Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel Readelle 50386 Dil Yun Mily Humare (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Dil Yun Mily Humare (Episode 14)
Dil Yun Mily Humare By Zeenia Sharjeel
“زیادہ بڑی فیملی نہیں ہے لڑکے کی، ہماری عینا سے دو سال چھوٹی اس کی بہن ہے اور ماں باپ ہیں لڑکا اچھا کھاتا کماتا ہے اچھے بڑے امیر لوگ ہیں ان کا اپنا کاروبار ہے عمر میں بھی لڑکا تمہارے برابر ہے۔۔۔ جہانگیر تم سن رہے ہو نہ میری بات”
جہانگیر صبح پولیس اسٹیشن جانے کے لئے تیار ہورہا تھا تب دی جان اس کے کمرے میں آکر اسے بتانے لگی
“فیملی چھوٹی ہو لوگ امیر ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے دی جان صرف یہ دیکھا جاتے ہے سامنے والا عزت کے لائق ہے کہ نہیں فیملی عزت دار ہونی چاہیے اور شریف لوگ ہونے چاہیے یوں موبائل پر بات کرنے والے لڑکے نہ تو مجھے شریف لگتے ہیں نہ ہی عزت دار”
جہانگیر تنے ہوئے نقوش کے ساتھ بولا تھا صبح ہی صبح اس ٹاپک پر بات کر کے اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا ویسے بھی ایس۔ ایس۔ پی سیف اللہ کے ساتھ اس کو بھی وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اب انہوں نے الکینگ ہوٹل کے خلاف بغیر لو ان آرڈر کے کوئی بھی کاروائی کی تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا
“میرے بچے تم کون سے دور کی بات کررہے ہو مانا کہ تم ایسے نہیں ہو مگر ضروری نہیں کہ سب تمہارے جیسے ہو آخر لڑکے کو دیکھنے میں برائی کیا ہے وہ لڑکا پسند کرتا ہے ہماری عینا کو”
زیادہ دیر تک دی جان سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اس لیے وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی جہانگیر کو سمجھانے لگی جو کہ آئینے کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا
“اگر وہ پسند کرتا تو شریفوں کی طرح رشتہ لےکر آتا عینا کے لیے یو موبائل فون پر عشق و معشوقی نہیں جھاڑتا، گرینٹی سے کہہ سکتا ہوں آج عینا اسے کہے گی اپنا رشتہ لےکر آؤ کل اس نے اپنا نمبر چینج کرلینا ہے عینا سے اپنی جان چھڑوانے کے لئے، یہ سب کرتے ہیں آج کل کے لڑکے لڑکیوں کو صرف تفریح کا سامان سمجھتے ہیں صرف ٹائم پاس کر ذریعہ بنایا ہوا ہے اور دی جان یہ سب آپ کو عینا کو سمجھانا چاہئے، الٹا آپ اس کی بات سن کر مجھے سمجھانے آگئی ہیں”
جہانگیر اب دی جان کے سامنے کھڑا ہوکر ان سے بولا ساتھ ہی اس کی نظریں دروازے پر پڑی جہاں عینا کھڑی تھی جہانگیر نے چہرے کا رخ دوسری طرف کرلیا دی جان نے عینا کو کمرے میں آتا دیکھا تو خود اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اس کا بھائی جو اس سے اتنی محبت کرتا تھا آج وہ اس کی طرف دیکھنے کا روادار نہیں تھا عینا کو رونا آنے لگا کل رات سے وہ اب تک کافی رو چکی تھی، روحان کو تو اس نے بتایا تک نہ تھا کہ اس پر کیا کچھ گزر چکی ہے، کیا طوفان اس کے گھر آ چکا ہے
عینا چلتی ہوئی جہانگیر کے پاس آئی جو اس کی بجائے کمرے میں موجود کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا عینا نے جہانگیر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گال پر مارا جہانگیر نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر عینا نے دوبارہ یہی عمل دہرایا
“عینا”
ایسے کرنے پر جہانگیر غصے میں زور سے چیخا اور اپنا ہاتھ اس سے جھٹکے سے چھڑوایا
“غصہ ہے نا آپ کو مجھ پر بھروسہ توڑا ہے میں نے کا تو پھر مار لیں مجھے جی بھر کے ماریں مگر یوں نظریں پھیر کر مجھے سزا مت دیں یہ زیادہ تکلیف کا باعث ہے میرے لیے”
عینا نے روتے ہوۓ جہانگیر کا چہرہ تھاما اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا
“فوراً اپنے کمرے میں جاؤ”
جہانگیر اپنے چہرے سے عینا کے دونوں ہاتھ ہٹاتا ہوا سخت لہجے میں بولا تو عینا اس کی بات سننے کے بجائے اس کے گرد اپنے بازو لپیٹ کر اس کے سینے پر سر رکھتی ہوئی مزید رونے لگی
“مجھے معلوم تھا یہ غلط ہے روحان کو مجھے شروع میں ہی نظرانداز کردینا چاہیے تھا مگر میں ایسا نہیں کر سکی، ہر عام لڑکی کی طرح یہ تصور مجھے اچھا لگا کہ کوئی ایسا ہے جو مجھے پسند کرتا ہے میرے بارے میں سوچتا ہے روحان کا مجھے ویلیو دینا روز مجھ سے موبائل پر بات کرنا اچھا لگا، دل کے کسی کونے میں یہ آواز ابھرتی تھی یہ سب ٹھیک نہیں ہے مگر میں اس آواز کو نظرانداز کرتی تھی رہی میں روحان سے خود سے ملنے نہیں گئی بھائی پلیز میرا یقین کریں میں جانتی ہوں میں نے غلطی کی ہے میں نے آپ کا دل دکھایا ہے پلیز مجھے معاف کردیں اگر میں ان سے ملی بھی تھی تو میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا میں آپ کے سر کی قسم کھا کر کہتی ہوں کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس سے میں آپ سے یا خود سے نظر نہ ملا پاؤ روحان بہت اچھی ہیں بھائی، ان کے لہجے میں ہی نہیں نظروں میں بھی میں نے اپنے لیے پسندیدگی کے ساتھ عزت دیکھی ہے انہوں نے کوئی مجھ سے لمبے چوڑے وعدے نہیں کیے ہیں کہ اتنے سال بعد اپنی فیملی کو لاؤں گا وہ فوری طور پر اپنی فیملی کو ہمارے گھر لانا چاہتے ہیں… بھائی پلیز میری خاطر ایک دفعہ ان سے مل لیجئے”
عینا جہانگیر کے سینے سے لگی ہوئی اس سے باتیں کررہی تھی جہانگیر خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا وہ عینا کو خود سے الگ نہیں کرسکا یا اس کی بات رد نہیں کرسکا شاید اس لیے کہ وہ اپنی بہن سے محبت کرتا تھا
“ٹھیک ہے اسے فیملی کے ساتھ گھر آنے کا کہو اگر وہ مجھے ہر لحاظ سے تمہارے قابل لگے گا تب ہی بات آگے چلے گی اور اگر وہ مجھے پسند نہیں آیا تو تم آگے سے پھر کوئی بات نہیں کروں گی”
جہانگیر اسے کندھوں سے تھام کر خود سے الگ کرتا ہوا بولا اور اپنے کمرے سے نکل گیا
عینا کو تسلی ہوئی تھی اسے پورا یقین تھا روحان کو اس کا بھائی ناپسند کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا، عینا بھی مطمئن ہوکر اپنے کمرے میں چلی گئی اب اسے روحان کو فون کرکے ساری بات بتانا تھی
****
“مما، مما۔۔۔ آخر بھائی اور ڈیڈی چاہ کیا رہے ہیں، کیوں کررہے ہیں میرے ساتھ اس طرح کا سلوک”
آغول فاطمہ کے روم میں آکر غصے سے تیز آواز میں پوچھنے لگی
“کیا ہوگیا ہے میری جان آخر غصے میں کیوں ہو، کیا کردیا منصور اور روحان نے”
فاطمہ جو آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی نُک سُک سے تیار ہورہی تھی آغول کو دیکھتی ہوئی حیرت سے پوچھنے لگی
“دس دن گزر چکے ہیں سب کچھ نارمل ہوچکا ہے سب اپنی اپنی لائف میں مگن ہوگئے ہیں مگر مجھے نہ یونیورسٹی جانے دیا جارہا ہے، نہ ہی کہیں باہر میں گھر میں قید ہوکر رہ گئی ہو آخر ایسا کونسا بڑا گناہ سر زد ہوگیا مجھ سے جو یوں پابندی عائد کردی گئی ہیں مجھ پر”
آغول اس وقت شدید غصے میں تھی اس لئے چیختی ہوئی بولی روحان نے اس کا یونیورسٹی جانا بند کروا دیا تھا جس پر منصور نے نارمل ایکٹ کیا تھا اسے اب ڈرائیور کے ساتھ بھی باہر جانے کی پرمیشن نہ تھی
“میں نے کیا بولا ہے آغول اس وقت روحان غصے میں ہے تمہیں معلوم ہے نہ اس کا غصہ فوراً ختم نہیں ہوتا ہے اور یہ اپنے گھر میں کون قید ہوتا ہے جو پابندیاں تم پر لگ رہی ہیں یہ سب صرف تمہاری سیفٹی کے لیے کیا جارہا ہے میں منصور سے بات کرو گی کہ وہ تمہیں یونیورسٹی جانے دہں”
فاطمہ اپنی بیٹی کو بہلاتی ہوئی بولی
“میرا ابھی باہر جانے کا دل چاہ رہا ہے میں یہاں قریبی پارک جانا چاہتی ہوں”
آغول دس دن سے گھر میں بند رہ کر اب بےزار ہوچکی تھی اور گھر کے قریب پارک میں تو وہ اکثر شام میں چلی جایا کرتی تھی وہ ابھی بھی پارک جارہی تھی تو گارڈ نے اسے منصور صاحب کا حکم نہیں ہے کہہ اگر منع کردیا جس پر وہ سیدھی فاطمہ کے پاس چلی آئی
“پارک جاکر کیا کروگی جان منصور کے آنے کا ٹائم ہے اور وہ تمہیں گھر میں نہ پا کر روحان سے زیادہ غصہ کریں گے، چلو ایسا کرو تیار ہوجاؤ… روحان مجھے اور تمہارے ڈیڈی کو عینا کے گھر لےکر جارہا ہے تم بھی اپنے بھائی کی چوائس دیکھ لینا”
فاطمہ اسے بہلاتی ہوئی کہنے لگی مگر آغول کو فاطمہ کی بات سن کر نئے سرے سے غصہ آنے لگا وہ جانتی تھی فاطمہ یونیورسٹی کا بھی اسے بہلا رہی ہے ڈیڈی اسے اجازت دیں بھی دیں اسکا بھائی اب کبھی اسے آگے پڑھنے نہیں دے گا
“بھاڑ میں جائے عینا، بھائی کی چوائس مائی فٹ, میرا بڑا احساس کیا ہے بھائی نے جو میں ان کیلئے لڑکی دیکھنے جاؤ”
آغول غصے میں کہتی ہوئی زور سے دروازہ بند کرکے باہر چلی گئی فاطمہ افسوس کرتی ہوئی دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی اور اپنے ڈائمنڈ کے ٹاپس اور انگلیوں میں رینگز ڈالنے لگی۔۔۔ اخر کو عینا پر اس کے گھر والوں پر اپنی امیری کا امپریشن بھی تو چھوڑنا تھا
****
روحان اس وقت فاطمہ اور منصور کے ساتھ عینا کے گھر موجود تھا عینا نے جیسے ہی اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا وہ بغیر اس معاملے کو طول دیے منصور اور فاطمہ کو دوسرے دن ہی عینا کے گھر لے آیا تھا وہ لوگ سیٹنگ ایریا میں صوفے پر برجمان تھے دی جان ہی میزبانی ادا کرتے ہوئے ان کی خاطر میں لگی ہوئی تھی اور وقفے وقفے سے بات کررہی تھی جس کا جواب صرف منصور ہی دے رہا تھا بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ منصور ہی دی جان سے باتیں کررہا تھا فاطمہ ہاں اور ہمم کرتی ہوئی گھر کا جائزہ لینے میں مصروف تھی جبکہ جہانگیر ابھی تک پولیس اسٹیشن سے گھر نہیں لوٹا تھا یہ بھی تھوڑی دیر پہلے ہی انہیں دی جان نے بتایا تھا
تھوڑی دیر بعد عینا ان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھی اس نے لائٹ پرپل کلر کا ڈریس زیب تن کیا ہوا تھا جس پر وائٹ کلر کی امرائڈری ہوئی تھی دوپٹہ اس نے دی جان کے کہنے پر سر پر لیا تھا جسے فاطمہ بہت کوفت کے عالم میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسے لڑکی شکل و صورت کی تو خوبصورت لگی تھی مگر آج کل کے دور کے حساب سے ماڈرن نہیں تھی جیسے اسکی بیٹی تھی، عینا کا پہناوا اسے کافی سمپل لگا البتہ منصور عینا کو دیکھ کر کافی خوش ہوا تھا اسے دلی طور پر اپنے بیٹے کا انتخاب پسند آیا، دی جان بھی کافی پُرخلوص اور اچھے اخلاق کی خاتون تھی اس کی نظر میں گھر بار بھی برا نہیں تھا اچھے سادہ سے لوگ تھے منصور ہی عینا سے چھوٹے چھوٹے سوالات کررہا تھا جبکہ فاطمہ خاموشی سے اس کا تفصیلی جائزہ لینے میں مصروف تھی روحان نے فاطمہ کو دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں عینا کے متعلق پوچھنا چاہا، فاطمہ روحان کو اوکے کا سائن دینے کے لیے زبردستی مسکرائی
روحان کی نظروں کا زاویہ ہر تھوڑی دیر بعد وقفے وقفے سے عینا کے اوپر جارہا تھا پھر سب کا لحاظ کر کے مشکل سے وہ اپنی نظریں ہٹا پاتا۔۔۔ اس وقت سر پر دوپٹہ لئے صوفے پر سمٹ کر بیٹھی ہوئی، پلکیں جُھکا کر آہستہ آواز میں منصور کے سوالوں کے جواب دیتی ہوئی وہ اسے بہت کیوٹ لگ رہی تھی، گھر جانے کے بعد رات کو فون پر وہ اسکے اسٹائل پر اسے خوب چھیڑے گا اس نے سوچ رکھا تھا
“ارے بیٹا آپ تو میری بیٹی کی ہی یونیورسٹی میں پڑھی ہے”
جہانگیر گھر کے اندر داخل ہوا تو اس کی سماعت سے مردانہ آواز ٹکرائی وہ جانتا تھا
آج روحان کے گھر والوں کو آنا ہے اس لئے وہ پولیس اسٹیشن سے جلدی گھر آ گیا دی جان نے آج صبح ہی اسے بتایا کہ روحان شام میں اپنے گھر والوں کو لےکر آنے والا ہے تب اسے حیرت ہوئی اسے نہیں لگا تھا کہ وہ لڑکا اتنی جلدی اپنے گھر والوں کو لےکر آئے گا
“میرے خیال میں منگنی جیسی رسم میں پڑھ کر وقت ضائع کرنا فضول ہے آپ اپنے پوتے سے مشورہ کرلیے گا اس کے بعد ہم شادی کی ڈیٹ فکس کردیں گے”
جہانگیر کو دوبارہ وہی مردانہ آواز سنائی دی۔۔۔ وہ سیٹنگ روم میں داخل ہوا۔۔۔ باآواز سب کو سلام کرتا ہوا اس کی نظر سامنے صوفے پر بیٹھے شخص پر گئی جہانگیر کے قدموں ہی جم گئے
“رونی۔۔۔ تو کیا عینا مجھ سے رونی کا ذکر کررہی تھی یعنی رونی میری بہن سے۔۔۔”
جہانگیر خونخوار نظروں سے روحان کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا، آج بھی اسے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص پر اتنا ہی غصہ تھا جتنا دس سال پہلے تھا
جب دو دن پہلے عینا نے اس کے سامنے روحان کا نام لیا تب اسے یہ نام سن کر شدید غصہ آیا جس لڑکے کے بارے میں عینا اس سے بات کررہی تھی وہ رونی ہوگا جہانگیر نے ایسا سوچا بھی نہ تھا جہانگیر کے ماتھے پر شکنیں نمایاں ہونے لگی، وہ قدم بڑھاتا ہوا روحان کے پاس آنے لگا دوسری طرف روحان کا بھی یہی حال تھا وہ بالکل شاکڈ تھا
یہ جیڈی تھا جس سے اس کی کالج کے زمانے میں کبھی بھی نہیں بنی، جو اسے پورے کالج میں سب سے زیادہ زہر لگتا تھا اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا عینا کا بھائی جیڈی ہوسکتا ہے اسے یہ معلوم تھا عینا کے بھائی کا نام جہانگیر ہے مگر جہانگیر نام کے تو کئی لوگ ہوسکتے ہیں اس طرف اس کا دماغ ہی نہیں گیا مگر یہ روحان کی بدقسمتی تھی کہ عینا کا بھائی وہی جہانگیر نکلا جو کالج میں اس کے ساتھ پڑھتا تھا اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر روحان صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
دس سال بعد آج وہ پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے بلکل دس سال پہلے جیسے آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے غصہ اور حقارت لئے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے دیکھ بھی کیارہے تھے گھور رہے تھے
جبکہ منصور فاطمہ کے علاوہ دی جان اور عینا بھی خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ان دونوں کے انداز میں کچھ غیر معمولی پن تھا یہ بات صوفے پر بیٹھے ہوئے وہ چاروں نفوس محسوس کرسکتے تھے خاموشی کو جہانگیر کی آواز نے توڑا تھا
“کیا مجھے یہ بات خود سے کہنا پڑے گی کہ میرے گھر سے نکل جاؤ”
جہانگیر سرد لہجے میں بولا تھا جبکہ روحان نے اپنے جبڑے بھینچے توہین اور ذلت کے احساس اس کا چہرا سرخ ہوگیا
“چلیں آپ دونوں” روحان منصور اور فاطمہ کو مخاطب کرتا ہوا بولا تو منصور کے ساتھ ساتھ فاطمہ بھی صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
روحان کمرے سے نکلنے لگا تو اس کی نظر عینا پر پڑی جو آنکھوں میں پریشانی لیے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی روحان اس کو دیکھتا ہوا وہاں سے نکل گیا اس کے بعد منصور اور فاطمہ بھی اس کے پیچھے چل دیئے اتنے اجنبی انداز میں روحان کے دیکھنے پر عینا کو گھبراہٹ ہونے لگی
“بھائی کیا ہوا وہ رو۔۔۔”
عینا جہانگیر کی طرف پلٹی وہ اس سے پوچھنا چاہ رہی تھی جب جہانگیر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے آگے روحان کا نام بولنے سے روکا
“نام بھی مت لینا اپنی زبان سے دوبارہ اس کا”
جہانگیر نے سختی سے ٹوکا تھا
“مگر بھائی”
عینا نے بےبسی سے جہانگیر کو دیکھا
“بس عینا اپنے کمرے میں جاؤ”
ایک دفعہ پھر جہانگیر عینا کو دیکھتا ہوا سختی سے بولا
دی جان ابھی بھی خاموش تھی دونوں بہن بھائی کو دیکھ رہی تھی عینا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے
“اگر اس کے لئے تمہاری آنکھ سے ایک بھی آنسو گرا یا تم نے دوبارہ اس کا نام میرے سامنے لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا دشمن رہے ہم دونوں ایک دوسرے کے، بھول جاؤ اسکو وہ خود بھی تم سے اب کوئی تعلق نہیں رکھے گا کیوکہ تم جیڈی کی بہن ہو”
عینا کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر جہانگیر درشی سے بولا
عینا خاموشی سے وہاں سے چلی گئی مگر یہ ممکن نہ تھا کہ وہ نہ روتی۔۔۔ روحان کا نام کے علاوہ بھلا کوئی دوسرا نام کیسے لے سکتی تھی اور بھولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔۔ مگر اب امتحان روحان کا تھا عینا کو دیکھنا تھا وہ اس کے بھائی سے اپنی دشمنی نھباتا ہے یا پھر اپنی محبت جس کا وہ دعوے دار ہے
عینا نے روحان کو کہا تھا کچھ بھی ہوجائے وہ اسے اگنور نہیں کرے اب عینا کو دیکھنا تھا وہ روحان کے لیے کتنا معنیٰ رکھتی ہے کیا وہ اسے نظر انداز کردے گا یا اسکی خاطر اسکے بھائی سے اپنی دشمنی کو
