Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode (Watching)
Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
چار ماہ گزر چکے تھے اس مشن کو مکمل ہوۓ…زندگی میں سکون آ چکا تھا… اسد شیرازی کو اس کے گناہوں کے بدلے عمر قید کی سزا سنائ جا چکی تھی…
عدالت نے اسد شیرازی کے گھر پر قبضے کا حکم بھی دے دیا تھا…
ابیہا اپنا گھر لینا چاہ رہی تھی لیکن ڈی آئ جی اور ان کی شریک حیات نے بصدِ اصرار اسے اپنے گھر ٹھہرا لیا تھا…
آج کل راجا آف ڈیوٹی تھا… تبھی وہ گھر پہ ہی موجود ہوتا…
وہ صبح صبح جاگنگ کے لیے جا رہا تھا جب لان میں ابیہا دکھائ دی… وہ فجر کی نماز پڑھ کر نیچے لان میں چلی آئ تھی…
ابیہا کی نگاہ بھی راجا پر پڑ چکی تھی تبھی وہ اس کی طرف چلی آئ… راجا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر رک گیا…
“میں بھی تمہارے ساتھ جاگنگ پہ چلوں…؟؟” ابیہا مسکراتے ہوۓ اس سے مخاطب ہوئ… سفید شلوار قمیض اور سفید دوپٹے میں گلابی چہرہ تروتازہ لگ رہا تھا…
“آپ…؟؟” راجا حیران ہوا… آج سے پہلے کبھی اس نے ایسی خواہش نہیں کی تھی…
“ہاں کیوں…اتنے حیران کیوں ہو رہے ہو… میں تمہیں جوائن نہیں کر سکتی کیا…؟؟” ابیہا نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا…
“اوکے….جیسے آپ چاہیں… ” راجا نے کندھے اچکاۓ تو وہ بھی اس کے ساتھ آگے بڑھ گئ…
وہ دونوں تھک کر اب پارک میں ایک درخت تلے رکھے بینچ پر بیٹھے تھے… راجا کو تو خیر تھکن محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن ابیہا گہرے گہرے سانس بھرتی بیٹھ گئ تو اس کے اصرار پر راجا کو بھی بیٹھنا پڑا….
صبح کا منظر بہت دلفریب اور سکون بخش لگ رہا تھا…
“راجا…. میں ایک بات سوچ رہی تھی… ” ابیہا نے ٹھوڑی تلے انگلی ٹکاتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا…
راجا جس کی نظریں دور اچھل کود کرتے دو بچوں پر جمی تھیں وہ ابیہا کی بات پر اس کی جانب متوجہ ہوا…
“کیا…؟؟” سوالیہ انداز میں ابرو اچکاۓ…
” وہ میں سوچ رہی تھی کہ…کیا تم بھی میری دولت کی وجہ سے میری طرف متوجہ ہوۓ تھے…؟؟” ابیہا کا لہجہ شرارتی تھا لیکن پھر بھی راجا کو برا لگا… ایک گھوری سے نوازا تھا اسے…
“جب میں آٹھ سال کا تھا تب آپ کی طرف متوجہ ہوا تھا… نہیں…بلکہ آپ میری طرف متوجہ ہوئیں تھیں… تب مجھے یہ دولت وغیرہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ دولت کی وجہ سے کیسی کیسی چالیں چلتی ہے دنیا… ” خفگی بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ راجا نے ایک تنکا اٹھایا اور یونہی گھاس پر لکیریں سی کھینچنے لگا…
” تو پھر تم نے مجھے فراز سے شادی سے کیوں روکا… کیا معلوم تم بھی مجھ سے شادی کے بعد مجھے ختم کر دو… یا اپنی غلام کی طرح ٹریٹ کرو… “
ابیہا کو نہ جانے کیوں اسے تنگ کرنے میں مزہ آنے لگا تھا… راجا جو قدرے جھک کر نیچے ادھر سے ادھر لکیریں کھینچنے میں مگن تھا اس نے غصے سے ابیہا کی طرف دیکھا… لیکن پھر لب بھینچ کر خود پر قابو پایا… وہ اس لڑکی پر کبھی غصہ نہیں کر سکتا تھا یہ تو طے تھا…
“تو میں نے آپ سے کب کہا کہ مجھ سے شادی کریں… فراز سے شادی کرنے سے اس لیے روکا کیونکہ اس کی نیت خراب تھی… آپ اس کے ساتھ شادی کرتیں تو آپ کی پوری زندگی برباد ہو کر رہ جاتی… میں یہ نہیں کہوں گا کہ آپ مجھ سے ہی شادی کریں… اگر آپ کو کوئ اور پسند ہے… یا کوئ ایسا آپ کی زندگی میں آ جاۓ کہ جس کے ساتھ آپ خوش رہ سکیں تو بغیر کسی فکر کے اس کا ہاتھ تھام لیجیے گا…میرے لیے اپنے دل کی خوشی سے کہیں زیادہ عزیز آپ کی خوشی ہے… اور یقین کیجیے…میں کبھی کسی چیز کے لیے آپ کو فورس نہیں کروں گا… آپ کا فیصلہ ہی میرے لیے مقدم رہے گا ہمیشہ… ” راجا نے سر جھکاۓ اسے اس کی بات کا جواب دیا تھا… ابیہا کا سر فخر سے بلند ہوا تھا… راجا کی دی عزت پر… اس کے دئیے مان پر…
“اچھا… وہ…تمہیں بتانا تھا کہ…مجھے ایک لڑکا پسند آ گیا ہے… بلکہ مجھے اس سے شدید قسم کی محبت لاحق ہو چکی ہے… محبت کی بھی وہ قسم…جسے عشق کہا جاتا ہے… تو کیا میں اس سے شادی کر سکتی ہوں… تمہیں اعتراض تو نہیں ہو گا نا… “ابیہا نے سر جھکاتے ہوۓ اس پر انکشاف کیا تھا…
راجا نے بے یقین نظروں سے اس کی طرف دیکھا… “کیا واقعی…؟؟” وہ حیران رہ گیا تھا اس کی اسپیڈ پر…
ابیہا نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوۓ آنکھیں پٹپٹا کر تیزی سے اثبات میں سر ہلایا…
راجا خاموش سا ہو گیا…
“نہیں…کوئ اعتراض نہیں… جیسے آپ خوش…” خود کو نارمل ظاہر کرنے کے باوجود بھی اس کی آنکھوں کی ماند پڑتی چمک اور بجھا ہوا لہجہ ابیہا سےمخفی نہیں رہا تھا…
راجا اپنی بات کہہ کر اب اٹھ چکا تھا… تنکے کو بے دردی سے ایکطرف پھینکتا وہ جانے کے لیے قدم بڑھانے ہی والا تھا جب اس کا ہاتھ ابیہا کے ہاتھ کی گرفت میں آیا…راجا نے حیران ہو کر پہلے اسے دیکھا… پھر اس کے ہاتھ کی گرفت میں موجود اپنے ہاتھ کو…
“پوچھو گے نہیں کہ وہ کون ہے…؟؟” ابیہا شرارتی مسکراہٹ لبوں میں دباۓ اس کی جانب دیکھ رہی تھی…
“جب آپ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کون ہے کون نہیں… آپ کی زندگی ہے… آپ کے فیصلے ہیں… میں کون ہوتا ہوں تفتیش کرنے والا… ” راجا خفا سے لہجے میں کہتے ہوۓ جوتے کی نوک سے مٹی کھرچنے لگا… البتہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی…
“اف…پورے بدھو ہو تم… ” ابیہا کلستی ہوئ اٹھی… راجا نے الجھی نگاہوں سے اسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب میں نے کیا کہا…
“سارے رومینٹک موڈ کا بیڑہ غرق کر دیتے ہو قسم سے… ارے پاگل…میں تمہارے بارے میں ہی بات کر رہی تھی… ایک بار پوچھتے تو سہی… کہ کون ہے وہ لڑکا جو آنأ فانأ پسند آ گیا مجھے… ” وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوۓ خود ہی اسے بتا گئ… چہرہ تمتمانے لگا تھا… راجا نے دلچسپی سے اس کے چہرے کو دیکھا…
“میں کیوں پوچھتا…جبکہ میں پہلے سے ہی جانتا تھا کہ آپ میرے بارے میں ہی بات کر رہی تھیں… ” وہ مسکراہٹ دباۓ کہہ گیا…
ابیہا پہلے تو کچھ سمجھی نہیں… جب بات سمجھ میں آئ تو کمر پر ہاتھ ٹکاۓ اسے گھورنے لگی… نین و نقش میں خفگی کی جھلک تھی… راجا بے خود سا اسے تکے گیا…
“بہت برے ہو تم… بہت ہی برے… ” اگلے ہی لمحے اس کے بازو پر زور دار مکا رسید کر گئ تھی وہ…
“آہ…” راجا کراہا…
“اوہ…کیا ہوا… زیادہ زور سے لگ گئ کیا…؟؟سوری… سو سوری…” ابیہا اس کے کراہنے پر فورأ پریشان ہو اٹھی تھی… تبھی اس کی جانب متوجہ ہوئ…
راجا اس کے تشویش زدہ چہرے کو دیکھتا پھر ہنسنے لگا تھا…
“کیا ہوا…؟؟” وہ ابھی تک اس کے ہنسنے کی وجہ نہ سمجھ پائ تھی…
“میڈم… یہ جو ایس ایس جی آفیسرز ہوتے ہیں ناں..
انہیں ایسی چھوٹی موٹی چیزوں سے فرق نہیں پڑتا… اور لڑکی کے ہاتھ سے لگا مکا تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پھول مارا گیا ہو… ” مسکراتے ہوۓ وہ بھی شرارت پر آمادہ ہوا تھا…ابیہا نے خفا نظروں سے اسے دیکھا… اسے مسلسل مسکراتے دیکھ کر چڑ گئ اور پیر پٹختی آگے بڑھ گئ…
آج کا دن ان کی زندگیوں میں بے تحاشہ خوشی لے کر آیا تھا… آج وہ ابیہا کے تمام جملۂ حقوق اپنے نام لکھوا کر اسے اپنے گھر لے آیا تھا… لیکن اس سے پہلے ابیہا نے راجا کے ہی کہنے پر اپنی تمام جائیداد یتیم خانوں اور اسکولز کی ڈونیشن کے لیے وقف کر دی تھی… تا کہ راجا اور ابیہا جیسے بہت سے بچے جو بچپن میں ہی اپنے ماں باپ کو کھو دیتے ہیں یا کسی وجہ سے دربدر ہو جاتے ہیں وہ ان یتیم خانوں میں ایک بہتر زندگی گزار سکیں…
وہ ابیہا کو صرف اس کی شادی کے جوڑے میں رخصت کروا کر اپنے گھر لایا تھا… جائیداد کے نام پر ایک روپیہ بھی نہ رکھا تھا کہ ابیہا کی خواہشات وہ اپنے محنت سے کما کر اپنے زور بازو سے پوری کرنا کا جذبہ رکھتا تھا… وہ دونوں لوگ امیر کبیر لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کی بجاۓ ایک چھوٹے سے گھر میں خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتے تھے…
ابیہا گلاب کے پھولوں سے سجے اس کمرے میں جہازی سائز بیڈ پر چہرے پر گھونگھٹ لیے راجا کا انتظار کر رہی تھی… ایک نگاہ اس کمرے پر بھی ڈالی جو پہلے صرف راجا کا کمرہ تھا لیکن اب ابیہا کا بھی… وہ مسرور تھی… بہت مسرور… بے شک راجا جیسا خوبصورت دل والا شخص جس کا ظاہر اور باطن ایک ہو, ہر کسی کو نہیں ملتا… وہ ایک ہی تھا اس دنیا میں… اور اسے رب نے اس کا مقدر بنا دیا تھا… وہ جتنا بھی شکر ادا کرتی کم تھا…
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر چونکی… اندر داخل ہوتے راجا کو دیکھ کر سر جھکایا تھا… وہ کنفیوز ہونے لگی… ہتھیلیاں پسینے سے تر ہو گئیں…جبکہ پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطے چمک دکھلانے لگے تھے…
راجا نے سلام کیا تھا… ابیہا نے زیر لب سلام کا جواب دیا…
وہ شیروانی اتار کر ایک جانب رکھتا اس سے کچھ فاصلے پر آ بیٹھا… اس کی جھکی نظریں ابیہا کے مہندی رچے دونوں پاؤں پر تھیں…
“سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیسے شکر ادا کروں اس پاک ذات کا… جس نے آج مجھے سر خرو کر دیا… اور میری زندگی کی تمام مشکلات اور اذیتوں کے بدلے آپ کو میرے نصیب میں لکھ دیا… میں نہیں جانتا میں اس قابل تھا یا نہیں… لیکن اللّہ کے بعد آپ کا بھی احسان ہے مجھ پر… کہ آپ نے خود کو مجھے سونپا… یہ کسی اعزاز سے کم نہیں میرے لیے کہ وہ لڑکی, جس کی محبت میں نے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھی تھی… جس کی اتنی عزت کرتا تھا میں کہ نگاہ بھر کر دیکھنا بھی گناہ سمجھتا تھا آج وہی میری شریک حیات ہے… اور اسے دیکھنے, اسے چھونے کے سب اختیارات مجھے مل گۓ ہیں… ” وہ دھیمے لہجے میں کہتے کہتے خاموش ہوا… پھر کچھ سوچ کر اٹھا… سائیڈ ٹیبل کے دراز سے کچھ نکالا…
وہ کوئ ڈبیا تھی…
ابیہا نے گھونگھٹ کی اوٹ سے اس کی طرف دیکھا جو اب اس ڈبیا میں سے کچھ نکال رہا تھا… وہ وائٹ گولڈ کی بہت خوبصورت پائل تھی… راجا نے ہک کھولتے ہوۓ وہ پائل ابیہا کے پاؤں میں پہنا دی… پھر اس کا گھونگھٹ اٹھایا…
“ہماری دوستی کی نشانی کے طور پر آپ نے مجھے اپنی پائل دی تھی… جسے میں نے سنبھال کر رکھا…
اب ہماری محبت کی نشانی کے طور پر میں آپ کو یہ پائل دے رہا ہوں… اسے سنبھال کر رکھنا اب آپ کی ذمہ داری ہے… ” راجا نے مسکراتے ہوۓ نرم نگاہوں سے اسے دیکھا…
پھر سائیڈ ٹیبل سے ایک اور مخملی ڈبیا نکالی… جس میں وائٹ گولڈ کی خوبصورت سی چین اور ساتھ دل کی شکل کا لاکٹ تھا…
“اور یہ… آپ کی منہ دکھائ کا تحفہ… اجازت ہے…؟؟” راجا نے چین نکالتے ہوۓ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… ابیہا سر جھکا گئ… راجا نے وہ خوبصورت سی چین اس کی صراحی دار گردن کی زینت بنا دی…
کافی دیر ان کے درمیان خاموشی چھائ رہی…
“تم نے میری تعریف تو کی نہیں…کیسی لگ رہی ہوں میں… ” ابیہا جب انتظار کرتی کرتی تھک گئ تو بالآخر منہ کے زاویے بگاڑتی خود ہی بول اٹھی…
راجا نے ہنستے ہوۓ اس کی جانب دیکھا…
“ہاں… سوچ رہا تھا کہ کن الفاظ میں تعریف کروں آپ کی… ؟؟” اس نے مسکراہٹ دبائ…
“تو… سوچ لیا… یا ابھی سوچنا باقی ہے…؟؟” ابیہا خفا سی ہو کر کہتے ہوۓ نگاہوں کا رخ موڑ گئ…
“جی بالکل… سوچ لیا…” راجا ابھی بھی مسکرا رہا تھا…
“تو جلدی کرو… میری تعریف کرو اب… ” ابیہا ایکسائیٹڈ ہوئ… راجا چند پل رکا…
پھر کچھ سوچتے ہوۓ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا… ابیہا کا مہندی سے سجا ہاتھ تھاما اور اپنے لب اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے…
ابیہا کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں… راجا نے اس کے ہاتھ پر بوسہ دے کر ابیہا کے شرم سے سرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھا… اس کا ہاتھ ابھی بھی راجا کی گرفت میں تھا… دلچسپی سے ابیہا کو دیکھتے ہوۓ راجا کے منہ سے بے ساختہ چند الفاظ برآمد ہوۓ…
“فَبِاَیّ آلَاءِرَبّکُمَا تُکَذّبَان… “
ختم شد…
