Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 37)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
شام میں جب جہانگیر گھر لوٹا تو اس کے کانوں میں گنگنانے کی آواز آنے لگی یہ آواز کچن سے آرہی تھی آغول کے گنگنانے کی تھی۔ جہانگیر لاؤنج کا ایریا عبور کرتا ہوا کچن کی طرف آیا اور دروازے پر کھڑا آغول کو دیکھنے لگا جو کہ چولہے کے سامنے کھڑی فرائنگ پین میں کباب تلنے کے ساتھ مزے سے گنگنانے میں بھی مصروف تھی
ریڈ اور بلیک کلر کے کمبینیشن کی شارٹ قمیض کے ساتھ بلیک ٹراؤزر اور ریڈ اور بلیک کلر کے شفون کے دوپٹے میں وہ جہانگیر کو عام دنوں کی نسبت تیار لگی ہونٹوں پر لالی سجائے کانوں میں آیئر رینگز پہنے بالوں کو بینڈ میں قید کئے وہ اسے کیوٹ لگ رہی تھی
آہٹ ہونے پر آغول نے دروازے کی طرف دیکھا تو جہانگیر کو کھڑا پایا وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگی
“کہیں جانے کی تیاری ہے”
وہ صبح بھی اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور ابھی بھی جس کی وجہ جہانگیر کو سمجھ میں نہیں آئی تو وہ اس کی مسکراہٹ کو اگنور کرکے اسے تیار دیکھ کر سوال کرنے لگا
“نہیں میرا تو ایسا کوئی خاص پروگرام نہیں ہے”
آغول نے چہولے کی آنچ درمیانی کرتے ہوئے جہانگیر کو جواب دیا اس کا جواب سن کر جہانگیر فرج سے پانی کی بوتل نکالنے لگا تب آغول اس کے پاس آئی
“کیا آپ کو آج دن بھر میں میرا خیال آیا”
آغول کی بات سن کر جہانگیر پانی پینا بھول گیا وہ گلاس شیلف پر رکھ کر اسے دیکھنے لگا
“ہاں آیا تھا میں نے دو بار گارڈ کو کال کر کے پوچھا اس نے بتایا سب خیریت ہے”
یہ سچ ہی تھا روحان اور کاشف، K گینگ، روزی کے مرڈر کے چکروں میں بھی الجھ کر بھی، بار بار آج اس کا دماغ آغول کی طرف جارہا تھا کیونکہ وہ گھر پر اکیلی تھی اس لیے اس نے دو بار گارڈ کو کال کر کے سب خیریت کا پوچھا مگر دوسری طرف جہانگیر کی بات سن کر آغول کا منہ بن گیا
“جب میرا خیال آیا تو کال بھی مجھے کرنی تھی ناں نہ کہ گارڈ کو”
آغول نے بولتے ہوئے پانی کا نلکا کھولا اور ہاتھ میں پانی بھر کر اچانک جہانگیر کے منہ پر پھینکا پانی کی چھینٹے جہانگیر کے منہ پر آئی
“یہ کیا بدتمیزی ہے”
جہانگیر اسے آنکھیں دکھاتا ہوا غصے میں بولا اور اپنی آستین سے چہرہ صاف کرنے لگا
مگر آغول، اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرانے لگی جہانگیر کے چہرے صاف کرتے ہی اس نے دوبارہ پانی ہاتھ میں بھر کر اسکے چھینٹے دوبارہ جہانگیر پر پھینکے
“آغول”
جہانگیر نے آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا نام پکارا یہ وارننگ تھی مگر وہ ویسے ہی مسکرا رہی تھی
جہانگیر شیلف پر رکھے ٹشو سے چہرہ صاف کرنے لگا ایک بار پھر آغول نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے پھینکے اب کی بار جہانگیر نے اسے کھینچ کر خود سے قریب کیا اور بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا وہ اب بھی مسکرا کر جہانگیر کو دیکھ رہی تھی
جہانگیر نے اس کے دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کیا وہ پیچھے ہٹنے لگا تب آغول نے اس کا گریبان پکڑ کر دوبارہ اپنے قریب کیا اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی وہ خاموشی سے جہانگیر کو دیکھ رہی تھی مگر اس کی خاموش آنکھیں جو بیان کررہی تھی جہانگیر کنفیوز ہونے لگا
آغول اپنا چہرہ ذرا سا اونچا کرکے مزید جہانگیر کے چہرے کے قریب لائی اور اپنی آنکھیں بند کرلی جہانگیر کی نظریں اس کے چہرے سے اس کے ہونٹوں پر گئیں سرخ ہونٹوں کو دیکھ کر جہانگیر کا دل چاہا وہ نرمی سے انہیں چھولے اسے لگا شاید آغول بھی منتظر تھی وہ بنا کنفیوز ہوئے اس کے دونوں گالوں پر اپنے ہاتھ رکھتا ہوا اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
بےحد نرمی سے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہوا وہ پیچھے ہٹا اس نے دھیان رکھا کہ آغول کی لپ اسٹک خراب نہ ہو
جہانگیر کے پیچھے ہٹنے پر آغول نے اس کے گریبان سے اپنے ہاتھ ہٹائے اور آہستگی سے آنکھیں کھولی بےساختہ اس کی پلکیں جھکی لبوں پر مسکراہٹ بکھری شرمیلی مسکراہٹ
جہانگیر بےخود سا ہوکر اسے دیکھنے لگا آغول جانے کے لئے مڑنے لگی تبھی جہانگیر نے اسے اپنی طرف کھینچ کر اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کئے اور اس کے ہونٹوں پر جُھکا لیکن اب کی بار اس کے انداز میں نرمی نہیں شدت تھی وہ اپنے ہونٹوں سے آغول کے ہونٹوں پر گرفت جماتا ہوا مدہوش ہونے لگا
آغول ایک بار پھر اس کا گریبان پکڑ کر اس کے جذباتی انداز پر حیران ہوئی وہ تو ایک ننھی مُنی کِس کی خواہشمند تھی مگر اس کا شوہر اب جذباتی ہوچکا تھا نہ وہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت سے آزاد کرنے کے لئے تیار تھا اور نہ ہی اس کو اپنی گرفت سے
جب کس کا دورانیہ بڑھنے لگا تو آغول نے جہانگیر کو پیچھے دھکا دیا اب وہ تیزی سے سانس لیتی ہوئی جہانگیر کو گھور کر دیکھ رہی تھی آغول کے ہونٹوں سے لپ اسٹک مکمل طور پر مٹ چکی تھی
جہانگیر کو تو یہ لڑکی سمجھ سے ہی بالاتر تھی وہ ماتھے پر شکن لیے آغول کو دیکھنے لگا اسے بالکل غلط فہمی نہیں ہوئی تھی وہ خود ایسا چاہتی تھی کہ جہانگیر اس کو کِس کرے اور جب وہ ایسا کرنے لگا تو اس کو دھکا دیتی ہوئی اب گھور رہی تھی
جہانگیر ایک بار پھر اس کے قریب آیا اپنے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچ کر دوبارہ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے آغول اس کو دوبارہ فری ہوتا دیکھا کر جہانگیر کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی تبھی جہانگیر اس کی کمر میں اپنا دوسرا بازو حمائل کرتا ہوا مزید اس کے اوپر جُھکا جہانگیر کے اس کے اوپر جھکاؤ کی وجہ سے آغول پیچھے شیلف کی طرف جھکتی چلی گئی
آغول شیلف پر لیٹی ہوئی تھی اور جہانگیر اس کے ہونٹوں کے اوپر جھکا ہوا تھا آغول نے ایک بار پھر اسے اپنے آپ سے دور کرنا چاہا مگر وہ آغول کی کلائیاں مضبوطی سے پکڑ چکا تھا پانی کا گلاس جو تھوڑی دیر پہلے جہانگیر نے شیلف پر رکھا تھا وہ چھناکے سے ٹوٹ کر ان دونوں کے پاؤں کے پاس گرچکا تھا مگر جہانگیر اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھا
دونوں کی ناک میں جب کسی چیز کے جلنے کی بھینی بھینی خوشبو آنے لگی تو آغول نے اپنی آنکھیں کھولی وہ چہرے کو نفی میں ہلاتی ہوئی جہانگیر سے اپنی کلائیاں چھڑانے لگی مگر جہانگیر کو تو جیسے کوئی ضد ہی چڑھی ہوئی تھی جب کچن میں دھواں بھرنے لگا تب جہانگیر کو ہوش آیا
وہ ایک دم پیچھے ہٹا اور آغول زور زور سے کھانسنے لگی فرائی پین میں موجود چہولے پر رکھے ہوئے کباب پوری طرح جل کر کوئلہ بن چکے تھے جہانگیر نے جلدی سے چولہا بند کیا اور کچن کی کھڑکی کھول کر ٹربو ان کیا
آغول بری طرح کھانس رہی تھی جہانگیر نے جلدی سے گلاس میں پانی بھر کر اُس کے ہونٹوں سے لگایا وہ جہانگیر کے ہاتھ سے پانی پیتے ہوئے بھی اسے گھور رہی تھی جہانگیر خاموشی سے گلاس واپس رکھ کر بیڈروم میں چلا گیا
یہ بندہ تو آغول کی سمجھ سے ہی بالاتر تھا صبح تو وہ کہاں اس سے نظریں ہی نہیں ملا رہا تھا اور اب آغول کے تھوڑا سا فری کرنے پر وہ اس سے بری طرح چپک گیا تھا
****
“یہ لو اپنی نائٹی، جاؤ چینج کر کے آؤ”
رات کو جب عینا بیڈ روم میں آئی تو روحان اس کی نائٹی اس کے ہاتھ میں تھماتا ہوا بولا
آج چوتھا دن تھا اسے بیلا کے فلاور کا بُکے لاتے ہوئے مگر چار دن سے ہی عینا اسے مختصر سا جواب ہاں یا نہیں میں دے کر بات کررہی تھی نہ ہی وہ رات میں پہلے کی طرح اپنا نائٹ ڈریس پہن کر سوتی نہ ہی اس سے باتیں کرتی نہ ہی اس کو دیکھ کر مسکراتی روحان کو اب اس کے رویے پر غصہ آنے لگا تھا تبھی آج عینا کے کمرے میں آتے ہی وہ اسے دیکھ کر بولا
“میں اس ڈریس میں زیادہ کمفرٹیبل ہو”
عینا ہاتھ میں موجود نائٹی کو واپس وارڈروب میں رکھتی ہوئی اپنے پہنے ہوئے قمیز شلوار کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی اور بیڈ پر لیٹ گئی
پہلے تو روحان خاموش کر کے اسے دیکھنے لگا پھر اپنا موبائل اور کار کیز اٹھاتا ہوا عینا کے پاس آیا
“اٹھو یہ دوپٹہ پہنو اپنا اور میرے ساتھ چلو”
روحان نے اسے بیڈ سے اٹھاکر کھڑا کیا اور اس کو دوپٹہ پہناتا ہوا بیڈروم سے باہر لے جانے لگا
“چھوڑیں مجھے روحان کیا ہوگیا ہے آپ کو کیوں کررہے ہیں یہ سب کیوں تماشا بنارہے ہیں رات کو”
وہ عینا کو بازو پکڑ کر اسے گھر سے باہر لے جارہا تھا تب عینا اس سے اپنا بازو چھڑاتی ہوئی کہنے لگی
“تماشہ میں نہیں تم تماشا بنارہی ہو وہ بھی چار دنوں سے آج میں اس تماشے کو ختم ہی کردیتا ہوں”
روحان عینا کو بولتا ہوا دوبارہ اس کا بازو پکڑ کر گھر سے باہر لےگیا اور کار میں لے جاکر بٹھایا
“کہاں لےکر جارہے ہیں مجھے روحان میری بات سنیں بھائی اس طرح ہم دونوں کو دیکھ کر پریشان ہوگے انکے اور آغول کے بیچ میں ہمارے رشتے کی وجہ سے کوئی پریشانی آئے گی تو یہ اچھا لگے گا آپ کو”
روحان کار اسٹارٹ کرچکا تھا تو عینا اس سے بولنے لگی یقیناً وہ غصے میں اسے جہانگیر کے پاس ہی لےکر جارہا تھا اور بھلا رات کو کہاں لے جاسکتا تھا
“بیوقوف نہیں ہوں میں جو اپنے اور تمہارے رشتے کے چکر میں اپنی بہن کا اس کے شوہر سے تعلق خراب کرو تھوڑی دیر میں تمہیں تمہاری بات کا جواب مل جائے گا اب خاموش کرکے بیٹھی رہو”
روحان کار ڈرائیو کرتا ہوا بولا
تھوڑی دیر بعد اس نے ایک ریسٹورنٹ کے باہر اپنی کار کو پارک کیا موبائل کو پاکٹ سے نکال کر کار کے اندر رکھتا ہوا وہ کار سے باہر نکلا اور عینا کی طرف کا دروازہ کھولا
عینا خاموشی سے باہر نکل آئی تو روحان اس کا ہاتھ پکڑ کر ریسٹورنٹ میں لے جانے کی بجائے روڈ پر آیا اور ٹیکسی رکوا کر عینا کو بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا
عینا ٹیکسی میں بیٹھتے ہی سوالیہ نظروں سے روحان کو دیکھنے لگی روحان بھی ٹیکسی میں بیٹھ چکا تھا مگر وہ عینا کو دیکھنے کی بجائے نہ جانے کس کو باہر تلاش کررہا تھا ٹیکسی 1 بینگلو کے باہر آکر رکی، وہ ٹیکسی والے کو تھوڑی دیر رکنے کا بول کر خود ٹیکسی سے باہر نکلا اور عینا کی طرف کا دروازہ کھولا
“اترو”
*****
“فروا”
عینا اپنے سامنے فروا کو دیکھ کر حیرت ذدہ ہوئی تھی اور اب وہ خوشی سے فروا سے مل رہی تھی
“ہمارا یہاں سے گزرنا ہوا تو سوچا فروا سے اپنی میسز کو ملوا دو”
روحان فروا کے فادر سے بولنے لگا
وہ دونوں وہاں دس منٹ بیٹھے اور واپسی اسی ٹیکسی میں ریسٹورنٹ پر رکی جہاں روحان نے اپنی کار کھڑی کی تھی اب وہ اپنی کار میں بیٹھ کر کار ڈرائیو کررہا تھا جبکہ عینا اسے دیکھ رہی تھی
روحان کو رات کا وہ منظر یاد آنے لگا جب وہ فروا کو کمفرٹر میں لپیٹ کر اسے الکینگ ہوٹل لےکر جارہا تھا اس کا دل اندر سے اسے بری طرح ملامت کررہا تھا روحان کو فروا کا بار بار اسے بھائی کہنا یاد آرہا تھا وہ چاہ کر بھی اسے الکینگ ہوٹل نہیں جاسکا بلکہ فروا کو اس کے لکھے گئے ایڈریس پر لے جاکر سوئی ہوئی فروا کا وجود، اس کے باپ کے سپرد کردیا
فروا کے پیچھے آدمیوں کے لگنے کے بعد کیسے فروا اسے اور اس کی بیوی کو ملی خوف کے مارے انکی بیٹی بےہوش ہوگئی کچھ اس طرح کی جھوٹی سچی کہانی بناکر روحان اس رات اس لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ آیا تھا
اور الکینگ ہوٹل میں آکر اس نے یہی بولا کہ وہ لڑکی اس کے گھر سے فرار ہوگئی جس پر کاشف زیری روحان سے خفا ہوا تھا مگر وہ روحان کو کوئی سزا نہیں دے سکتا تھا کیونکہ روحان اس کے گینگ کا کوئی چھوٹا موٹا ممبر نہیں تھا روحان کی شپ میں اغواء شدہ بچے اور لڑکیاں سپلائی کیے جاتے تھے کاشف اس سے بگاڑ کر اپنا نقصان نہیں کرسکتا تھا
کاشف نے کہیں اس کی حرکات و سکنات پر نظر نہ رکھی ہو اس لئے آج وہ اپنی کار اور موبائل ریسٹورینٹ کے پاس چھوڑ کر عینا کو فروا سے ملانے لےگیا یہ بھی ایک رسک تھا مگر اسے عینا کی ناراضگی دیکھ کر یہ رسک لینا پڑا تھا آخر وہ کب تک اپنا ریلیشن اپنی بیوی سے خراب رکھتا
****
“ایم سوری میں نے آپ کو جو بھی کہا اس دن مگر آپ کو بھی اسی دن بتادینا چاہیے تھا کہ فروا اپنے گھر پر موجود ہے”
واپس گھر آنے کے بعد روحان روم کی لائٹ بند کرتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا جبکہ عینا اپنا ڈریس چینج کرنے چلی گئی واپس آئی تو وہ روحان کے سینے پر اپنا سر رکھ کر بولی
“سوری کہنے کی ضرورت نہیں ہے تم نے جو بھی بولا اس کے بدلے میں نے بھی غصہ کیا تم پر ہاتھ اٹھایا ایم سوری تمہیں اس دن ہرٹ کرنے کے لئے”
روحان اس کو اپنے حصار میں لیتا ہوا بولا
آج چار دنوں کے بعد ان دونوں کے بیچ سب کچھ ٹھیک ہو چلا تھا روحان دعا کرنے لگا کہ اب اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان سب کچھ ٹھیک رہے مگر جیسا ہم چاہتے ہیں ضروری نہیں قسمت میں ویسا ہی لکھا ہو
****
تھوڑی دیر پہلے جہانگیر کے پاس واصف کی کال آئی تھی جہانگیر نے اسے روحان کی شپ میں جانے والے سامان کی پوری جانکاری لینے کے لیے بولا تھا واصف جونئر ہونے کے باوجود کافی تیز اور شاطر لڑکا تھا بقول اس کے پرسوں روحان کی شپ میں اچھی خاصی تعداد میں لڑکیوں کو دوسرے ملک میں بھیجا جائے گا
اندر سے اس کا دل نہیں مان رہا تھا کہ روحان ایسے کام میں بھی ملوث ہوسکتا ہے اگر وہ کاشف زیری کا ساتھی ہوا تو یقیناً اس کی کمر پر بھی وہی لوگو ہوگا اب یہ بات روحان اسے خود سے تو بتانے سے رہا کیا اسے عینا سے یہ پوچھنا چاہیے؟ طرح طرح کے سوالات اور خیالات جہانگیر کے ذہن میں آرہے تھے
وہ بیڈ روم میں بیٹھا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ آغول بیڈ روم کے اندر داخل ہوئی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا، سارا دھیان اس کا اپنی بیوی کی طرف گیا
کچن میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ان دونوں نے خاموشی سے رات کا کھانا کھایا آغول اپنا ڈریس چینج کرکے جہانگیر کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھی
“جہانگیر ہماری شادی سے پہلے شاپنگ مال میں جب آپ نے مجھے سیفی کے ساتھ جینٹس ٹوائلٹ میں دیکھا تھا تو اس دن لیڈیز ٹوائلٹ میں کچھ کنسٹرکشن کا کام ہورہا تھا گارڈز کے کہنے پر میں جنٹس ٹوائلٹ کی طرف گئی تھی”
آغول جہانگیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی اسے بتانے لگی جہانگیر نے غور سے اسے دیکھا وہ یہ سب بتاکر جہانگیر کی غلط فہمی دور کررہی تھی
“میں جانتی ہوں میں نے بیوقوفی کی تھی مجھے یوں سیفی کے بلانے پر اس سے ہوٹل میں ملنے نہیں جانا چاہیے تھا مگر میں وہاں پر کسی غلط ارادے سے نہیں گئی تھی آپ قسم لے لیں مجھ سے”
آغول جہانگیر کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی جہانگیر اسی کو دیکھ رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ آغول کے ہاتھ سے نکال کر خود اس کا ہاتھ تھاما
“یہ سب مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے میں ویڈیو میں دیکھ چکا تھا”
جہانگیر کو اچھا نہیں لگا کہ اس کی بیوی اسے اپنے کردار کی وضاحت دے وہ جانتا وہ ایسی لڑکی ہرگز نہیں ہے آغول کی آنکھوں میں نمی آئی
“میں اس کے ساتھ گھومتی پھرتی تھی اس کے منہ سے کئی بار اپنے لیے اظہارِ محبت سنا مگر کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی نہ کبھی خود سے اظہار کیا پرامسں”
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی
“تمہیں سیفی سے محبت نہیں تھی” جہانگیر نے آغول کو دیکھ کر سوال کیا جس پر آغول نے نفی میں سر ہلایا
“کبھی بھی اپنے دل میں اس کے لیے ایسی فیلینگز محسوس نہیں کی جو میں اب آپ کے لئے محسوس کرتی ہوں”
آغول جہانگیر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی جہانگیر خاموشی کے ساتھ ساتھ حیرت سے اسے دیکھنے لگا وہ سیدھا سیدھا اس سے محبت کا اعتراف کررہی تھی
“یعنی ایک مڈل کلاس اور بدصورت شوہر سے آخر کار اس کی بیوی کو محبت ہوگئی”
جہانگیر سنجیدگی سے آغول کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو آغول کی آنکھوں کی نمی گالوں پر آنسو کی صورت آئی
“مجھے معلوم تھا آپ کو کبھی میری بات کا یقین نہیں آئے گا بلکہ یہی لگے گا میرے پاس اب کوئی آپشن نہیں بچا اس لیے یہ سب کہہ رہی ہوں”
آغول جہانگیر سے اپنا ہاتھ چھوڑا کر بولتی ہوئی بیڈ سے اٹھنے لگی تو جہانگیر نے اس کا ہاتھ پکڑا بےوجہ ہی آغول کو رونا آنے لگا
“کیوں نہیں آئے گا یقین جو لڑکی میرے لیے کھانا بنانا سیکھ سکتی ہے میری پسند کے مطابق کپڑے پہن سکتی ہے اپنے آپ کو پورا پورا میری پسند کے مطابق ڈھال سکتی ہے اور سب سے بڑی بات جو اپنے شوہر کی شرٹ پر لپ اسٹک کا نشان دیکھ کر اس کی پوری شرٹ کو آگ لگاسکتی ہے اس کے جذبوں پر یقین کیا جاسکتا ہے وہ یقیناً اپنی شوہر سے محبت کرتی ہوگی”
جہانگیر اس کے گال سے آنسووں کو صاف کرتا ہوا بولا
آغول خاموشی سے جہانگیر کو دیکھنے لگی تو جہانگیر نے مسکرا کر اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے اور آغول کو اپنے حصار میں لیا
“شک تو مجھے تھوڑا سا اسی دن ہوگیا تھا جب تم میری شرٹ لےکر مجھ سے سوال کرنے آئی تھی مگر یہ سب تمہارے منہ سے سن کر زیادہ اچھا لگا”
جہانگیر اس کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کرتا ہوا بولا
“مت خون جلائیں میرا بار بار اس منحوس روزی کا کارنامہ یاد دلاکر اس کی تو کاشف صاحب نے بعد میں اچھی کلاس لی ہوگی”
آغول جہانگیر کے بانہوں میں اس سے بولنے لگی
“اچھی کلاس لی ہوگی، کیا مطلب کیسے”
جہانگیر اس کے گرد اپنے بازو ہٹاتا ہوا کنفیوز ہوتا آغول کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو ایک دم وہ گڑبڑا گئی مگر پھر اس نے سچ بتانے کا فیصلہ کیا
“اتنا غصہ آیا تھا نہ مجھے اس دن جہانگیر کتنا روئی تھی میں اس رات، اس لیے بعد میں، میں یونیورسٹی سے سیدھا کاشف صاحب کے گھر چلی گئی اور انہیں صاف کہہ دیا کہ وہ روزی کو سنبھال کر رکھیں اس کی بےتکلفی مجھے اپنے شوہر سے ذرا پسند نہیں”
آغول جیسے جیسے بتارہی تھی جہانگیر کو ویسے ویسے آغول پر غصہ آنے لگا
یعنی کاشف نے روزی کو مارکر اس کی ڈیڈ باڈی کو پولیس اسٹیشن کے سامنے اسی لیے پھینکوایا تھا اسے لگا کہ وہ روزی کا ہمدردر ہے یا پھر روزی اسکی مخبر ہے
“تمہارا دماغ درست ہے آغول تم ایسے ہی منہ اٹھا کر اکیلی زیری کے گھر چلی گئی عقل نام کی کوئی چیز ہے تم میں”
جہانگیر اب غصے میں آغول کو ڈانٹنے لگا کیوکہ بہت ممکن تھا آغول کی بیوقوفی کی وجہ سے ہی روزی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہو اور یوں زیری کے گھر اکیلے جانا اس کے خود کے لیے کتنا خطرناک تھا
“آپ کو اتنا برا لگ رہا ہے میرا کاشف صاحب سے روزی کی شکایت کرنا کہ آپ الٹا مجھے ڈانٹ رہے ہیں یعنی وہ چڑیل آپ کے لیے معنیٰ رکھتی ہے”
آغول ناراض ہوتی ہوئی بیڈ سے اٹھنے لگی تو جہانگیر نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا
“وہ معنیٰ نہیں رکھتی میری بیوی میرے لیے معنیٰ رکھتی ہے کاشف صحیح آدمی نہیں ہے تمہیں یوں اکیلے اس کے گھر نہیں جانا چاہیے تھا پرامس کرو اب کبھی بھی دوبارہ آیسے بےوقوفوں والی حرکت نہیں کرو گی”
جہانگیر غصے کے بجائے اب نرمی سے بولا اس پر غصے کا فائدہ بھی کیا تھا وہ ساری باتوں سے لاعلم تھی
“نہیں کرو گی مگر یہ بار بار یوں ان ڈائریکٹ مجھے بیوقوف مت بولیں یہ بتائے کہ آپ کی بیوی آپ کے لیے کتنی معنیٰ رکھتی ہے”
آغول کا دل چاہا وہ بھی جہانگیر کے منہ سے اپنے لیے اظہار اور تعریف سنے
“اس میں بتانے والی کیا بات ہے میری بیوی ہو تم معنیٰ تو رکھتی ہو میرے لیے”
جہانگیر اسے ٹالتا ہوا بولا فی الحال وہ اتنی جلدی کوئی اظہار کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
“یہ کیا بات ہوئی بیوی ہو معنیٰ تو رکھتی ہو ذرا ٹھیک سے بتائیں”
آغول مزید جہانگیر کے قریب آکر بیٹھی جہانگیر مسکرا کر اسے دیکھنے لگا پھر اس کا چہرہ تھام کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اپنی تشنگی مٹانے لگا جو شاید چند گھنٹے پہلے کچن والے واقعے سے کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی تھی
“جہانگیر پہلے میری بات کا جواب دیں آپ”
آغول اس سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی پوچھنے لگی وہ جہانگیر سے اعتراف چاہتی تھی
“بعد میں بتاؤں گا پہلے یہاں آؤ”
جہانگیر بولنے کے ساتھ ہی اسے حصار میں لیتا ہوا بیڈ پر لٹا چکا تھا ایک بار پھر اس نے آغول کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے گرفت میں لیا آغول اپنی آنکھیں بند کر کے جہانگیر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرچکی تھی جہانگیر اس کی شہہ رگ کو چومتا ہوا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا
مشکل سے چند پل ہی گزرے تھے تب زور زور سے گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوئی جیسے کوئی گھر سے باہر گیٹ پر بری طرح گولیاں برسا رہا ہو
