Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 38)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
مشکل سے چند پل ہی گزرے تھے تب زور زور سے گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی جیسے کوئی گھر سے باہر گیٹ پر بری طرح گولیاں برسا رہا ہو جہانگیر ایک دم اٹھ کر بیٹھا آغول بھی گولیوں کی آواز سن کر بیڈ پر بیٹھ گئی کوئی گھر کا دروازہ کھول کر گھر کے اندر داخل ہوچکا تھا جہانگیر نے پھرتی سے بیڈ کے سائڈ ٹیبل کی دراز سے اپنا سے پسٹل نکالنا چاہا پر اسے محسوس ہوا کوئی باہر برامدے میں چلتا ہوا بیڈروم کی کھڑکی کے نزدیک آرہا ہے وہ بنا ریوالور لیے آغول کو کھینچ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر نیچے بیٹھ گیا
گولیوں سے فائر کرکے بیڈروم کی کھڑکیوں کے شیشے توڑے گئے تھے آغول گولیوں کی آواز سن کر بےتحاشا ڈر گئی صرف دو منٹ کی خاموشی کے بعد دوسرے بیڈروم پھر ڈرائنگ روم کی کھڑکیوں پر گولیاں چلنا شروع ہوئی وہ جو بھی کوئی تھا کمروں کے اندر داخل ہونے کی بجائے برامدے میں کھڑا گھر کے کمروں کی ساری کھڑکیوں اور دروازوں پر گولیاں برسا رہا تھا
آغول نے ڈر کے مارے رونا چاہا تو جہانگیر نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اس کی نظر صرف بیڈروم کے بند دروازے پر تھی اور کان صرف قدموں کی آہٹ پر وہ جو بھی کوئی تھا آسانی سے لاونج یا ڈرائنگ روم کے دروازے سے اندر داخل ہوسکتا تھا مگر وہ باہر کھڑا ہی گولیاں چلا رہا تھا جیسے مقصد صرف خوف زدہ کرنا یا دھمکانہ ہو اب گولیوں کی بوچھاڑ سنّاٹے میں تبدیل ہوگئی تھی دس منٹ بعد باہر کا گیٹ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی شاید وہ واپس چلا گیا تھا جہانگیر نے اٹھنا چاہا تو آغول نے اس کا گریبان سختی سے پکڑ لیا وہ نفی سر ہلا کر اشارہ سے منع کررہی تھی ساتھ ہی بےآواز رو بھی رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ جہانگیر کہیں بھی جائے تب جہانگیر نے اس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹایا اور اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتا ہوا اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا آہستہ سے وہ کھڑکی کے پاس آیا جہاں کمرے میں اندر کی طرف کانچ کے ٹکڑے پڑے تھے
کھڑکی سے جھاکنے کے بعد اسے باہر کا منظر صاف لگا وہ بھاگ کر دراز سے اپنی پسٹل نکال کر آغول پر نظر ڈالتا ہوا اور بیڈ روم سے باہر نکلا اور بیڈروم کے دروازے کو لاک کردیا محتاط انداز میں چلتا ہوا اس نے نظروں اور دماغ چاک و چوبند رکھا گھر کے تمام کمرے کلیئر تھے کھڑکیوں کے کانچ بکھرے پڑے تھے البتہ باہر نکل کر اس نے زخمی گارڈ کو دیکھا اور شکیل کو کال کرنے لگا
****
کل رات ہونے والے واقعے کے پیچھے صرف اور صرف کاشف زیری کا ہی ہاتھ ہوسکتا ہے وہ اسے دھمکانا یا خوفزدہ کرنا چاہتا تھا یا پھر اپنی طاقت دکھانے کے لیے اوہچی حرکتوں پر اتر آیا تھا اب وقت آگیا تھا کہ جہانگیر بھی اسے کچھ کر دکھائے
اپنا یونیفارم پہن کر پسٹل کو چیک کرتا ہوا وہ کار کی کیز لےکر گھر سے باہر نکلا
کل کی ساری رات اس نے تقریبا جاگ کر گزاری تھی آغول کل رات کافی ڈر گئی تھی بار بار وقفے وقفے سے ساری رات خوف کے مارے اس کی آنکھ کھلتی رہی جہانگیر اسے اپنے جاگنے کا یقین دلاتا رہا تاکہ وہ اطمینان سے سوجائے
جہانگیر کی صبح چھ بجے کے قریب دو گھنٹے کے لئے آنکھ لگی تھی سب سے پہلے اس نے اٹھ کر آغول کو اس کے میکے چھوڑا وہ اکیلے جانے کے لیے یا رکنے کے لیے تیار نہیں تھی تب جہانگیر نے اسے بولا کہ وہ اسے رات کو واپس لے آئے گا آغول کا گھر میں یوں اکیلے رہنا سیف ہرگز نہ تھا اس نے آج ہی پہلی فرصت میں گھر کے اور مین ڈور کے لاک چینج کروائے گھر کی تمام کھڑکیوں پر بلٹ پروف شیشے لگوائے گھر کے باہر سکیورٹی پرپز سے کیمرے پہلے سے ہی لگے ہوئے تھے اب اس نے گھر کے اندر بھی لگوادیے گھر کے سارے کام کروانے کے بعد اس نے دوسرے گارڈ کا انتظام کیا
پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے اس نے کار کا رخ کاشف زیری کے گھر کی طرف کیا نام اور شناخت کے بعد جہانگیر اپنی گاڑی کاشف زیری کی کوٹھی کے اندر لےکر آیا کاشف زیری باہر لان میں ہی کرسی پر براجمان تھا اس کا ایک ملازم اور جنید بھی وہی موجود تھے جو اسکے پیچھے کھڑے تھے جہانگیر اپنی کار پارک کرتا ہوا اس کے پاس آیا
“آؤ ایس پی کہو کیسے آنا ہوا”
کاشف زیری جہانگیر کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جہانگیر نے اس کے سامنے کھڑے ہوکر بیلٹ ہوسلٹر سے پسٹل نکالی ویسے ہی جنید نے بھی اپنی پسٹل نکالی جہانگیر نے غصے میں گھور کر اسے دیکھا اور دو قدم کا فاصلہ طے کرکے جنید کے پاس پہنچا
“پولیس کو ہتھیار دکھاتا ہے”
بولنے کے ساتھ ہی جہانگیر نے دو تھپڑ جنید کے منہ پر مارے
جنید کو مارنے کے بعد اس نے پسٹل کا رخ لان میں لگے بلب کی طرف کیا اس پر فائر مارنے کے بعد اس نے کاشف زیری کی گاڑی پر تین سے چار فائر کیے
“ایس پی”
کاشف زیری غصے میں جہانگیر کو دیکھ کر چیخا تو جہانگیر نے اپنی پسٹل کا رخ اس کے سامنے کیا
“تم میرے گھر میں گھس کر کچھ زیادہ ہی شور کررہے ہو”
کاشف زیری کرسی سے اٹھ کر جہانگیر سے بولا وہ کافی دیر سے پولیس والے کی غنڈہ گردی اپنے گھر میں دیکھ رہا تھا جہانگیر چلتا ہوا کاشف زیری کے پاس آیا اور ٹیبل پر رکھا ہوا چائے کے کیٹل پر فائر کیا کاشف زیری غصے ضبط کرتا اسے دیکھنے لگا
“یہ آنکھ مچولی بند کردو زیری آئندہ اگر تم نے میرے گھر کی طرف یا میری بیوی کی طرف بری نظر سے دیکھا تو مجھے کسی وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوگی میں اپنی ایمانداری کو ایک طرف رکھ کر اس پسٹل میں موجود ساری کے ساری گولیاں تمہاری اس کھوپڑی میں بھر دوں گا”
جہانگیر کاشف زیری کو بولتا ہوا واپس جانے لگا تبھی پیچھے سے جنید نے پسٹل کا رخ جہانگیر کی پشت پر کیا
“بےوقوفی مت کرو جنید پسٹل نیچے کرو وہ یہاں ایسے ہی نہیں آیا ہوگا اپنی سیفٹی کا پورا انتظام کرکے آیا ہوگا”
کاشف زیری جنید کو دیکھتا ہوا بولا اور پھر جہانگیر کو دیکھنے لگا جو اپنی کار میں بیٹھ کر گیٹ سے باہر نکل گیا
****
صبح سے ہی آغول گھر پر میں آئی ہوئی تھی اسے اچھا خاصہ ٹائم دینے کے بعد وہ فاطمہ کی اجازت پر ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ مال آگئی تھی جہاں سے اسے اپنی ضرورت کی چیزیں لینی تھی وہ ابھی کار میں بیٹھنے کا ارادہ رکھتی تھی تب اس کا موبائل بجنے لگا
“کیا ہوا بیوی کی یاد آرہی ہے دل نہیں لگ رہا بیگم کے بنا”
اسلام کے بعد عینا جہانگیر سے پوچھنے لگی اور کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی
“بیوی کی یاد آتی تو اس کو کال ملاتا اس وقت میں نے اپنی بہن سے خیریت پوچھنے کے لیے کال کی ہے” جہانگیر اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود تھا تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے آغول کو کال ملا کر رات کو ریڈی رہنے کا بولا تھا تب آغول سے عینا کا پوچھنے پر اسے معلوم ہوا کہ وہ آؤٹ ہے تبھی جہانگیر نے عینا کو کال ملائی
“میں ٹھیک ہوں بھائی رات میں آرہے ہیں نہ آپ گھر”
عینا ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کرتی ہوئی جہانگیر سے پوچھنے لگی
“نہیں یار آج تھوڑا بزی ہو بس آغول کو رات میں لےکر گھر نکلو گا تم رونی کے ساتھ چکر لگاؤ بلکہ ایسا کرو کل تم دونوں ہمارے ساتھ ہی ڈنر کرلو”
جہانگیر نے بیٹھے بیٹھے خود ہی پروگرام بناتے ہوئے عینا کو بولا
“کل کا تو بہت مشکل ہوجائے گا کل تو روحان بھی بہت لیٹ گھر آئے گے کل دراصل کچھ ضروری سامان شپ پر پہنچانا ہے جو روحان اپنی نگرانی میں ہی پہنچائے گے”
عینا جہانگیر کو کل نہ آنے کا جواز بتانے لگی اور جہانگیر کا دماغ کہیں اور ہی چلا گیا
“عینا کیا رونی کی کمر پر k کا ٹیٹو ابھی تک موجود ہے”
جہانگیر نے عینا سے ایک دم سے سوال کیا
“جی۔۔۔ میرا مطلب ہے نہیں۔۔۔ کونسا ٹیٹو”
عینا جو کہ اچانک سے پوچھے گئے سوال پر بےساختہ جی بول چکی تھی مگر روحان کا ردعمل یاد آنے پر وہ بات سنبھالتی بھی انجان بن کر الٹا جہانگیر سے پوچھنے لگی
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔ اچھا میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں ابھی کچھ کام یاد آگیا ہے”
جہانگیر کال کاٹ چکا تھا اور اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا
عینا کا پہلے اقرار کرنا اور پھر بات کو سنبھالتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کرنا اسکی بہن کیا کچھ جانتی تھی روحان کے بارے میں یہ وہ بعد میں باتوں باتوں میں اندازہ لگالے گا مگر یہ تو کنفرم تھا روحان کی کمر پر وہ ٹیٹو موجود ہے اور کل روحان کی شپ میں واقعی لڑکیوں کو اللیگل دوسرے ملک بھیجا جارہا ہے
کیا صرف آغول کو ہی خطرہ تھا اس کی اپنی بہن کہا سیف تھی جہانگیر کو اب عینا کی بھی فکر ہونے لگی اسے نہیں لگتا تھا کہ روحان عینا کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر اسے کاشف زیری کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اسے یقین تھا کل جو کچھ اس کے گھر ہوا اور پرسوں جو لوگ آغول کو لینے آئے تھے روحان ان سب باتوں سے انجان ہوگا اس نے آج صبح آغول کو سختی سے منع کیا تھا کہ اپنے گھر میں فلالحال کوئی بات نہیں بتائے گی وہ روحان کو الرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا اسے کل کا انتظار تھا جب شپ پر وہ روحان کو رنگے ہاتھ پکڑے گا
****
“بھائی کو کیسے معلوم ہوگیا روحان کی کمر پر اس ٹیٹو کے بارے میں شکر ہے میں نے بات سنبھال لی عینا جہانگیر کی کال رکھتی ہوئی سوچنے لگی کار سگنل پر رکی تب اس کی نظر روحان کی گاڑی پر پڑی جو کہ تین سے چار گاڑیوں آگے کھڑی تھی عینا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اس نے اپنا موبائل بیگ سے نکالا
“کہاں پر ہیں کیا کررہے ہیں”
عینا نے روحان کو ٹیکس کرکے پوچھا تو اسے روحان کا میسج موصول ہوا
“آفس میں ہوں تھوڑا بزی ہو جان خیریت”
روحان کا میسج پڑھنے کے بعد عینا اس کی کار کو گھور کر دیکھنے لگی جو کہ سگنل کھلنے پر اسٹارٹ ہوچکی تھی
“خیریت ہے بس یاد آرہی تھی آپ کی”
عینا نے میسج سینڈ کرتے ہوئے ڈرائیور سے روحان کی کار کو فالو کرنے کو کہا وہ اپنے مجازی خدا کو اس کے جھوٹ پر تھوڑا سا شرمندہ کرنے کے بعد گھر جانا چاہتی تھی
“سی یو سون ڈارلنگ”
روحان کا میسج کافی دیر بعد اسے موصول ہوا جب ڈرائیور نے کار الکینگ ہوٹل کے گیٹ پر روکی
“میم کیا کار ہوٹل کے اندر لےکر جانی ہے”
ڈرائیور عینا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا کیوکہ روحان کی کار اندر جاچکی تھی
“نہیں تم ایسا کرو گھر کے لیے نکل جاؤ میں روحان کے ساتھ آجاؤ گی”
عینا کار سے اترتی ہوئی ڈرائیور کو بولی اور ہوٹل کے اندر چلی گئی
روحان سے تھوڑا فاصلہ رکھتے ہوئے وہ اس کے پیچھے جانے لگی
“آپ یہاں کہاں جارہی ہیں میڈم آگے کوئی راستہ نہیں”
وہ واقعی ایک انجان سا راستہ تھا جہاں سے سیڑھیاں اتر کر روحان ہوٹل کے اندر گیا تھا عینا اس کے پیچھے جانے لگی تبھی وہاں ایک گارڈ گن ہاتھ میں لیے کھڑا تھا عینا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“راستہ کیسے نہیں ہے ابھی میرے ہسبنڈ اندر گئے ہیں مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے راستہ دیں پلیز”
عینا گارڈ کو دیکھتی ہوئی بولی تو گارڈ نے اس خوبصورت سی لڑکی کو دیکھا جو کہ خود ہی دلدل میں پھنسنے کو جارہی تھی پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ اس نے عینا کو جانے دیا
اندھیرا کافی زیادہ تھا عینا سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے پہنچی وہاں پر لفٹ موجود تھی اور باقی جگہ سنسان تھی یقیناً روحان اس لفٹ میں ہی کہیں گیا ہوگا کیونکہ وہاں کوئی اور دوسرا راستہ موجود نہیں تھا
عینا کو لگا اسے یہاں سے واپس چلے جانا چاہیے مگر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ لفٹ کے اندر چلی گئی لفٹ میں موجود بٹن دبانے پر لفٹ مزید نیچے یعنی انڈرگراؤنڈ جانے لگی
وہ بےحد آئستہ سے قدم اٹھاتی ہوئی آگے بڑھی ایک پتلی سی گلی جو الٹے ہاتھ کو مڑتی تھی وہی اسے روحان کی آواز آنے لگی وہ کسی سے موبائل پر بات کررہا تھا عینا مڑنے کی بجائے دیوار سے چپک کر ہلکا سر نکال کر روحان کو دیکھنے لگی
روحان اپنا موبائل پاکٹ میں رکھ رہا تھا اور دیوار پر لگے بٹن کو دبا رہا تھا جو اسے کلیئر نہیں دکھائی دے رہے تھے بٹن دبانے سے وہاں پر ایک دروازہ کھلا اور روحان اندر چلا گیا
“روحان کہاں چلے گئے ہیں یہ کیسی پوری اسرار جگہ ہے مجھے شاید واپس چلے جانا چاہیے”
عینا کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ لفٹ کی طرف بڑھی مگر لفٹ سے ایک آدمی نکلا جو اسے دیکھ کر چونکا عینا اچانک کسی اور آدمی کی آمد پر ایک دم ڈر گئی وہ لفٹ کی طرف بڑھنے لگی
“کون ہو تم کیا کررہی ہو یہاں پر, کیسے آئی اس جگہ”
جنید عینا کی کلائی پکڑ کر پوچھنے لگا اکیلی کسی لڑکی کا اس جگہ پر آنا خطرے سے خالی نہیں کیا کیونکہ اس جگہ کو کوئی نہیں جانتا تھا نہ جانے یہ لڑکی غلطی سے آگئی تھی یا پھر جاسوسی کررہی تھی
“یہ کیا بدتمیزی ہے آپ نے ہاتھ کیوں پکڑا میرا ہاتھ چھوڑیں”
عینا اچانک اس اجنبی کے ہاتھ پکڑنے سے گھبرا گئی وہ ڈرنے کے باوجود سخت لہجے میں بولی
“جو بھی کوئی ایک دفعہ غلطی سے یہاں آجائے وہ واپس نہیں جاسکتا اب تم بھی واپس نہیں جاؤں گی”
جنید اس خوبصورت لڑکی کو دیکھتا ہوا بولا جو اسے دیکھی دیکھی لگ رہی تھی مگر وہ یہاں کی قیدی ہرگز نہ تھی مُفت ہاتھ لگا خوبصورت مال وہ لوگ بھلا کہا چھوڑنے کے عادی تھے اس لیے وہ عینا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا
“چھوڑئیے میرا ہاتھ یہاں میرے ہسبنڈ آئے تھے میں ان سے آپکی شکایت کردو گی پلیز ہاتھ چھوڑیں”
جنید عینا کی کلائی پکڑتا ہوا اسے لے جارہا تھا عینا کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس سے کیسے اپنا ہاتھ چھڑائے وہ وہاں پر نہیں جانا چاہتی تھی جہاں وہ آدمی اسے لے جارہا تھا
عینا کی باتیں سننے کے باوجود جنید اس کا ہاتھ پکڑا ہوا اُسے اس خفیہ جگہ پر لے آیا تھا عینا جیسے جیسے اس کے ساتھ قدم بڑھانے پر مجبور تھی ویسے ویسے اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا وہاں پر لڑکیوں کو اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو قید کیا گیا تھا
“پلیز مجھے نہیں جانا یہاں… مجھے واپس جانے دو”
عینا روتی ہوئی اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی تبھی جنید نے ہاتھ کی مٹھی میں اس کے بالوں پکڑا اب وہ عینا کو اندر کی طرف ایک کمرے میں لےکر جارہا تھا
