Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 27)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“چینج کرلیا”

جہانگیر کمرے میں آتے ہی آغول سے پوچھنے لگا مگر وہ بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی وہ اسی ڈریس میں موجود تھی جو جہانگیر نے اسے سلیکٹ کر کے دیا تھا مگر جہانگیر نے غور سے دیکھا اس نے صرف کلیوں والا آسمانی اور وائٹ کلر کا فراک پہنا تھا جو کہ اسکی پنڈلیوں کو چھو رہا تھا جبکہ اس کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ وہ اپنے ایک پاؤں کے ٹخنے میں پھسائے بیٹھی تھی شاید اس کے رونے کی بھی یہی وجہ تھی

“کس قسم کے کپڑے ہیں یہ جہانگیر، مجھے نہیں پہننا یہ ڈریس میں چینج کررہی ہو”

وہ اپنے آنسو صاف کر غصہ ضبط کرتی ہوئی جہانگیر سے بولنے لگی ساتھ ہی پھنسا ہوا پجامہ پاؤں سے نکالنے لگی جوکہ ٹائٹ ہونے کی وجہ سے اس کے پاؤں سے نکل نہیں رہا تھا

“کوئی ضرورت نہیں ہے چینج کرنے کی اچھی لگ رہی ہو, میں تھوڑی ہیلپ کردیتا ہو”

جہانگیر بےساختہ بولتا ہوا اس کے پاس آیا اور بیڈ سے نیچے اس کے پاؤں کے پاس بیٹھا آغول اس کی ہیلپ کا یاد رکھنا بھول گئی صرف اسے یہ جملہ یاد رہا جہانگیر نے اسے ابھی کہا وہ اچھی لگ رہی ہے

“میں اچھی لگ رہی ہو آپ کو”

وہ جہانگیر کا جملہ پکڑ کر اس سے پوچھنے لگی جہانگیر چونک کر نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا

“اچھی تمیز والی ڈریسنگ میں لڑکیاں اچھی ہی لگتی ہیں”

وہ آغول کا پاؤں اپنے گھٹنے پر رک کر اس کے پاؤں میں پھنسا ہوا پاجامہ نکالتا ہوا بولا جس کی وجہ سے اس کا پاؤں سرخ ہوگیا تھا آغول جہانگیر کی بات سن کر اسے غصے میں گھورنے لگی جہانگیر اٹھ کر شاپر لےکر آیا اور آغول کو دیکھا جو اس کو غصے میں دیکھ رہی تھی

“تمہارا ہر وقت منہ کیوں بنا رہتا ہے مطلب وہی تھا میرا اچھی لگ رہی ہو”

جہانگیر دوبارہ اس کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر اس کا پاؤں شاپر میں ڈالنے لگا

“ہا تعریف کرتے ہوئے تو پیسے خرچ ہوتے ہیں اس شخص کے میڈل کلاس آدمی”

آغول سر جھٹک کر سوچنے لگی اور غور سے جہانگیر کی ڈریسنگ دیکھنے لگی لائٹ گرے کلر کی اسٹریپ والی شرٹ پر بلیک ڈریس پینٹ میں وہ اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا

“افف کیا ہوجاتا اگر اس کا کلر تھوڑا سا اور فیئر ہوتا”

وہ جہانگیر کے نقش غور سے دیکھنے لگی بغیر اسکی نظریں محسوس کیے

“اتنی سی بات تھی اور تم بلاوجہ پریشان ہورہی تھی اب دوسرے پاؤں میں بھی شاپر کی مدد سے اسی طرح پہنو”

اتنے قریب سے آغول کی سفید پنڈلیوں کو دیکھ کر ایک دم اس کے جذبات شور مچانے لگے تھے جہانگیر اس کا پاؤں اپنے گھٹنے سے ہٹاتا ہوا بولا مگر آغول نے جھٹ سے جہانگیر کے اٹھنے سے پہلے اپنا دوسرا پاؤں اس کے گھٹنے پر رکھ دیا

“دوسرا پاؤں بھی آپ ہی پہنادیں میں تھک گئی ہوں سارا دن کام کرتے ہوئے”

آغول اسے آرڈر دینے والے انداز میں بولی جہانگیر اسے خاموش نظروں سے دیکھنے لگا آغول کا اسے آرڈر دینا بالکل برا نہیں لگا واقعی اس نے بہت محنت کی تھی جس کا کچھ تو صلہ بنتا تھا اس لئے خاموشی سے اس کا دوسرا پاؤں دیکھنے لگا جو کہ اس کے گھٹنے پر رکھا ہوا تھا اس کی پنڈلی کو اپنی انگلیوں سے چھوتے ہوئے وہ اس کی ٹانگ کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا یہ ایک غیر ارادی عمل تھا وہ اپنا ہاتھ آغول کے گھٹنے تک لے گیا تھا ہوش میں وہ تب آیا جب آغول نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے سے ہٹایا

“میں پہن لیتی ہوں”

اغول ایکدم گھبراتی ہوئی بولی تو جہانگیر اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا

“توبہ کتنا خطرناک آدمی ہے یہ, مجھے بھی کیا ضرورت تھی بکواس کرنے کی کون سا میں دوسرا پاوں خود پہننے سے فوت ہوجاتی”

آغول جہانگیر کو باہر جاتا ہوا دیکھ کر سوچنے لگی

****

شام آٹھ بجے کا وقت جب جہانگیر آغول کے ساتھ اپنے سسرال پہنچا کیونکہ وہ اپنے سُسرال میں فرسٹ ٹائم آیا تھا اور یہ بہن کبھی سُسرال تھا اس لیے فروٹ مٹھائیاں عینا کا فیورٹ کیک اور بہت سارا سامان پیک کروا کر لایا تھا

منصور اور فاطمہ نے اس کا پرتپاک طریقے سے استقبال کیا آغول منصور اور فاطمہ سے مل کر جہانگیر کے ہی برابر میں بیٹھی گئی وہ خاموش تھی شاید اپنے ماں باپ سے ناراض بھی تب ہی لیونگ روم میں روحان داخل ہوا اسکے ہاتھ میں پھول کا بکے تھا جو کہ اس نے زاہدہ سے کہہ کر اپنے بیڈروم میں رکھنے کو کہا تھا شاید وہ آفس سے ابھی آیا تھا

جہانگیر سے وہ نارمل انداز میں ملا تھا مگر آغول کو وہ پیار کرتا ہوا اپنے ساتھ والے صوفے پر بھٹا چکا تھا

“آنٹی عینا نظر نہیں آرہی”

روحان نے بھی عینا کی غیر موجودگی کو محسوس کیا تھا مگر جہانگیر کے فاطمہ سے پوچھنے پر روحان بھی فاطمہ کو دیکھنے لگا

“تمہاری آمد کا سن کر دوپہر سے کچن میں مصروف تھی میرے منع کرنے کے باوجود آج رات کا ڈنر اسی نے بنایا ہے بس ابھی فریش ہوکر آتی ہوگی”

فاطمہ مسکراتی ہوئی جہانگیر کو بتانے لگی تو جہانگیر سر ہلا کر خاموش ہوگیا

“آنٹی صرف بھائی کی آمد ہی نہیں بھابھی کی بھی آمد میرے لیے اہم ہے”

عینا کمرے کے اندر آکر مسکرا کر بولی سب کو باآواز سلام کرتی ہوئی آغول سے ملی شادی والے دن کی بانسبت آغول بھی اس سے خوشدلی سے ملی عینا اسے اچھی لڑکی لگی مگر کیا ہی تھا جو وہ اسے بھابھی کی بجائے نند کہہ کہ مخاطب کرتی روحان غور سے آغول سے ملتی ہوئی اپنی بیوی کو دیکھنے لگا اس نے روحان کی طرف نظر اٹھاکر دیکھا بھی نہیں تھا صبح والے واقعہ سے شاید وہ بہت زیادہ ہرٹ ہوئی تھی مگر وہ اپنی بیوی کو بیڈروم میں جاکر منالے گا روحان ایسا سوچنے لگا

عینا آغول سے ملنے کے بعد جہانگیر کے پاس آئی تو وہ مسکرا کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا

“آپکو آج صبح سے بہت مس کررہی تھی میں”

عینا نے بولتے ہوئے جہانگیر کے سینے پر سر رکھ کر بہت سی نمی کو آنکھوں میں لائے بغیر اپنے اندر اتارا تھا

“یہاں دیکھو ٹھیک ہو تم”

جہانگیر جانچتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھکر پوچھنے لگا تو عینا بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ سر اقرار میں ہلاکر اپنے بھائی کو مطمئن کرنے لگی اور جہانگیر کے برابر میں ہی بیٹھ گئی

تھوڑی دیر ہلکی پھلکی گفتگو کے بعد کھانے کا دور چلا آغول نے نوٹ کیا جہانگیر عینا سے کسطرح مسکرا کے بات کررہا تھا ایسے ہی نرم مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنی دی جان سے بھی بات کرتا تھا مگر اس سے, فاطمہ نے دو بار اسے ڈنر سے پہلے بھی روم میں بلایا تھا مگر آغول نے سنی ان سنی کردی وہ جانتی تھی فاطمہ اسے اکیلے میں جہانگیر کے رویہ بارے میں جاننے کے لیے بلارہی تھی مگر یہ بات وہ فاطمہ کو اکیلے میں نہیں آج سب کے سامنے بتانے والی تھی ڈنر کے بعد

“تم نے کھانا کافی اچھا بنایا تھا میں تمہیں بھابھی یا آپ جناب کہہ کر بالکل مخاطب نہیں کرو گی مائنڈ مت کرنا”

ڈنر کے بعد آغول عینا سے مسکرا کر بولی اور دوبارہ روحان کے پاس ہی صوفے پر بیٹھی تھی کیو کہ سامنے جہانگیر بیٹھا تھا اور اب وہ سب کچھ بتاتے ہوئے اسکے تاثرات دیکھنا چاہتی تھی

“تکلف والا رشتہ مجھے بھی پسند نہیں”

عینا آغول کو مسکرا کر بولی اور باری باری سب کو کافی سرو کرنے لگی

“یار تم نے شادی سے پہلے بتایا نہیں کہ کھانا بنانے والی بھی کوالٹی ہے تمہارے اندر”

عینا کتنی دیر سے روحان کو اگنور کررہی تھی اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی تبھی روحان عینا کے ہاتھ سے کافی لیتا ہوا بولا

“آپ نے بھی تو اپنے ہاتھ اٹھانے والی کاالٹی کا شادی سے پہلے ذکر نہیں کیا تھا”

عینا مسکراتی ہوئی روحان کو دیکھ کر بولی اور جاکر سنگل صوفے پر بیٹھ گئی روحان کے ساتھ روم میں موجود تمام افراد کو سانپ سونگھ گیا سبھی عینا کی طرف دیکھنے لگے اور وہ اپنے مگ سے کافی کا سپ لینے لگی

“عینا یہاں دیکھو میری طرف اور مجھے پوری بات بتاؤ”

جہانگیر کافی کا مگ ٹیبل پر رکھتا ہوا کھڑا ہوگیا

“عینا کمرے میں جاو فوراً”

روحان صوفے سے اٹھتا ہوا عینا کو دیکھ کر بولا

ماحول میں سنگینی پھیلتی ہوئی محسوس ہوئی تو آغول اور منصور بھی اپنی اپنی جگہ سے اٹھے جبکہ فاطمہ حیرت سے عینا کو صوفے پر بیٹھا ہوا دیکھ رہی تھی

“تم نے میری بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے رونی”

جہانگیر روحان کے پاس آتا ہوا بولا اس سے پہلے روحان جہانگیر کو کچھ بولتا ہے جہانگیر نے اسکے ساتھ کھڑی آغول کے منہ پر تھپڑ مارا جہانگیر کے ردعمل پر کمرے میں موجود تمام افراد ایک دم سکتے میں آگئے

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی جیڈی میری بہن پر ہاتھ اٹھانے کی”

سب سے پہلے روحان کا سکتہ ٹوٹا تھا وہ غصے میں چیختا ہوا جہانگیر کی طرف بڑھا روحان نے جہانگیر کا گریبان پکڑا تو جہانگیر نے جھٹکے سے اسے اپنا گریبان چھڑا کر دھکا دیا فاطمہ اور عینا بھی اپنی اپنی جگہ ایک دم گھبرا کر کھڑی ہوگئی

“جیسے تم نے میری بہن پر ہاتھ اٹھایا کیا سوچ کر تم نے ہاتھ اٹھایا میری بہن پر جواب دو”

جہانگیر نے ایک ہاتھ سے روحان کا گریبان پکڑا کر دوسرے ہاتھ کا مُکا بناکر اس سے پہلے وہ روحان کے منہ پر مارتا منصور نے آ گے بڑھ کر جہانگیر کا ہاتھ پکڑا

“جہانگیر چھوڑو اس کا گریبان اور یہ بتاؤ کہ تمہارا ہاتھ میری بیٹی پر کیسے اٹھا اپنی بیٹی کی شادی میں نے تم سے اس لیے کروائی تھی اتنا بےمول سمجھ لیا تم نے میری بیٹی کو کہ میرے سامنے ہی اسے مار دیا”

جہانگیر اور روحان دونوں ایک دوسرے کو خانخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے جب منصور غصے میں جہانگیر سے پوچھنے لگا

“بےمول تو میری بہن بھی نہیں ہے انکل جو آپکا بیٹا میری بہن ہر اپنا ہاتھ صاف کرے نہ ہی میں نے اپنی بہن کی شادی یہاں پر اس لیے کروائی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے یہی تھپڑ میں اس کے منہ پر بھی مار سکتا تھا مگر میں چاہتا ہو اسے بھی میری تکلیف کا اندازہ ہو”

جہانگیر منصور کو دیکھتا ہوا بولا

“اور میری بیٹی کی تکلیف اس کی تذلیل وہ کوئی معنیٰ نے نہیں رکھتی تمہاری نظر میں آغول اسکی بہن ہونے سے پہلے میری بیٹی ہے یہ تکلیف تو تم نے مجھے بھی دی ہے اب بتاؤ میں تم سے اس تکلیف کا کیسے بدلا نکالو”

منصور کی بات سن کر جہانگیر خاموش ہوگیا اور آغول پر اس کی نظر گئی جو آنکھوں میں آنسو بھرے جہانگیر کو ہی دیکھ رہی تھی جہانگیر کے دیکھنے پر آغول وہاں پر رکی نہیں بلکہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی

“فساد کی جڑ”

فاطمہ عینا کو دیکھ کر بڑبڑاتی ہوئی آغول کے پیچھے اس کے کمرے میں چلی گئی اور عینا اسے ذرا اندازہ نہ تھا جہانگیر غصے میں ایسا کرے گا

“بیٹا اس نے کس بات پر آپ پر ہاتھ اٹھایا، میں اس سے نہیں پوچھوں گا یہ آپ مجھے بتائے”

آغول اور فاطمہ کے جانے کے بعد منصور عینا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“ڈیڈی وہ ہم دونوں ہسبنڈ وائف کا پرسنل میٹر ہے پلیز میں نہیں چاہتا وہ یہاں ڈسکس ہو”

عینا کے کچھ بولنے سے پہلے روحان جلدی سے بولا اور عینا کے پاس آیا

“صبح جو بھی کچھ ہوا اس کے لیے میں شرمندہ ہو، پلیز اپنے روم میں چلو”

روحان عینا کو دیکھ کر آئستگی سے بولا عینا نے روحان کی آنکھوں میں دیکھا اس کا انداز عاجزانہ تھا مگر آنکھوں میں تنبیہ

“وہ اب تمہاری روم میں نہیں جائے گی میرے ساتھ میرے گھر جائے گی اپنی بہن کی ذات کا مزید تماشا نہیں بننے دو گا میں اب”

جہانگیر غصے میں روحان کو دیکھتا ہوا بولا

“یہ بیوی ہے میری”

روحان جہانگیر کو آنکھیں دکھاتا ہوا جتانے لگا

“روحان تم خاموش ہوجاؤ… ٹھیک ہے جہانگیر تم اپنی بہن کو یہاں سے لےکر چلے جاؤ اب آغول بھی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی بلکہ وہ یہی رہے گی”

منصور روحان کو خاموش کروانے کے بعد جہانگیر کو دیکھتا ہوا بولا

“میرے عمل سے آپ کا دل دکھا میں معذرت خواہ ہوں آغول سے بھی میں ایکسکیوز کرلو گا لیکن وہ واپس میرے ساتھ جائے گی”

جہانگیر منصور کو دیکھتا ہوا بولا اس وقت وہ غصے میں تھا مگر پھر بھی منصور سے بات کرتے ہوئے اس کے انداز میں احترام شامل تھا

“میں نے یہ وٹہ سٹہ اس لئے ہرگز نہیں کروایا تھا کہ تم دونوں اپنی پرانی دشمنی نکال سکو مجھے تم ایک سنجیدہ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان لگے اس لئے میں نے اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دیا تھا لیکن آج میں اپنی بیٹی کی طرف سے فکرمند ہوگیا ہوں پہلے غلطی میرے بیٹے نے کی ہے اس لیے فیصلے کا حق میں تمہیں دیتا ہوں آج اپنی بہن یا بیوی میں سے کسی ایک کو ہی یہاں سے لےکر جانا”

منصور جہانگیر کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا آغول کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی جبکہ روحان عینا کو التجائی نظروں سے دیکھنے لگا

“اپنے روم میں جاؤ عینا اور اگر تم نے اب دوبارہ میری بہن پر ہاتھ اٹھایا تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں”

جہانگیر روحان سے بولتا ہوا آغول کے کمرے کی طرف جانے لگا

اگر آج وہ عینا کو یہاں سے لےکر چلا جاتا اور آغول کو یہی چھوڑ جاتا تو بات مزید بگڑ جاتی ابھی اسے آغول سے بھی ایکسکیوز کرنا تھی اس سارے قصے میں اس کا قصور نہیں تھا مگر وہ نشانہ بن گئی

****

“یا میرے خدا اتنا بدتمیز انسان ہے یہ شخص میں نے اس کی بہن کو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا اور وہاں میری بیٹی کو ماسی بناکر رکھا ہوا ہے میں ابھی جاکر پوچھتی ہوں”

فاطمہ نے جب آغول کی زبانی جہانگیر کے آج کے کارنامے سنے تو اسے غصہ آنے لگا اس سے پہلے وہ منصور کے پاس جاتی جہانگیر کمرے میں آگیا

“آغول گھر چلو”

جہانگیر کمرے میں آکر آغول کے روئے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا آج پہلی بار اسے روتا ہوا دیکھ کر جہانگیر کے دل کو کچھ ہوا تھا

“آغول اب تمہارے ساتھ نہیں جائے گی وہ اس طرح ہرگز زندگی نہیں گزار سکتی جس طرح تم اسے رکھنا چاہتے ہو اس نے اپنے گھر میں اٹھ کر کبھی پانی تک نہیں پیا اور تم نے اس سے گھر کی صفائی کرنے کو کہا اور کھانا بنوایا”

فاطمہ جو کہ بھری ہوئی بیٹھی تھی آغول کے گھر جانے کی بات سن کر جہانگیر کو دیکھتی ہوئی بولی اب وہ اسے داماد نہیں بس عینا کا بھائی لگ رہا تھا

“آنٹی آپ بات کو بڑھائے مت آغول میری بیوی ہے اور میں اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لےکر جاؤ گا اگر اس نے کبھی اٹھ کر پانی نہیں پیا تو یہ اس کی نااہلی ہے جسے آپ بہت فخریہ انداز میں بیان کررہی ہیں آپ کو اپنی بیٹی کو بہت کچھ سکھانا چاہیے تھا معاف کیجیے گا مگر لڑکی ذات کی تربیت اور پرورش مختلف اقداروں پر کی جاتی ہے کیونکہ انہیں آپ زندگی بھر اپنے پاس نہیں رکھ سکتے کام والی میں افورڈ کرسکتا ہوں اور وہ کام کرنے آتی بھی ہے ایک دن اگر اِس نے اپنے گھر کا کام کرلیا تو اس سے آپ کی بیٹی گِھس نہیں گئی اور نہ ہی اپنے گھر کا کام کرنے سے کوئی چھوٹا ہوجاتا ہے ہاں کھانا میں کسی نوکر کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی روز ہوٹلنگ افورڈ کرسکتا ہوں اس لیے کوکنگ کی عادت اسی کو ڈالنی ہوگی مگر یہ آپ کا سر درد نہیں ہے اپنی بیوی کو خود ٹیکل کرلو گا ویسے بھی شادی کے بعد ہر لڑکی کو اپنے شوہر کے مزاج کے مطابق اپنا آپ ڈھالنا ہوتا ہے آپ کی بیٹی کوئی نرالا کام نہیں کرے گی”

جہانگیر اپنی بات کرکے آغول کو دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں چلنے کا واضح اشارہ تھا

“مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا, نہیں میں رہ سکتی ہوں آپ کے ساتھ… آپ کے گھر کے کام کرو آپ کی مرضی سے کپڑے پہنو اپنے بھائی کی غلطی پر آپ سے پٹوں میں ایسے اپنی ساری زندگی نہیں گزار سکتی”

آغول آنکھوں میں آنسو لیے جہانگیر کو دیکھ کر بولی

“یہ ساری شکائتیں اپنے گھر جاکر کرنا اب یہ تمہارا گھر نہیں ہے اس لیے یہاں تماشہ نہیں کرو اور خاموشی سے گھر چلو”

جہانگیر سنجیدگی سے اسے دیکھتا ہوا بولا

“میں منصور سے پوچھ کر آتی ہوں اتنا کچھ ہونے کے بعد وہ کیسے ہماری بیٹی کو بھیج سکتے ہیں”

فاطمہ جہانگیر کو سناتی ہوئی کمرے سے نکل گئی

“تماشہ میں کررہی ہوں جہانگیر تماشہ تو آپ نے بنادیا ہے میری ذات کا شادی کی پہلی رات بھی اور آج میری فیملی کے سامنے بھی، میں ہرگز آپ کے ساتھ نہیں جاؤ گی”

آغول اٹل لہجے میں بولی

“اوکے میں اپنی غلطی ایکسپیٹ کرتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا تمہارے ساتھ نہ آج نہ ہی اس دن۔۔۔۔ میں دونوں دفع غصے میں تھا پلیز اب گھر چلو ورنہ یہاں دوبارہ نیا تماشا ہوجائے گا اور وہ سب کے سامنے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا”

جہانگیر اپنی غلطی تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے گھر نہ جانے کے نتائج سے بھی آگاہ کرتا ہوا بولا

“یہ غلطی ایکسپیٹ کر رہے ہیں آپ یا پھر مجھے دھمکی دے رہے ہیں سوری تو کی ہی نہیں ہے آپ نے, ہاتھ دیکھا ہے آپ نے اتنی زور سے مجھے مارا ہے”

آغول کو اپنے سامنے کھڑے ہوئے شخص پر غصہ آیا معلوم بھی نہیں تھا کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہے بھی کہ نہیں تب ہی آغول اسے شرمندہ کرتی ہوئی بولی

“جو گھر پر غلطی کی تھی اس کے گھر پر معافی مانگ لوں گا جو یہاں غلطی کی ہے اس کی معافی یہاں مانگ لیتا ہوں”

جہانگیر نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ تھاما اور جیسے ہی وہ اس کے ہونٹوں پر جُھکنے لگا آغول نے اسے پیچھے دھکا دیا

“ہر ایک سے آپ ایسی ہی سوری کرتے ہیں”

وہ مزید غصے میں جہانگیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“لاحول ولا۔۔۔۔ کیا آدمی سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے, تم تو بیوی ہو اس لئے… خیر چھوڑو گھر چلو اب”

جہانگیر اب کی بار آغول کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا

“میں آپکو بتاچکی ہوں جہانگیر میں اب آپ کے ساتھ نہیں جاؤ گی”

آغول جہانگیر سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولی

“میں نخرے برداشت کرنے والا آدمی ہرگز نہیں ہوں اور تم مجھے ڈھیر سارے نخرے دکھا چکی ہو جنھیں میں خاموشی سے برداشت بھی کرچکا ہوں اب تمہارے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلے”

جہانگیر نے اب آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا اور کمرے سے باہر لے گیا ہال اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا جہانگیر اس کے رونے کی پرواہ کیے بغیر اسے کار میں بٹھاکر واپسی کا سفر کرنے لگا