Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 11)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“دیکھو آفیسر تم مجھے جانتے ہو،، میرا مطلب ہے تم اتنا تو جانتے ہو کہ میں کوئی مجبور اور بےبس ٹائپ کی مڈل کلاس لڑکی نہیں ہوں،، میرے فادر اور بھائی کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں میں اس ہوٹل میں سیفی کے بلانے پر گئی تھی اسے مجھ سے کوئی ضروری بات کرنا تھی ڈیٹس آل”

جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا تھا آغول کو ٹینشن ہورہی تھی یقیناً منصور اور فاطمہ کے ساتھ ساتھ روحان بھی اس کے لیے فکرمند ہورہا گا،، کہ وہ ابھی تک یونیورسٹی سے گھر نہیں آئی اس لیے وہ جہانگیر کے پاس آکر اس سے بات کرنے لگی

“ایسی کونسی ضروری بات تھی جو ہوٹل کے بند کمرے میں کرنا ضروری تھی ایکسپلین کرو”

جہانگیر طنزیہ لہجے میں اس سے پوچھنے لگا

“اوقات میں رہو اپنی، تم مجھے کس ٹائپ کی لڑکی سمجھ رہے ہو”

آغول اسے غصے میں آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی

“اوقات تو آج میں تمہیں تمہاری، تمہارے ہی باپ اور بھائی کے سامنے بتاؤں گا معمولی آدمی نہیں ہے تمہارا باپ اور بھائی مگر جب انہیں یہ معلوم ہوگا کہ ان کے گھر کی عزت، کیسے بند کمرے کے اندر کسی نامحرم لڑکے سے مل کر ان کی عزت کو نیلام کررہی تھی تب وہ اپنے آپکو معمولی آدمی سے بھی بدتر محسوس کریں گے”

جہانگیر کے آنکھوں میں ہی نہیں اس کے لہجے میں بھی حقارت تھی اس کی دھمکی پر آغول ڈر گی واقعی اگر ایسا ہوتا تو سب کچھ بہت غلط ہوتا

“دیکھو آفیسر میں بےقصور ہو اور میں ویسی لڑکی نہیں جو بند کمرے میں کسی غیر لڑکے سے ملنے جاتی ہو پلیز یہی کچھ لے دے کر معاملہ رفع دفع کرو”

آغول اب اسے نرمی اسے سمجھانے لگی اس نے بہت سے لوگوں سے سنا تھا پولیس ایک حد تک ہی ایمانداری دکھاتی ہے اس لیے آغول نے اپنے سامنے کھڑے آفیسر کو پیسوں کی آفر کردی تاکہ وہ اس کی جان چھوڑے اور ہوٹل والی بات کسی بھی طرح منصور اور روحان تک نہ پہنچے

“اووو اچھا لے دے کر معاملہ رفع دفع کرنا ہے کیا ہے تمہارے پاس دینے کو”

جہانگیر قدم بڑھاتا ہوا مزید اس کے قریب آیا، اوپر سے نیچے تک آغول کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی نظر آغول کے گہرے گلے تک گئی اس نے آج بھی جینز پر ٹاپ پہنا ہوا تھا جو کافی چُست تھا اسکے اوپر جیکٹ لینے کا کوئی فائدہ نہیں تھا خوبصورت خدوخال بیشک نمایاں نہیں ہورہے تھے مگر گلا گہرا ہونے کی وجہ سے کسی بھی مرد کی نگاہیں بھٹک کر وہی جاتی

“میرے بیگ میں اس وقت 10000 کی اماؤنٹ پڑی ہے باقی کی اماؤنٹ میں تمہیں اے۔ٹی۔ایم سے نکال کر دے دے دو گی جتنی تم ڈیمانڈ کرو گے”

جہانگیر کی نگاہوں کو دیکھ کر آغول اپنی جیکٹ کے بٹن بند کرتی ہوئی اس سے بولی پچھلی دو ملاقاتوں میں وہ اسے اتنا کمینہ نہیں لگا تھا, کیسے گھور کر دیکھ رہا تھا وہ اسے

“ڈیمانڈ پیسوں کی نہیں ہے، پیسوں کی بجائے اگر کچھ اور دے سکتی ہو تو ڈیل کرلیتے ہیں”

جہانگیر اس کو دیکھتا ہوا بولا جہانگیر کی بات سن کر آغول کو آگ لگ گئی

“تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے، میں کوئی بکاؤ مال لگ رہی ہوں تمہیں”

جہانگیر کی بات کر آغول آگ بگولہ ہوتی ہوئی اس پر چلائی

“آواز نیچی کرو اپنی، یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے پولیس اسٹیشن ہے اور بکاؤ مال میں بھی نہیں ہوں جو تم مجھے یہاں پیسوں کی آفر کرنے آئی ہو، رشوت دینے کے جرم میں ابھی اندر کردو تمہیں”

جہانگیر اس سے زیادہ تیز میں آغول پر چیختا ہوا بولا

“اسلم۔۔۔۔ انسپیکٹر شہناز اور انسپیکٹر شکیل دونوں کو بلاؤ”

جہانگیر اپنے روم سے باہر کھڑے کانسٹیبل کو آواز لگاتا ہوا بولا جبکہ دیکھ وہ آغول کو رہا تھا جو غصے میں ابھی بھی اس کو گھور رہی تھی

“بکاؤ مال نہیں ہو تو کیا سوچ کر تم نے مجھے یہ گھٹیا آفر کی”

وہ غُراتی ہوئی پوچھنے لگی

“لیول چیک کر رہا تھا کمینگی کا… بےفکر رہو تمہاری جیسی لڑکی کو میں اپنے منہ لگانے لائق نہیں سمجھتا”

جہانگیر اسے بولتا ہوا چیئر پر بیٹھنے لگا

“انگور کھٹے ہیں”

وہ استزائیہ ہنستی ہوئی بڑبڑائی یقیناً یہ محاورہ اس نے جہانگیر کو سُلگانے کے لیے بولا تھا آغول کی بڑبڑاہٹ سن کر جہانگیر اس کے پاس آیا بالوں کو مٹھی میں جکڑتا ہوا اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔ یہ لڑکی جب بھی اسے ملتی نہ جانے کیوں غصہ دلاتی تھی

“یہ پولیس اسٹیشن ہے یہاں پر شریف لڑکیاں نہیں آتی اور جو لڑکیاں یہاں پر لائی جاتی ہیں, جانتی ہو وہ کس سلوک کی مستحق ہوتی ہیں”

بالوں کو مٹھی میں جکڑے سرد لہجے میں جہانگیر آغول سے پوچھنے لگا اس کے چہرے کے غضب ناک تاثرات دیکھ کر آغول خاموش رہی

لیڈی انسپکٹر شہناز اور انسپیکٹر شکیل کے کمرے میں آنے سے پہلے وہ اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا

“انسپیکٹر شہناز انہیں اور باقی ان دونوں لڑکیوں کو بھی الگ کمرے میں لے جاکر سب کی اچھی طرح چیکنگ کریں جسم کے کسی بھی حصے پر اگر (k) لفظ کا ٹیٹو بنا ہوا نظر آئے تو مجھے فوراً انفارم کریں”

جہانگیر انسپکٹر شہناز کو ہدایت دیتا ہوا بولا

“ڈسکسٹنگ تم حد سے بڑھ رہے ہو میں کوئی چیکنگ نہیں کرواؤگی کوئی ہاتھ تو لگائے مجھے پھر بتاتی ہوں میں”

آغول زور سے ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ مارتی ہوئی جہانگیر کو غصے میں دیکھ کر بولی

“انسپیکٹر شہناز یہ اسٹک اپنے ساتھ لے جائیں، چیکنگ کے دوران آپ کو اس کی ضرورت پڑنے والی ہے، چاہے کوئی کرمنل ہو یا بڑے باپ کی بیٹی ہو، قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ کوئی بھی تلاشی دینے سے انکار کرے تو بلاجھجھک اور بےخوف ہوکر اس اسٹک کا استعمال کریں”

جہانگیر ٹیبل پر رکھی ہوئی اسٹک انسپکٹر شہناز کو تھماتا ہوا بولا اور ہدایت دیتے ہوئے خاص طور پر وہ آغول کو دیکھ رہا تھا

“چلو بی بی یہ ادائیں یہاں کام نہیں آنے والی”

آغول جہانگیر کو غصے سے گھور رہی تھی تب لیڈی انسپیکٹر شہناز اس کا بازو کھینچ کر اسے وہاں سے لے گئی

“شکیل ان تینوں لڑکوں کی بھی تلاشی لو”

جہانگیر کی ہدایت سن کر انسپیکٹر شکیل سلوٹ مارتا ہوا روم سے چلا گیا

تھوڑی دیر بعد جہانگیر کے موبائل پر عینا کی کال آنے لگی جس پر عینا نے اسے بتایا کہ دی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو جہانگیر اسے تسلی دیتا ہوا آدھے گھنٹے میں گھر پہنچنے کا کہہ چکا تھا تاکہ دی جان کو اسپتال لےکر چلا جائے

اتنے میں لیڈی انسپیکٹر شہناز ان تینوں لڑکیوں کو جہانگیر کے کمرے میں لےکر آئی آغول کو اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص سے اتنی نفرت محسوس ہورہی تھی جتنی کبھی کسی دوسرے سے نہیں ہوئی

اس شخص کے کہنے پر ہی لیڈی انسپکٹر شہناز نے باقی دونوں لڑکیوں کے ساتھ تلاشی لینے کے لیے اس کے جسم سے بھی ایک ایک کپڑا اتروایا تھا اور آغول کے غصہ کرنے پر اس نے آغول کی کمر پر زور سے دو بار اسٹک بھی ماری تھی جس کا درد وہ اپنی کمر پر ابھی بھی محسوس کررہی تھی

“سر یہ تینوں لڑکیاں کلیئر ہیں اچھی طرح چیک کرلیا گیا ہے جسم پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹیٹو موجود نہیں ہے”

لیڈی انسپکٹر شہناز جہانگیر کو بتانے لگی

“ٹھیک ہے ان تینوں کے گھر فون کر کے ان کے ماں باپ کو یہاں بلائیں انہیں بتائیں کہ آپ کی بیٹیاں ہوٹل کے روم میں لڑکے کے ساتھ پائی گئی ہیں انہیں شک کی بنا پر ہم یہاں لےکر آئے تھے اس کے بعد ہی انہیں ان کے پیرنٹس کے ساتھ روانہ کریئے گا”

جہانگیر ان تینوں لڑکیوں پر جتاتی ہوئی نظر ڈال کر لیڈی انسپکٹر شہناز کو ہدایت دینے لگا انسپیکٹر شہناز ان تینوں کو جہانگیر کے کمرے سے لے گئی

تھوڑی دیر میں انسپکٹر شکیل سیفی کے ساتھ ایک اور لڑکے کو گدی سے پکڑ کر کمرے کے اندر لایا

“ہاں شکیل کیا رپورٹ ہے”

جہانگیر اپنی آستین کے کف فولڈ کرتا ہوا اپنا موبائل پاکٹ کے اندر رکھنے لگا۔۔۔ اسے گھر کے لئے بھی نکلنا دی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی عینا اکیلی پریشان ہورہی تھی

“سر ان دونوں لڑکوں کی کمر پر سیم ٹیٹو موجود ہے اور خفیہ کیمرے بھی انہی دونوں کے کمرے میں موجود تھے یعنی یہ دونوں لڑکے، ان لڑکیوں کو بعد میں بلیک میل کرتے”

شکیل نے جہانگیر کو بتاتے ہوئے ان دونوں کی گدی پر ایک ایک زوردار جھانپڑ بھی رسید کیا تھا

“کیمرے وہاں سے لے آئے تھے”

جہانگیر ان دونوں کو دیکھتا ہوا شکیل سے پوچھنے لگا

“جی سر”

شکیل کے جواب دینے پر وہ چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا

“کیمرے میری کار میں رکھوا دو اور ان دونوں کو لاک اپ کرو، جب تک میں نہ آجاؤ تب تک نہ کوئی ان کے پاس لاک اپ کے اندر جائے گا نہ ہی کوئی پوچھ گچھ کرے گا۔۔ ان دونوں سے سب کچھ میں اپنے طریقے سے اگلواؤ گا اور اس تیسرے لڑکے کو چھوڑنے سے پہلے اس کی جوانی کا سارا جوش نکال دینا”

جہانگیر انسپکٹر شکیل اچھی طرح ہدایت دیتا ہوا پولیس اسٹیشن سے نکل گیا

****

“چٹاخ”

منہ پر زوردار پڑنے والے تھپڑ سے وہ صوفے پر جا گری جہاں منصور اور فاطمہ برجمان تھے

فاطمہ اور منصور کے ساتھ روحان بھی سات گھنٹے سے آغول کے لیے پریشان تھا شام سے رات ہونے کو آئی تھی آغول کا کچھ پتہ نہیں تھا اس کا سیل مسلسل آف جا رہا تھا رات کے نو بجے پولیس اسٹیشن سے کال آئی

جس میں آغول کی اس پولیس اسٹیشن میں موجودگی کی اطلاع دی گئی اور منصور کو کہا گیا کہ وہ اپنی صاحبزادی کو پولیس اسٹیشن سے آکر لے جائیں منصور کی حالت اس خبر سے بگڑنے لگی، اس کی جوان جہاں بیٹی رات کو اس وقت پولیس اسٹیشن میں کیا کررہی ہے روحان نے ماں باپ کو تسلی دی اس کے خیال میں کوئی حادثہ یا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہو اس کی کار سے روحان ہی اسے پولیس اسٹیشن لینے چلا گیا

مگر وہاں جاکر جب اسے یہ کہانی معلوم ہوئی اس کی بہن کو ہوٹل میں کسی لڑکے کے ساتھ پکڑا گیا ہے تب اس نے بمشکل اپنے غصے کو قابو میں رکھا اور خاموشی سے وہ آغول کو پولیس اسٹیشن سے گھر لے آیا مگر پہنچ کر اس نے زور دار تھپڑ آغول کے منہ پر رسید کیا

آغول جوکہ سارے راستے میں روحان کے چہرے کے غضبناک تاثرات سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ اس وقت شدید غصے میں ہے، وہ گھر جاکر اسے ساری حقیقت بتاکر گھر والوں سے اپنی بیوقوفی کی معافی مانگنے کا ارادہ رکھتی تھی مگر گھر پہنچ کر پڑنے والے تھپڑ سے وہ صوفے پر جا گری جہاں فاطمہ بیٹھی ہوئی تھی

“لے آیا اس بےغیرت کو میں پولیس اسٹیشن سے دل تو چاہ رہا ہے آج اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا دبا دوں”

روحان غصے میں آغول کی طرف بڑھا

“کیا کررہے ہو روحان بہن ہے یہ تمہاری اصل بات بتاؤ ہوا کیا ہے آخر”

فاطمہ آغول کو حصار میں لیے بیٹے کو ٹھنڈا کرتی ہوئی تحمل سے پوچھنے لگی جبکہ آغول فاطمہ کے گلے لگے رونے لگی

“ہوا کیا ہے مما، آج اس نے ہم سب کی عزت کا جنازہ نکالا ہے، پولیس نے ہوٹل میں ریڈ ڈالی تھی جس میں یہ کسی لڑکے کے ساتھ کمرے سے برآمد ہوئی ہے معلوم نہیں ہمارا منہ بھی کالا کر چکی ہوگی اب تک یہ”

روحان غصے سے پاگل ہورہا تھا وہ ایک بار پھر آغول کی طرف بڑھا اب کی بار منصور نے اسے روکا

“آپ ایسے میرے کردار کی دھجیاں نہیں اڑا سکتے بھائی، کچھ نہیں کیا میں نے سیفی نے بلایا تھا مجھے اس سے ملنے گئی تھی جب ہوٹل سے باہر جانے لگی تک انسپکٹر نے مجھے وہاں سے جانے نہیں دیا۔۔ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کچھ غلط نہیں کیا میں نے نہ میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے”

آغول کو اس وقت اپنا وجود کسی گالی کی طرح محسوس ہورہا تھا وہ چیخ کر اپنی صفائی دینے لگی

“اگر تمہاری پارسائی کا یقین کرلیا جائے تو کیا یہ بیوقوفی کم نہیں کہ تم ایک لڑکے سے ہوٹل میں کمرے میں ملنے گئی اس لڑکے پر اعتبار کرکے تم نے اپنے آپ کو ہمارے سامنے بےاعتبار کردیا اسی دن کے لئے پڑھایا لکھایا تھا اسی دن کے لیے تمیں آزادی دی تھی کہ تم یو ہوٹلوں میں جاکر اپنے باپ کی عزت کو نیلام کرو۔۔۔ آج تم نے مجھے کتنی تکلیف دی آغول تم اس بات کا کبھی اندازہ نہیں لگا سکتی”

منصور آغول کو شرمندہ کرتا ہوا بولا تو وہ رونے لگی

“مما آئی سوئر میری غلطی نہیں ہے آپ پلیز ڈیڈی اور بھائی کو بتائیں میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس سے ان دونوں کا سر جُھکے”

فاطمہ خود بیٹی کو شکوہ کناہ نظروں سے دیکھ رہی تھی آغول روتی ہوئی فاطمہ کو بتانے لگی

“وہ تو شکر ادا کریں اس تھانے کا ایس۔پی کوئی شریف آدمی تھا جس نے میڈیا کو انولو کرکے بات کو بڑھاوا نہیں دیا۔۔۔ ورنہ ہم منہ دکھانے کے لائق نہیں رہتے صرف اس کی وجہ سے”

روحان آغول پر سخت نظر ڈالتا ہوا بولا اور کمرے سے نکل گیا

“فاطمہ اسے میری نظروں سے دور کردو پلیز اور اس سے کہو یہ اپنا چہرہ مجھے نہ دکھائے”

منصور سسکتی ہوئی آغول پر ملامت بھری نظر ڈال کر بیوی سے کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا آغول فاطمہ کے گلے لگ کر اور زیادہ زور سے رونے لگی

****

وہ اضطرابی کیفیت میں مسلسل اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا، ہوٹل الکینگ میں ریڈ کا پڑنا، اس کی بہن کا وہاں سے کسی لڑکے کے ساتھ برآمد ہونا وہ اب اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسائے راکنگ چئیر پر بیٹھ گیا اس سے آگے وہ آغول کے لیے کچھ بھی نہیں سوچ سکتا تھا

آغول وہاں پر کس لڑکے کے ساتھ موجود تھی وہ نہیں جانتا تھا مگر اسے آگے کا سوچ کر،، اس پر خوف سے لرزہ طاری ہونے لگا اسے لگا اسے لگا اس کا دل بند ہوجائے گا اس نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں اس کی جوان بہن بھی موجود ہے وہ بھی تو ان لوگوں کا شکار ہوسکتی تھی اب وہ آگے کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا ورنہ آگے کچھ سوچنے سے اس کا سانس بند ہو جانی تھی۔۔۔ اچانک اس کے موبائل پر عینا کی کال آنے لگی

“تھوڑا بزی ہو یار کل بات کرتا ہوں”

روحان کال ریسیو کر کے عینا کے بولنے سے پہلے بولا اور کال کاٹ دی وہ عینا سے یا پھر کسی دوسرے سے اس وقت بات کرنے کی حالت میں نہ تھا

الکینگ ہوٹل میں ریڈ کا پڑنا کوئی چھوٹی خبر نہیں تھی، کاشف زیری اس وقت ملک میں موجود نہیں تھا اب تک اسے علم ہوگیا ہوگا کہ اس کے ہوٹل میں پولیس نے ریڈ ڈالی ہے نہ جانے یہ کون پیدا ہوگیا تھا جو ایسے خطرناک انسان سے ٹکر لے رہا تھا وہ جو کوئی بھی تھا اسے شاید اپنے ساتھ اپنی فیملی کی پروا نہیں تھی

روحان سوچتا ہوا کاشف زیری کو کال کرنے لگا