Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 16)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
سورج کی کرنیں مکمل طور پر ابھی پھیلی بھی نہ تھی تبھی وہ گھر سے نکل گیا تھا ہائی وے کے راستے سے آنے والے ٹرکز اور ٹرالرز کی تلاشی کے آرڈرز اس کے پاس موجود تھے، ویسے تو ان کی چیکینگ شکیل کی نگرانی میں بھی ہوسکتی تھی جہانگیر کو اس کی ایمانداری پر شک نہ تھا مگر وہ یہ کام اپنی نگرانی میں کروانا چاہتا تھا جبھی صبح ہونے سے پہلے گھر سے نکل گیا وہ الگ بات تھی کے گھر سے نکلنے سے پہلے دی جان نے اس کو خوب کھری کھری سنائی تھی
بقول انکے کہ وہ اب تک ویلا پھر رہا ہے جبھی راتوں کو دیر سے ڈیوٹی کرکے گھر میں آنا اور صبح صبح گھر سے نکل جانا، دی جان کے نزدیک ایسی ڈیوٹی کو آگ لگا دینا چاہیے جس کی کوئی اوقات مقرر نہ ہو اور دی جان نے اس کو یہ بھی بولا تھا کہ ابھی تک کوئی اس کی لگامیں کھینچنے والی نہیں آئی ہے شادی کے بعد ہی وہ سیدھا ہوسکتا ہے۔۔۔ جس پر جہانگیر نے دی جان کو کہا تھا، اس کی لگامیں کھینچنے والی ابھی تک کوئی پیدا نہیں ہوئی ہے اور اگر پیدا ہوگئی ہے تو دعا کریں کہ وہ آج ہی جہانگیر کے سامنے آجائے
دی جان کو آج پھر سے اس کی شادی کی فکر ہونے لگی تھی وہ بہت مشکلوں سے ان کو بہلا پھسلا کر گھر سے نکلا تھا
ایک بار پھر جہانگیر کا دماغ کل رات والے میسج پر چلا گیا تھا جو اس کو اپنے موبائل پر اجنبی نمبر سے موصول ہوا تھا
Check if you’re interested
ApplE 20
oRanGe 12
بےمطلب سا مسیج مگر یہ اسے بےمعنی نہیں لگا جسے وہ اگنور کردیتا اس کا دماغ اسے یہ انڈیگیشن دے رہا تھا یہ کسی چیز کا کلو ہے یا کوئی پہیلی۔۔۔ یہ میسج خاص طور پر اسے کیا گیا تھا ایپل اورنج میں ( ARG )ان تین ایلفابیٹ کو بڑے لیٹر میں لکھا گیا تھا واضح کرنے کے لیے۔۔۔ ایپل اورنج کے آگے نمبر بھی لکھے گئے تھے اس بات کا کیا مطلب ہوسکتا ہے وہ کل رات سے سوچ رہا تھا
صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے روڈ ابھی تک سنسان تھا۔۔ وہ سوچتا ہوا کار ڈرائیو کررہا تھا اچانک اس کی کار کے آگے کوئی خاتون جوکہ چادر میں لپٹی ہوئی تھی اچانک سے بھاگتی ہوئی آئی اپنی سوچوں میں گم ہونے کی وجہ سے اسے بریک لگانے میں دیر ہوئی تھی کار سے ٹکرا کر وہ وجود دس قدم دور جاگرا
“او میرے خدا یہ کیا ہوگیا”
جہانگیر جلدی سے کار سے نکلا وہ لڑکی کراہتی ہوئی اٹھنے کی کوشش کررہی تھی تب جہانگیر اس کے پاس پہنچا
“اندھے ہو کیا میری ٹانگیں توڑ کر رکھ دی تم نے”
آغول بمشکل اٹھ کر بیٹھتی ہوئی بولی
اسے لگا کہ وہ روڈ کراس کرلے گی مگر کار ڈرائیو کرنے والا اپنی ہی دھن میں کار ڈرائیو کررہا تھا اسے دیکھ کر بھی کار کی اسپیڈ ہلکی نہ کی جس کے نتیجے میں وہ کار سے دس قدم دور جاگری مگر یونیفارم میں وہ جہانگیر کو دیکھ کر فوراً پہچان گئی
“ناٹ اگین”
جہانگیر سڑک پر بیٹھی ہوئی آغول کو دیکھ کر بیزاری سے بولا
“واٹ ڈو یو مین ناٹ اگین۔۔۔ جیسے میں تمہارا دیدار کرکے بہت خوش ہوں، پولیس والے ہو تو تم کچھ بھی کرلو گے یہ سڑک تمہارے باپ کی ہے جس پر چلنے والے انسان کو تم اڑا دو گے”
غصے میں بولتے ہوئے اس کے آنسو نکلنے لگے کیونکہ اس کی ٹانگ میں بہت زور سے لگی تھی
“یہ سڑک میرے باپ کی نہیں ہے تو تمہارے باپ کی بھی نہیں ہے جہاں تم صبح صبح کیٹ واک کرنے میں مصروف تھی۔ اسپتال جانا ہے تو فوراً کار میں آکر بیٹھو ٹائم نہیں ہے میرے پاس”
جہانگیر کو اندازہ تھا وہ بہت زور سے گری تھی اس کو چوٹ بھی لگی تھی اور بہت تکلیف ہورہی ہوگی اس لیے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوا احسان کرنے والے انداز میں بولا
“شوز لےکر آؤ میرے”
آغول بولتی ہوئی باآواز رونے لگی تھی اس کی ٹانگ میں درد ہورہا تھا اس کی بات سن کر جہانگیر نے آغول کو گھور کر دیکھا مگر اس کو روتا ہوا دیکھ کر وہ خاموش رہا۔۔۔ کار سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے کینوز کار کے پاس ہی گر گئے تھے
“یہ لو جلدی پہنوں”
کینوس اس کے پاؤں کے پاس رکھتا ہوا وہ عجلت میں بولا
“یہ میں خود پہنوں گی”
آغول روتی ہوئی چڑ کر بولی
“تو کیا میں پہناؤں گا تمہیں یہ جوتے، ہوش ٹھکانے پر ہیں تمہارے”
جہانگیر ایک دم سیدھا ہوا ساری مہربانی بلائے طاق رکھ کر وہ بولا
“تم نہیں پہناؤ گے تو اور کون پہنائے گا، ٹکر کس نے ماری ہے اپنی کار سے”
آغول نے یونیفارم مبلوس اس آفیسر کا لحاظ کرنا ضروری نہیں سمجھا وہ غصے میں اس کو دیکھ کر بولی بات کرتے ہوئے وہ رو رہی تھی جہانگیر اس کے آنسو دیکھ کر جُھکا اور کینوس اس کے پاؤں میں ڈالنے لگا، سیدھے پاؤں میں کینوس پہناتے ہوئے وہ بری طرح کراہی تھی اسکی تکلیف کا اندازہ چہرے سے لگایا جاسکتا تھا
“اُٹھو اب”
کینوس پہنانے کے بعد وہ تھوڑا نرمی سے بولا تھا
“بیگ اٹھاکر لاؤ میرا”
آغول سڑک پر بیٹھی ہوئی نراٹے پن سے بولی اور اپنے ہاتھ سے بیگ کی طرف اشارہ کیا جوکہ چھ قدم دور سڑک پر پڑا ہوا تھا۔۔۔ جہانگیر نے کوفت کے عالم میں اس کا بیگ دیکھا اور اُٹھانے چلا گیا نہ جانے کیوں یہ لڑکی صبح صبح ٹکرا گئی تھی اسے
“اُٹھ بھی جاؤ اب” جہانگیر اس کے پاس آ کر ایک بار پھر بیزاری سے بولا۔۔۔ وہ یونیفارم میں تھا اور اس کا لحاظ کررہا تھا وہ لڑکی ذات تھی اور اس وقت تکلیف میں تھی
“میں خود اٹھ سکتی ہوں، سہارا چاہیے مجھے تمہارا”
آغول آنسو صاف کرتی ہوئی جھنجھلا کے بولی۔۔۔ وہ کیا سوچ کر گھر سے نکلی تھی اور کیا ہوگیا تھا اس کے ساتھ
“میڈم سہارا تو تم ایسے مانگ رہی ہو جیسے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے”
آغول کا بیگ اپنے کندھے پر ڈالتا ہوا اس کا بازو پکڑ کر دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کرتا جہانگیر اسے اٹھانے لگا۔۔۔ جس سے آغول کو اٹھتے ہوئے مزید رونا آنے لگا
“اب کیا تکلیف ہوگئی ہے تمہیں”
جہانگیر اس کے رونے سے چڑتا ہوا پوچھنے لگا
“تکلیف ہی ہورہی ہے مجھے وزن نہیں ڈالا جارہا پاؤں پر۔۔۔ تم صحیح طرح سہارا دو پلیز”
آغول روتی ہوئی بولی
“تو سیدھا بولو نہ دس قدم چلنے میں موت پڑ رہی ہے”
جہانگیر بولتا ہوا اسے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا یہ کام پہلی دفعہ نہیں کیا تھا تو اسے جھجھک بھی نہیں محسوس ہوئی
کوئی وقت ہوتا تو وہ اس کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیتی مگر مجبور تھی اس سے واقعی چلا نہیں جارہا تھا اسے لگ رہا تھا اس کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے
شکر ہے روڈ سنسان تھا ورنہ پولیس والے کی عوام سے ایسی ہمدردی دیکھ کر لوگ غش کہا اٹھتے۔۔۔ آغول کو اپنے بازوؤں میں اٹھانے کے بعد جہانگیر اس کا چہرہ نزدیک سے دیکھنے لگا تو آغول نے کوفت کے عالم میں اس سانولے سے بندے کو دیکھا اور اپنے چہرے کا رُخ پھیر لیا
اس کے بالوں سے اٹھتی کنڈیشنر کی بھینی بھینی خوشبو جہانگیر کی ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی…
کتنی مجبور ہوگئی تھی وہ اس بدتمیز آفیسر سے ہیلپ لینے کے لیے آغول بےچارگی سے سوچنے لگی
“تم اپنی سست اسپیڈ دکھا کر کیا ثابت کررہے ہو کہ قانون کے ہاتھ بڑے ہو نہ ہو مگر پاؤں چھوٹے ہوتے ہیں۔۔۔ خدارا تھوڑا تیز چلو مجھے درد ہورہا ہے”
جہانگیر کو آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا دیکھ کر آغول بولی تو جہانگیر ایکدم ہوش میں آیا
“دیکھنے میں تم بکری جیسی ہو ہاتھی جیسا تمہارا وزن ہے تمہیں اٹھاکر میں اتنی اسپیڈ میں چل سکتا ہوں”
اپنے اوپر کی گئی ٹانٹینگ کا بدلہ جہانگہر نے فوراً لیا تھا مگر اس نے واقعی اسپیڈ بڑھادی اور اپنے آپ کو ہاتھی تصور کرکے آغول، اپنا درد بھلائے غصے میں اسے گھورنے لگی بےشک یہ آدمی اسے پسند نہیں تھا مگر کسی مرد کے منہ سے اپنے آپ کو ہاتھی سننا کسی لڑکی کے لیے بہت توہین والی بات تھی
“چہرہ دوبارہ موڑ لو معلوم نہیں صبح جلدی میں تم نے ٹوتھ برش کیا یا بھول گئی تمہاری سانسوں سے آتی مہک سے مجھے متلی کا احساس ہورہا ہے”
آغول کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھ کر جہانگیر اسے مزید سلگانے والے انداز میں بولا
“تم کچھ زیادہ ہی بول رہے ہو آفیسر”
آغول اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی
“شش خاموش ورنہ یہی پھینک کر چلا جاؤں گا پھر سڑک پر بیٹھی روتی رہنا”
جہانگیر کی دھمکی سننے کے بعد آغول نے اسے لاتعداد گالیوں سے نوازا مگر دل ہی دل میں۔۔۔ جہانگیر اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھاتا ہوا اس کا بیگ پچھلی سیٹ پر رکھ چکا تھا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا
“پانی۔۔۔ پانی پینا ہے مجھے”
آغول درد سے آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی۔۔۔ جہانگیر نے اس کی حالت کے پیش نظر اپنی پانی کی بوتل کیپ کھول کر اس کی طرف بڑھائی
“تم نے اپنا منہ تو نہیں لگایا اس بوتل پر”
وہ تو زاہدہ سے دس بار ہاتھ دھلوا کر اپنے کام کرواتی تھی تو پھر کسی دوسرے کا جھوٹا پانی کیسے پی سکتی تھی
“ہزار بار اس پر اپنا منہ لگا چُکا ہوں میڈم، اگر پانی پینا ہے تو پیو نہیں پیاسی رہو”
آغول کی بات اسے آچھی طرح سُلگا گئی تھی جبھی وہ تپ کر بولا بوتل پر دوبارہ کیپ لگاکر وہ بوتل رکھنے ہی لگا تھا مگر آغول نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی۔۔۔۔ اس کے حلق میں کانٹے بھرنے لگے تھے کار میں موجود ٹشو سے وہ بوتل کو اچھی طرح صاف کرتی ہوئی بوتل سے پانی پینے لگی
“ویسے کہاں جارہی تھی تم اتنی صبح”
جہانگیر کو یوں صبح سویرے اس کا اکیلے نکلنا شک و شبہات میں ڈال رہا تھا اور اسطرح چادر میں تو وہ اسے آج پہلی بار دیکھ رہا تھا اس لیے وہ تفشیشی انداز میں پوچھنے لگا اور ساتھ ہی کار بھی اسٹارٹ کردی
“گھر چھوڑ کر بھاگ رہی تھی”
آغول سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی جس پر جہانگیر نے اس پر تنقیدی نگاہ ڈالی آخر وہ کیوں توقع کررہا تھا یہ لڑکی اس کے سوال کا سیدھا جواب دے گی وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا
****
جو خبر صبح صبح زاہدہ نے اسے دی تھی فاطمہ اس سے پریشان ہوگئی فاطمہ آغول کے کمرے کے اندر آئی، واقعی آغول اپنے کمرے میں کہیں موجود نہ تھی البتہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر ایک پیپر موجود تھا جو فاطمہ کے لیے ہی تھا اس میں صاف لکھا تھا وہ بےجا لگنے والی پابندیوں سے اُکتا کر دس دن کے لئے یونیورسٹی کی طرف شمالی جات علاقوں پر اسٹوڈنٹس کے ساتھ ٹرپ پر جارہی ہے پیچھے سے منصور اور روحان کو سنبھالنے کا کام اس نے فاطمہ کا لگایا تھا اور اس نے پیپر میں دھمکی بھی دی تھی اگر منصور یا روحان نے غصے میں کوئی بھی قدم اٹھایا تو وہ جلدی گھر لوٹنے کی بجائے مزید دیر سے آئے گی
اس طرح کا دھمکی بھرا خط پڑھ کر فاطمہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی اسے یقین ہو چلا تھا اس کی بیٹی اِس عمر میں اُسے بھی منصور سے ذلیل کرکے گھر سے نکلوائے گی۔۔۔ فاطمہ آغول کے نمبر پر کال ملانے لگی مگر اس کا موبائل آف تھا ابھی یہ مصیبت کم نہیں تھی کہ منصور آغول کے کمرے میں آگیا
“آغول کہاں پر ہے”
منصور بگڑے ہوئے تیوروں کے ساتھ فاطمہ سے سوال کرنے لگا
“آپ منصور, آپ یہاں کیوں آگئے”
فاطمہ شوہر کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگی اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیپر کو جلدی سے ڈراز میں رکھنے لگی
“فاطمہ میں پوچھ رہا ہوں آغول کہاں پر ہے یونیورسٹی سے عبید کا فون آیا ہے وہ مجھ سے پوچھ رہا ہے آغول یونیورسٹی کیوں نہیں پہنچی ٹرپ پر نکلنے کے لئے اسٹوڈنٹس کی وین تو نکل چکی ہے۔۔۔ میں پوچھتا ہوں آغول کو یونیورسٹی کی طرف سے ٹرپ پر جانے کی پرمیشن کس نے دی”
پروفیسر عبید منصور کا اچھا دوست تھا جس نے تھوڑی دیر پہلے اس کے موبائل پر کال کی تھی اور منصور غصے میں آغول کے کمرے میں آیا تھا
منصور کی بات سن کر فاطمہ مزید پریشان ہوگئی اگر آغول یونیورسٹی نہیں پہنچی تھی تو اس وقت کہاں تھی اور اس کا موبائل کیوں آف تھا فاطمہ کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اس نے رونا شروع کردیا منصور نے فاطمہ کو روتے ہوئے دیکھا تو دراز کھول کر پیپر نکال کر پڑھنے لگا جسے پڑھنے کے بعد اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا
****
وہ بیزاری سے بیڈ پر لیٹی ہوئی ہوش و خروش سے بیگانہ اس چھوئی موئی سی لڑکی کو دیکھنے لگا جہانگیر اسے قریبی اسپتال لےکر آگیا تھا جہاں اس کی ٹانگ کا ایکسرے ہوا جس پر ہیئر لائن فریکچر بتایا گیا اور ساتھ ہی تھری ویکس کا بیڈ ڈریس بھی
ڈاکٹر نے اس کی ٹانگ پر کچا پلاسٹر چڑھا دیا تھا اور درد کی وجہ سے اسے پین کلر کا انجیکشن دے دیا تھا جس کے زیر اثر وہ دنیا پر احسان کرتی ہوئی مزے سے نیند لے رہی تھی تھوڑی دیر پہلے اس کے پاس شکیل کی کال آئی تھی وہ شکیل کو بیس منٹ میں آنے کا کہہ چکا تھا مگر اس وقت تو وہ بےزار ہوکر اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا کچھ سوچنے کے بعد اس نے آغول کی پہنی ہوئی جیکٹ کی جیبوں میں موبائل تلاش کیا مگر موبائل اسے کیپری کی پاکٹ سے چھلکتا ہوا نظر آیا جو اس نے آغول کے چہرے پر نظر ڈال کر اس کی پاکٹ سے نکالا موبائل آف تھا ان کرتے ہی وہ مما کے نام سے بلنگ کرنے لگا جہانگیر نے شکر ادا کرتے ہوئے کال ریسیو کی مگر اس کے بولنے سے پہلے کوئی خاتون بول اٹھی
“آغول تمہیں ہماری عزت کا کچھ احساس ہے کہ نہیں کس قدر ہٹ دھرم اور ضدی ہوچکی ہو تم گھر والوں کو یوں بغیر انفارم کیے ہفتے بھر کے لئے ٹرپ پر جارہی ہو تم۔۔۔ تمہیں معلوم ہے اس وقت منصور کتنے غصے میں ہے وہ تمہاری یونیورسٹی پہنچے ہوئے ہیں کہاں پر ہو تم خدارا واپس گھر آجاؤ”
فاطمہ جب سے مستقل روئے جارہی تھی اور آغول کا نمبر بار بار ٹرائے کررہی تھی جبکہ منصور آغول کی یونیورسٹی پہنچ گیا تھا
“دیکھیے میم آغول شاید آپکی بیٹی کا نام ہے دراصل آپ کی بیٹی صبح میری کار سے ٹکرا گئی تھی میں انہیں ہسپتال لے آیا ہوں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے معمولی سا فریکچر ان کے پاؤں میں آیا ہے وہ دواؤں کے زیر اثر اس وقت سو رہی ہیں۔۔۔ آپ مہربانی کرکے ہوسپٹل کا ایڈریس اور روم نمبر نوٹ کرلیں میں یہاں زیادہ دیر تک رک نہیں سکتا”
جہانگیر نے فاطمہ کو ایڈریس نوٹ کروانے کے بعد موبائل رکھا اب وہ تاسف بھری نظروں سے آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹی ہوئی آغول کو دیکھ رہا تھا یعنی کار میں وہ جہانگیر کو ٹھیک بول رہی تھی وہ واقعی چوری چھپے اپنے گھر سے بھاگ رہی تھی
اس لڑکی پر تو ترس کھانا ہی نہیں چاہیے تھا اچھا ہوتا جو اس کی ٹانگ ٹوٹ جاتی اور وہ تین ہفتے کی بجائے چھ مہینے تک بستر پر لگی رہتی کم از کم گھر والوں کو اس کے بھاگنے کا خدشہ تو لاحق نہ ہوتا۔۔۔ جہانگیر ناگوار نظر آغول پر ڈال کر روم سے نکل گیا اس کا بیگ کار سے نکال کر وارڈ بوائے کے ہاتھوں آغول کے روم میں پہنچا کر وہ ہاسپٹل سے چلاگیا
****
“اس ٹرک کو چیک کیوں نہیں کیا جارہا شکیل”
جہانگیر ابھی چیک پوسٹ پر پہنچا ہی تھا کہ دور سے اس نے کونسٹیبل کی کارروائی دیکھی جوکہ ٹرک کا نمبر نوٹ کرنے کے بعد بغیر چیکنگ کیے ایک ٹرک کو کلیئر کرتا ہوا جانے کا اشارہ کررہا تھا جہانگیر بیریئر واپس گروا کر ٹرک کی چابی ڈرائیور سے لیتا ہوا شکیل کے پاس آیا
“سر کمشنر صاحب کے آرڈرز تھے کے اس ٹرک کو جانے دیا جائے”
انسپیکٹر شکیل کھڑا ہوکر جہانگیر کو سلوٹ کرتا ہوا بتانے لگا شکیل کی بات سن کر جہانگیر سر جھٹکتا ہوا چابی خود ٹرک ڈرائیور کو دینے آیا
“کیا ہے اس ٹرک میں”
جہانگیر ہاتھ میں پکڑی اسٹک ٹرک پر بجاتا ہوا ٹرک ڈرائیور سے پوچھنے لگا
“صاحب موسمی پھل ہیں۔۔۔ سیب اور سنترے”
ڈرائیور کا جواب سن کر جہانگیر نے چابی ڈرائیور کو تھمائی
“ایپلز اور اورنجز”
جہانگیر نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔۔
“ایپلز اور اورنجز”
کچھ سوچتے ہوئے اس نے دوبارہ دھرایا
“ایپلز اور اورنجز”
اسے اپنے موبائل پر آیا ہوا اجنبی نمبر سے میسج یاد آیا۔۔ دماغ نے انڈیکیشن دی تو بےساختہ اسکی نظر ٹرک کی نمبر پلیٹ پر گئی
“ARG 2012”
“اوئے اتر واپس”
جہانگیر بھاگتا ہوا ٹرک ڈرائیور کے پاس پہنچا۔۔۔ وہ جو ٹرک میں بیٹھ کر ٹرک کا دروازہ بند کررہا تھا جہانگیر اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچ کر نیچے اتارتا ہوا چیختا
“شکیل، اسلم، راشد۔۔۔ ٹرک کی تلاشی لو اچھی طرح”
جہانگیر ٹرک ڈرائیور کو گریبان سے پکڑ کر ان تینوں سے مخاطب ہوتا ہوا تیز آواز میں بولا
“مگر سر وہ کمیشنر صاحب”
شکیل نے اسے ایک بار پھر یاد دلانا چاہا
“تم سب اس وقت ایس۔پی جہانگیر کے انڈر ہو۔۔۔ فولو مائے آرڈرز”
جہانگیر شکیل کو سخت لہجے میں بولا
وہ تینوں ہی ٹرک کے اندر داخل ہوئے جوکہ لکڑی کی پیٹیوں سے بھرا ہوا تھا
“سر اس میں تو سیب اور سنتروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے”
اسلم ایک کے بعد ایک پیٹیاں کھولتا ہوا، پیٹیوں کی اچھی طرح چھان بین کرتا ہوا بولا باقی وہ دونوں بھی تیزی سے پیٹیاں کھول رہے تھے
“سنترو کا ذائقہ چیک کرو اسلم”
ٹرک ڈرائیور کو سب انسپکٹر کے حوالے کرتے ہوئے جہانگیر اسلم کو بولا
“بہت میٹھا ہے سر حکم کریں دو پیٹیاں آپ کے گاڑی میں رکھوا دو”
اسلم کی بات سن کر جہانگیر نے اسے سخت نظروں سے گھورا
“ڈیوٹی کے وقت مسخرہ پن نہیں تلاشی اچھی طرح لو”
جہانگیر اس وقت بالکل سنجیدہ تھا
“یہ دیکھئے سر”
انسپکٹر شکیل کے حیران کن آواز پر جہانگیر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا
ُپیٹی کے اندر ایک اور لکڑی کا پتلا سا تختہ نسب کیا گیا تھا جس میں بھاری مقدار میں سفید پاؤڈر کی تھیلیاں چھپائی گئی تھی۔۔۔ 20 سیب کی پیٹیوں میں سے جبکہ 12 سنترو کی پیٹیوں میں سے سفید پاؤڈر کی تھیلیاں برآمد کی گئی تھی۔۔۔
جہانگیر کو اپنے پاس آئے ہوئے میسج کا مقصد سمجھ میں آیا تھا
