Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 23)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

روحان نے کار کو بریک لگائی تو عینا اسے دیکھنے لگی وہ اس وقت پورٹ پر موجود تھے چند قدم کے فاصلے سے دور پانی میں شپ کھڑا تھا اندھیرے کی وجہ سے ہر طرف بتیاں جل رہی تھی شپ بھی روشنیوں سے جگمگا رہا تھا تھوڑی دیر پہلے ہی ان کا فنکشن اپنے انجام کو پہنچا تھا آغول کو رخصت کرنے کے بعد روحان عینا کو کار میں بٹھا کر یہاں لے آیا تھا

“ہم اس وقت یہاں پر کیوں آئے ہیں روحان”

روحان نے کار سے باہر نکل کر عینا کی طرف کا دروازہ کھولا تو عینا کار سے اترتی ہوئی کنفیوز ہوکر اس سے پوچھنے لگی

“آج کی رات کو مزید حسین اور یادگار بنانے”

روحان اپنے چہرے پر مخصوص مسکراہٹ لائے عینا کو دیکھتا ہوا بولا پورا فنکشن گزرنے کے بعد اب وہ تفصیل سے اس کا جائزہ لے رہا تھا فون کلر کی میکسی میں کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی روحان مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتا ہوا اسے شپ کی طرف لے جانے لگا شپ سے چند قدم دور کھڑے گارڈ کی طرف اس نے اپنی کار کی چابی اچھالی

“کار پارک کرو اور کار سے بیک نکال کر شپ میں پہنچاوں”

روحان کی بات سن کر گارڈ سرہلا کر حکم کی تعمیل کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا روحان عینا کا ہاتھ تھام کر میکسی کی وجہ سے محتاط انداز میں اس کو سیڑھیوں کے اسٹیٹ چڑھانے میں مدد دینے لگا رہا

آج اس کی شادی کا دوسرا دن تھا اور دوسرے ہی دن اس نے عینا کے چہرے پر اداسی دیکھی تھی صبح والے واقعہ کے بعد تو وہ اس کو بہلا چکا تھا مگر وہ اپنی دی جان کو دیکھ کر رو رہی تھی پھر جب وہ آغول سے بات کررہا تھا تو روحان کو اندازہ نہیں تھا کہ عینا اس کی باتیں سن رہی ہوگی وہ جو کچھ جیڈی کے متعلق کہہ رہا تھا یقیناً عینا اس سے ہرٹ ہوئی ہوگی کیوکہ وہ اپنے بھائی سے محبت کرتی تھی

روحان روم میں آنے کے بعد اس کو وضاحت بھی دے سکتا تھا مگر اس نے عینا کو دوسرے طریقے سے منانے کا سوچا وہ دونوں شپ پر پہنچے تو عینا نے دیکھا روحان نے اس بار شپ کو سرخ گلابوں سے ڈیکوریٹ کروایا تھا ساتھ ہی شپ پر لائٹز روشن تھی عینا نے روحان کی طرف دیکھا جو مسکراتی نظروں سے عینا کو ہی دیکھ رہا تھا

“آغول تھوڑی ٹینس تھی آج شام میں, اسے اسی انداز میں بہلانا پڑتا ہے چھوٹی بہن ہے وہ میری اور اس سے مجھے بہت پیار ہے اس لیے اس کے اور جیڈی کے رشتے کا سوچ کر میں بھی تھوڑا اپ سیٹ ہوگیا تھا مگر یہ بھی سچ ہے میں جیڈی اور آغول کے رشتے کو لےکر ہمارے رشتے کے بیج کوئی مس انڈراسٹینڈنگ نہیں چاہتا”

روحان نے بولتے ہوئے عینا کو خود سے قریب کیا تو گارڈ روحان کا بیگ لےکر شپ کے اندر داخل ہوا جلدی سے عینا دور ہوئی روحان کے اشارہ کرنے پر وہ بیگ اندر روم میں لے گیا

“ڈنر کو کیوں منع کردیا تھا تم نے” روحان عینا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“اس وقت دل نہیں چاہ رہا تھا مگر اس وقت بہت زور کی بھوگ لگ رہی ہے آپ نے تو میرے بغیر ڈنر کرلیا ہوگا”

عینا روحان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“میں ایسی گستاخی کرسکتا ہوں بھلا رکو پہلے ڈنرکا بول کر آتا ہوں”

روحان اس کو بولتا ہوا شپ پر موجود چھوٹے سے کچن کی طرف چلا گیا تھوڑی دیر میں انجن اسٹارٹ ہوا اور شپ چلنے لگا

“یہ ناز نخرے صرف ابھی کے لیے ہیں یا ساری زندگی یونہی ناز نخرے اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں آپ”

روحان واپس آیا تو عینا اس سے دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر روحان نے قہقہہ لگایا

“جب تم سے محبت کرلی ہے اپنا بنالیا ہے تو نخرے بھی ساری عمر اٹھا سکتا ہوں تم بیشک سارے ناز اٹھوا لینا نخرے بھی دکھا لینا وہ تو ویسے بھی لڑکیوں کا حق ہوتا ہے مگر زیادہ ٹائم کے لیے مجھ سے ناراض مت رہنا جلدی مان جایا کرنا”

روحان بولتا ہوا عینا کے قریب آیا اس کی طرف جھکنے لگا تبھی وہاں پر ایک لڑکا آیا اور ٹیبل کرسیاں رکھنے لگا اب کی بار روحان کو پیچھے ہٹنا پڑا جس پر وہ کافی بدمزہ ہوا جبکہ عینا کو اس کی شکل دیکھ کر ہنسی آنے لگی تھوڑی دیر بعد وہ دونوں ڈنر کرکے روم کے اندر چلے گئے

***

نہ جانے دی جان کے کون کون سے ارمان تھے جو رسموں کی صورت پورے کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر وہ پورے نہیں ہورہے تھے اور آغول کافی دیر سے بےتکی رسمیں دیکھ کر بری طرح اُکتا چکی تھی

“دی جان میرے خیال میں آغول تھک گئی ہے اسے میں اس کے روم میں چھوڑ کر آتی ہوں”

رحجاب آغول کے فیس ایکسپریشن دیکھتی ہوئی بولنے لگی

“اس نے کون سا فٹ بال کھیلی ہے جو تھک گئی ہے آج دی جان کو جی بھر کے کسر نکالنے دو اگر کوئی ارمان ادھورا رہ گیا تو ساری زندگی مجھ سے شکوہ کریں گیں”

جہانگیر جو کہ آغول کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا اس نے رحجات کو دیکھتے ہوئے کہا

“میں دیکھ رہی ہوں بہت انجوائے کررہے ہو تم اپنی شادی کی رسموں کو”

رحجاب سامنے میز پر کھیر کا پیالہ رکھتی ہوئی بولی

“پہلی پہلی شادی ہے نہ اس لیے بھرپور طریقے سے انجوائے کررہا ہوں کچن میں دیکھ کر آؤ شاید کو چولہے پر رکھا ہوا ہے”

جہانگیر سنجیدگی سے رحجاب سے پوچھنے لگا

تھوڑی دیر پہلے چائے رکھی تھی پر ابھی تو چولہا بند ہے”

رحجاب سنجیدگی سے کہنے لگی

“ایسا لگ رہا ہے جیسے دھواں سا اُٹھ رہا ہے خیر چھوڑو دی جان اب اس کھیر کا کیا کریں گی آپ” جہانگیر دلچسپی سے کھیر کو دیکھنے کے بعد دی جان کو دیکھ کر پوچھنے لگا جبکہ آغول سے یہ مراحل ضبط کرنا کس قدر مشکل ہورہے تھے اس کا دل ہی جانتا تھا

“کرنا کیا ہے اس کھیر کو بہو کی ہتھیلی پر رکھنا ہے اور تم بغیر ہاتھ لگائے منہ سے کھاؤ گے”

ایسی خوفناک رسم کے بارے میں سن کر آغول کا منہ اور آنکھیں کھل کر رہ گئی

“اس میں کونسی فنکاری ہے یہ بھی کرلیں گے”

جہانگیر کے بے پرواہ انداز سے آغول کو مزید گھبرا گئی

“کوئی ضرورت نہیں ہے”

بےساختہ آغول کے منہ سے نکلا تو سب اس کو حیرت سے دیکھنے لگے جبکہ جہانگیر اسے کافی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا

“میرا مطلب ہے یہ رسم پہلے کبھی میں نے نہیں دیکھی نہ سنی تو مجھے نہیں معلوم کہ کیا کرنا ہے”

ماحول میں چھائی خاموشی کو نوٹ کرکے اور منصور کی نصیحتوں کو یاد کرکے آغول باری باری سب کو دیکھتی ہوئی بولی

“تمہیں کچھ نہیں کرنا ہے صرف اپنے اس نازک سے ہاتھ کو آگے کر کے اس پر کھیر کو بیلنس کرنا ہے, رکھیں بھئی دی جان اپنی بہو کے ہاتھ پر کھیر”

بولنے کے ساتھ ہی جہانگیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا جہانگیر نے اس کا ہاتھ اتنی سختی سے پکڑا تھا کہ آغول کسی کے سامنے چو تک نہ کرسکی متلی اس کو تب ہوئی جب کھیرا کو چمچے سے نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھا گیا

“ہاں بھئی جہانگیر اب یہ کھیر بنا ہاتھ لگائے کھا کر بتاؤ تو مان جائیں گے”

فرزانہ خالہ نے آغول کی کلائی پکڑتے ہوئے جہانگیر کو دیکھ کر کہا

“اس میں کونسی بڑی بات ہے”

جہانگیر بولتا ہوا جیسے ہی آغول کی ہتھیلی کی طرف کھیر کھانے کے لئے جُھکا فرزانہ خالہ نے آغول کا ہاتھ فوراً پیچھے کردیا اور رحجاب اس کی ہتھیلی سے کھیر کھا چکی تھی آغول ہونقوں کی طرح ان کی یہ رسم دیکھ رہی تھی ساتھ ہی اسے ومٹ کا احساس ہونے لگا

“یہ غلط ہے یار پہلا نوالا تو میرے کھانے کا بنتا تھا شادی تو میری ہوئی ہے”

جہانگیر رحجاب سے ناراض ہوتا ہوا بولا

“اوہو مر کیوں رہے ہو ابھی چھ بار آغول کے ہاتھ پر رکھی جائے گی تب کھیر کھانے کی کوشش کرلینا دیکھتے ہیں کون جیتا ہے کیوں دی جان سہی کہہ رہی ہوں نہ میں”

رحجاب جہانگیر کو بولتی ہوئی دی جان سے کنفرم کرنے لگی جس پر آغول کے اوسان خطا ہوئے

اس کے بعد واقعی 6 بار آغول کی ہتھیلی پر کھیر رکھی گئی جسے رحجاب نے بھرپور طریقے سے کھانے کی کوشش کی مگر ہر دفعہ وہ کھیر جہانگیر نے بغیر ہاتھ لگائے آغول کی ہتھیلی سے کھائی جس سے آغول کو لگا وہ بےہوش ہوجائے گی

“یہ لو ٹشو اپنے ہاتھ صاف کرلو”

رحجاب نے آغول کی طرف ٹشو بڑھاتے ہوئے کہا

“مجھے ہینڈ واش کرنے ہیں”

آغول نے بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ کہا

“آؤ میں تمہیں لے جاتی ہوں”

رحجاب نرمی سے آغول کو دیکھتی ہوئی بولی تو صوفے سے اٹھ گئی اس کے بعد رحجاب اغول کو جہانگیر کے روم میں بٹھا کر آگئی

****

شپ کے روم کو بھی اندر سے پورا گلابوں سے سجایا گیا تھا عینا روم کے اندر پہنچ کر پورے روم کا جائزہ لینے لگی تبھی پیچھے سے روحان نے آکر اسے تھاما

“یہ شپ کیا ساری رات یوں ہی چلتا رہے گا ہم کہاں جارہے ہیں”

عینا اپنے چہرے کا رخ روحان کی طرف کرتی ہوئی اسے پوچھنے لگی

“تمہیں اغوا کرکے سب کی نظروں سے بہت دور لےکر جارہا ہوں جہاں تمہیں میرے علاوہ اور کوئی نہ دیکھ سکے”

روحان اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا بولا پھر اس نے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا موبائل نکالا اور سونگ پلے کیا اب وہ عینا کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا عینا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا

“کیا آپ کو کپل ڈانس کرنا آتا ہے”

روحان اپنے دونوں اسکی کمر پر رکھ عینا کو خود سے نزدیک کرچکا تھا تب عینا اپنے دونوں ہاتھ اسکے شولڈرز پر رکھتی ہوئی روحان سے پوچھنے لگی

“نہیں”

روحان نے بہت کونفیڈنس سے جواب دیا جس پر عینا ہنسنے لگی

“ہنسی کیو آرہی ہے تمہیں”

روحان ڈانس کے اسٹیٹ کرتا ہوا عینا سے پوچھنے لگا

“کیونکہ یہ ڈانس تو مجھے بھی نہیں آتا پھر کرنے کی ضرورت کیا ہے”

روحان سے ڈانس کے اسٹیٹ لیتے ہوئے اناڑی پن صاف چھلک رہا تھا اور عینا نے بھی یہ ڈانس صرف کپل کو کرتے دیکھا تھا اسی کے مطابق اندازے سے کررہی تھی تبھی وہ ہنستی ہوئی بولی روحان کو خود بھی اپنی بچکانہ حرکت پر ہنسی آرہی تھی مگر وہ انجوئے کررہا تھا

“ضرورت تو ایسی کوئی خاص نہیں ہے لیکن ٹرائی کرنے میں ہمارے کون سے پیسے لگ رہے ہیں”

روحان نے بولتے ہوئے عینا کا ہاتھ تھام کر اونچا کیا تو وہ مسکراتی ہوئی آہستہ گول گھومنے لگی وہ دونوں باقی کے اسٹیپ لیتے ہوئے اب زور زور سے ہنس رہے تھے

****

رحجاب اسے جہانگیر کے کمرے میں لاکر بٹھاکر جاچکی تھی آغول نے کمرے کا جائزہ لیا کمرہ اچھا بڑا تھا مگر اس میں موجود فرنیچر سمپل سا تھا جو کہ اتنا برا تو نہیں لگ رہا تھا البتہ کہیں سے نیا ہرگز نہیں لگ رہا تھا ایک بار پھر اسے قسمت کی ستم ظریفی پر رونا آیا ناپسندیدہ ہستی کے ساتھ آخر وہ کیسے ساری زندگی گزار سکتی ہے آغول گڑھتی ہوئی سوچنے لگی تھوڑی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا جہانگیر کمرے کے اندر آیا آغول کو سوچوں میں گم بیٹھا دیکھا تو اس کا خوشگوار موڈ جوکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے سب کے سامنے تھا بالکل چینج ہوگیا

“یہاں بیٹھ کر اپنے عاشق کی موت کا سوگ منانے کی بجائے جاکر ڈریس چینج کرو”

اس نے کمرے میں آتے ہی آغول پر نشتر چلایا آغول جو اب تک برائیڈل ڈریس میں بیڈ پر بیٹھی اپنی سوچوں میں گم تھی ایک دم ہوش میں آئی اب وہ خونخوار نظروں سے سامنے کھڑے اپنے مجازی خدا کو دیکھ رہی تھی اس کو یہی سب کچھ توقع تھی اس سے، بیڈ سے اتر کر وہ جہانگیر کے سامنے آئی اور استہزائیہ ہنسی

“کیوں مجھے اپنے عاشق کا سوگ مناتا ہوا دیکھ کر تمہیں تکلیف ہورہی ہے”

آغول نے اسے بھی سُلگانے میں کسر نہیں چھوڑی تھی مگر جیسے ہی آغول کے منہ سے جملے ادا ہوئے، جہانگیر نے آغول کا منہ اپنے ہاتھ سے دبوچا

“تکلیف مجھے صرف تم جیسی لڑکی کو اپنی بیوی بناکر ہورہی ہے میں تمہارے گھر کا ملازم نہیں ہوں اس لئے آئندہ “تم” کہنے کی بجائے “آپ” کہہ کر مخاطب کرنا اگلی بار”

جہانگیر نے آغول کا منہ جھٹکے سے چھوڑا تو پیچھے صوفے پر جاگری

“مطلب کیا ہے تمہارا مجھ جیسی لڑکی، اگر اتنی ہی تکلیف ہورہی ہے تو مجھ سے شادی کرنے کی شرط کیوں رکھی تم نے میرے باپ کے سامنے تم خود کیا ہو کبھی اپنی اوقات دیکھی ہے تم نے”

اس کے جملے آغول کو طیش دلا گئے وہ ایک بار پھر وہ صوفے سے اٹھ کر جہانگیر کے روبرو ہوئی تب جہانگیر نے سختی سے آغول کے دونوں بازوؤں کو پکڑا اس کی انگلیاں آغول کے بازوؤں میں گڑھنے لگی تو وہ تکلیف سے کراہ اٹھی

“تمہارے عشق میں پاگل ہوکر تم سے شادی نہیں کی ہے میں نے، یہ شادی میں نے کیوں کی ہے یہ تم بخوبی جانتی ہو اور رہی بات میری اوقات کی تو مجھے میری اوقات بچپن سے معلوم ہے لیکن آج میں تمہیں یہ بتاؤ گا کہ میری نظر میں تمہاری کیا اوقات ہے”

اس نے بولتے ہوئے بےدردی سے آغول کے سر سے دوپٹے کو کھینچا پہلے اس نے دوپٹے کو بیڈ پر پھینکا پھر اس نے آغول کو بیڈ پر دھکا دیا وہ اوندھے منہ بیڈ پر جاگری

“میری بیوی بننے سے بہتر تمہیں خودکشی کرنا لگ رہا تھا مگر افسوس تم بچ گئی لیکن آج میں تمہیں بتاؤ گا کہ پل پل مرنا کیسا ہوتا ہے”

وہ سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ جہانگیر اس کی ٹانگوں سے شرارہ اوپر سرکاتا ہوا اس کے اوپر جُھکا، آغول نے اپنے ہاتھ چلانے کی کوشش کی تو جہانگیر نے اپنے ایک ہاتھ اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر تکیہ سے اوپر رکھے

“بےشرم انسان ہٹو میرے اوپر سے مجھے سانس نہیں آرہا”

جہانگیر کے ورزشی جسم کے نیچے آغول کا نازک سراپا دب گیا تھا وہ بمشکل ہی بول پائی

“تمہاری قسمت میں کالا، موٹا اور مڈل کلاس شوہر لکھا تھا آج رات تم اس باتوں پر جی بھر کر سوگ منانا”

جہانگیر نے اپنا دوسرا بازو اس کی کمر کے گرد حائل کرکے آغول کو تھوڑا اوپر سرکایا

“تمہیں شرم آنی چاہیے میرے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے تم تو مجھے پسند بھی نہیں کرتے ہو تو پھر یہ سب کیوں کررہے ہو”

وہ جہانگیر کی اگلی کاروائی پر ساتھ ہی اس کے مضبوط حصار میں تڑپتی ہوئی بولی

“میں نے آج کی رات اپنے آپ کو تمہاری طرح بےشرم بنالیا ہے اس لیے مجھے آج تمہارے ساتھ کچھ بھی کرتے ہوئے بالکل شرم نہیں آئے گی تم میں واقعی ایسا کچھ بھی نہیں جو تمہیں پسند کیا جائے اور اگر اب تم نے مجھے “تم” کہہ کر مخاطب کیا تو تم آج پوری رات میرے شر سے صرف پناہ مانگو گی سنا تم نے”

جہانگیر ایک بار پھر اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا آغول مسلسل کوشش میں تھی کہ وہ اپنے ہاتھوں کو جہانگیر کی ہاتھ سے چھڑا لے مگر جہانگیر نے اس کی کلائیوں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کانچ کی بہت سی چوڑیاں ٹوٹ کر اسکی کلائی کو بھی زخمی کرچکی تھی

“سیفی تمہیں مجھ سے زیادہ بیٹر آپشن لگا تھا ناں، آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ اس دن تمہارے ساتھ کیا کرنے والا تھا”

جہانگیر غصے میں بولتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے لےگیا، بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھاکر،، یونہی آغول کے اوپر جُھکے ہوئے، دوپٹے کے ایک سرے سے اس کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھنے لگا اس سے پہلے آغول اسے کچھ بولتی دوپٹے کا دوسرا سراہ وہ اس کے منہ میں ٹھونس چکا تھا۔۔۔ وہ جہانگیر کی گرفت میں کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگی

“تم میں اکڑ بہت زیادہ ہے اور برداشت کا مادہ بے حد کم لیکن آج میں تمہاری ساری اکڑ نکال دوں گا اور برداشت تم میں خود ہی آجائے گا”

جہانگیر نے بولتے ہوئے اس کا شرارہ ٹانگوں سے مزید اوپر سرکایا

آغول پیر چلاتی ہوئی مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی مگر آج جہانگیر کو شاید اس پر ترس نہیں آنا تھا

جہانگیر کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے وہ اب اسکی گرفت میں ساکت ہوچکی تھی جہانگیر نے اپنے دونوں ہاتھ آغول کے دائیں اور بائیں طرف تکیے پر جمائے ہوئے تھے اس کا چہرہ آغول کے بہت نزدیک تھا جہانگیر کی سانسوں کی گرمائش آغول کے چہرے کو جھلسائے دے رہی تھی آغول کے آنسو آنکھوں سے نکلتے ہوئے اس کے اپنے بالوں میں جذب ہونے لگے مگر جہانگیر آج اس لڑکی کو رعایت دینے کے لیے تیار نہ تھا اپنا ہاتھ تکیہ سے ہٹاکر اس نے آغول کے ہاتھ کھولے اور دوپٹہ کھینچ کر اس کے منہ سے نکالا ایک سسکی آغول کے منہ سے نکلی ساتھ ہی اس نے جہانگیر کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبا لیا

جہانگیر اپنی شرٹ سے اسکے ہاتھ ہٹاکر تکیے پر جُھکا اب آغول کو اپنی گردن اور کاندھا اسکی سانسوں کی گرمائش سے جُھلستا ہوا محسوس ہونے لگا جہانگیر اسکی دونوں کلائیاں جھکڑ چکا تھا جو سختی وہ اپنی کلائیوں پر محسوس کرسکتی تھی اس سے دوگنی اس کے دوسرے عمل میں تھی

“تعلق جوڑا ہے میں نے تم سے، تمہیں اپنی بیوی بناکر, یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے جہاں سے تم دن دہاڑے کہیں بھی بھاگ جاؤ، اگر تم نے کھبی میرے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی یا تمہاری کسی بھی حرکت سے میری عزت یا میرے نام پر حرف آیا تو میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا”

جہانگیر اپنے ہونٹ اس کے کان کی طرف لاکر اسے وارننگ دیتا ہوا اس کے اوپر سے اٹھا آغول سسکنے لگی غضبناک نظر اس کے چہرے پر ڈال کر جہانگیر اپنی جگہ پر کروٹ لےکر لیٹ گیا

اس کی بےجان ٹانگوں میں اتنی جان نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر واشروم جاتی وہ کاںنپتے ہاتھوں سے اپنی ٹانگیں ڈھگتی ہوئی کمفرٹر اپنے اوپر ڈال کر سسکنے لگی