Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Last updated: 6 June 2026
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor
شام چھے بجے کا وقت تھا۔۔۔ اندھیرا روشنی کو نگلتا ہوا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔۔ گرمیوں کا اختتام تھا اور سردیوں کا آغاز ہو رہا تھا۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا کے باعث موسم کافی خوشگوار ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس خوشگوار موسم نے ابیہا کے موڈ پر خاصا اچھا اثر ڈالا تھا۔۔۔ سمندر کنارے کھڑے ہو کر اس کی بپھری موجوں پر نظریں جماۓ ہوۓ کہیں کھو جانا، ان موجوں کا کناروں سے گلے ملتے اور بچھڑتے ہوۓ دیکھنا اور سمندر میں پتھر پھینکنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔ وہاں کافی وقت گزار کر اب وہ گھر جا رہی تھی۔۔۔ یہاں سے گھر جا کر اسے ایک دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا۔۔۔ میوزک پلئیر آن کیے، میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی۔۔۔ آگے جا کر اس نے شارٹ کٹ لے لیا۔۔۔ یہ راستہ تھوڑا سنسان سا تھا۔۔۔ لیکن ابیہا اکثر اسی راستے سے گھر جاتی۔۔۔
اس نے اس راستے پر ٹرن لیا ہی تھا جب ایک گاڑی نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔۔۔ پہلے تو ابیہا نے دھیان نہیں دیا لیکن اس کی کار کی اسپیڈ سلو تھی اور دوسری گاڑیاں بآسانی آگے جا سکتی تھیں لیکن وہ گاڑی بھی سلو اسپیڈ کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے ہی تھی۔۔۔ ابیہا کی پیشانی پر سلوٹیں پڑنے لگیں۔۔۔ اس نے اسپیڈ بڑھائ تو پیچھے آنے والی گاڑی کی اسپیڈ بھی بڑھ گئ۔۔۔ اس نے گاڑی سلو کی تو پچھلی گاڑی کے ڈرائیور نے بھی رفتار کم کر دی۔۔۔ ابیہا نے گاڑی سائیڈ پہ کی تا کہ وہ گزر جاۓ لیکن پیچھے نوجود شخص نے گاڑی اسی سپیڈ پہ رکھی جیسے وہ ابیہا کے پیچھے پیچھے ہی جانا چاہ رہا ہے۔۔۔ ابیہا اسی پریشانی میں تھی کہ آخر وہ ہے کون جو یوں اس کا پیچھا کر رہا ہے کہ تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔ "ڈیڈ کالنگ" لکھا ہوا دیکھ کر ابیہا نے کال پک کی۔۔۔ "ہیلو ڈیڈ۔۔۔" ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے فون کان کو لگایا اور ایک نظر بیک ویو مرر میں نظر آتی گاڑی پر ڈالی۔۔۔ "ابیہا کہاں ہو تم۔۔۔ آر یو آل رائٹ۔۔۔کوئ مسئلہ تو نہیں۔۔۔ " ڈیڈ کی آواز سے شدید پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔ "نہیں ڈیڈ۔۔۔ آئم اوکے۔۔۔ میں بس گھر۔۔۔" وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ ایک دم اسے بریک پر پاؤں رکھنا پڑا۔۔۔ گاڑی کے ٹائر زور سے چرچراۓ۔۔۔ "ہیلو۔۔۔ ابیہا۔۔۔ واٹ ہیپنڈ۔۔۔" اسد شیرازی اس سے پوچھ رہے تھے جبکہ ابیہا پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کی گاڑی کے سامنے دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔۔ بالکل ویسی گاڑیاں جیسی گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی۔۔۔ اور اس گاڑی میں سے کچھ ہٹے کٹے نقاب پوش مرد نکل کر ابیہا کی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔ ابیہا نے پیچھے موجود گاڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ بھی رک چکی تھی اور اس میں سے بھی اسی حلیے اور جسامت کے تین افراد نکل کر ابیہا کی گاڑی کو گھیر چکے تھے۔۔۔ "ڈیڈ۔۔۔ کک۔۔۔ کچھ لوگ۔۔۔ مم۔۔۔ میری گاڑی۔۔۔" وہ خوفزدہ لہجے میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی جب کسی نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اسے بازو سے کھینچ کر باہر نکالا۔۔۔ "ہیلو ابیہا۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔ کون لوگ ہیں وہ۔۔۔ ابیہا کچھ بولو۔۔۔ ابیہا۔۔۔" اسدشیرازی تڑپ اٹھے تھے یہ جان کر کہ ان کی بیٹی دشمنوں کے ہاتھ لگ چکی ہے۔۔۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس کا موبائل سوئچ آف کر کے گاڑی میں پھینکا اوردروازہ بند کر دیا۔۔۔ "کون ہو تم لوگ۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔" ابیہا مچل گئ تھی ان کی گرفت میں۔۔۔ تبھی خود کو چھڑانے کے لیے بھرپور زور لگایا۔۔۔ "شش۔۔۔ چپ۔۔۔ بالکل چپ۔۔۔ " وہ آدمی پھنکارا۔۔۔ اور ابیہا کا بازو مروڑ کر اس کی کمر سے لگایا۔۔۔ وہ کراہ اٹھی اس وحشیانہ سلوک پر۔۔۔۔ "چھوڑو مجھے۔۔۔ " اس کی آواز لرز رہی تھی۔۔۔ آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔۔۔ اب احساس ہو رہا تھا کہ ڈیڈ کیوں ہر وقت اس کی سیکیورٹی کے لیے فکرمند رہتے تھے۔۔۔ وہ آدمی جس نے ابیہا کو پکڑ رکھا تھا اسے گںسیٹتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا۔۔۔ابیہا ہر ممکن کوشش کر رہی تھی خود کس اس سے چھڑانے کی لیکن گرفت کافی سخت تھی۔۔۔ وہ لوگ گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ ابیہا کے دماغ نے کام کیا۔۔۔ اس نے اپنی ہیل زور سے پیچھے موجود شخص کے گھٹنے پر ماری۔۔۔ باقی سب افراد ان کے پیچھے تھے۔۔۔ اتنی اچانک یہ سب ہوا کہ وہ شخص کچھ سمجھ ہی نہ سکا۔۔۔ ہیل لگنے ہر بے ساختہ وہ جھکا اور گھٹنے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ اس کے دوسرے ہاتھ کی گرفت ابیہا کے بازو پر تھوڑی ڈھیلی ہوئ۔۔۔ ایک لمحہ لگا تھا ابیہا کو اپنا بازو چھڑانے میں۔۔۔ اور بازوچھڑا کر وہ بھاگ اٹھی تھی۔۔۔ دونوں گاڑیوں کے درمیان سے گزرتی وہ تیزی سے ان کی پہنچ سے دور ہوئ۔۔۔ تقریبأ تین کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سڑک مین روڈ سے جا کر ملتی تھی اور وہیں پر ابیہا کو مدد مل سکتی تھی۔۔۔ وہ بغیر مڑے ، اندھا دھند بھاگتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
اور وہ جو تقریبأ دس ہٹے کٹے اور بھرپور جسامت کے غنڈے ٹائپ آدمی تھے مسلسل اس کا پیچھا کر رہے تھے۔۔۔ہیل کے باعث بھاگنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح ان کی پہنچ سے دور ہو سکے۔۔۔لیکن بدقسمتی سے اس کی نازک ہیل نے دغا دیا اورایک کلومیٹر بھاگنے کے بعد ہی وہ لڑکھڑاتی ہوئ منہ کے بل گری۔۔۔ گرنے کے باعث کہنی چھل گئ تھی۔۔۔ منہ سے کراہیں نکلیں۔۔۔ گردن موڑی تو وہ اب اس کے سر پر پہنچ چکے تھے۔۔۔ خوف و ہراس اس کی سیاہ گہری آنکھوں میں پھیل گیا۔۔۔اردگرد اندھیرا خاصا گہرا ہو چکا تھا۔۔۔ موت کو سامنے دیکھ کر اس کے حلق میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئ۔۔۔ اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہوۓ مدد کے لیے کوئ چیز تلاش کرنی چاہی لیکن نگاہ مایوس سی لوٹ آئ۔۔۔ تبھی ایک آدمی جس کے ہاتھ میں کلہاڑی نما کوئ ہتھیار تھا آگے بڑھا اور ابیہا پر وار کیا۔۔۔ وہ چینختی ہوئ آنکھیں بند کر گئ۔۔۔ ایک بار لگا گردن تن سے جدا ہو چکی ہو گی۔۔۔ لیکن پھر۔۔۔ جیسے سب کچھ رک گیا۔۔۔ کوئ آواز، کوئ آہٹ تک نہ سنائ دے رہی تھی۔۔۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ وہ زندہ تھی۔۔۔ بے یقینی سے سامنے دیکھا۔۔۔ اور آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئیں۔۔۔ اس کے سامنے ایک چوڑا اور مضبوط جسامت کا مالک شخص کھڑا تھا جس کی پشت تھی اس کی جانب۔۔۔ ابیہا اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائ۔۔۔ لیکن گرین کلر کی ہاف بازو ٹی شرٹ سے جھلکتے اس کے مسلز کو دیکھ کر اس کی طاقت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہ تھا۔۔۔ ابیہا پر کیا جانے والا وار اس نے اپنے ہاتھ پر روکا تھا۔۔۔ اور کسی چٹان کی طرح ڈٹ کر ان غنڈوں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
