Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 8)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
ہفتے بھر سے وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھی اس کے اوپر ریک گرنے سے نہ صرف اس کا پاؤں بری طرح سوجھ گیا تھا بلکہ کمر میں بھی شدید پین تھا وہ پیپر بھی نہیں دے پائی تھی
اس دن روحان وہاں پہنچ کر آغول کو گھر لے آیا تھا مگر اس کے بعد منصور اور روحان دونوں سے اس کی کافی ڈانٹ پڑی تھی اس پر پابندی لگا دی گئی تھی کہ اب وہ بغیر ڈرائیور کے کہیں اکیلے کار لےکر نہیں نکلے گی
اپنے آپ کو نیوز چینل پر دیکھ کر وہ صرف بےبسی کا اظہار کرسکتی تھی یہ بات اسے نیوز سے ہی معلوم ہوئی تھی کہ اس کی جان بچانے والا وہ بدتمیز انسان ایک پولیس آفیسر ہے جبھی اس نے بہادری سے بغیر ڈرے ففتھ فلور سے جمپ لگائی تھی آغول نے اپنی کلائی دیکھی جسے اس نے بہت مضبوطی سے تھامے رکھا تھا مگر جمپ لگاتے ہوئے آغول کو یہ احساس رہا کہ وہ اس کی کلائی ہرگز نہیں چھوڑے گا آغول لاشعوری طور پر اسے سوچنے لگی بلکہ ہفتے بھر سے وہ اسے ایسے ہی سوچ رہی تھی اور پھر خود اپنی سوچ کو جھٹک دیتی اور اپنے آپ کو ہی ملامت کرتی تھی
بےشک وہ کانفیڈنٹ تھا بہادر تھا مگر اس کی لُکس ہیرو والی ہرگز نہیں تھی اچھی ہائٹ سے کیا ہوتا ہے رنگ تو اس کا سانولہ تھا اس کو بچپن سے ہی سانولے سلونے لوگ بالکل پسند نہیں تھے مگر اس افیسر کے نقش اچھے تھے خاص طور پر اس کی بڑی بڑی آنکھیں وہ بہت پُرکشش تھی اور جس سنجیدہ انداز میں وہ دیکھتا تھا آغول دل ہی دل میں ایک بار پھر اس کو سوچنے لگی
باڈی فٹ تھی ویسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی فٹنس کا خیال رکھتا ہوگا اور بال بھی اچھے تھے گھنے سلکی کیا ہوتا اگر کلر بھی اس کا وائٹ ہوتا آغول افسوس سے سوچنے لگی
“اففف کس بدتمیز انسان کو میں سوچ رہی ہوں جس طرح کا وہ ایٹیٹیوڈ رکھتا تھا اسے تو میں یاد بھی نہیں ہوگیں اچھا ہوا جو اس کی جیکٹ زائدہ کو دے دی تھی کیسا رویہ رکھا تھا اس بدتمیز نے، بات تو ایسے کررہا تھا جیسے مجھ پر احسان کررہا ہو معلوم نہیں آخر غرور کس چیز کا ہے اس میں”
وہ ایک دفعہ پھر تعصور میں جہانگیر کا چہرہ لاتے ہوئے خود سے مخاطب ہوئی تبھی اسکے موبائل پر سیفی کی کال آنے لگی
“بولو کیا کہنا چاہتے ہو”
آغول احسان کرنے والے انداز میں کال ریسیو کرتی ہوئی سیفی سے بولی
“سوئٹی کب تک ناراض رہوگی یار قسم کھا کے کہتا ہوں میں وہاں دیوانوں کی طرح تمہیں ڈھونڈ رہا تھا جب تم نظر نہیں آئی تو میں مال سے باہر نکل گیا یہ سوچ کرکے تم مجھے باہر مل جاؤ گی اور جب تم باہر مجھے نہیں ملی تو میں واپس جانے لگا مال میں مگر وہاں موجود پولیس اور گارڈز نے مجھے مال کے اندر جانے نہیں دیا تمہیں معلوم ہے اس وقت میری کیا حالت تھی جان پر بنی ہوئی تھی اس وقت میری اور تمہیں سلامت دیکھ کر تو میں نے کتنا شکر ادا کیا خدا کا”
شروع میں تو آغول سیفی کی کال ریسیو ہی نہیں کررہی تھی کل جب وہ میسج پر اسے قسمیں دینے پر آیا اور وائس میسیجز پر اس کی رونے کی آواز سنی جس میں وہ ریکویسٹ کررہا تھا کہ صرف ایک بار اس کی بات سن لے تب آغول نے اس کی کال ریسیو کی تھی
“سیفی جب تم اپنی جان بچاکر مال سے بھاگ رہے تھے تب میں نے تمہیں پکارا تھا اور تم نے مجھے دیکھا بھی مگر تم میرے پاس آنے کی بجائے دم دبا کر وہاں سے بھاگ گئے تھے”
آغول ایک ایک لفظ چباکر اس کو بولی
“ایسا ہوسکتا ہے آغول میں تمہیں دیکھوں اور تمہارے پاس نہ آؤ تم میری محبت پر شک کررہی ہو مجھے تو یاد ہی نہیں پڑ رہا یہ کب کی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو”
سیفی رونے والے انداز میں بولا
“سیفی لڑکیوں کی طرح رونا بند کرو پلیز”
آغول بیزاری ظاہر کرتی ہوئی اس سے بولی
“میں رؤں گا اور تب تک رؤں گا جب تک تمہیں میرا یقین نہیں آجاتا سوئٹی تم زندگی ہو میری پلیز یار میرا بلیو کرو میں سچ کہہ رہا ہوں تم بتاؤ میں تمہیں اپنا یقین کیسے دلاؤ”
آغول کو لگا جیسے کہ سیفی اس کی ناراضگی سے پریشان ہوگیا ہے
“اوکے یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہے اب فون رکھو سر میں درد ہو رہا ہے میرے”
آغول اکتاتی ہوئی سیفی سے بولی اور ایک دو باتیں کر کے کال کاٹ دی کیونکہ سیفی کو بھی اندازہ ہوگیا آغول اس سے ناراضگی ختم کرچکی تھی اس لیے وہ کال رکھ چکا تھا
سیفی سے بات کرنے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنا جائزہ لینے لگی اس وقت وہ ڈھیلے ڈھالے سے ٹراؤزر اور بنیان نما ٹاپ میں بےحد رف حلیے میں تھی ہلکا سا لائفٹ سائڈ موو کرکے پھر رائیڈ سائیڈ موو کرنے کے بعد وہ اپنی کمر کا شیپ دیکھنے لگی پھر اسے کچھ تسلی ہوئی روم کا دروازہ کھلا تو آغول نے پلٹ کر آنے والے کو دیکھا
“یہ اس وقت کھانے میں اسنیکس کیو لےکر آئی ہو تم ڈاکٹر نے مجھے 15 ڈیز ایکسرسائز کے لیے منع کیا ہے میں پورا ویک بیڈ پر موجود ہوں چل نہیں پارہی ہو اور تم مجھے یہ اوائلی چیزیں کھلا کر بےبی ایلیفینٹ جیسا بنانا چاہتی ہو کس اسٹوپڈ نے کہا تم سے یہ لانے کو”
آغول زاہدہ کو دیکھتی ہوئی ڈانٹ کر بولی
“یہ تو فاطمہ میم کے کہنے پر لےکر آئی تھی آپ کے لیے انہوں نے کہا کہ آپ نے صبح بھی بریک فاسٹ نہیں کیا تھا میں آپ کے لئے کچھ ہیوی سالے جاؤ”
زاہدہ اپنی صفائی دیتی ہوئی آغول کو صحیح بات بتانے لگی
“تمہارا کہنے کا مطلب ہے مما اسٹوپڈ ہیں اوو گاڈ تم مما کو اسٹوپڈ بول رہی ہوں وہ بھی میرے منہ پر تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی زاہدہ تم نوکر ہونے کے باوجود ایسے زبان چلا رہی ہو”
اغول اسے آنکھیں دکھاتے ہوئی اس کی کلاس لینے لگی
“میم میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ قسم لےلیں میں تو صرف آپ کو بتارہی تھی کے یہ میں فاطمہ میم کے کہنے پر لائی ہو”
زاہدہ گھبرا گئی
“شٹ اپ زاہدہ صفائی مت دو مجھے اور فوراً میرے روم سے نکلو فروٹس لےکر آؤ میرے لیے”
آغول اسے حکم دیتی ہوئی بولی تو زاہدہ فوراً کمرے سے باہر چلی گئی آغول اپنے نازک ہاتھوں سے اپنی کنپٹی دبانے لگی
****
“اس ایس۔پی کا شکریہ ادا کردیا تم نے جس نے ہماری آغول کی جان بچائی تھی”
منصور آفس میں اپنی ٹیبل پر موجود تھا روم کے ایک سائڈ پر صوفے پر بیٹھے ہوئے روحان سے پوچھنے لگا روحان نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظر اٹھاکر منصور کو دیکھا اس کی نظروں میں سرد تاثُر تھا
“یو ٹکے ٹکے کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کا فالتو ٹائم نہیں ہے میرے پاس ڈیڈی”
روحان بولتا ہوا دوبارہ لیپ ٹاپ میں مگن ہوگیا
پورے دس سال بعد اس نے جیڈی کو دیکھا تھا وہ ایک نظر میں ہی اس کو پہچان چکا تھا اسے آج بھی جہانگیر عرف جیڈی پر اتنا ہی غصہ اور چڑ تھی جتنی کالج کے دور میں رہی تھی لاسٹ فائٹ میں اس کمینے انسان کے پنچ سے اسکا گال تین دن تک سوجھا رہا تھا
“یہ مت بھولو اس ٹکے کے آفیسر نے تمہاری بہن کی جان بچائی ہے میں شہر سے باہر تھا ورنہ خود جاکر اس کا شکریہ ادا کردیتا”
منصور روحان کو دیکھتا ہوا بولا
“آپ کو کیا ضرورت ہے بھلا اسپیشلی شکریہ ادا کرنے کا اگر آغول کی جان بچائی ہے تو کوئی احسان نہیں کیا ہے فرض ادا کیا ہے اس نے اپنی ڈیوٹی کا خیر ٹائم ملا تو میں شکریہ ادا کردو گا آپ ٹینشن نہ لیں”
روحان اپنی نظریں اسکرین سے ہٹائے بغیر ٹالنے والے انداز میں بولا تاکہ منصور مطمئن ہوجائے
لفظ شکریہ یہ تو جیڈی کو قیامت تک ادا کرنا نہیں چاہتا تھا چاہے وہ زندگی میں اس پر کتنا ہی بڑا احسان کیوں نہ کردے
“پرسوں شپ پر کوئی پارٹی ہے کچھ ارینجمنٹ کروانے کا آرڈر دیا ہے تم نے”
منصور کی بات سن کر ایک بار پھر اس نے اسکرین سے نظریں ہٹاکر
منصور کو دیکھا مگر اب کی بار اس کے چہرے پر نرم تاثُر تھا
“پرسوں کا دن کسی کے لئے بہت خاص ہے ڈیڈی اور اس کے خاص دن کو میں مزید خاص بنانا چاہتا ہوں مگر اپنے انداز سے”
منصور سے بات کرتے ہوئے روحان کے لب مسکرائے تھے
پچھلے ایک ماہ سے وہ صرف عینا سے ڈیلی ایک گھنٹہ رات کو بات کرتا تھا نہ اس نے کبھی عینا سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی نہ اس سے اس کی تصویریں مانگی تھی نہ ہی موبائل پر کوئی ناجائز مطالبہ کیا تھا نہ ہی کوئی الٹی سیدھی فرمائش کی تھی
مگر کل وہ عینا کو بول چکا تھا کہ وہ اس کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہے اپنی مرضی کی جگہ پر اپنے انداز میں وہ عینا کے ساتھ چند گھنٹے گزارنا چاہتا تھا جس کے لیے عینا بالکل تیار نہیں تھی
کل رات موبائل پر بات کرتے ہوئے آخر تک ان کی بحث چلتی رہی اور یہ ان کی پہلی بحث تھی عینا اسے کسی طور پر ملنے کے لیے تیار نہیں دی
“اور اس خاص انسان سے ہمیں کب ملوا رہے ہو”
منصور نے بیٹے کے چہرے پر چھائی ہوئی رونق کے ساتھ اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر پوچھا
“بہت جلد ڈیڈی اس کے پیپر ختم ہونے کا ویٹ کررہا تھا”
روحان نے مسکراتے ہوئے منصور کو بتایا
منصور روحان کی خوشی میں خوش تھا اور اس طبقاتی فرق کو وہ اتنی ویلیو نہیں دیتا تھا جتنا فاطمہ اور اس کے بچے دیتے تھے اگر عینا اچھی پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتی تھی تو روحان کی خواہش ناجائز نہیں تھی جو وہ پوری نہ کرتا
****
“سر آپ کے لیے فون ہے”
انسپیکٹر شکیل جہانگیر کے پاس آتا ہوا اس سے بولا
“کس کا فون ہے” جہانگیر نے فائل سے نظریں ہٹاتے بغیر شکیل سے پوچھا
“سر وہ شخص اپنا نام نہیں بتارہا کہہ رہا ہے صرف ایس۔ پی جہانگیر سے ہی بات کرے گا”
شکیل کے جواب پر جہانگیر نے سر اٹھاکر اسے دیکھا
“کال ٹریس کرو فوراً”
جہانگیر شکیل سے بولتا ہوا اپنی چیئر سے اٹھا اور کمرے سے باہر آیا
“یس جہانگیر اسپیکنگ”
وہ ریسیور کان سے لگاتا ہوا بولا
“ایس۔ پی جہانگیر مجھے آپ کو کچھ خاص بتانا ہے آپ کے پرسنل نمبر پر کال نہیں کرسکتا تھا وہ میرے لئے رسکی ہوتا”
ریسیور سے آواز ابھری وہ شخص تھوڑا گھبرایا ہوا تھا
“کون بات کررہا ہے”
جہانگیر نے اس سے ای کے بارے میں جاننا چاہا
“معذرت میں آپ کو اپنا نام ہرگز نہیں بتاسکتا ہوں بس یوں سمجھ لے آپ کا خیر خواہ ہو جو بھی انفارمیشن آپ کو دینا چاہتا ہوں وہ سو فیصد درست ہے روما کے کیس کو لےکر آپ الجھے ہوئے ہیں یہ سمجھ لیں اس کے متعلق آپ کو سارے شواہد ہوٹل الکینگ میں ملیں گے”
لائن کٹ چکی تھی یا شاید اس نے فون رکھ دیا تھا جہانگیر نے ریسیور کان سے ہٹاکر واپس کریڈل پر رکھا اور مانسٹیبل سے شکیل کو بلانے کا اشارہ کیا
“سر ریلوے اسٹیشن کے پاس پی سی او سے کال کی گئی تھی”
شکیل جہانگیر کے پوچھنے سے پہلا اسے دیکھتا ہوا بتانے لگا
“ہوٹل الکینگ کس کا ہے”
جہانگیر اپنے روم میں آکر چیئر پر بیٹھتا ہوا انسپیکٹر شکیل سے پوچھنے لگا
“ہوٹل الکینگ شاید کاشف زیری نام ہے اس ہوٹل کے مالک کا خیریت سر”
انسپیکٹر شکیل یاد کرتا ہوا جہانگیر کو بتانے لگا
“کیسا آدمی ہے کاشف زیری مطلب کسی سے کوئی دشمنی وغیرہ”
جہانگیر نے مزید سوال کیا… کیا معلوم کسی نے اسے ویسے ہی مذاق میں یا پریشان کرنے کیلئے یا پھر اپنی دشمنی میں ہوٹل الکینگ کا نام لیا ہو
“شریف آدمی ہے سیدھا سادہ اپنے کام سے کام رکھنے والا”
شکیل کے جواب پر جہانگیر خاموش ہوکر کچھ سوچنے لگا
“شکیل مجھے کاشف زیری کے بارے میں ساری معلومات اکھٹی کرکے آج شام تک دو اور کوئی اعتبار والا بندہ اس کے ہوٹل پر بھیجو جو وہاں کی ساری انفارمیشن اکھٹی کر کے دے”
جہانگیر کی بات سن کر “یس سر” کہتا ہوا شکیل اس کے کمرے سے چلا گیاا
K… Kashif
K… King
انسانوں کے جسم پر لگائی جانے والی k کی مہر جہانگیر آپس میں اس سب کا کنیکشن سوچنے لگا
****
اچھی طرح اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے کے بعد وہ یونیورسٹی جانے کے لئے گھر سے نکلی آج اس کی برتھ ڈے کا دن تھا مگر وہ اداس تھی دو دن پہلے روحان نے جب اسے ملنے کا بولا تھا تب اس نے روحان کو ملنے سے منع کردیا کیونکہ اسے اس طرح ملنا مناسب نہیں لگتا تھا طویل بحث کے بعد ناراضگی پر اس کی کال بند کی گئی تھی اور پھر دو دن تک روحان نے اس کو کال بھی نہیں کی تھی یعنی وہ اپنی بات نہ ماننے پر اس سے ناراضگی کا اظہار کررہا تھا
مگر تب بھی عینا نے اس کی بات نہیں مانی بھلا یوں ملنے کی تک ہی کیا بنتی تھی عینا کو پورا یقین تھا کل رات 12 بجتے ہی روحان کی کال آئے گی مگر ایسا نہیں ہوا اس کی ساری یونیورسٹی کی فرینڈز کی کال آئی فیصل آباد سے رحجاب نے اسے کال کی فرزانہ خالہ نے وش کیا جہانگیر رات کو لیٹ گھر آیا تھا مگر اس نے عینا کو بہت ساری مبارکباد دی, دی جان نے ڈھیر ساری دعائیں دی وہ بُجھے دل کے ساتھ مسکراتی ہوئی سب کی مبارکباد وصول کرتی رہی مگر جس کی کال کی وہ منتظر تھی شاید وہ آج کے دن بھی اس سے ناراض تھا
صبح ہونے کی وجہ سے اس وقت روڈ سنسان تھا معمول کے مطابق ٹریفک بھی کم تھا پانچ منٹ کی واک کے بعد وہ اپنی مخصوص جگہ پر کھڑی ہوتی جہاں سے اسے یونیورسٹی کے لیے پوائنٹ مل جاتی
عینا ابھی سوچوں میں گُم چل رہی تھی اچانک ایک کوسٹر اس کے بالکل قریب آکر رکی جس کا ایک دم سے دروازہ کُھلا کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچا یہ سارا عمل صرف ایک سیکنڈ کے اندر ہوا تھا وہ جو اپنی سوچوں میں گُم تھی اس کے ساتھ اچانک کیا ہوگیا وہ سمجھ نہیں سکی
“چھوڑو مجھے خدا کا واسطہ ہے تمہیں”
کوسٹر اب تیزی سے چل رہی تھی ایک آدمی پھرتی سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کے بعد اب پیچھے کی طرف اس کے ہاتھ باندھ رہا تھا تب عینا کا دوپٹہ شاید نیچے گر گیا تھا بےبسی سے عینا کو رونا آنے لگا وہ کسی کے سامنے یوں بغیر دوپٹے کے نہیں آتی تھی عینا کو محسوس ہوا جیسے کسی نے فوراً اس کے کندھے پر دوپٹہ ڈالا ہو
“یس سر کام ہوگیا”
مردانہ آواز عینا کو سنائی دی
“کیا اسے کڈنیپ کرلیا گیا تھا”
وہ خوف سے کانپنے لگی
پون گھنٹہ گزرنے کے بعد فل اسپیڈ میں چلتی ہوئی کوسٹر رکی تھی یہ شاید کوئی کھلی جگہ تھی جہاں پر ہوا زور تیز تھا اسے اپنی جلد پر نمی محسوس ہورہی تھی جیسے اس جگہ پر ہوا میں نمکیات شامل ہو کانوں میں پانی کے شور کی آواز صاف سنائی دے رہا تھا یہ کوئی سمندری علاقہ تھا وہ لوگ نہ جانے اسے آخر کہاں لے آئے تھے عینا کو لگا آج کا دن اس کی زندگی کا بدترین دن ہے
