”
جہانگیر اس کے بگڑے نقوش دیکھتا ہوا بولا
“میں کیا کرو اگر دی جان جاگ گئیں ہیں تو, انہیں کیا رات والا آپکا کار نامہ سناؤ جاکر معلوم ہوگیا نہ آپکو کہ میں کافی ڈھیٹ شے ہو تو اب آئندہ یاد رکھیے گا جب میری نیند پوری ہوگئی تو میں خود اُٹھ کر شاور لےلوں گی فلحال مجھے ریسٹ کرنے دیجئے”
آغول اس کو گھورتی ہوئی ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔۔۔ بدتمیزی اور زبان چلانے والی عادت اس کی وہی کی وہی تھی فرق صرف اتنا پڑا تھا کہ وہ کل رات والی دھمکی یاد رکھتے ہوئے “تم” سے “آپ” پر آگئی تھی اس کی بات سن کر جہانگیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ کروٹ لےکر لیٹے لگی تھی تب جہانگیر نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ اس حملے کے لیے تیار نہ تھی جبھی جہانگیر کے سینے سے آسکا سر ٹکرایا جہانگیر ایک بار پھر اسے اپنی گرافت میں لے چکا تھا
“چھوڑیے مجھے کیا چاہ رہے ہیں اب، کل رات آپ اپنی من مانی کرچکے ہیں”
آغول اپنی کمر سے جہانگیر کے بازو ہٹانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی جہانگیر نے اسکی کمر سے بازو ہٹانے سے پہلے اس کا رخ بیڈ کی دوسری سائیڈ کیا اور آغول کو اپنی گرفت سے آزاد کیا آغول فوراً پیچھے ہوئی اور بیڈ سے نیچے جاگری
“تمہاری نجات اور بخشش اسی میں ہے کہ جو کام بولا جائے اسے بغیر بحث کے سعادتمندی سے اسے انجام دو, کل رات میں پھر بھی ریاعت کر گیا تمہارے ساتھ لیکن اگلی بار نافرمانی کی صورت مجھ سے کسی نرمی کی توقع نہیں رکھنا تم”
جہانگیر بیڈ پر بیٹھ کر اسے دیکھتا ہوا وارننگ دینے لگا آغول خاموشی سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آئی آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر حیران رہ گئی وہ اتنی دیر سے ایسی شکل لیے جہانگیر سے باتیں کررہی تھی کلینزنگ ملک کی بوتل اٹھاکر ٹشو کی مدد سے اپنے گال پر پھیلا ہوا مسکارہ صاف کرنے لگی
“نرمی کی توقع نہیں رکھنا کل رات کونسی نرمی دکھائی تھی وحشی جنگلی انسان نے، معلوم نہیں کونسے اُلو کے پٹھے مرد ہوتے ہیں جو حسین بیوی کو دیکھ کر ان کی تعریفوں میں زمین اور آسمان ایک کر دیتے ہیں شوخ سے فقرے، نرم لہجے، محبت بھرے لمس سے روشناس کرواتے ہیں اپنی بیوی کے حُسن کو محبت کا خیراج سے نوازتے ہیں, اس انسان کو تو جیسے ان سب چیزوں سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا”
آغول دل ہی دل میں اپنے آپ کو مخاطب کرتی ہوئی بولی کل اس نے سب سے اپنے حسن کی تعریف سنی تھی آغول کو لگا تھا کہ جہانگیر سب کچھ بُھول بھال کر اس کے حُسن کے آگے اپنے گھٹنے ٹیک دے گا، وہ اس سے اپنی تعریف وصولے گی مگر اسے کچھ وصولنے نہیں دے گی مگر اس بےحس اور بدتمیز انسان نے تو حد ہی کردی
آغول ساری باتیں سوچتے ہوئے اپنا زیور اتارنے کی بجائے نوچ نوچ کر پھینکنے لگی اسے یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ بیڈ پر لیٹا ہوا اسکا شوہر باقاعدہ اس کی ایک ایک حرکت کے ساتھ اس کے چہرے کے تاثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے
آغول کی نظر آئینے میں سے جہانگیر پر پڑی جو اسی کو دیکھتے ہوئے نہ جانے کیا سوچ رہا تھا آغول اپنے کالے نصیب پر لعنت بھیجتی ہوئی واش روم جانے لگی
“رکو پہلے اس بیڈشیٹ کو چینج کرو”
جہانگیر کی آواز پر اس کے قدم تھمے اس کی نظر بیڈ شیٹ پر گئی دوسری نظر جہانگیر پر ڈالتے ہوئے اس نے نظر چرائی
“میں نے پہلے کبھی یہ کام نہیں کئے اور نہ ہی یہ کام مجھے کرنے آتے ہیں”
وہ نظریں ملائے بغیر جہانگیر سے بولی جہانگیر بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اس کا چہرہ پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا
“پہلے تو اسطرح کا خون خرابا بھی نہیں ہوا ہوگا، آج کے بعد اب جو بھی ہوگا وہ پہلی بار ہی ہوگا بیڈ کور چینج کرو، پھر شاور لینے جانا”
جہانگیر اسے دیکھتا ہوا بولا اس کا انداز حکم دینے والا تھا جوکہ آغول کو سخت زہر لگا
“آپ نے یہ کام کروانے کے لیے مجھے اپنی بیوی بنایا ہے”
آغول جہانگیر کو غصے میں دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“یہ کام تم نہیں کروگی تو اور کون کرے گا تمہارے گھر والے یا پھر سب کو دکھانے کے لئے گلدستہ سجاکر رکھنا ہے”
آگے سے آغول کے جواب دینے پر جہانگیر سختی سے بولا
“میرے گھر والے کیوں کریں گے، یہ کام وہی کرے گا جس نے کل رات اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہو یہ سب کیا”
آغول کے بولنے کی دیر تھی جہانگیر نے مٹھی میں اس کے بالوں کو جکڑ اس کے نازک ہونٹوں کو بےدردی سے نشانہ بنایا وہ مزاحمت کرتی ہوئی اپنا آپ چھڑا کر پیچھے ہٹی جہانگیر نے تب تک اسے آزادی نہیں بخشی جب تک خون کا ذائقہ اپنی زبان پر گھولتا ہوا محسوس نہ ہوا, جھٹکے سے چھوڑا تو وہ پیچھے صوفے پر جاگری
“اب دکھاتا ہو تمہیں اصل مردانگی کی بھرپور جھلک”
جہانگیر اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹ کا نکلا خون صاف کر کے آغول کے پاس آکر اسے بازو سے اٹھاتا ہوا بولا
“پلیز آپ مجھے کل بہت زیادہ ہرٹ کرچکے ہیں”
آغول اس کی دھمکی سے ڈر گئی تھی اس لئے بولتے ہوئے اس کے چہرے پر خوف چھلکنے لگا
“اپنی اس فر فر چلتی ہوئی زبان کو اب قابو میں رکھنا سیکھو، اپنا دماغ، لہجہ اور انداز سب درست کرلو ورنہ تمہیں دن رات ہرٹ ہونا پڑے گا بیڈ شیٹ چینج کرو اور دس منٹ کے اندر شاور لےکر باہر آؤ”
جہانگیر سے وارن کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
آغول نے دانت پیس کر بند دروازے کو دیکھا اور کھینچ کر بیڈ شیٹ کو اتار کر فرش پر پھینکا ڈھانڈ ڈھانڈ کر دوسری بیڈ شیٹ نکالتی ہوئی اسے الٹی سیدھی بچھا کر اور اپنا ڈریس لےکر واشرم چلی گئی
****
سب کے ساتھ جہانگیر سیٹنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا تب اسے آغول لاونج سے آتی ہوئی دکھائی دی اف وائٹ کلر کے کیپری پر لائٹ یلو کالر کا شارٹ کُرتے میں مبلوس، اس سے پہلے وہ کمرے کے اندر داخل ہوتی جہانگیر صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور آغول کا بازو پکڑ کر اسے واپس بیڈروم میں لایا کمرے میں آنے کے بعد جھٹک کر آغول نے جہانگیر سے اپنا بازو چھڑایا اب وہ انتظار میں کھڑی تھی کہ اسے معلوم ہو اس کے شوہر کو آخر کیا تکلیف ہوئی ہے
“جو تم شادی سے پہلے کرتی آئی ہوں تب بات الگ تھی ایسے کپڑے یہاں پہننے کی ضرورت نہیں ہے فوراً اپنا ڈریس چینج کرو”
جہانگیر نے کوشش کی تھی کہ وہ اپنا لہجہ نارمل رکھے مگر جہانگیر کی بات سن کر آغول کو آگ لگ گئی
“کیا چاہ رہے ہیں آپ گھونگھٹ نکال کر آپ کے گھر والوں کے سامنے آؤ کم ازکم میری ڈریسنگ کو لےکر آپ کو ابجیکشن نہیں کرنا چاہیے”
آغول جھنجھلا کر بولی یہ شخص تو شوہر بن کر اسے اریٹیٹ کرنے پر تُل گیا تھا
“میں ہر اس چیز پر آبجیکشن کرو گا جو میری نظر میں غلط ہوگی جو ڈریس میں لےکر آیا ہوں ان میں سے ایک پہنو”
جہانگیر اب بھی اسے آرام سے بولا تھا ساتھ ہی وارڈروب میں سے ایک ڈریس نکال کر بیڈ پر رکھا
“یہ کپڑے تو میرے معیار کے مطابق نہیں ہیں جو آپ لےکر آئے ہیں شاید زاہدہ بھی پسند نہ کرے ان کپڑوں کو تو”
جہانگیر کو نرم پڑتا دیکھ کر اس کی نرمی کا فائدہ اٹھاتی ہوئی وہ طنزیہ بولی
“تمہارا معیار تم سے بہتر تمہارے ڈیڈی جانتے ہیں جنہوں نے تمہارے لئے ایک مڈل کلاس، کالے، بدصورت انسان کا انتخاب کیا۔۔۔ اور میری نظر میں جو تمہارا معیار ہے وہ تم کل رات ہی دیکھ چکی ہو اس لیے اب دوبارہ میرے سامنے معیار کی بات کبھی بھی مت کرنا ورنہ بہت تکلیف پہنچے گی تمہیں”
جہانگیر کی بات سن کر آغول کا چہرہ خجالت سے سرخ ہوا اب اسے منصور پر بھی غصہ آنے لگا جس نے ایک بار بھی اس کی شادی کرتے وقت ذرا اس کا خیال نہیں کیا
“میں یہ ڈریس نہیں پہنوں گی جہانگیر بےشک میں سارا دن اسی کمرے میں بیٹھی رہوں”
وہ کہاں کسی کی مانتی تھی اسی تو صرف اپنی منوانے کی عادت تھی
“تم ڈریس بھی چینج کرو گی اور کمرے سے باہر بھی نکلو گی”
جہانگیر آغول کو بولتا ہوا اس کے قریب آکر کھڑا ہوا
“چینج کرو”
وہ بیڈ پر رکھے ہوئے ڈریس کی طرف اشارہ کرکے بولا
آغول خاموشی سے کھڑی جہانگیر کو دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں واضع انکار تھا ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا تھا جہانگیر کو اس کا گریبان سے کُرتا پکڑ کر چاک کرنے میں
“پانچ منٹ کے اندر چینج کرکے باہر آؤ”
جہانگیر اسے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا آغول بےیقینی سے اپنے اتنے مہنگے کُرتے کو دیکھ رہی تھی جو اس کا شوہر بےدردی سے پھاڑ چکا تھا
