Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 3)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

علی، بتول بیگم کا اکلوتا بیٹا تھا جو کہ بہت منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا، بتول بیگم نے اسے پال پوس کر بڑا کیا اپنی حیثیت کے مطابق پڑھایا لکھایا اور اس کی شادی کی, ملیحہ ان کے لیے اچھی بہو ثابت ہوئی جس نے اپنی ساس کو ماں کا درجہ دیا علی کی گورنمنٹ جاب تھی تین کمروں کا ذاتی مکان تھا، شاہانہ انداز میں نہ سہی مگر زندگی آسانی سے بسر ہورہی تھی تب ان کی زندگی میں جہانگیر آیا جس کے آنے سے ان کے گھر میں رونق ہوگئی

جہانگیر گھر بھر کا لاڈلا تھا اور بتول بیگم میں تو اس کی جان بستی تھی علی اور ملیحہ نے اس کے لئے بہت سے خواب دیکھے تھے ان دونوں کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننے کے ساتھ اچھا انسان بھی ضرور بنے جہانگیر بچپن سے ہی ذہین تھا علی نے اسکا اچھے بڑے اسکول میں ایڈمیشن کروایا جب وہ چھ سال کا ہوا تب عینا کی پیدائش ہوئی ننھی منی سی عینا کسی پری کی مانند تھی اس کا رنگ روپ گھر میں سب سے ہی الگ تھا ہر بڑے بھائی کی طرح جہانگیر کو بھی اپنی چھوٹی بہن سے بہت محبت تھی

یہ ایک مڈل کلاس فیملی تھی زندگی کی بہت سی سہولیات میئسر نہ ہونے کے باوجود خدا کا شکر ادا کر کے اپنی زندگی بسر کر رہی تھی مگر اچانک ان کی زندگی میں المناک حادثہ پیش آیا, علی اور ملیحہ دونوں بچوں کو بتول بیگم کے پاس چھوڑ کر اپنے دوست کی طرف جا رہے تھے مگر راستے میں کسی ٹرک سے ان کی بائیک ٹکرانے کے سبب ان دونوں کا ایکسیڈنٹ ہوا اور دونوں میاں بیوی موقع پر جاں بحق ہوگئے

بتول بیگم پر یہ خبر بجلی کی طرح گری تھی بڑھاپے کی دہلیز پر جوان بیٹے اور بہو کی لاشوں کو کفن میں لپٹا دیکھنا کوئی آسان بات نہیں تھی شاید اس صدمے کے زیرِاثر وہ بھی زندہ نہیں رہتی اگر جہانگیر اور عینا موجود نہیں ہوتے جہانگیر اس وقت میٹرک میں تھا جب یہ المناک حادثہ اس کی زندگی میں پیش آیا تھا وہ اس وقت اپنے پیروں پر کھڑا تھا نہ ہی زیادہ بڑا تھا مگر اب اسے اندازہ ہو گیا تھا آگے حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے اسے اپنے آپ کو ذہنی طور پر مضبوط بنانا ہوگا، اپنی دی جان اور چھوٹی بہن کے لیے وہی ان دونوں کا سہارا تھا علی اور ملیحہ کے انتقال کے بعد باقی ان تینوں کے لیے کٹھن وقت کا آغاز شروع ہوا مگر بتول بیگم نے اس وقت بہت ہمت اور حوصلے سے کام لیا علی کی آنے والی پینشن جس سے وہ جیسے تیسے گزارا کر لیتی مگر دونوں بچوں کو پڑھانے کے لیے انہوں نے گھر میں سلائی شروع کردی، جس پر شروع میں جہانگیر ان سے کافی ناراض ہوا مگر اسے خود بھی اندازہ تھا اس کے بغیر ان لوگوں کا گزارا ناممکن ہے اس لیے اس نے اپنی پڑھائی کے ساتھ چھوٹی موٹی ٹیوشنز دینا شروع کردی تاکہ اپنا خرچہ وہ خود اٹھا سکے

جہانگیر کے لاکھ خفا ہونے کے باوجود بتول بیگم اپنا زیور بیچ کر اس کا اچھے کالج میں ایڈمیشن کروایا کیونکہ یہ خود ان کے بیٹے کا بھی خواب تھا پڑھائی کے ساتھ ساتھ جہانگیر نے پارٹ ٹائم چھوٹی موٹی جابز کا سلسلہ جاری رکھا اور آہستہ آہستہ گھر کی ساری ذمہ داری خود سنبھالی، جہانگیر کی سچ مچ خفا ہونے پر بتول بیگم کو سلائی چھوڑنا پڑی

علی کا خواب پورا کرتا ہوا اس نے خوب محنت سے پڑھائی کی اور اچھا پڑھ لکھ کر اس نے جس محکمے کا انتخاب کیا وہاں زیادہ ایمانداری نہیں پائی جاتی تھی مگر وہ ایک ایماندار افسر بنے گا یہ اس نے خود سے عہد کیا تھا سی۔ایس۔ایس کا امتحان کامیاب کرنے کے بعد وہ اے۔ ایس۔پی کی پوسٹ پر فائز ہوا اور چند مہینوں کے بعد بہترین کارکردگی پر پرموشن ملنے کی صورت 18 گریڈ میں سپر آٹینڈنٹ آف پولیس، ایس پی کے عہدے پر فائز ہوا اب حالات پہلے جیسے نہیں تھے اسے گورنمنٹ کی طرف سے سرکاری بنگلہ الاٹ کیا گیا تھا مگر اس نے پورش ایریئے میں اپنا ذاتی بنگلہ بنوایا تھا جو بہت زیادہ عالیشان نہیں تھا مگر اس کے پچھلے مکان کے مقابلے میں کافی زیادہ اچھا تھا عینا کو بھی وہ آگے پڑھا رہا تھا, وہ بی ایس کی اسٹوڈنٹ تھی اور یونیورسٹی میں اس کا دوسرا سال تھا اب حالات ان کے پہلے جیسے نہیں تھے مگر یہ سب کچھ جہانگیر نے اپنی اسٹریگل سے حاصل کیا تھا، وہ سے بھی زیادہ حاصل کرسکتا تھا مگر وہ اپنی جوب سے ایماندار تھا

****

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر ٹریٹ میل پر ایکسرسائز کرنے میں مصروف تھی اپنے ویٹ کو لےکر وہ پچھلے چار سال سے بہت زیادہ کونشیئز تھی جہاں اسے ذرا سا ویٹ بڑھتا ہوا محسوس وہ اس کا سارا فوکس اپنی ایکسر سائز اور ڈائٹ پر چلا جاتا

پیدائش کے وقت سے ہی وہ ایک صحت مند، گول مٹول اور خوبصورت بچی تھی بچپن میں تو گول مٹول سا سراپہ کیوٹ ہی لگتا تھا، اوپر سے گھر میں ہر طرح کی آسائشات اور دنیا کی نعمتیں موجود ہونے کی وجہ سے اس نے کبھی اپنے اسٹریکچر پر دھیان نہیں دیا مگر جیسے جیسے بلوغت کے مراحل طے ہوئے تو اپنی دوستوں اور دبلی پتلی لڑکیوں کو دیکھ کر، اس کو بھی احساس ہوا اسے نارمل ویٹ ہونا چاہیے

کچھ وہ بچپن سے ہی ضدی تھی کچھ ماں باپ اور بھائی کے پیار نے اسے بگاڑا تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اچھا خاصہ بگاڑا تھا طبیعت میں ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث اپنی بات پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو نارمل ویٹ میں لانے کی بجائے کافی حد تک اسمارٹ فگر کی مالک بناچکی تھی مگر کل یونیورسٹی کی ایک لڑکی کی بات پر

“آغول تمہارا ویٹ دوبارہ بڑھ رہا ہے”

وہ ایک دفعہ پھر اپنے ویٹ اور ڈائٹ کو لےکر محتاط ہوچکی تھی زاہدہ لیمن جوس کا گلاس اس کے روم میں لے کر آئی تو آغول نے کانوں سے ہینڈفری نکالا اپنے چھوٹے سے ٹاول سے چہرے اور گردن پر آیا ہوا پسینہ صاف کرتی ہوئی وہ صوفے پر آکر ریلیکس بیٹھی زاہدہ اب معمول کی طرح اس کے کپڑے پریس کررہی تھی آغول نے گلاس اٹھاکر منہ سے لگایا

“اففف تم نے اس میں شوگر ڈالی ہے اسٹوپڈ دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا”

آغول نے ایک سپ لینے کے بعد زائدہ کو ناگواری سے گھورتے ہوئے دیکھ کر کہا

“میم جوس تو آپ ڈیلی ذرا سا میٹھا لیتی ہیں”

زاہدہ شرمندگی سے آغول کو دیکھتی ہوئی بولی

“ایکسرسائز کرنے کے بعد کون مٹھاس اپنے اندر انڈیلتا ہے بیوقوف”

آغول اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی اپنے جوگرز اتارنے لگی

“آپ ناراض نہ ہو مجھے اندازہ نہیں تھا آپ نے ایکسرسائز دوبارہ شروع کردی ہے، میں آپ کے لیے دوبارہ جوس بنا دیتی ہوں”

زاہدہ اپنی چھوٹی میم کا موڈ خراب دیکھ کر گویا ہوئی

“اندازہ نہیں تو پہلے آکر پوچھنا چاہیے نا اب مسکینوں کی طرح میری شکل مت دیکھو جلدی سے کپڑے آئرن کرو یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہورہی ہوں میں”

آغول اس کو مور الزام ٹھہراتی ہوئی بگڑے ہوئے زاویوں کے ساتھ دیکھ کر بولی اب وہ اونچی بندھی ہوئی پونیٹیل کھول کر اپنا باتھ گاون لےکر شاور لینے جانے لگی جبکہ زائدہ جلدی جلدی اس کے کپڑے آئرن کرنے لگی

“تم ابھی تک میرے روم میں ہو زاہدہ گُم کرو اپنی شکل جلدی”

شاور لینے کے بعد جب وہ باتھ گاون میں واپس روم میں آئی زائدہ کو اپنے کمرے میں موجود دیکھ کر چڑتی ہوئی بولی

“جی یہ دوبارہ آپ کے لئے جوس بنا دیا ہے”

زائدہ منمناتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ آغول سر جھٹک کر اپنے کپڑے اٹھاکر ڈریسنگ روم میں چلی گئی

آج یونیورسٹی کے لیے وہ لیٹ ہوگئی تھی کیپری کے اوپر سلیولیس ٹاپ پہن کرو جلدی سے بالوں میں ہیئر برش پھیرنے لگی جیکٹ پہننے کے بعد جوس پیکر وہ مزید ٹائم ضائع کیے بنا اپنا ہینڈ بیگ گلاسز اور موبائل ہاتھ میں تھامے روم سے باہر نکل گئی

“کار کی چابی دو” آغول کار پورچ میں پہنچی جہاں ڈرائیور اس کا منتظر تھا وہ ڈرائیور کو دیکھتی ہوئی بولی

“پر میںم سر منصور نے سختی سے تلقین کی ہے کہ”

آغول کی فرمائش سن کر ڈرائیور مؤدبانہ انداز میں بولنے ہی لگا

“چابی دو”

وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے دوبارہ غصے میں آنکھیں دکھاتی ڈرائیور کو بولی

دو ماہ پہلے ہی اسے ڈرائیونگ کا شوق چڑھا تھا جس کی کلاسسز لے کر اس نے ڈرائیونگ سیکھی تھی ابھی اسے ڈرائیونگ میں خاص مہارت حاصل نہیں ہوئی تھی اس لئے منصور ملک نے خاص طور پر اسے اکیلے کار ڈرائیو کرنے کو منع کیا تھا مگر گھر کا ہر ملازم فاطمہ اور آغول کے غصے سے ڈرتا اس لئے کوئی بھی ان کے آگے کچھ بولنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا ڈرائیور نے خاموشی سے چابی آغول کو ہاتھ میں تھمائی اور آغول کے لیے کار کا دروازہ کھولنے لگا

“موو”

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد آغول نے ڈرائیور کو پیچھے ہٹنے کے لئے کہا اور کار اسٹارٹ کر کے گیٹ سے باہر نکل گئی

*****

آج عینا کا بہت امپورٹنٹ لیکچر تھا جو وہ کسی بھی صورت ہو مس نہیں کرسکتی تھی اس لئے جہانگیر اسے یونیورسٹی چھوڑنے کے لیے آگیا عینا کو یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد یونیورسٹی میں پروفیسر ضیاء سے اسے ضروری کام تھا اس لئے کار پارکنگ ایریا میں کھڑی کرکے وہ ان سے ملنے چلا گیا جب وہ واپس آرہا تھا تب ایک کار اسے دور سے آتی دکھائی دی جوکہ اس کی کار سے ٹکرائی

“او گاڈ کس بےہودہ انسان نے اپنی کھٹارہ یہاں کھڑی کردی ہے”

آغول جوکہ پارکنگ ایریا میں اپنی کار پارک کر رہی تھی برابر میں کھڑی کار سے اس کی کار کی باڈی ٹچ ہوئی تو اپنی کار کا شیشہ نیچے کرتی ہوئی کھڑکی سے جھانک کر بولی اس کی آواز اتنی بھی آئستہ نہیں تھی جو جہانگیر سن نہیں پاتا وہ جو بھی کوئی لڑکی تھی ایک تو اس کی کار پر اچھا خاصا بڑا ڈینٹ مار چکی تھی اوپر سے اس کو بیہودہ اور اس کی کار کو کھٹارہ بھی بول رہی تھی

“کیا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کار چلارہی ہیں آپ یا پھر بالکل ہی اندھی ہیں جو آپ کو اتنی بڑی کار نظر نہیں آرہی”

جہانگیر آغول کا فقرہ سننے کے بعد لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کی کار کے پاس آیا اور غصے میں بولا

“او ہیلو ذرہ تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو، کار تم نے غلط پارک کی ہے اور بکواس تم مجھ سے کررہے ہو”

آغول کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ کر بولی جو اسے آندھی کہہ کر مخاطب کرنے کی گستاخی کرچکا تھا

“تمیز کی مجھ سے زیادہ تمہیں ضرورت ہے محترمہ نہ تمہیں ڈرائیونگ کی تمیز ہے، نہ ہی بات کرنے کی تمیز ہے نہ ہی ڈریسنگ کی تمیز ہے اور نہ ہی تمہاری شکل تمیز والی ہے”

جہانگیر اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا یہ وہی ریسٹورینٹ والی لڑکی تھی جسے اس نے ایک ہفتے پہلے اس نمونے کے ساتھ دیکھا تھا وہ ایک مغرور اور بدمزاج لڑکی تھی جو کبھی بھی اپنی غلطی ایکسپٹ نہیں کرتی اس لئے جہانگیر بھی عزت اور شرافت بلائے طاق رکھتا ہوا آپ سے تم پر آکر بولا وہ ابھی بھی ناگوار نظریں اس کی ڈریسنگ پر ڈال کر اپنی کار کی طرف بڑھنے لگا

“‏ہاو ڈیر یو تم ہو کون آخر میری شکل اور میری ڈریسنگ پر ریمارکس دینے والے، آج جاکر پہلے اپنی شکل آئینے میں دیکھنا” آغول نے ہکا بکا منہ کھول کر پہلے اپنی ہی ذات پر اس بدتمیز انسان کا تبصرہ سنا پھر اس کے سامنے آتی ہوئی حساب بے باک کرتی ہوئی بولی آخر کیا چیز تھا وہ صرف قد کاٹھ ہی تو اچھا تھا، رنگ بےشک سیاں نہ ہو مگر صاف رنگ میں سانولاہٹ گُھلتی ہوئی صاف محسوس ہورہی تھی اور آغول کے نزدیک تو خوبصورتی کی علامت صرف گورا رنگ تھا اگر اس شخص کی جگہ کسی اور شخص سے اس کی کار ٹکراتی تو لازمی وہ دوسرا شخص آغول کی شخصیت سے مرغوب ہوکر اتنی بدتمیزی ہرگز نہ کرتا جتنا اس کے سامنے کھڑا یہ بدتمیز انسان کرچکا تھا

“میں روز اپنی شکل آئینے میں دیکھتا ہوں اور خدا کا لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے مکمل انسان بنایا نہ صرف انسان بنایا بلکہ ایسا انسان بنایا جو سامنے والے کو اس کی غلطی کا احساس دلائے بلکہ انہیں انکی اوقات بھی یاد دلائے” جہانگیر اپنے سامنے کھڑی اس منہ زور اور مغرور لڑکی کو دیکھتا ہوا بولا اور نیچے پڑا ہوا پتھر اٹھا کر اس کی کار کے شیشے پر دے مارا آغول ایک بار دوبارہ حیرت سے منہ کھولے اپنی زیرو میٹر کار کا شیشہ دیکھ رہی تھی جس کے شیشے پر اچھی خاصی بڑی دڑار پڑ چکی تھی

“تمہاری اس کار کی بجائے میں تمہارے چہرہ کا نقشہ بھی بگاڑ سکتا تھا اور اس کے لئے مجھے اس پتھر کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اس لیے آئندہ کسی کے سامنے بک بک کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا کہ سامنے والا کتنا پانی میں ہے”

جہانگیر اس کے کُھلے ہوئے منہ کو دیکھ کر بولا اور اپنی کار کی طرف بڑھ کر ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا

“تم میرے باپ اور بھائی کو جانتے نہیں ہو”

آغول اس کو جاتا ہوا دیکھ کر تنک کر بولی

“تمہارا باپ اور بھائی مجھے نہیں جانتے جس دن وہ مجھے جان جائیں گے اس دن ان کا بھی منہ بھی حیرت سے ایسے ہی کھلا رہ جائے گا”

جہانگیر اس کو بولتا ہوا کار اسٹارٹ کرچکا تھا اور وہاں سے چلا گیا

“ہیلو سویٹی کون تھا یہ شخص جسے تم بات کر رہی تھی”

سیفی آغول کے پاس آکر اس سے پوچھنے لگا

“سیفی پلیز اس وقت میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی چلے جاؤ یہاں سے”

آغول کو اس وقت سیفی کی شکل بھی بری لگی جبھی وہ خراب موڈ کے ساتھ بولی

“موڈ کس بات پر خراب ہے یار تمہارا یہاں میری طرف دیکھو میں ابھی تمہارا موڈ ٹھیک کردیتا ہوں”

سیفی آغول کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا جسے آغول نے زور سے جھٹکا

“میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے بغیر ٹچ کیے بات کیا کرو ایڈیٹ”

آغول غصے میں سیفی کو دیکھتی ہوئی بولی اور اسے چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ اپنی عزت افزائی پر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا

سیفی اسکا یونیورسٹی فیلو تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ آغول سے محبت کرتا ہے جس کا اظہار وہ وقفے وقفے سے کر کے آغول کو اپنی محبت کا یقین دلاتا تھا آغول کی نظر میں سیفی کی محبت کوئی خاص ویلیو نہیں رکھتی تھی اسے معلوم تھا کہ وہ خوبصورت ہے اسکول کالج یونیورسٹی کے علاوہ اس کے سرکل میں موجود لڑکوں نے بھی اس کو اسی طرح ان کی محبت کا یقین دلایا تھا اس لیے دوسرے لڑکوں کی طرح وہ سیفی کو بھی زیادہ سیریس نہ لیتی تھی البتہ دوسرے لڑکوں کو زیادہ فرینک نہیں تھی مگر سیفی سے اس کی دوست یونیورسٹی فیلو کی وجہ سے ہوگئی تھی وہ اکثر سیفی کے ساتھ وہ یونیورسٹی کہ باہر ہوٹلنگ کرتی ہوئی یا پھر گھومتی پھرتی ہوئی نظر آتی

****

“ایکسکیوزمی میم”

ساری کلاس ختم ہوچکی تھی عینا یونیورسٹی کے پوائنٹ کے انتظار میں کھڑی تھی جب اسے اپنی پشت سے آواز سنائی دی عینا نے مڑ کر دیکھا وہی لڑکا ہاتھوں میں فلاور بُکے لئے کھڑا تھا

“ان پھولوں کو دینے کا کیا مقصد ہے آپ کا، آخر کیوں آپ یہ مجھے ہفتے بعد لاکر دے جاتے ہیں”

اس لڑکے نے عینا کی طرف پھول بڑھائے تو عینا بغیر ہاتھ بڑھائے اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے فلاورز میں آپ کو نہیں دیتا بلکہ سر روحان بھجواتے ہیں”

وہ لڑکا عینا کو دیکھتا ہوا بتانے لگا تو عینا حیرت سے اسے دیکھنے لگی اب بھلا یہ روحان کون تھا اسے کیا معلوم

“اور آپ کے سر روحان یہ فلورز مجھے کیوں بھجواتے ہیں”

عینا کنفیوز ہوتی ہوئی اس لڑکے سے سوال پوچھنے لگی

“جی اس کا تو مجھے علم نہیں یہ تو وہی بہتر جانتے ہوگے کہ یہ فلور وہ آپ کو کیوں بھجواتے ہیں میں تو ان کا ڈرائیور ہوں ان کے کہنے پر آپ کو یہ بُکے دے جاتا ہوں”

اس لڑکے نے بولتے ہوئے ایک دفعہ پھر عینا کی طرف وہ فلاورز کا بُکے بڑھایا

“کیا وہ خود اس قابل نہیں ہے جو یہ بُکے آپ کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں ان سے کہہ دیجئے گا مجھے ان کے دیئے گئے فلورز نہیں چاہیے اور آئندہ مجھے فلاورز بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے”

عینا اب کی بار تھوڑا سخت لہجے میں کہتی ہوئی پوائنٹ کے اندر بیٹھ گئی

“نہ جانے کون تھا یہ روحان اور کیا چاہتا تھا اگر بھائی کو ذرا سے بھی شک ہو جائے تو نہ جانے ان کا کیا ری ایکشن ہوگا اچھا ہی ہوا جو آج منہ پر منع کردیا”

عینا پوائنٹ میں بیٹھتی ہوئی دل ہی دل میں اپنے آپ کو مخاطب کرتی ہوئی بولی