Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 12)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

صبح کافی دیر سے اس کی آنکھ کھلی تھی رات ایک بجے وہ دی جان کو اسپتال سے واپس گھر لےکر آیا تھا اس کا دماغ ایک دفعہ پھر کل والے واقعے پر چلا گیا وہ ہوٹل کے کمروں سے برآمد ہونے والے کیمرے میں موجود ویڈیوز دیکھنے لگا

ویڈیو سے صاف ظاہر ہورہا تھا سیفی نامی لڑکا اس لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا جس کے بدلے میں وہ لڑکی سیفی کو زخمی کر کے کمرے سے نکلی تھی وہ نک چڑی تھی، بدماغ اور مغرور بھی مگر خود کی حفاظت کرنے والی تھی جہانگیر کو اس کی شکل کے علاوہ دوسری یہی بات اس میں اچھی لگی مگر جو جہانگیر نے اس کے ساتھ کیا وہ اس کے لئے بالکل پشیمان نہ تھا اچھا ہی تھا اس لڑکی کو آئندہ کے لیے سبق مل گیا ہوگا آئندہ وہ کبھی کسی نامحرم کے بلانے پر اس طرح یوں ملنے نہیں جائے گی

جبکہ دوسری ویڈیو جو ان دونوں لڑکے لڑکی کی موجود تھی اس ویڈیو کو دیکھ کر اسے صرف افسوس ہوا، جہانگیر پوری ویڈیو دیکھنے کی بجائے بند کرچکا تھا آخر کیسے لڑکیاں اپنے گھر والوں کا اعتبار مٹّی میں ملاتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گھر والوں کا نہیں سوچتی ایسے لڑکے اگر ان لڑکیوں سے شادی کر بھی لے تو کہا عزت دے سکتے ہیں۔۔۔ جہانگیر سوچ کر سر جھٹکتا ہوا اٹھا اور اپنے کمرے سے نکل کر دی جان کے کمرے میں آیا، وہ ابھی تک سو رہی تھی آہستہ سے ان کی پیشانی چُھو کر ٹمپریچر چیک کیا جو رات کی بانسبت نارمل تھا

“عینا اٹھو دی جان کے کمرے میں جاکر لیٹ جاؤ”

جہانگیر نے پہلے اپنے کمرے میں آکر یونیفارم پہنا پھر عینا کے کمرے میں چلا آیا اور اسے اٹھاتا ہوا بولا

“تیار ہوگئے آپ، رکیں دس منٹ میں ناشتہ بنادیتی ہوں”

عینا نیند سے بوجھل آواز میں جہانگیر کو یونیفارم مبلوس دیکھ کر جلدی سے بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی

“نہیں رہنے دو ناشتہ میں کرلوں گا تم دی جان کا خیال رکھنا، ابھی وہ سو رہی ہیں اٹھیں تو ان کو ناشتہ کروا کے میڈیسن ٹائم پر دے دینا جاؤ شاباش اُن کے پاس جاکر لیٹ جاؤ”

جہانگیر عینا کو کہتا ہوا گھر سے نکل گیا

****

“یہ کیا حال کرلیا میری جان کیا ہوگیا تمہیں”

فاطمہ آغول کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی زاہدہ جب ناشتہ کے لیے آغول کے بیڈروم میں پہنچی تو وہ بےسدھ بیڈ پر پڑی تھی، زاہدہ فاطمہ کو بلا لائی

“مما میں نے کچھ غلط نہیں کیا علاوہ اس کے میں سیفی کے بلانے پر اس سے ملنے چلی گئی”

آغول کا چہرہ بخار کی حدت سے تپ رہا تھا وہ نڈھال لہجے میں بمشکل آنکھیں کھول کر بول پائی

“مجھے معلوم ہے میری بیٹی کچھ غلط نہیں کرسکتی تمہارے ڈیڈی اور روحان کو وقتی غصہ ہے جوکہ جلد ختم ہوجائے گا اب پریشان مت ہو کتنا زیادہ بخار ہوگیا تمہیں، اٹھو ناشتہ کرو پھر میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہوں”

وہ بیٹی تھی فاطمہ کی، اس کی یہ حالت دیکھ کر فاطمہ پریشان ہوگئی اس لئے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سہارے سے اسے بٹھانے لگی

“سس”

کمر پر فاطمہ کے ہاتھ رکھنے پر آغول کے منہ سے سسکی نکلی تو فاطمہ پریشان ہوکر اسے دیکھنے لگی

“کیا ہوا میری جان پلیز مجھے بتاؤ”

فاطمہ کے پوچھنے پر آغول نے اسے بتایا کہ کیسے اس آفیسر کے کہنے پر لیڈی انسپکٹر نے اس کی کمر پر اسٹیکز ماری تھی

“کون تھا وہ جاہل بدتمیز اور جنگلی انسان، جسے میری پھول سی بچی کی شکل دیکھ کر بھی ترس نہیں آیا”

فاطمہ کو آغول کی کمر پر سرخ نشان دیکھ کر جی بھر کر غصہ آیا وہ اس کی کمر پر آئینٹمینٹ لگانے کے بعد آغول کو ناشتہ کروانے لگی تھوڑی دیر بعد اسے آغول کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا

****

“یہ ناشتہ کہاں لےکر جا رہے ہو”

جہانگیر پولیس اسٹیشن آیا تو کانسٹیبل اسلم کو ناشتہ لےکر سیل کی طرف جاتا دیکھا تبھی وہ اس سے پوچھنے لگا

“سر کل سے وہ دونوں لڑکے بھوکے ہیں آپ کے آرڈرز کو فالو کرتے ہوئے ان کے لاک اپ کی طرف کوئی نہیں گیا۔۔۔ باقی سب ناشتہ کررہے تھے تو علیم نے ان دونوں کا ناشتہ بھی دے دیا”

کونسٹیبل اسلم جہانگیر کو دیکھتا ہوا بتانے لگا

“ناشتہ یہاں ٹیبل پر رکھو اور جاکر لاک اپ کھولو اس ناشتے سے پہلے انہیں دوسری خوراک کی ضرورت ہے اس کے بعد یہ ناشتہ ان دونوں کو کروانا”

جہانگیر کا حکم مانتا ہوا اسلم ناشتے کی ٹیبل پر رکھ کر لاک اپ کھولنے لگا

ان دونوں لڑکوں کی شامت کا اندازہ تو اس نے کل رات کو ہی لگا لیا تھا جب جہانگیر کے کہنے کے مطابق لاک اپ میں موجود کولر اور گلاس ہٹادیا گیا تھا وہ دونوں اس وقت بےسدھ پڑے تھے لاک اپ کھلنے کی آواز پر اٹھ کر بیٹھے

جہانگیر لاک اپ کے اندر داخل ہوا انہیں دیکھتا ہوا یونیفارم کی شرٹ اتار کر اپنی پشت پر کھڑے اسلم کو پکڑاتا ہوا ان دونوں سے بغیر کوئی سوال کرتا انہیں روئی کی مانند دھوندنے لگ گیا آدھے گھنٹے تک وہ ان دونوں کو بری طرح پیٹتا رہا، سیفی کی تو پینٹ گیلی ہوچکی تھی وہ بری طرح رو رہا تھا جبکہ دوسرا لڑکا بری طرح تڑپتا ہوا پانی مانگنے لگا

جہانگیر کی بنیان بھی پسینے سے تر ہوچکی تھی، دائیں ہاتھ سے مٹھی کو گول گھماتا ہوا وہ خود لمبے سانس لیتا ہوا ان دونوں کو دیکھنے لگا کانسٹیبل سے اشارے سے پانی مانگتا ہوا اب وہ خود بوتل سے منہ لگائے ان دونوں کو دیکھتا ہوا پانی پی رہا تھا

“پانی۔۔۔۔ پانی”

کل رات سے ان دونوں کا حلق سے کھانا تو دور کی بات پانی کی ایک بوند تک نہیں اتری تھی اور نہار منہ دھلائی ہونے کے بعد اب وہ دونوں ہی جہانگیر کو پانی پیتا دیکھ کر درد سے کرہاتے ہوئے بولے

جہانگیر نے بوتل منہ سے نکال کر پانی ان دونوں کے منہ کے اوپر ڈالنا شروع کردیا سیفی میں شاید برداشت کا مادہ کم تھا وہ بھوکا رہنے اور پٹنے کی وجہ سے بےہوش ہوچکا تھا

“پلیس سر رحم کھائیں”

دوسرا لڑکا مشکل سے بول پایا

“تم رحم کھاتے ہو لڑکیوں کی عزت سے کھیلتے ہوئے ان پر”

جہانگیر اس لڑکے کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“سر”

شکیل کی آواز پر جہانگیر نے پلٹ کر اسے دیکھا

“کمشنر صاحب کی کال آئی ہے انہوں نے فوراً آپ کو یاد کیا ہے”

شکیل کے بتانے پر جہانگیر کانسٹیبل سے اپنی شرٹ لے کر پہننے لگا

“پانی پلاو ان دونوں کو ہوش میں آنے کے بعد ان کا بیان ریکارڈ کرو”

جہانگیر بولتا ہوا وہاں سے نکل گیا

****

“سر”

جہانگیر کمشنر صاحب کے روم میں آکر سلوٹ پیش کرتا ہوا سیدھا کھڑا ہوا

“آو جہانگیر میں تمہارا انتظار کر رہا تھا بیٹھو”

کمشنر صاحب کے کہنے پر، کمشنر صاحب کے سامنے بیٹھے شخص نے پلٹ کر جہانگیر کو دیکھا جہانگیر چلتا ہوا آیا اور اس آدمی کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا

“کل تم نے الکینگ ہوٹل کو ریٹ کیا”

کمشنر صاحب کا لہجہ تھوڑا ترش تھا

“یس سر”

جہانگیر نے مختصر سا جواب دیا سامنے بیٹھا آدمی ایک بار پھر اپنے برابر میں بیٹھے جہانگیر کو دیکھنے لگا

“کس نے آرڈرز پاس کیے تمہیں”

کمیشنر صاحب لہجے میں ہلکی سی سختی لاتے ہوئے جہانگیر سے سوال کرنے لگے

“سر ایس۔ایس۔پی سیف اللہ کو اعتماد میں لیا تھا۔۔۔ وہ ہوٹل شک کے دائرے میں آتا ہے انہی کی پرمیشن پر انہی کے کہنے پر ریڈ کی گئی تھی”

“جہانگیر کمشنر صاحب سے بولتا ہوا الجھ کر اپنے برابر میں بیٹھے آدمی کو دیکھنے لگا جسے وہ آج پہلی بار دیکھ رہا تھا اسے نہیں معلوم تھا یہ آدمی کون ہے جس کے سامنے کمشنر صاحب اس سے آفیشیلی سوال کررہے ہیں

“کیا میں پوچھ سکتا ہوں ایس۔ پی آپ کو میرے ہوٹل میں ریڈ کے دوران کیا ثبوت فراہم ہوئے”

اس سے پہلے کمشنر صاحب جہانگیر سے اگلا سوال کرتے برابر میں بیٹھا آدمی جہانگیر سے مخاطب ہوا جہانگیر کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی یہ کاشف زیری تھا ہوٹل الکینگ کا مالک

“آپ سے میں تب مخاطب ہوگا مسٹر زیری جب میں ثبوت لےکر آپ کے پاس آؤں گا”

جہانگیر کمشنر صاحب کی موجودگی کی پروا کیے بغیر کاشف زیری سے روکھے لہجے میں گویا ہوا

“اسٹاپ اٹ جہانگیر یہ اس شہر کے شریف اور عزت دار شہری ہیں تم نے وید آؤٹ پرمیشن ان کے ہوٹل کو ریڈ کیا اور اب بغیر کسی ثبوت کے تم ان سے اس طرح مخاطب ہو پولیس ویسے ہی بدنام ہے ایسی حرکتوں سے مزید پولیس کا امیج ڈاون نہیں کرو تمہارا ریکارڈ اچھا رہا ہے تو میں تمہیں ایکسپلینیشن کال نہیں کررہا صرف وارن کررہا ہوں اگلی بار ایسی کوئی حماقت نہیں ہونی چاہیے”

کمشنر صاحب تھوڑے سخت لہجے میں بولے جس پر جہانگیر کو ضبط کرتے ہوئے “یس سر” کہنا پڑا

سیفی اور دوسرے لڑکے کا بیان ابھی ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا وہ اپنی طرف سے مزید کچھ نہیں بول سکتا تھا ہوٹلز کے روم میں اس طرح کیمرے لگانا بھی غیر قانونی تھا لیکن سامنے بیٹھا ہوا شخص لازمی مُکر جاتا تو اس کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں تھا اس لیے وہ خاموشی رہا

“کمشنر صاحب آپ جیسے آفیسر ہو تو ہم جیسے معزز شہری اس شہر میں سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔۔۔ معلوم نہیں آپ کے ایس۔پی یا تو بہت دلیر ہیں جو کہ سامنے والے کو دیکھے بغیر اٙڑ جاتے ہیں یا پھر بہت نادان جو ایسے ہی بلاوجہ کسی کے کہنے میں آگئے”

کاشف زیری نے مزاقاً کمشنر صاحب کو کہا اس کا لہجہ طنز سے بھرپور تھا جو جہانگیر کو کافی چبھا

“ایسی بات نہیں ہے کاشف صاحب ایس۔ پی جہانگیر بہت قابل افیسر ہیں، ایماندار اور بہادر بھی، انہوں نے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر یہ اسٹینڈ لیا ہوگا آپ بھی یقیناً معزز شہری ہیں نہیں چاہے گے کہ ایک آفیسر آپ کو سوری کرے اس لیے معاملے کو یہی رفع دفع کریں”

کمشنر صاحب کو کاشف زیری کا جہانگیر کے بارے میں اس طرح بولنا بھی کچھ خاص پسند نہیں آیا اس لیے وہ بات ختم کرتے ہوئے بولے

****

“جنید وہ ایس۔ پی ہیڈ کوارٹر سے نکل چکا ہے، پولیس اسٹیشن پہنچنے والا ہے ان دونوں لڑکوں کی کہانی کو فوراً ختم کروا دو اور معلوم کرو ہمارے بیچ وہ غدار کون ہے جس کی وجہ سے ایس۔پی کو الکینگ کے بارے میں شک ہوا”

کاشف زیری آج صبح ہی واپس آیا تھا اور کمشنر صاحب سے اپوائنمنٹ لےکر وہ ان کے آفس میں پہنچا اب اس نے جہانگیر نامی ایس۔پی کو بھی دیکھ لیا جس نے اس کو چھیڑا تھا وہ واپس اپنی کار میں بیٹھتا ہوا اپنے خاص بندے کو ہدایت دینے لگا

****

“کیا ہوا شکیل رش کیوں لگا ہوا ہے باہر”

جہانگیر پولیس اسٹیشن پہنچا تو میڈیا کی کار اور دوسرے لوگوں کا کافی رش پولیس اسٹیشن کے باہر موجود تھا وہ پولیس اسٹیشن کے اندر آتا ہوا شکیل سے پوچھنے لگا

“سر ان دونوں لڑکوں کو ناشتہ کروایا گیا جس کے بعد ان دونوں کی حالت بگڑنے لگی، ہسپتال لے جانے سے پہلے ہی وہ دونوں دم توڑ چکے تھے۔۔ ابھی ایمبولینس میں ان کی ڈیڈ باڈیز کو ڈال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے شاید ناشتے میں کچھ لایا گیا ہو۔۔۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا اور میڈیا کو کس نے انفارم کیا اس کا بھی کچھ معلوم نہیں”

اس کا موڈ پہلے ہی خراب تھا شکیل کی بات سن کر مزید بگڑ گیا

“یقیناً بیان تو نہیں نوٹ کیا ہوگا”

جہانگیر ضبط کرتا ہوا شکیل سے پوچھنے لگا تو وہ اپنا سر جُھکا گیا جہانگیر غصے میں اپنے روم میں چلا گیا

****

“تازہ ترین خبروں کے مطابق پولیس کا ایک اور ظلم سامنے آیا۔۔۔ جی ہاں ناظرین سیفی نامی ایک طالبعلم اور ایک مظلوم لڑکا جس کو شک کی بنیاد پر پولیس نے کل رات سے حراست میں لیا تھا آج دوپہر میں ان دونوں لڑکوں کو پولیس کے سفاکانہ رویے اور بےجا تشدد سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا یونیورسٹی اور کالجز کے طلباء میں پولیس کے رویے کو لےکر غصہ اور احتجاج”

نیوز چائنل پر بریکنگ نیوز دی جارہی تھی اور آغول بےیقینی سے خبریں سن رہی تھی

“او گاڈ سیفی کو مار دیا”

آغول نے بےیقینی سے اسکرین پر چلتی ہوئی نیوز دیکھی

اگر وہ سیفی کا ہوٹل والا روپ نہیں دیکھتی تو اسے سیفی کے مرنے کا دکھ ضرور ہوتا مگر اس وقت وہ دکھ سے زیادہ شاکڈ تھی

“کتنا بےرحم اور بےحس انسان ہے یہ افیسر، بیشک وہ دونوں لڑکے مظلوم ہرگز نہیں تھے مگر اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا اس طرح کسی کی جان لینے کا”

آغول کے دل میں جہانگیر کے لیے ناپسندیدگی کا گراف کچھ اور زیادہ بڑھ گیا کیونکہ اس شخص کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ بھائی کے سامنے کچھ نہ کر کے بھی ذلیل ہورہی تھی

“تم خود بھی مر جاؤ منحوس انسان”

آغول جہانگیر کا چہرہ یاد کرتی ہوئی بڑبڑائی تھی