Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Yun Mily Humare (Episode 10)

Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel

“ہے سوئٹی میں تمہارا ہی ویٹ کر رہا تھا آؤ پلیز”

آغول کا پاؤں کل ہی ٹھیک ہوا تھا اور وہ ٹھیک سے چلنے کے قابل ہوئی تھی سیفی کی لاکھ منتیں کرنے اور التجائیں سننے کے بعد وہ سیفی سے ملنے کے لیے یونیورسٹی کے بعد ڈرائیور کو گھر رخصت کرتی ہوئی ہوٹل الکینگ پہنچی تھی جہاں سیفی اسے چند دنوں سے ملنے کی فرمائش کر رہا تھا۔۔۔ سیفی ہوٹل کی لابی میں ہی اس کا ویٹ کر رہا تھا آغول کو اپنے پیچھے آنے کا بول کر وہ خود لفٹ کی طرف جانے لگا

“یہ روم کیوں بُک کروایا ہے تم نے،، تمہیں تو کوئی ضروری بات کرنی تھی سیفی۔۔ جلدی کہو میں لیٹ ہو رہی ہو مجھے گھر بھی جانا ہے”

وہ آغول کو ہوٹل کے روم میں لے کر آیا تو آغول بیزار ہوتی ہوئی اس سے کہنے لگی

“گھر بھی چلی جانا اتنی جلدی کیا ہے،، ضروری باتیں یہی بتانی تھی کہ بہت زیادہ محبت کرنے لگا ہوں میں تم سے،، اب تم سے دور رہنے کا تصور بہت برا لگتا ہے”

سیفی آغول کے دونوں ہاتھوں تھام کر بولا

“یہ بتانے کے لئے مجھے یہاں بلایا ہے تم نے سیفی،، یہ سب تم مجھے پہلے بھی بتا چکے ہو” آغول اس سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی چڑ کر بولی اور روم سے باہر جانے کے لیے مڑی تب سیفی نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا

“صرف یہ بتانے کے لئے یہاں نہیں بلایا بلکے آج تمہیں اپنا بنانے کے لئے یہاں بلایا ہے آغول،، اب یہ دوری مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتی۔۔۔ میں آج کے دن تمہارے اور اپنے بیچ سارے فاصلے مٹا دینا چاہتا ہوں”

سیفی نے بولتے ہوئے آغول کو اپنی بانہوں میں لینا چاہا آغول نے اس سے اپنا بازو چھڑا کر زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کردیا

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی،، یہ سب بکواس کرنے کی،، سمجھ کے رکھا ہے تم نے مجھے”

آغول کو اس پر غصہ آیا تو وہ سیفی پر بگڑتی ہوئی بولی

“کم ان سوئٹی یوں مڈل کلاس لڑکیوں کی طرح نخرے دکھانا بند کرو۔۔۔ شادی تو ہم دونوں کو کرنی ہے نا بعد میں”

سیفی نے بڑے ضبط سے اس تھپڑ کو برداشت کیا تھا وہ جال میں پھنسی ہوئی اس چڑیا کو یونہی ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتا تھا

“اپر کلاس فیملی سے بی لانگ کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں اپنی لمٹس بھول جاؤ،، یہ تھپڑ تم ہمیشہ یاد رکھنا”

آغول پر سیفی کی سوچ کُھلی تو اسے سیفی پر غصہ آیا اتنے ہلکے کریکٹر کے مرد کو وہ کبھی بھی اپنا ہمسفر قبول نہیں کر سکتی تھی اس لیے وہاں سے جانے کے لیے مڑی

“اس تھپڑ کی قیمت آج جس انداز میں میں تم سے موصول کرو گا۔۔۔ اس لحاظ سے تو اس تھپڑ کو آج، مجھ سے زیادہ تم یاد رکھو گی نہ صرف یاد رکھو گی بلکہ پچھتاؤ گی”

دروازے پر پہنچنے سے پہلے وہ آغول کو کھینچتا ہوا بیڈ تک لے کر آیا اور بیڈ پر دھکا دیا

سیفی بیڈ کی طرف بڑھا اس سے پہلے وہ آغول کو قابو کرتا آغول نے اپنے کندھے پر سے ہینڈ بیگ کھینچ کر اس کے منہ پر مارا،، بیگ نے لٹکی ہوئی کی چین نے سیفی کے گال پر نشان چھوڑا تھا

“رُک اب میں تجھے اچھی طرح بتاتا ہوں”

سیفی بولتا ہوا شرافت کا چولا اتار چکا تھا اس نے آغول کو بالوں سے کھینچ کر بیڈ سے اٹھایا

****

“یہ سب کیا ہے انسپیکٹر آپ ایسے کیسے پولیس کی نفری کے ساتھ ہوٹل کے اندر داخل ہو سکتے ہیں”

الکینگ ہوٹل کا مینیجر انسپکٹر شکیل کو دیکھتا ہوا بولا

“چیکنگ کے آرڈر ہیں ہمارے پاس مسٹر۔۔۔ تم لوگوں اوپر فلور کی رومز کی تلاشی لو اور تم لوگ یہی نیچے کی تلاشی لوں۔۔۔ کوئی شک و شبہات والی چیز نظر آئے فوراً مجھے انفارم کرو”

انسپکٹر شکیل اپنی ٹیم کو دو حّصوں میں بانٹتا ہوا بولا

“ایک منٹ انسپکٹر صاحب،، یہ کوئی چھوٹا موٹا ہوٹل نہیں ہے اس کا ایک اسٹینڈرڈ ہے۔۔۔ آپ اس کی یوں تلاشی نہیں لے سکتے ویسے بھی اس ہوٹل کے مالک، مسٹر کاشف زیری اس وقت شہر میں موجود نہیں ہیں آپ ان کی غیر موجودگی میں ان کے ہوٹل کی تلاشی نہیں لے سکتے”

مینیجر نے اپنی جاب نبھاتے ہوئے انسپکٹر شکیل کو دوبارہ مخاطب کیا

“مینیجر صاحب ہم یہاں پر بغیر سرچ وارنٹ کے نہیں آئے ہیں۔۔۔۔ قانون کی اتنی لِکھت پڑھت تو آپ بھی جانتے ہوگے۔۔۔ اب کی بار اگر آپ نے ہمارے کام میں مداخلت کی تو آپ کو بھی زیر حراست لے لیا جائے گا۔۔۔ لہذا ہمیں ہمارا کام اطمینان سے کرنے دیجئے”

انسپکٹر شکیل کے بولنے پر مینیجر خاموش ہوگیا

****

“آآآآ”

جیسے ہی سیفی نے آغول کے بالوں کو مٹھی میں جھگڑ کر اٹھایا۔۔۔ آغول نے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کرنے کی بجائے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا گلدان اٹھایا اور کھینچ کر سیفی کے سر پر دے مارا وہ اپنا سر پکڑ کر درد سے بلبلا اٹھا

موقع سے فائدہ اٹھاتی ہوئی آغول اپنا بیگ وہی چھوڑ کر تیزی سے باہر نکلی مگر روم کے اندر ہی اس کے پاؤں کی ایک سینڈل اتر گئی جسے وہی چھوڑ کر وہ آنسو صاف کرتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔ لفٹ کی بجائے وہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی تب اس کی دوسری سینڈل بھی اتر گئی جسے وہی چھوڑ کر وہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی سیدھا ہوٹل سے باہر نکلنے لگی

“رکیئے میم۔۔۔ ارے میں آپ سے مخاطب ہوں”

آغول ہوٹل سے باہر نکل رہی تھی تب ایک شخص کی آواز پر رکی اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگی

“جی فرمائے”

وہ پولیس والا تھا آغول نے بہت کوشش کی تھی کہ اپنا لہجہ نارمل رکھ سکے

“کیا آپ اس ہوئل سے چیک آؤٹ کرکے جارہی ہیں”

شکیل اس کے بکھرے بال،، گھبرائے لہجہ اور بغیر سلیپرز کے پیروں کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“میرے ہاتھ میں آپ کو کچھ لگیج دکھ رہا ہے میں یہاں پر اپنی فرینڈ سے ملنے آئی تھی”

وہ اس انسپیکٹر کو جتاتی ہوئی بولی

“بغیر سیلپرز پہنے ہی ملنے آگیں آپ”

انسپیکٹر شکیل اس کے پیروں کو دیکھ کر طنزیہ بولتا ہوا ہنسا جیسے اس کا مزاق اڑایا ہو

“آپ سے مطلب اپنی ڈیوٹی کریں”

آغول غصے میں اس سے کافی بدتمیزی سے بولی نہ جانے کیو وہ اس کے بلاوجہ منہ لگ رہا تھا جبکہ آغول کو اندازہ نہیں تھا اس کا حلیہ اسے مشکوک ثابت کر چکا تھا

“میں اس وقت اپنی ڈیوٹی ہی انجام دے رہا ہوں،، اس ہوٹل کے سرچ وارنٹ ہیں میرے پاس اب یہاں سے فوراً نہیں جاسکتی”

انسپیکٹر شکیل آغول کو دیکھتا ہوا بولا

****

جہانگیر نے ایس۔ ایس۔پی سیف اللہ کو اعتماد میں لے کر آج کاشف زیری کے ہوٹل میں ریڈ ڈلوائی تھی،، اسے معلوم تھا کاشف زیری اس وقت ملک میں موجود نہیں ہے اگر کوئی ثبوت اس کے ہاتھ لگ جاتا تو وہ کاشف زیری کے خلاف مکمل کاروائی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ لیکن اگر کاشف زیری بےقصور ہوا تو یہ بات اس کے خلاف جاتی مگر جہانگیر کو لگ رہا تھا “k” لوگو کا الکینگ سے ضرور کوئی کنیکشن ہوگا

وہ خود اس وقت دی جان کے کمرے میں موجود تھا ان کی طبعیت صبح سے ہی ڈل تھی وہ اس وقت سو رہی تھیں۔۔۔ شکیل کافی دیر سے وقفے سے اس کو ساری ڈیٹیلز موبائل کے ذریعے دے رہا تھا۔۔۔ جہانگیر شکیل کو کال ملانے لگا

“بولو شکیل ریڈ کچھ کارآمد ثابت ہوئی”

جہانگیر دی جان کے پاس سے اٹھ کر اپنے روم میں آتا ہوا شکیل سے موبائل پر پوچھنے لگا

“سر مجھے نہیں لگ رہا ہے جیسا ہم نے سوچا تھا ویسا ہی کچھ ہے وہاں،، فی الحال تو کوئی بھی ثبوت ہاتھ نہیں لگا جو کاشف زیری کے خلاف جاتا ہوں البتہ ہوٹل کے تین الگ روم سے ایسے لڑکے لڑکیوں کو زیر حراست لیا گیا ہے جو تھوڑے مشکوک لگ رہے تھے ابھی ان لوگوں کو پولیس اسٹیشن لے کر جا رہا ہوں”

شکیل پولیس وین میں بیٹھا ہوا جہانگیر کو تفصیل بتانے لگا

“اوکے میرے آنے کے بعد ان لوگوں سے سوالات کا سلسلہ جاری کرنا،، میں تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں”

جہانگیر نے کال کاٹ کر موبائل اپنی پاکٹ میں رکھا اور ہاتھ میں ریسٹ واچ باندھی،، اس وقت کیجول ڈریسنگ خاکی پینٹ اور وائٹ کلر کی شرٹ میں مبلوس تھا۔۔۔ وہ ایسے ہی پولیس اسٹیشن جانے کے لیے نکلنے لگا مگر وہ اس سے پہلے عینا کے روم میں جانے لگا تاکہ اسے اپنے جانے کا بتا دے

“عینا”

عینا کے روم میں آکر اس کا نام پکارتے ہوئے جہانگیر نے چاروں طرف نظر دوڑائی عینا تو اسے نظر نہیں آئی البتہ چارج ہوتے ہوئے موبائل پر اس کی نظر پڑی تو وہ موبائل اٹھاتا ہوا دیکھنے لگا،، تین دن پہلے تک عینا کے پاس دوسرا موبائل موجود تھا جو ڈیڑھ سال پہلے اس نے عینا کو لا کر دیا تھا،، پھر یہ موبائل اس کے پاس کہاں سے آیا جہانگیر اس موبائل کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا جو کہ اچھا خاصا مہنگا موبائل تھا

“جی بھائی آپ نے بلایا”

عینا روم کے اندر داخل ہوتی ہوئی جہانگیر سے پوچھنے لگی مگر اس کے ہاتھ میں اپنا موبائل دیکھ کر وہ بری طرح چونکی،، اس کا چونکنا جہانگیر نظر سے چھپ نہیں سکا

“کہاں سے آیا یہ” جہانگیر ہاتھ میں موبائل لیے عینا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“ارے یہ تو ناجیہ کا ہے اس کا اپنے موبائل سے دل بھر گیا تھا تو تھوڑے دن کے لیے ایکسچینج کرلیا مجھ سے”

عینا مسکراتی ہوئی جہانگیر کو بولی اپنا لہجہ بالکل نارمل رکھا تاکہ جہانگیر کو ذرا بھی شک نہیں گزرے مگر جہانگیر اس کا لہجہ نہیں اس کی آنکھیں دیکھ رہا تھا جو اس کی بات کی نفی کر رہی تھی

“دی جان کا خیال رکھنا ہوسکتا ہے لیٹ آنا ہو میرا،، گھر کا دروازہ اچھی طرح لاک کر لینا”

وہ موبائل کے متعلق کوئی دوسری بات کرے بغیر موبائل واپس اسی جگہ پر رکھتا ہوا عینا کے کمرے سے نکل گیا

جہانگیر کے باہر جاتے ہیں عینا نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا مگر اب اسے ندامت ہو رہی تھی اپنے بھائی سے جھوٹ بولتے ہوئے۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا جب عینا نے جہانگیر کے سامنے کسی بات کو کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا مگر اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ اب وہ روحان سے کوئی گفٹ نہیں لے گی،، وہ روحان سے اپنا رشتہ رکھنے کے لیے اپنے بھائی سے اپنا رشتہ خراب نہیں کرسکتی تھی

****

“میں کب سے کہہ رہی ہو مجھے ایک کال کرنے دو اپنے ڈیڈی کو،، سمجھ میں نہیں آرہا تم لوگوں کو”

جہانگیر پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوا اس کے کانوں میں ایک نسوانی آواز ٹکرائی

انسپیکٹر شکیل سمیت کانسٹیبل،، سپاہی سب نے اسے دیکھ کر سلوٹ کیا تو آغول آنے والے کو مڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔ جہانگیر پولیس اسٹیشن میں جس طرح آغول کو دیکھ کر بری طرح ٹھٹھکا تھا،، ویسے ہی آغول بھی اسے دیکھ کر ایک دم چونکی

“آفیسر یہ لوگ مجھے زبردستی یہاں لے کر آئے ہیں میرا سیل فون ان کے پاس ہے یہ لوگ مجھے میرے گھر والوں کو انفارم نہیں کرنے دے رہے کہ میں۔۔۔

آغول بولتی ہوئی جہانگیر کے پاس آئی اسے یقین تھا پچھلی بار کی طرح وہ اب بھی اس کی مدد کرے گا

“خاموشی سے جا کر وہاں بیٹھ جاؤ”

جہانگیر آغول کی بات مکمل ہونے سے پہلے بیچ میں بولا اور کرسی کی طرف اشارہ کیا جہاں دو لڑکیاں اور بھی بیٹھی تھی۔۔۔ آغول اس کی چہرے کے سرد تاثرات دیکھ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی پھر کچھ سوچ کر چپ چاپ جا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔ جہانگیر اپنے کمرے میں جانے کی بجائے وہی ٹیبل کے اوپر بیٹھا

“لڑکے کہا پر ہی لے کر آؤ انہیں”

جہانگیر نے غصے بھری نظر ان لڑکیوں پر خاص طور پر آغول پر ڈالی۔۔۔ اس کے بعد وہ شکیل سے مخاطب ہوا شکیل نے یہ “یس سر” کہتے ہوئے کانسٹیبل کو اشارہ کیا جو ان تینوں لڑکوں کو لے کر آگیا

جہانگیر نے ان تینوں لڑکوں کو دیکھا ان میں سے ایک وہی لڑکا تھا جو کہ اسے آغول کے ساتھ دکھائی دیتا تھا اس کے ماتھے پر چوٹ کا نشان بھی موجود تھا

“سر سارے ہوٹل کی تلاشی لی گئی ہے روسرے رومز میں زیادہ تر فیملی موجود تھی یا پھر کوئی دوسرے شہر سے آنے والے افراد موجود تھے،،، جو ہوٹل میں اسٹے کر رہے تھے۔۔۔ ان سے پوچھ گچھ کر کے انہیں چھوڑ دیا گیا مگر یہ چاروں لڑکی لڑکے الگ الگ روم میں کپل کی صورت موجود تھے دیگر سوالات سے اندازہ ہوا ہے یہ میاں بیوی نہیں ہیں اور یہ جو محترمہ ہیں یہ ہوٹل کے روم سے باہر نکل رہی تھی جبکہ یہ لڑکا ہوٹل کے ہی ایک روم میں موجود تھا۔۔۔ اِس وقت تو یہ دونوں ایک دوسرے کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں،، لیکن ایک لیڈیز بیگ اس روم سے برآمد ہوا جس روم میں یہ لڑکا موجودہ بہت ممکن ہے یہ بیگ ان محترمہ کا ہو کیونکہ جب یہ ہوٹل سے باہر نکل رہی تھی ان کے پاس کوئی بیگ موجود نہیں تھا نہ پیروں میں سینڈل، ، ایک سینڈل بھی روم سے ملی گئی ہے جس میں کوئی شک نہیں وہ انہی کی ہے”

انسپیکٹر شکیل جہانگیر کو بتانے لگا جہانگیر نے ایک نظر دوبارہ آغول کو دیکھا

اس کی نظروں میں آغول کے لیے صرف اور صرف حقارت تھی۔۔۔ وہ اسے مغرور اور بددماغ لڑکی سمجھتا تھا مگر گری ہوئی لڑکی نہیں۔۔۔ مگر ہوٹل کے روم میں لڑکے سے ملنے والی لڑکی اسکی نظر میں شریف نہیں ہوسکتی تھی

“اور سر سب سے امپورٹنڈ بات ایک اس کپل کے روم میں،،، دوسرا اس لڑکے کے روم میں خفیہ کیمرے بھی موجود تھے”

انسپکٹر شکیل کی مزید انفارمیشن پر جہاں جہانگیر نے ضبط سے لب بھینچے وہی آغول کے ہوش اڑ گئے تھے،،، انسپیکٹر شکیل ایک لڑکا اور لڑکی کی طرف اشارہ کرنے کے بعد سیفی کی طرف اشارہ کر رہا تھا یعنی کیمرے ان دو کمروں میں چھپے ہوئے تھے

کیا سیفی اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد اسکو بعد میں بلیک میل کرتا یعنیٰ سیفی نے اسے پلاننگ سے ہوٹل کے روم میں بلایا تھا۔۔۔ آغول بےیقینیٰ نے سیفی کی طرف دیکھتی کوئی سوچنے لگی۔۔۔۔ دوسری جانب سیفی اور اس لڑکے نے انسپکٹر کی بات سن گھبراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا

“سر پلیز اگر اجازت ہو تو میں آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں”

ان تینوں میں سے ایک لڑکی جس کی عمر آغول کے برابر تھی جہانگیر کو مخاطب کرتی ہوئی بولی

“ان لڑکوں کو واپس لاک اپ کرو اور انہیں میرے روم میں بھیجو” جہانگیر کانسٹیبل سے کہتا ہوا اپنے روم کی طرف چلا گیا

تھوڑی دیر بعد وہ لڑکی جہانگیر کے کمرے آئی جوکہ دکھنے میں اسے کسی شریف گھرانے کی لگ رہی تھی

“بولو کیا کہنا ہے” جہانگیر اس لڑکی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا یہ لڑکی ہوٹل کے جس کمرے سے برآمد کی گئی تھی جس کمرے میں کیمرہ موجود تھا اس لیے اس لڑکی کا کردار کافی مشکوک ٹھہرایا جاسکتا تھا

“سر میں کوئی اونچی فیملی سے بی لانگ نہیں کرتی ہوں،، مڈل کلاس فیملی سے میرا تعلق ہے۔۔ میرے پیرنٹس کو اگر معلوم ہوا کہ میں اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود ہو تو وہ لوگ کسی سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہیں گے اور نہ میں اپنے پیرنٹس سے زندگی بھر نظر ملا پاؤگی۔۔۔ سر میں ایک شریف لڑکی ہوں،، میں وہاں پر یاسر کے بلانے پر گئی تھی،، اسے ایک سال سے جانتی ہوں بہت جلد ہم لوگ شادی بھی کرنے والے ہیں۔۔۔ پلیز سر میں جو بھی کچھ بول رہی ہوں وہ بالکل سچ ہے آپ مجھے چھوڑ دیں،،، رات ہوگئی ہے میرے پیرنٹس پریشان ہو رہے ہوں گے کہ میں اس وقت کہاں موجود ہو۔۔۔ بدلے میں آپ بیشک”

جہانگیر جو کہ اس کی ساری بات بہت تحمل سے سن رہا تھا آخری کی بات سن کر چونکا

“بدلے میں بے شک؟؟”

جہانگیر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا وہ لڑکی سر جُھکا کر اپنا دوپٹہ سائیڈ پر کرتی ہوئی قمیض کے اگے موجود بٹن کھولنے لگی۔۔۔ جہانگیر اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا جیسے ہی وہ قمیص کا تیسرا بٹن کھلا،،، زناٹے دار منہ پر پڑنے والے تپھڑ سے وہ کرسی سے ٹکرا کر فرش پر گری

“پولیس کو تم جیسے لوگوں نے بد نام کیا ہوا ہے جو رشوت دینے کی خاطر اپنی عزت کی بھی پروا نہیں کرتے۔۔۔ تم اپنے آپ کو شریف لڑکی کہہ رہی ہو ایسی ہوتی ہیں شریف لڑکیاں۔۔۔ شریف لڑکیوں کی عزت بہت انمول ہوتی ہے وہ اتنی سستی ہرگز نہیں ہوتی ہے کہ یوں ہر ایک کے سامنے اسے نچھاور کر دے۔۔۔۔ مجھے افسوس ہے تو صرف تمہارے ماں باپ پر،، جس کے اعتماد کی پرواہ کیے بغیر تم اس لڑکے سے ملنے گئی،، تف ہے تم جیسی لڑکی پر جسے نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے نہ اپنے ماں باپ کی عزت کی،، نکلو فوراً یہاں سے”

جہانگیر کی بات سن کر وہ لڑکی اپنا دوپٹہ سر پر جماکر اوڑھتی ہوئی اپنا سرخ گال دوپٹے سے چھپا کر باہر نکلنے لگی

“بی بی میں آپ کو کہہ رہا ہوں بغیر اجازت آپ اندر جائیگی تو ایس۔پی صاحب غصہ کریں گے”

آغول جہانگیر کے کمرے میں آئی تو کانسٹیبل اس کے پیچھے آتا ہوا بولا

“آفیسر مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے”

جہانگیر جو پہلے ہی غصے میں بھرا ہوا بیٹھا تھا آغول کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر اس کی پیشانی پر مزید بل نمایاں ہوئے مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے کانسٹیبل کو وہاں سے جانے کا کہنے لگا

“بولو”

جہانگیر آغول کے سامنے آکر کھڑا ہوا