Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 19)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“کیا خبر ہے جنید” روحان کو دو منٹ ہوئے تھے کاشف زیری کے پاس آ کر بیٹھے ہوئے تب جنید بھی کمرے میں آیا کاشف زیری جنید کو مخاطب کرتا ہوا بولا

“سر معلوم کروا لیا ہے ایس۔پی کی بہن اس وقت اسی کے گھر پر موجود ہے اور ان دونوں گدھوں کی لاشیں ایک گیراج میں پائی گئی ہیں دونوں کی جان ماتھے پر گولی مار کر لی گئی ہے لاشیں اس وقت پولیس کی تحویل میں موجود ہیں”

کل انہوں نے ایس۔پی کی بہن کو اٹھوانے کے لیے جن دو آدمیوں کو بھیجا تھا وہ دونوں ہی لاپتہ تھے آج صبح ہی گیراج کے اندر سے ان دونوں کی لاشیں ملی تو گیراج کے مالک نے پولیس کو انفارم کردیا

“ہمم تو ان دونوں کو ایس۔پی نے مار کر اپنی بہن کو بلیک کینگ کے چنگل سے بچالیا یا پھر وہ دونوں نامراد ایس۔پی کے گھر تک پہنچ ہی نہیں پائے۔۔۔ جنید آپ کی بار کسی کام کے بندے کو بھیجو اور معلوم کرو ان دونوں کی جان واقعی ایس۔پی نے لی ہے یا پھر کسی اور نے”

کاشف زیری جنید سے بولا

“میں نے لی ہے ان دونوں کی جان اس پسٹل سے”

روحان جو کہ خاموشی سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا بات مکمل ہونے پر کاشف زیری سے بولا ساتھ ہی اس نے اپنا پسٹل نکال کر ٹیبل پر رکھا کاشف زیری نے روحان کو حیرت سے دیکھا اور جنید نے اپنے پاس موجود پسٹل نکال کر روحان کی طرف اس کا رخ کیا

“جنید کیا پاگل ہوگئے ہو اندر رکھو اسے”

روحان بغیر ڈرے جنید کو دیکھ رہا تھا کاشف زیری جنید کو دیکھتا ہوا بولا پھر روحان کو دیکھنے لگا

“کیوں جان لے لی تم نے ینگ مین بلیک کینگ کے آدمیوں کی”

کاشف زیری روحان کو دیکھتا ہوا آرام سے پوچھنے لگا

“ان دونوں نے جس لڑکی کو اٹھایا تھا وہ میری پسند ہے۔۔۔ مطلب ایس۔پی جہانگیر کی بہن سے میں شادی کرنے والا ہوں اور اگر کسی نے دوبارہ اس کی طرف میلی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی تو میں اس کا بھی یہی حشر کرو گا”

روحان کے ماتھے پر نہ تو آج پسینہ آیا تھا اور نہ ہی وہ ڈرا تھا کاشف زیری ایک پل کے لئے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر زور زور سے ہنس کر تالیاں بجانے لگا

“مان گئے بھئی عاشق تو ایسا ہونا چاہئے دیکھا تم نے جنید۔۔۔ ایم امپریسٹ میں تمہارے اس انداز سے بہت متاثر ہوا ہوں ینگ مین جس طرح بلیک کینگ کے سامنے اس کے دو آدمیوں کو اڑانے کے بعد جس دیدہ دلیری سے تم نے اعتراف کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے کیونکہ آج تک بلیک کینگ کے سامنے کسی نے ایسی جرات نہیں کی لیکن ایک ایماندار ایس۔ پی سے تمہاری رشتے داری ہمارے لیے خطرہ ہوسکتی ہے کیا تمہیں اس بات کا اندازہ نہیں”

کاشف زیری روحان کو دیکھ کر آخری بات بےحد سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“سر ایسا کچھ نہیں ہوگا میں اپنے بزنس اور رشتوں کو الگ الگ رکھ کے چلنے والا انسان ہوں مجھے یا پھر آپ کو جیڈی سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا بیشک وہ ہوشیار ہے اس نے میری بہن سے شادی کرنے کی شرط رکھی ہے اسی کے بدلے میں وہ اپنی بہن کی شادی مجھ سے کروا رہا ہے مگر اس کی بہن اس کی کمزوری ہے جو کہ مکمل طور پر اب میرے قبضے میں ہوگی اس لیے آپ اطمینان رکھیے”

کاشف زیری کے سارے خدشات دور کرنے کے ساتھ ساتھ روحان کو لگا کہ اسے آغول سے جہانگیر کی شادی کے بارے میں بھی کاشف کو علم میں لانا چاہیے تاکہ وہ کبھی آغول کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے

“مطلب ادلا بدلے کی شادی، ینگ مین کہیں تم پولیس والے سے رشتے داری مضبوط کرکے ہم سے اپنا رشتہ کمزور تو نہیں کررہے”

کاشف زیری روحان کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“سر میری اور جیڈی کی کالج کے زمانے سے کبھی نہیں بنی میرا اس سے رشتہ کبھی مضبوط ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ اس سے میرا رشتہ صرف اس حد تک ہوگا کہ وہ میری بہن کا شوہر ہوگا اور میری بیوی کا بھائی۔۔۔۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں آپ کو مجھ پر مکمل بھروسہ ہونا چاہیے”

روحان نے ایک دفعہ پھر کاشف زیری کو اپنا یقین دلانا چاہا

“مجھے تو تم پر مکمل بھروسہ ہے ینگ مین جبھی تو میں دو ماہ کے لئے تمہارے اور جنید کے بھروسے دبئی جارہا ہوں پیچھے یہاں سب کچھ تم دونوں کو ہی سنبھالنا ہے”

ہفتے پہلے ہی کاشف زیری نے روحان کو اپنے دبئی جانے کا بتایا تھا اور ساتھ میں ساری ذمہ داری اس کے اور جنید کے سپرد لگائی تھی۔۔۔ کاشف زیری روحان اور جہانگیر کہ اس ادلا بدلی کے رشتے پر وقتی طور پر خاموش تو ہوا تھا مگر اسے روحان پر اعتبار کرنا ہی تھا کیونکہ اگر وہ جہانگیر کا ساتھ دیتا تو خود بھی برا پھنستا کیونکہ اسمگلنگ کے لیے شپ اسی کے استعمال ہوتے تھے

“یہ ان دونوں کے موبائلز ہیں جس میں لاسٹ کال تمہاری شو ہورہی تھی”

روحان جنید کی طرف دو موبائل فونز بڑھاتا ہوا بولا جوکہ عینا کی بےہوشی کے بعد اس نے ان دونوں لاشوں کی پاکٹ سے نکالے تھے

****

“تم نے آتے ہی کچن سنبھال لیا، میں نے نوٹ کیا ہے تمہارے آنے سے عینا کافی کام چور ہو جاتی ہے”

جہانگیر اسی وقت پولیس اسٹیشن سے گھر آیا تھا ڈرائنگ روم میں دی جان، فرزانہ خالہ اور عینا کو موجود پاکر وہ کچن میں چلا آیا توقع کے عین مطابق رحجاب کچن میں موجود شام کی چائے بنارہی تھی جہانگیر کو دیکھ کر اس نے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھا

“عینا کو تو میں نے ڈانٹ کر بٹھایا ہے کل اس کے مایوں پلس مہندی کا فنکشن ہے چند دن کی مہمان ہے وہ اس گھر میں، کیا کام کرتی ہوئی اچھی لگے گی اور رہی بات میری کچن سنبھالنے کی تو جب تک میں یہاں موجود ہوں تم نے چائے یا کسی نہ کسی کھانے کی مجھ سے ہی فرمائش کرنا ہے اس لئے میں خود ہی کچن میں آگئی”

رحجاب کی دوسری بات سن کر جہانگیر مسکرا دیا یہ سچ تھا رحجاب جب ان کے گھر آتی جہانگیر کو کچھ بھی کھانے کا دل چاہتا یا چائے کا موڈ ہوتا وہ بلاجھجک اسی کو کہتا

“پھر تو تم نے ہی عقلمندی والا کام کیا ہے ویسے رات کو کھانے میں اپنے ہاتھ کے مرغ چھولے بنالینا”

جہانگیر نے تازہ بیگ ہوئی نان کھتائی پلیٹ سے اٹھانے کی کوشش کی تو رحجاب نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا

“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے عینا کے رخصت ہونے کے بعد اپنا فرمائشی پروگرام اٹھا کر رکھنا آج میں عینا کی پسند کی کوئی ڈش بناو گی۔۔۔ بغیر ہاتھ دھلے کسی چیز کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ فریش ہوکر آؤ ہم تمہارا چائے پر ویٹ کررہے ہیں”

رحجاب کی بات سن کر وہ اسے گھورتا ہوا کچن سے چلا گیا

دی جان کی ایک ہی بہن تھی جو کہ اب اس دنیا میں موجود نہیں تھی ان کی ایک ہی بیٹی تھی فرزانہ اور فرزانہ کی ایک ہی بیٹی تھی رحجاب

وہ جہانگیر کی ہم عمر تھی اس لیے بچپن سے ہی ان دونوں کی کافی دوستی تھی جہانگیر ویسے تو ہر کسی سے فری ہوکر نہیں ملتا تھا مگر رحجاب سے وہ کافی فرینک تھا، جہانگیر کو نہ صرف اس کے ہاتھ کے کھانوں کا ذائقہ پسند تھا بلکہ اسے رحجاب کا ہر وقت سر پر دوپٹہ رکھنے والی عادت بہت پسند تھی۔۔۔ بائیس سال کی عمر میں جب رحجات کے لئے اچھے گھر سے رشتہ آیا تو فرزانہ نے خوشی خوشی اس کی شادی کردی، سب اس کی شادی پر بےحد خوش تھے مگر شادی کی چھ ماہ بعد ان پر یہ راز آشکار ہوا کہ رحجاب کا شوہر نشے کی لت کا عادی ہے جس کے درست ہونے کے امکان ہرگز نہیں تھے تب فرزانہ نے رحجاب کو خلع دلوائی تھی اس کے بعد رحجاب کا جو بھی رشتہ آیا تھا تو اس نے رشتے کے لیے حامی نہیں بھری۔۔۔ وہ پرائیوٹ اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی اور فرزانہ کے ساتھ اپنی زندگی مطمئن انداز میں بسر کررہی تھی

****

“خالہ آپ نے اتنے کم جوڑے رکھے ہیں جہانگیر کی بیوی کے لئے” جہانگیر ڈرائنگ روم کی طرف آنے لگا تب فرزانہ خالہ کی آواز اسے سنائی دی

“جہانگیر کی ساس کو تو اس پر بھی اعتراض تھا وہ کہہ رہی تھی آغول اس قسم کے کپڑے نہیں پہنتی ہے آپ بری مت لائیے گا مگر اس طرح خالی ہاتھ بھی جانا کہاں اچھا لگتا ہے اس لئے تین چار جوڑے اچھے مہنگے بوتیک سے لیے تھے”

دی جان کی بات پر جہانگیر کے قدم وہی رکے مگر قدم رکنے کی وجہ صرف اور صرف آغول کا نام تھا جس پر وہ چونکا تھا

2 ہفتے پہلے منصور ان کے گھر رشتے کی بات کرنے آیا تھا اور پندرہ دن بعد ان چاروں کی شادی رکھی گئی تھی جس پر جہانگیر کو کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا

اعتراض اسے رونی کی بات پر ہوا تھا رونی نے فرنیچر لینے سے صاف منع کردیا تھا بقول اس کے وہ اپنے بیڈ روم میں اپنی پسند کے مطابق فرنیچر چوز کرچکا ہے جس پر اس نے فون پر جہانگیر کو صاف انکار کیا تھا۔۔۔ تب جہانگیر نے بھی فرنیچر کے نام پر کچھ بھی لینے سے منع کیا تھا اس کا تو خود سے بھی نیا فرنیچر لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ جب اس نے اپنا ذاتی مکان بنوایا تھا تب اس نے دی جان اور عینا کے کمروں کے لیے نیا فرنیچر لیا تھا۔۔۔ جبکہ اپنے روم کا فرنیچر چند ماہ پہلے ہی لیا تھا۔۔۔ ویسے بھی یہ سب اس کے سامنے فضول خرچی اور شو بازی کے زمرے میں آتا تھا

“عینا تم تو بتارہی تھی روحان نے تمہارے لئے برائیڈل ڈریس اپنی پسند سے لیا ہے کیا جہانگیر نے بھی آغول کے لیے کوئی چیز اپنی پسند سے لی ہے لڑکیوں کو تو ان سب چیزوں کا بہت ارمان ہوتا ہے”

اب کی بار جہانگیر کو رحجاب کی آواز سنائی دی تھی شاید رحجاب کی بات سن کر عینا مسکرائی تھی

“بھائی کو تو گھر آنے کی ہی فرصت نہیں ہے چند دنوں سے اتنا لیٹ گھر آرہے ہیں اور آغول بھابھی کے لئے وہ کیا چیز اپنی پسند سے لیں گے انہیں تو شاید ہی اپنے ہونے والی بیوی کا نام معلوم ہو۔۔۔ یہ شاپنگ میں نے اور دی جان نے کی ہے ان کی ویسے بھی بھابھی کے ساتھ بڑی ٹریجڈی ہوگئی چند دن پہلے ہی کہیں گرنے کی وجہ سے ان کے پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا وہ خود بھی اپنے لئے کوئی چیز نہیں لے پائیں ساری شاپنگ آنٹی نے کی ہے ان کی”

عینا کی بات سن کر جہانگیر کو بہت کچھ یاد آیا

آغول ڈریسنگ پلسٹر۔۔ اب اسے حیرت ہورہی تھی وہ جسے اپنی زندگی میں شامل کررہا ہے آخر اسے ایک بار تو دیکھنا چاہیے تھا ایسی بھی کیا غفلت اور لاپروائی

تہہ شدہ پروگرام کے مطابق کل عصر کے ٹائم اس کا نکاح تھا اور شام میں عینا کی مہندی اور عینا کی شادی کے ایک ہفتے بعد اس کی برات

کیا اسے دیکھنا چاہیے کہ آغول وہی لڑکی ہے ویسے تو شک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں تھی مگر پھر بھی وہ کار کی چابی اٹھاکر گھر سے باہر نکل گیا

****

“اوہو اگر مہندی لگانے والی آگئی ہے تو اس سے کہو انتظار کرلے معلوم نہیں ہے آغول کو کچی نیند سے اٹھایا تو اس کا کتنا موڈ خراب ہوگا”

فاطمہ زاہدہ کو جھڑکتی ہوئی بولی ساتھ ہی اس کی نظر ہال کے اندر داخل ہوتے ہوئے جہانگیر پر پڑی تو وہ اپنے بگڑے ہوئے نقوش ٹھیک کرنے لگی کیونکہ اب وہ آغول کا ہونے والا ہسبینڈ تھا

“ارے بیٹا جہانگیر کیسے ہو…. کیسے آنا ہوا تمہارا”

جہانگیر کو سلام کا جواب دینے کے بعد فاطمہ خوشدلی سے اس سے پوچھنے لگی

“وہ دراصل میں آپ کی بیٹی۔۔۔ یعنی میں آغول کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ میرا مطلب ہے اس سے ملنا چاہتا ہوں”

جہانگیر کو اس طرح فاطمہ سے بولتے ہوئے عجیب سا لگ رہا تھا اس لئے جھجھک کر بولنے لگا مگر پھر خود کو یہ سوچ کر ریلکس کرنے لگا ان کے اپنے بیٹے نے اُس کی بہن سے عشق فرماتے ہوئے کونسا شرما شرمی سے کام لیا ہوگا

“ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے آغول کو میں ابھی اٹھاتی ہوں دراصل آج ہی اس کے پاؤں سے پلسٹر اترا ہے ہاسپٹل سے آنے کے بعد وہ سو گئی تھی تم بیٹھو تو سہی زاہدہ تم یہاں کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو یہ داماد ہیں اس گھر کے فرسٹ ٹائم آئے ہیں فوراً کچن میں جاؤ”

فاطمہ نے جہانگیر کو بیٹھنے کا کہہ کر زاہدہ کو گُھرکا مگر وہ ابھی آغول کو اٹھاتی تو آغول بہت بدتمیزی کرتی ساتھ ہی اس کا موڈ خراب ہوتا اس لیے وہ خود بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی

“آنٹی آپ تکلفات میں نہ پڑیں میں زیادہ دیر کے لئے نہیں آیا یہاں سے گزر رہا تھا تو ایسے ہی خیال آیا۔۔۔ مجھے ایک دو ضروری کام بھی نمٹانے ہیں”

جہانگیر نے زاہدہ کو کچن میں جاتا ہوا دیکھا تو فاطمہ کو اپنا پروگرام بتانے لگا

“ہاں ہاں کام تو چلتے رہے گے مگر اب تمہیں ایسے تو نہیں جانے دوگی نا مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا اور منصور تو بہت ناراض ہوگیں۔۔ وہ اور روحان تو آنے والے ہونگے ویسے بھی۔۔۔ جہانگیر بیٹا مجھے ویسے بھی تم سے کچھ باتیں کرنی تھی اگر تمہیں برا نہ لگے تو”

فاطمہ جہانگیر کو دیکھ کر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتی ہوئی بولی

“جی بولیے”

جہانگیر اب یہاں آکر پچھتا رہا تھا کیونکہ اسے اپنی ہونے والی ساس کا گفتگو کا شاید لمبا چوڑا پروگرام لگ رہا تھا

“دراصل میں تم سے آغول کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں ماں ہوں نا بیٹی کی تو اس لیے اس کی طرف سے فکریں لگی رہتی ہیں۔۔۔ آغول کو ہم نے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے اسی وجہ سے اس کی نیچر میں تھوڑا سا بچپنا ہے مطلب تھوڑی ضدی ہے تو تم اسے بےحد پیار سے توجہ دے کر ہینڈل کرنا پھر وہ تم سے جلد مانوس ہوجائے گی۔۔۔ پلیز بیٹا میری باتوں کو بالکل غلط مت لینا دراصل یوں اچانک سے کسی اجنبی سے شادی… تم تو سمجھ سکتے ہو نہ مائنڈ تھوڑا ڈسٹرب ہو ہی جاتا ہے جبکہ آغول نے تو فرمابرداری کا ثبوت دیا ہے ہم پر فیصلہ چھوڑ کر مگر تم تو جانتے ہو لڑکیاں کتنی حساس ہوتی ہیں۔۔۔ اسے تھوڑا نرمی اور توجہ سے ڈیل کرنا، اپنے اور اس کے رشتے کو سمجھنے کے لیے اگر وہ ٹائم مانگے تو پلیز مائنڈ مت کرنا”

فاطمہ خود بھی تھوڑا جھجھکتے ہوئے زبردستی مسکرا کر جہانگیر کو سمجھا رہی تھی جبکہ جہانگیر خاموشی سے فاطمہ کی بات سن رہا تھا اور بہت کچھ سمجھ بھی چکا تھا آغول جسے وہ لاڈ پیار کی وجہ سے ضدی کہہ رہی تھی یعنی ان کی بیٹی لاڈ پیار کی وجہ سے کافی بگڑی ہوئی اور بدتمیز قسم کی لڑکی تھی اور وہ اپنی بیٹی کی جس فرمابرداری کی بات کررہی تھی جہانگیر کو پورا یقین تھا اس اچانک شادی کی خبر سن کر اس نے یقیناً کتنا ہنگامہ شروع کیا ہوگا۔۔۔ جہانگیر کو اچھی طرح سمجھا آرہا تھا وہ اسے پیار توجہ اور نرمی برتنے کا کیوں کہہ رہی ہیں یقیناً ان کی بیٹی صاحبہ اس اچانک بنے گئے رشتے پر تیار نہ ہوگی جبھی وہ اسے ٹائم دینے کی بات کررہی تھی اور اگر یہ آغول وہی آغول ہوئی تو جہانگیر کو تو سرے سے ہی ضرورت نہیں تھی اس بدتمیز لڑکی کو منہ لگانے کی

“آپ ان سب باتوں کی فکر مت کریں میں انسان کو اس کی نیچر کے حساب سے ہی ٹریٹ کرتا ہو۔۔۔ میں سب کچھ بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کرلو گا۔۔۔ آپ عینا کا خیال رکھیے گا اس کے لئے بھی یہ سب رشتے ماحول۔۔۔ سب کچھ نیا ہوگا ویسے تو وہ سب ایڈجسٹ کرلے گی لیکن آپ کو اگر اس سے کوئی بھی شکایت ہو تو آپ اسے سمجھا سکتی ہیں میری بہن کی نیچر ایسی ہے کہ وہ ایک دفعہ کی بات سمجھ جاتی ہے آپ کو یقیناً وہ شکایت کا موقع نہیں دے گی”

جہانگیر اپنے سارے خیالات جھٹک کر فاطمہ سے عینا کی بات کرنے لگا تو فاطمہ مسکرا دی

“تم فکر ہی نہیں کرو بیٹا عینا کو ہمارے گھر میں کسی قسم کی شکایت نہیں ہوگی نہ ہی میں روایتی ساسوں کی طرح منٹیلٹی رکھتی ہو اور رہی بات روحان کی تو وہ آجکل اتنا خوش ہے اپنے بیڈروم سیٹ کرنے سے لیکر ساری شاپنگ ہی اس نے عینا کی خود سے کی ہے”

فاطمہ مسکراتی ہوئی جہانگیر کو بتارہی تھی۔۔۔ اس کا لہجہ طنزیہ ہرگز نہیں تھا مگر جہانگیر کو فیل ہوا شاپنگ تو اسے بھی ان کی صاحبزادی کے لیے کرنی چاہیے تھی اپنی من پسند اپنی مرضی کی، اب تو وہ اس کی بیوی بننے جارہی تھی ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ ملازم ہال میں آیا

“میڈم آپ کی فرینڈ مسز انوار آئی ہیں”

ملازم کی اطلاع پر فاطمہ کے ساتھ جہانگیر بھی اسے دیکھنے لگا

“ہاں تو جاؤ بیٹھاو انکو ان سے کہو تھوڑا ویٹ کریں میں آرہی ہوں”

فاطمہ ملازم کو جواب دینے لگی

“آنٹی آپ اپنی فرینڈ کو ٹائم دے مجھے ضروری کام ہے میں نکلوں گا اب”

جہانگیر کھڑا ہوتا ہوا فاطمہ سے بولا

“اس طرح اچھا نہیں لگ رہا ہے تم بیٹھو منصور آنے والے ہیں بلکہ میں خود فون کرتی ہوں انکو”

فاطمہ بھی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی

“اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کل تو ملاقات ہوجائے گی ان سے اور اب تو آنا جانا لگارہے گا آپ اجازت دیں”

جہانگیر کی بات سن کر وہ مسکرا دی اور خدافظ کرتی ہوئی سیٹنگ ایریا کی طرف چلی گئی جہاں مسز انوار فاطمہ کا ویٹ کررہی تھی جبکہ جہانگیر نے باہر جانے کی بجائے کچن کا رخ کیا جہاں زاہدہ موجود تھی وہ اس سے آغول کا کمرہ پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا جب وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر آ ہی گیا تھا تو اسے دیکھے بغیر کیسے جاسکتا تھا

****

کمرے کے چاروں سو اندھیرا پھیلا ہوا تھا صرف کمرے کا وہی حصہ روشن تھا جہاں سلک کی نائٹی میں مبلوس نازک سا وجود بیڈ پر بڑے لاپرواہ انداز میں سو رہا تھا

جہانگیر آہستہ قدم اٹھاتا ہوا بیڈ کے قریب آیا اور غور سے اس لڑکی کا جائزہ لینے لگا جسے آج تک اس نے کسی ڈھنگ کے پورے لباس میں نہیں دیکھا تھا وہ اس وقت بھی نائٹی زیب تن کیے ہوئی تھی جس میں سے اس کی سفید ٹانگیں اور بازو چھلک رہے تھے وہ اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی مگر جہانگیر اس کا چہرہ دیکھے بغیر اس کو پہچان گیا تھا

اس کے کندھے سے تھوڑا نیچے جو تِل موجود تھا آج وہ اس تِل کو دوسری بار دیکھ رہا تھا جس دن شاپنگ مال میں وہ ریک کے نیچے دبی ہوئی تھی ریک اس کے اوپر سے ہٹانے کے باعث اس کی شرٹ پھٹی تھی تب بھی جہانگیر کی نظر اس تِل پر گئی تھی اس تِل نے اس وقت بھی ایک پل کے لیے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی

“اف یہ کیا فضول سوچ رہا ہوں میں، یہ ہونے والی بیوی ہے ابھی ہوئی نہیں”

جہانگیر نے خود کو جھڑکتے ہوئے کسی احساس کے تحت آغول کے شولڈر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے سیدھا کیا۔۔۔ وہ نیند میں بھی بےزاری کی کیفیت چہرے پر سجائے گہری نیند سو رہی تھی

اس کے خوبصورت خدوخال سے نظریں چراتا ہوا وہ اس پر کمفرٹر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا