Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 15)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“او گاڈ اتنی انسلٹ، اتنی انسلٹ تو ہماری آج تک کسی نے نہیں کی جتنی اس لڑکی کے بھائی نے کردی توبہ ہے میری جو اب میں دوبارہ اس لڑکی کے گھر جاؤ اپنی بےعزتی کروانے حد ہوگئی ہمارے منہ پر ہی اس کے بھائی نے گیٹ آؤٹ کہہ دیا”

فاطمہ جہانگیر کو پہچان گئی تھی یہ وہی تھا جس نے مال میں لگنے والی آگ سے آغول کو بچایا تھا اس نے نیوز میں دیکھا تھا وہ وہی تھا، فاطمہ کو اس اتفاق پر حیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی تھی مگر اس کے تیور دیکھ کر فاطمہ کی ساری خوشی مٹی میں مل گئی اس لیے وہ گھر میں آنے کے ساتھ ہی شروع ہوچکی تھی عینا اس کے لئے روحان کی پسند سے دوبارہ “لڑکی” بن چکی تھی روحان کو غصہ آنے لگا

“فاطمہ تم زرا چپ کرو گی روحان ہوا کیا ہے آخر کیسے جانتے ہو تم جہانگیر کو”

روحان اپنے کمرے میں جانے لگا تھا منصور نے اس سے پوچھا تو روحان کو اپنے قدم روکنے پڑے

“کالج کے زمانے میں پڑھتا تھا میرے ساتھ نہایت بدتمیز اور جھگڑالو قسم کا شخص ہے میری اس سے کبھی بھی نہیں بنی ڈیڈی”

روحان کو پھر ایک بار کالج کا وہ دور یاد آنے لگا جب وہ دونوں لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو بری طرح پیٹ رہے ہوتے تھے آج بھی جب جیڈی نے اسے اپنے گھر سے جانے کے لیے کہا تو اس کا دل چاہا ایک عدد مُکا وہ اسکے منہ پر جڑ کر چلا جائے

“پھر تو اس کی بہن بھی اسی قسم کی ہوگی بدتمیز اور جھگڑالو۔۔۔ شکر ہے ابھی سے اصلیت سامنے آ گئی”

فاطمہ اتراتی ہوئی بولی تو روحان نے شکوہ بھری نظر ماں پر ڈالی

“فاطمہ میں بات کرلو اس سے یا تم ہی بولی جاؤ گی”

منصور فاطمہ کو دیکھتا بولا اس وقت اسے اپنی بیوی کی بیچ میں مداخلت ذرا پسند نہیں آئی تھی

“مما عینا اس قسم کی لڑکی نہیں ہے اور آئندہ اس کے بارے میں کوئی بھی الٹی سیدھی بات مت کرئیے گا میرے سامنے”

منصور کی بات سن کر، روحان کی بات پر فاطمہ خاموش ہوگئی اسے تو اپنے بیٹے کی ابھی سے فکر ہونے لگی تھی اسے اندازہ ہورہا تھا عینا سے اگر اسکی شادی ہوگئی وہ پکا زن مرید نکلے گا

“روحان جہانگیر سے تمہارا جو بھی مسئلہ تھا وہ اب پرانی بات ہوچکی ہے اس بات کو لےکر تم وہاں سے اٹھ کر چلے آئے”

منصور نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا

“اٹھ کر میں نہیں آیا سنا نہیں آپ نے، اس نے بولا تھا گھر سے نکلنے کا”

روحان کو بولتے ہوئے غصہ آنے لگا وہ آج بھی ویسے ہی تھا بدتمیز قسم کا جھگڑالو انسان، اپنی نیچر کے مطابق اس نے اپنے لئے جاب کا بھی انتخاب کیا تھا روحان نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا

“اس نے بولا اور تم اٹھ کر چلے آئے بات تو کرنے دیتے مجھے، میں اور اس کی دی جان ہم دونوں مل کر آپس میں صلح صفائی کروا دیتے تم دونوں کی ایسے تھوڑی نہ بنتے ہیں رشتے نرمی لانی پڑتی ہے تھوڑا جُھکنا پڑتا ہے”

منظور روحان کو دیکھتا ہوا سمجھانے لگا

“اوہو منصور آپ تو ایسے بات کررہے ہیں جیسے کوئی سُرخاب کے پر لگے ہو اس لڑکی میں اب ایسی بھی کوئی حور پری نہیں ہے عینا اور نہ ہی ہمارے بیٹے کو رشتے کی کمی ہے ایک سے بڑھ کر ایک ماڈرن لڑکی مل جائے گی روحان کو اور آپ لڑکے والے ہوکر جُھکنے کی بات کررہے ہیں۔۔۔ لڑکی کے بھائی ہونے کے باوجود اس کی اکڑ نہیں دیکھی آپ نے”

منصور کو اتنی طرفداری کرتا ہوا دیکھ کر فاطمہ ایک دفعہ پھر بولی

“میں عینا کے علاوہ کسی اور دوسری لڑکی سے شادی نہیں کرو گا مما”

روحان بگڑے ہوئے تیور کے ساتھ فاطمہ کو باور کروانے لگا فاطمہ کو ان باپ بیٹوں پر حیرت ہونے لگی جو اپنی بےعزتی کروانے کے باوجود عینا عینا کررہے تھے ساتھ میں ہی عینا سے چڑ بھی ہونے لگی۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اگر یہ لڑکی اس کے گھر میں آگئی تو اس کا بیٹا تو پکا اس کے ہاتھ سے نکلے گا

“فاطمہ تم بہت زیادہ بول رہی ہوں تمہارا میک اپ خراب ہوچکا ہے پلیز اپنے کمرے میں جاؤ”

منصور کو معلوم تھا فاطمہ ایسے نہیں جائے گی اس لیے وہ اسے دیکھتا ہوا آرام سے بولا اور فاطمہ منصور کو گھورتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی

“بیٹا مجھے تمہارا انتخاب بےحد پسند آیا ہے عینا واقعی بہت پیاری بچی ہے ہمارے گھر میں وہ بہو کے روپ میں آئے گی تو مجھے بہت خوشی ہوگی میں چاہتا ہوں تمہاری شادی عینا سے ہی ہو”

منصور اپنا ہاتھ روحان کے کندھے پر رکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر روحان کے تنے ہوئے نقش ڈھلے ہوئے

“اسی گھر میں آنا ہے اسے بہو بن کر، وہ اسی گھر میں آئے گی ڈیڈی” روحان منصور سے بولا اور اپنے کمرے میں چلا گیا

عینا اس کی محبت تھی، وہ جیڈی کو بیچ میں ٹانگ اڑانے نہیں دے گا یہ کوئی کالج نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی اسٹوڈنٹ تھا جو اسے رولز فولو کرنے پڑتے وہ چھین لے گا جیڈی سے اپنی محبت روحان نے کمرے میں آکر اپنا کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے سوچا

****

“اگر کالج کے زمانے میں تمہاری اس سے نہیں بنی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم اسے گھر سے جانے کا کہہ دو، جہانگیر گھر آیا مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے اس طرح کی بدسلوکی نہیں کی جاتی بچے بہت افسوس ہوا ہے مجھے آج تمہارے رویے پر”

دی جان رات میں جہانگیر کے کمرے میں آئیں اور وجہ جاننے کے بعد اس سے بولیں

“معذرت دی جان مگر مجھے اپنے رویے پر کوئی افسوس نہیں ہوا آپ کو نہیں معلوم کالج کے زمانے میں وہ کتنا بدتمیز اور خود سر قسم کا لڑکا تھا اپنے باپ کے پیسوں پر اترانے والا ہر چیز پر اپنا حق جتانے والا، اتنا بدتمیز انسان جس کو میں پہلے سے جانتا ہوں اپنی بہن تو ہرگز نہیں دے سکتا”

جہانگیر دو ٹوک لہجے میں بولا

“کالج کا دور گزرے ہوئے زمانہ ہوگیا اس دور میں تو لڑکے ہوتے ہیں ایسے ہی، آج تو وہ بالکل بدتمیز اور خود سر نہیں لگا تھا اور اس کا باپ وہ کتنے اچھی طریقے سے بات کررہا تھا سب سے بڑھ کر وہ بھی ہماری عینا کو پسند کرکے گئے ہیں”

دی جان افسوس کرتی ہوئی بولی انہیں روحان اچھا لگا تھا اور منصور بھی بہت سلجھے ہوئے طریقے سے بات کر رہا تھا

“دی جان کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ بدتمیز ہے یا خود سر ہے یہاں وہ رشتہ لینے آیا تو شریفوں کی طرح ہی آئے گا ناں اور جو شروع سے ہی بدتمیز ہو وہ بعد میں بھی ایسا ہی ہوگا۔۔۔ ویسے بھی وہ لوگ اب جاچکے ہیں اس لئے ہمارا بھی اس ٹاپک پر بات کرنا فضول ہے”

جہانگیر بات ختم کرتا ہوا بولا تو دی جان تھکے ہوئے قدموں سے اپنے کمرے میں چلی گئیںں

****

“کیسی ہو”

تین دن گزر چکے تھے مگر روحان کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا لیکن وہ عینا کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا تھا اس لیے وہ کال کرتا ہوا عینا سے پوچھنے لگا۔۔۔ عینا کی آواز سن کر دل میں ایک بار پھر شدید قسم کی طلب جاگی تھی اسے حاصل کرنے کی اسے اپنے سامنے دیکھنے کی

“تین دن بعد آپ کو خیال آیا ہے میرا”

روحان کی کال دیکھ کر عینا کو بہت خوشی ہوئی تھی مگر نہ چاہتے ہوئے بھی عینا کی زبان سے شکوہ پھسل گیا تین دن سے وہ انتظار کررہی تھی کہ روحان اس کو کال کرے گا وہ اسے خود کال کرنا نہیں چاہتی تھی وہ اب روحان کی محبت دیکھنا چاہتی تھی عینا کے سوال پر روحان خاموشی رہا ایسا نہیں تھا کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا مگر محبت بہت عجیب چیز ہوتی ہے سامنے والے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے

“بھائی کا رد عمل بہت شدید ہے روحان، آپ اندازہ نہیں کرسکتے زندگی میں کبھی بھی بھائی نے میرے ساتھ اتنا اجنبی رویہ نہیں رکھا پلیز آپ کچھ کریں”

عینا روحان کی خاموشی محسوس کر بےبسی سے روحان کو بولی تین دن سے ان کے گھر کا ماحول بہت عجیب تھا سب اپنی اپنی جگہ پر خاموش تھے

“اچھا ذرا مجھے بتاؤ کیا کرنا چاہیے مجھے” روحان سکون سے اس سے پوچھنے لگا جیسے وہ عینا کی سوچ جاننا چاہتا ہوں

“آپ کو اکیلے یہاں آکر بھائی سے تحمل سے بات کرنی ہوگی ان سے خود سے آگے بڑھ کر دوستی کرلیں پرانی باتوں کو بھول جائیں ورنہ ایسے کیسے چلے گا”

عینا بیچارگی سے بولی اب تو اسے اور بھی زیادہ فکر ہوگئی تھی آخر سب ٹھیک کیسے ہوگا بقول دی جان کے جہانگیر نے اس ٹاپک پر بات کرنے سے منع کردیا تھا

“تمہارا بھائی ہے دوستی کرنے کے لائق, دل تو چاہتا ہے تمہارے بھائی کو تو میں”

غصہ اسے پہلے ہی آ رہا تھا عینا کی بات سے روحان کے غصے کو مزید ہوا ملی مگر اس کے سخت الفاظ یقیناً عینا کا دل دکھاتے اس لیے وہ خاموش ہوگیا عینا پہلے ہی پریشان تھی اور وہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتا

“اب جیڈی کو چاہیے وہ میرے گھر آئے میرے پیرنٹس سے اپنے رویے کی معافی مانگے تب ہی بات آگے بڑھے گی”

کچھ دیر بعد روحان عینا سے بولا روحان کی بات سن کر عینا پریشان ہوگئی

“بھائی تو ایسا کبھی نہیں کریں گے یہ بات آپ کو بھی معلوم ہے ان کو ہمارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بات ہم دونوں کی ہے اس لیے آپ کو ہی کوئی اسٹیپ لینا پڑے گا”

عینا روحان کو سمجھانے لگی

“مجھے ہی کیوں کوئی اسٹیپ لینا پڑے گا تم بھی تو میرا ساتھ چاہتی ہو نا”

روحان عینا سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“بھائی میری کوئی بات نہیں سن رہے ہیں روحان۔۔۔ آپ کو میری پوزیشن بھی سمجھنا چاہیے”

عینا ایک بار پھر بے بسی سے بولی۔۔۔ وہ جہانگیر سے کیا بولتی جہانگیر تو اس کے منہ سے روحان کا نام سننے کے لیے تیار نہیں تھا

“جیڈی کبھی میری بات بھی نہیں سنے گا انتہا کا انا پرست انسان ہے تمہارا بھائی، اب ہمارے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے عینا اور وہ ہے کورٹ میرج تم بالغ ہو اپنے لیے خود اسٹینڈ لے سکتی ہو اپنے بھائی کو چھوڑ دو اور میرا ساتھ اپنالو بعد میں تو سب کچھ ٹھیک ہو ہی جائے گا”

روحان سب کچھ کتنی آسانی سے بول رہا تھا اور اس کی بات سن کر عینا کو اپنی سانسیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی

“میں آپ سے محبت کرنے کے باوجود اپنے بھائی کے اگینسٹ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی روحان میں اپنے بھائی کو یوں رسوا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی”

بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے

“تو پھر اپنے بھائی کے گھر ہی سڑھتی رہو ڈیم اٹ، میرا پیچھا چھوڑو”

روحان غصے میں تقریباً عینا پر زور سے دھاڑا

“چھوڑ دیا آپ کا پیچھا”

عینا روتی ہوئی بولی تو روحان نے اپنا موبائل کھنچ کر دور پھینکا

ایک وہ تھا کہ عینا کے لیے ہلکان ہوا جارہا تھا عینا اس کی فیلینگز کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی شاید عینا اس سے زیادہ جیڈی سے محبت کرتی تھی بغیر لڑے آج جیڈی اس سے بازی لے گیا تھا روحان کو جیڈی سے نفرت اور عینا پر غصہ آنے لگا مگر وہ اتنی آسانی سے تو جیڈی کو جیتنے دے نہیں سکتا تھا

“بہت شوق ہے ناں جیڈی تجھے ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانے کا، باپ بننا بہت پسند ہے تجھے چل ایک گیم کھیلتے ہیں”

روحان خود سے بولتا ہوا پُراسرار طریقے سے ہنسنے لگا اور اٹھ کر اپنا موبائل اٹھانے لگا

****

رات کی تاریخی میں صبح کی سفیدی گُھل رہی تھی اس وقت دنیا جہاں کے لوگ اپنے حال سے بےخبر بستر میں دبک کے سو رہے ہوگے، یہی وقت ہے جب وہ گھر سے فرار ہوسکتی تھی بغیر آواز نکالے بےحد آئستگی کے ساتھ وہ گھر کے پچھلے حصے میں پہنچی کیونکہ مین گیٹ پر گارڈ موجودہ تھا جو اپنے ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہا تھا اس لئے وہ کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی، ہاتھ میں اپنا بیگ دبائے جس میں اس کے چند جوڑے رکھے ہوئے تھے بڑی سی چادر میں اپنے چہرے کو اچھی طرح ڈھانپ کر، اس نے دیوار کے دوسری پار اپنا بیگ پھینکا

اب اسے اس دیوار کو پھیلانگنا تھا دو سے تین بار کوشش کرنے پر وہ کامیاب ہوئی تھی جیسے ہی دیوار کے دوسری پار اس نے چھلانگ لگائی اس کی چادر زمین پر گری، چادر کو جھاڑ کر وہ جلدی سے اپنے گرد دوبارہ لپیٹ چکی تھی اسے اپنا چہرہ چھپانا تھا گھر کے آس پاس ہر جگہ پر کیمرے نصب تھے اپنے بیگ کو ہاتھ میں اٹھایا اب وہ جلدی جلدی گھر سے دور نکلنا چاہتی تھی